سلام ان استادوں کو۔ ۔ ۔

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سلام ان استادوں کو جو اخبار بھی ہجے کر کے پڑھتے ہیں۔ جنھیں کالم کے مضمون اور سیاق و سباق کا گھنٹہ پتہ نہیں ہوتا، بس اس میں املا کی غلطیاں ڈھونڈھ کر آپ کو گناہ صغیرہ و کبیرہ سے بچانے کی سر توڑ کوشش کرتے ہیں۔

سلام ان استادوں کو جو ساری قوم کے مسیحا ہوتے ہیں۔ پرانی خارش سے لے کر شوگر تک اور چنبل سے لے کر کینسر تک ہر بیماری کا علاج پوری دیانت داری سے ڈھونڈ کر شیئر کرتے ہیں۔ وہ بھی فی سبیل اللہ بنا کسی لالچ کے۔

سلام ان استادوں کو جو پاپا کی پرنسس اور بے بی ڈول کی معمولی چھینک والی پوسٹ پڑھ کر پریشان ہو جاتے ہیں۔ گرمیوں میں دیسی انڈے اور شہد کھانے کا قیمتی مشورہ دینے کے بعد بھی مطمئن نہیں ہوتے اور ساری رات جاگ کر ان پر غائبانہ دم کر کر کے پھونکیں مارتے رہتے ہیں۔

سلام ان استادوں کو جو گیس ویلڈنگ کا کام کرتے ہیں مگر اپنی بائیو میں میکینیکل انجینئر لکھتے ہیں۔ جو ہڈی جوڑ پہلوان کی دکان پر پٹیاں کرتے ہیں مگر اپنے آپ کو آرتھوپیڈک سرجن لکھتے ہیں۔ جو سڑکوں پر سپیڈ بریکر بناتے ہیں مگر اپنے آپ کو روڈ سیفٹی انسپیکٹر لکھتے ہیں۔ جن کا محلے میں برگر کارنر کا سٹال ہے پر لکھتے ہیں ”ورکس ایٹ برگر کنگ مین ہٹن“ ۔

سلام ان استادوں کو جو کبھی چیچہ وطنی سے آگے نہیں گئے اور جن کی سب سے بلند پرواز مینار پاکستان کی چوٹی ہو وہ بھی لڑکیوں کی زیورخ میں اتری تصاویر پر پورے کانفیڈنس سے کمنٹ کرتے ہیں، ”آپ الپس کی چوٹی پر ضرور جائیے گا وہاں سے پورا زیورخ دکھتا ہے“

سلام ان استادوں کو جو صرف جمعہ کے دن نہاتے ہیں اور بھاگ کر آخری صف میں عید کی نماز پکڑتے ہیں، وہ بھی لوگوں کو روز آیتوں اور حدیثوں بھرے واٹس ایپ کرتے ہیں۔ اور مولانا طارق جمیل کے بیان فارورڈ کرتے ہیں۔

سلام ان استادوں کو جو خود سائیلنسر اتروا کر، موٹر سائیکل کا پہیہ اٹھا کر چودہ اگست مناتے ہیں اور دشمن کے دانت کھٹا کرنے کرنے اور سیسہ پلائی دیوار بننے کا بھاشن دیتے ہیں۔

سلام ان استادوں کو جن کے اپنے گھر والے کسی ضروری بات کے وقت انھیں کمرے سے باہر نکال دیتے ہیں وہ بھی سیاستدانوں کو ملکی راز افشا کرنے کے طعنے دیتے ہیں۔

سلام ان استادوں کو جن کی اپنی بائیک میں کبھی آدھا لیٹر پٹرول نہیں ہوتا، وہ حکومت کو تیل کی بڑھتی قیمتوں پر لیکچر دیتے ہیں اور تیل کی عالمی قیمتوں کے اتار چڑھاؤ کے رموز و اوقاف سمجھاتے ہیں۔

سلام ان استادوں کو جو عوام کے خادم ہوتے ہیں پر کبھی اس عوام سے پیسے لئے بغیر ان کا کام نہیں کرتے۔ مگر ان کے موبائل پر کال کرو تو ”کرم مانگتا ہوں، عطا مانگتا ہوں“ کی رنگ ٹون لگائی ہوتی ہے۔

سلام ان استادوں کو جو دو نمبری اور چور بازاری کے لئے ساری مارکیٹ میں مشہور ہوتے ہیں مگر ان کے گھر جاؤ تو دو کنال کے بنگلے پر دور سے ”ہذا من فضل ربی“ بڑے حروف میں لکھا نظر آتا ہے۔ جو مال دو نمبر بیچتے ہیں مگر حکومت انہیں ایک نمبر لوگوں کی چاہیے ہوتی ہے۔

سلام ان استادوں کو جو پڑھتے اس ملک سے ہیں، کھاتے اس ملک کا ہیں، مگر سپیشلائزیشن کے لئے سٹڈی ویزے پر باہر جا کر پھر واپس نہیں آتے۔ اپنے بیوی بچوں کو امریکہ کی نیشنلٹی دلواتے ہیں اور پھر دن رات سوشل میڈیا پر اس ملک کے سسٹم کو گالیاں دیتے ہیں۔

سلام ان استادوں کو جو پانچ سال میڈیکل یا انجینئرنگ کی ڈگری لیتے ہیں۔ حکومت کا بے پناہ پیسہ برباد کرنے کے بعد سول سروس کا امتحان پاس کر کے سرکاری افسر لگ جاتے ہیں۔ سات توپوں کی سلامی ان استادوں (لڑکیوں ) کو بھی جو میڈیکل کی تعلیم پر حکومتی پیسہ صرف اس لئے برباد کرتی ہیں کہ ان کا رشتہ اچھی جگہ ہو جائے۔

سلام ان استادوں کو جو سالہا سال سے بیوروکریسی میں ہیں۔ حکومت چاہے کسی کی ہو اپنے مال پانی میں کوئی فرق نہیں آنے دیتے۔ جو ہر نئے آنے والے وزیر کو کرپشن کے نت نئے طریقے بتاتے ہیں سرکاری خرچ پر حج اور عمرے کرتے ہیں۔ اپنے بچوں کو باہر کے ملک سیٹل کراتے ہیں پھر آخری عمر میں توبہ کر کے ”کرپشن نامہ“ ٹائپ کی کتابیں لکھتے ہیں۔

سلام ان استادوں کو جو ٹی وی پر موبائل کمپنی کے ایسے اشتہاروں پر تنقید کرتے ہیں جن میں ماہرہ خان سر پر دوپٹہ اوڑھنے کی بجائے پتلون اور شرٹ میں سیلفی لیتی ہے۔ مگر اسرا بلگچ کے سات خون بھی معاف کر دیتے ہیں کیونکہ اس میں عہد رفتہ کی اسلامی ثقافت چھلکتی ہے۔

سلام ان استادوں کو جن کو ملک کے ہر مسئلے کی جڑ عریانی، فحاشی اور عورتوں کی بے پردگی میں نظر آتی ہے اور وہ ایک ذمہ دار شہری اور مومن مسلمان ہونے کا ثبوت دیتے ہوئے ہر کھلے بالوں والی زنانہ تصویر پر دوپٹہ اوڑھنے کی تلقین کرتے نظر آتے ہیں۔ جب آپ ان سے متاثر ہو کر ان کا بائیو دیکھتے ہیں تو وہاں ایسے ایسے ہوشربا پیجز لائک ملتے ہیں کہ آپ کی (خوشی سے ) چیخیں نکل جاتی ہیں۔

سلام ان استادوں کو جو سکول اور کالج میں صرف اس لئے پڑھاتے ہیں کہ وہاں سے پرائیویٹ ٹیوشن کے لئے ”کسٹمر“ گھیرنے میں آسانی رہتی ہے۔ جو لوگوں کے بچوں کا مستقبل سنوارتے سنوارتے اتنے تھک جاتے ہیں کہ ہر سال فریش ہونے کے لئے اپنے بچوں کو ڈزنی لینڈ اور فراری ورلڈ وغیرہ دکھانے وکیشن پر لے جاتے ہیں۔

مگر آخر میں میرا خالص سلام عہد رفتہ کے ان خالص استادوں کو جن کا ذکر اب صرف قصے کہانیوں میں ملتا ہے۔ جو بچوں کو مرغا تو بناتے تھے مگر اس کو انسان بنا کر سکول سے نکالتے تھے۔ جو بات بات پر پٹائی تو کرتے تھے مگر محبت ایک شفیق باپ کی طرح کیا کرتے تھے۔ جو ٹیوشن تو پڑھاتے تھے مگر اس کی فیس نہیں لیتے تھے۔ جن کی واحد خوشی ان کی کلاس کا اچھا رزلٹ آنا ہوتی تھی۔ جو ہر روز سکول سے ایک گھنٹہ پہلے اور ایک گھنٹہ بعد اضافی کلاس لگاتے تھے تاکہ کمزور بچوں کی تعلیمی کمی پوری کی جا سکے۔

جو غریب والدین کے بچوں کے اچھے مستقبل کی انشورنس پالیسی ہوا کرتے تھے۔ جو ساری زندگی کسمپرسی میں گزار دیتے تھے، معمولی لباس میں سکول آتے تھے مگر تعلیم کا سودا کبھی نہیں کرتے تھے۔ جنھوں نے آرٹ، ادب، فنون لطیفہ، کھیل، طب غرض زندگی کے ہر شعبے کو ایسے گوہر نایاب تراش کر دیے جنھوں نے آنے والے وقتوں میں ملک کا نام روشن کیا۔ یہ استاد مہکتے ہوئے کھلتے گلابوں کی طرح ملتے تھے مگر اب بقول فراز یوں ملتے ہیں جیسے سوکھے ہوئے پھول کتابوں میں ملتے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •