گالا بسکٹ کے اشتہار ہر بحث: ’کیا اس معاشرے کو ہنستی، مسکراتی، گاتی، جھومتی خواتین سے نفرت ہے؟‘

منزہ انوار - بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


گذشتہ چند روز سے پاکستانی سوشل میڈیا پر ٹی وی پر چلنے والا بسکٹ کا ایک اشتہار زیرِ بحث ہے جس میں دکھائے جانے والے رقص کو ’مجرے‘ کا نام دیتے ہوئے اس اشتہار اور پاکستان میں الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا ) کے کردار پر تنقید جاری ہے۔

تنقید کرنے والوں میں عام صارفین سے لے کر حکومتی وزرا بھی شامل ہیں۔ جبکہ دوسری طرف یہ سوال بھی اٹھایا گیا کہ ’کیا اس معاشرے کو ہنستی، مسکراتی، گاتی، جھومتی خواتین سے نفرت ہے؟’

اس اشتہار پر ہونے والی تنقید کے بعد پیمرا کی جانب جاری کردہ ایک مراسلہ (ایڈوائزری) سامنے آیا ہے جس میں پاکستان ایڈورٹائزنگ ایسوسی ایشن (پی اے اے) اور پاکستان ایڈورٹائزرز سوسائٹی (پی اے ایس) کو اشتہار کے مواد پر نظر ثانی کی ہدایت کی گئی ہے۔

پاکستان میں ترقی پسند حلقوں کی جانب سے اس ایڈوائزری پر شدید تنقید کی جا رہی ہے اور اسے تخلیقی صلاحیتوں کو محدود کرنے ایک کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔

پیمرا کی ایڈوائزری میں کیا ہدایت دی گئی ہے؟

ایڈوائزری میں کہا گیا ہے کہ سیٹیلائٹ ٹی وی چینلز پر نشر ہونے والی عام مصنوعات، جیسا کہ بسکٹس، صرف وغیرہ کے اشتہارات کا مواد ان مصنوعات سے مطابقت نہیں رکھتا۔اتھارٹی کا کہنا ہے کہ ایسے رجحان سے ناصرف عوام میں بے چینی بڑھ رہی ہے بلکہ یہ معاشرے میں شائستگی کے قابل قبول معیارات اور پاکستانی سماجی و ثقافتی اقدار کی بھی خلاف ورزی ہے۔

پیمرا کا کہنا ہے کہ بسکٹ جیسی مصنوعات سے متعلق اشتہارات کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔

لہذا پی اے ایس، پی اے اے اور پی بی اے کو ہدایت کی جاتی ہے کہ وہ اشتہارات کے مرکزی خیال اور مواد سے متعلق عوامی تحفظات پر غور کریں اور الیکٹرانک میڈیا کے کوڈ آف کنڈکٹ کے تحت گالا بسکٹ کے مواد کا دوبارہ سے جائزہ لیں۔

بی بی سی بات کرتے ہوئے پاکستان ایڈورٹائزنگ ایسوسی ایشن (پی اے اے) کے قائم مقام سیکریٹری جنرل حماد طارق کا کہنا تھا کہ ابھی تک انھیں یہ ایڈوائزری موصول نہیں ہوئی ہے تاہم آٹھ اکتوبر کو ہونے والی بورڈ آف ڈائریکٹرز کی ایک میٹنگ میں یہ معاملہ زیر بحث آئے گا۔

اشتہار میں کیا ہے؟ گالا بسکٹ کا ایک منٹ 37 سیکنڈز دورانیے کا یہ اشتہار تین روز قبل ریلیز کیا گیا تھا۔

اشتہار میں اداکارہ مہوش حیات بلوچستان سے لے کر سندھ تک کی مختلف علاقائی ثقافتوں میں گھرے افراد کے درمیان رنگ برنگے لباس میں ایک گانے ’میرے دیس کا بسکٹ گالا‘ کی دُھن پر رقص کرتی نظر آتی ہیں۔

گالا بسکٹ کا معاملہ سوشل میڈیا پر زیِر بحث ہر معاملے پر چھایا نظر آتا ہے۔ کئی افراد جاننا چاہتے ہیں کہ ’آخر فحاشی کا پیمانہ کیا ہے اور کون یہ تعین کرے گا کہ کیا چیز فحش ہے اور کیا نہیں؟‘

مخِتلف آرا پر نظر ڈالیں تو بظاہر اس سوال کا کوئی جواب تو نظر نہیں آتا اور ہر شخص فحاشی کی تعریف اپنے حساب سے کر رہا ہے۔

گالا بسکٹ کے اشتہار پر ہونے والی تنقید اور پیمرا کے ہدایت نامے کے بعد کئی افراد کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگر ’ہر دوسرے دن فن یا فنکار کے ذریعہِ اظہار کو غیر شرعی، غیر مذہب یا معاشرے اور ثقافتی اقدار کی ترجمانی نہ کرنے کا کہہ کر اس پر اعتراضات اور پابندیاں عائد کی جائیں گی تو ایک فنکار کے پاس اپنی تخلیقی صلاحیت دکھانے کے لیے کیا موقع باقی رہ جاتا ہے؟‘

بی بی سی نے اس حوالے سے کئی فنکاروں، مصنفین اور ہدایت کاروں سے بات کی۔

’بہت سے لوگ صاحبِ رائے نہیں، بس آنکھیں بند کرکے چل پڑتے ہیں

معروف مصنفہ آمنہ مفتی کا کہنا ہے کہ پاکستان میں ایک فنکار کے لیے اپنی تخلیقی صلاحیتوں کا کھل کر اظہار کرنا تو کبھی بھی ممکن نہیں رہا۔

انھوں نے کہا کہ ایک فنکار کے طور پر آپ ہر وقت خود کو ’ایڈٹ‘ کرتے رہتے ہیں کہ کہیں معاشرے کی جانب سے کھینچی گئی سرخ لائن پر پاؤں نہ آ جائے۔ ’آرٹسٹ پہلے ہی خوف کے زیرِ اثر اور بہت سمجھوتے والے تنگ ماحول میں کام کر رہے تھے، لیکن اب تو بالکل دم گھٹ گیا ہے۔‘

آمنہ مفتی کے مطابق انھوں نے کافی غور سے گالا کا اشتہار دیکھا ہے لیکن انھیں اس میں کوئی قابلِ اعتراض چیز نظر نہیں آئی۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی مواد کو عوام رد کر دے تو وہ اور بات ہے لیکن وہ سنسر شپ کو نہیں مانتیں۔

ان کا کہنا تھا کہ پیمرا کو اگر اس اشتہار میں کوئی قابل اعتراض شے نظر آئی ہے تو اس کی وضاحت کی جانی چاہیے۔

آمنہ کا ماننا ہے کہ پاکستان میں بھیڑ چال بہت ہے اور ’بہت سارے لوگوں کی اپنی کوئی رائے نہیں ہوتی بس وہ آنکھیں بند کرکے پیچھے چل پڑتے ہیں اور تنقید شروع کر دیتے ہیں۔‘

سرکاری ٹی وی پر شازیہ خشک کے رقص کا حوالے دیتے ہوئے اُن کا کہنا تھا کہ گذشتہ چند دہائیوں سے پاکستان کے سرکاری ٹی وی پر اسی طرح پورے کپڑے پہن کر چاروں صوبوں کی نمائندگی کرنے والی ثقافت کی تشہیر کی جاتی رہی ہے۔

پی ٹی آئی کے رہنما علی محمد خان کی ٹویٹ میں ریاستِ مدینہ کے تصور اور وزیرِ اعظم عمران خان کے بیہودگی کے خلاف ہونے کے دعوے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے آمنہ مفتی کا کہنا تھا کہ وزیرِ اعظم کسی ایک طبقے یا ایک نظریے کے نمائندہ نہیں ہیں۔

’اگر وہ ان افراد کے وزیِر اعظم ہیں جو اس اشتہار پر تنقید کر رہے ہیں تو وہ ان کے بھی وزیرِ اعظم ہیں جنھیں اس اشتہار پر کوئی اعتراض نہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ ایک طرف کہا جاتا ہے کہ ترک سیریل ارطغرل دیکھیے۔ ’آپ ایک جانب ارطغرل لگا لیں اور دوسری جانب گالا کا اشتہار اور پھر بتائیں کہ کون سا زیادہ فحش ہے۔‘

حال ہی میں وزیرِ اعظم عمران خان نے اپنے سوشل میڈیا پر نوجوانوں کو ترک مصنفہ ایلفک شفک کا رومانوی ناول ’40 رولز آف لو‘ پڑھنے کا مشورہ دیا تھا۔ آمنہ کہتی ہیں ایک دن آپ اخلاقی تربیت کے لیے ’40 رولز آف لو‘ جیسے ناول پڑھنے کی نصحیتیں کرتے ہیں تو اگلے دن ثقافتی رقص پر پابندی لگانے کی باتیں کرتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ مجھے آج تک سمجھ نہیں آ سکا کہ فحاشی کا معیار کیا ہے۔

’حکومت اور ادارے خود بری طرح کنفیوزڈ ہیں

آمنہ مفتی کا کہنا ہے کہ پاکستان میں جب کوئی انڈسٹری محنت کرکے تھوڑا بہت اپنے قدم جما لیتی ہے تو حکومت اسے کنٹرول کرنے کے لیے ہر طرح کی کوششیں شروع کر دیتی ہے۔

وہ کہتی ہیں کہ بات صرف اس ایک اشتہار کی نہیں، اس سے پہلے ڈراموں کے سکرپٹ پر اعتراضات اٹھے اور پابندیاں لگیں۔ آمنہ کا کہنا ہے کہ ’حکومت اور ادارے خود بری طرح کنفیوزڈ ہیں اور انھوں نے عوام کو بھی چکرا کر رکھ دیا ہے۔‘

اپنے کیریئر کے دوران سنسر شپ کے متعلق بتاتے ہوئے آمنہ مفتی کا کہنا تھا کہ انھوں نے صرف پیمرا کی وجہ سے کئی پراجیکٹ اس لیے ختم کر دیے ہیں کیونکہ اگر ایک کردار اپنے کردار میں رہتے ہوئے کوئی جملہ نہیں کہہ سکتا تو پھر اسے لکھنے کا کیا فائدہ۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ کچھ فنکار اپنے معاشی حالات کے باعث سنسر زدہ ڈرامے لکھنے پر مجبور ہیں۔

مرد کے بنا شرٹ والے اشتہار کو کوئی کچھ نہیں کہتا‘

خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیم ’عکس‘ سے تعلق رکھنے والی تسنیم احمر کہتی ہیں کہ پاکستان میں فنکاروں کے لیے اپنی تخلیقی صلاحیتوں کے اظہار مشکل ہو رہا ہے لیکن خواتین فنکاروں کے لیے جگہ اور بھی زیادہ تنگ ہو رہی ہے، کیونکہ تنقید کا زیادہ فوکس عورت، اس کے لباس اور اس کی حرکات و سکنات پر ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمارے معاشرے میں عورتوں کو ایک خاص حد کے اندر رکھا گیا ہے اور لگتا ہے کہ عورتیں اس حد سے باہر آ رہی ہیں تو ان پر تنقید شروع کر کے اُن کا کام کرنا مشکل بنا دیا جاتا ہے جبکہ دوسری جانب ’مرد کے بنا شرٹ والے اشتہار کو کوئی کچھ نہیں کہتا۔‘

تسنیم کا کہنا ہے کہ اول تو پابندی لگنی ہی نہیں چاہیے لیکن اگر تنقید کرنی ہے یا پابندی لگانی ہے تو پھر سب کے ساتھ یکساں رویہ اپنائیں اور مرد اور عورت دونوں پر پابندی لگائیں۔

تسنیم نے کہا کہ معاشرہ اتنا گھٹن زدہ بنا دیا گیا ہے کہ خواتین کی بنیادی صحت، خاندانی منصوبہ بندی اور سینٹری پیڈز کے اشتہارات بھی نہیں دکھائے جا سکتے۔

علی محمد خان کی ٹویٹس کے حوالے سے تسنیم کا کہنا تھا جو ان اشتہارات میں خواتین کے لباس کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے معاشرے میں ریپ اور برائی کی جڑ مانتے ہیں وہ یہ بتا دیں کہ جو چھوٹی چھوٹی بچیاں ریپ ہوتی ہیں ان کے لباس میں کیا خرابی ہوتی ہے؟

شیما کرمانی

BBC
شیما کرمانی پوچھتی ہیں کہ جب منافرت پر مبنی مواد شئیر کیا جاتا ہے یا جب ٹی وی پر بیٹھ کر لوگ مجھ جیسی عورتوں کو گالیاں دیتے ہیں اور ہمارے خلاف گھٹیا زبان استعمال کرتے ہیں، اس وقت پیمرا کیوں کچھ نہیں کہتا؟ ان افراد پر پابندی کیوں نہیں لگائی جاتی؟’

’حکومت اصل مسائل سے توجہ ہٹانے کے لیے ایسے حربے اپنا رہی ہے‘

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے آرٹسٹ شیما کرمانی کا کہنا تھا کہ پاکستانی معاشرے میں ترقی پسند لوگوں کے لیے تخلیقی صلاحیتوں کے اظہار کے مواقع کم پڑنے کے ساتھ اختلافِ رائے کو برداشت نہیں کیا جا رہا۔

شیما کرنامی کا کہنا ہے کہ حکومت ملک کو درپیش دن بدن بڑھتے ہوئے ریپ جیسے اصل مسائل سے توجہ ہٹانے کے لیے ایسے حربے اپنا رہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو چاہیے کہ ریپ، غربت، بے روزگاری جیسے مسائل پر توجہ دے۔ اپنے کیریئر کے دوران سنسر شپ کے حوالے سے انھوں نے بتایا کہ اپنے رقص کے حوالے سے کئی بار سنسرشپ کا سامنا رہا ’کبھی کہا جاتا آپ ایسا لباس کیوں پہنتیں ہیں، آپ بندی کیوں لگاتی ہیں، آپ تو پاکستانی ہی نہیں لگتیں۔‘

شیما کرمانی حیران ہیں کہ آخر پیمرا نے کس بنیاد پر اس اشتہار کو معاشرے میں شائستگی کے قابل قبول معیارات اور پاکستانی سماجی و ثقافتی اقدار کی خلاف ورزی کہا ہے۔

شیما کرمانی پوچھتی ہیں کہ ’جب منافرت پر مبنی مواد شیئر کیا جاتا ہے یا جب ٹی وی پر بیٹھ کر لوگ مجھ جیسی عورتوں کو گالیاں دیتے ہیں اور ہمارے خلاف گھٹیا زبان استعمال کرتے ہیں اس وقت پیمرا کیوں کچھ نہیں کہتا؟ ان افراد پر پابندی کیوں نہیں لگائی جاتی؟‘

ان کا کہنا ہے کہ پیمرا کو اپنی پالیسیوں پر نظرثانی کرنے اور یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ کیا چیز معاشرے میں فحاشی پھیلانے کا سبب بنتی ہے۔

’اعتراض کرنے والے وضاحت بھی کریں کہ انھیں کس چیز پر اعتراض ہے‘

اس بارے میں بی بی سی بات کرتے ہوئے پاکستانی ہدایتکار اور اداکار سرمد سلطان کھوسٹ کا کہنا تھا کہ سنسر بورڈ اور پیمرا جیسے جتنے بھی ادارے بنے ہوئے ہیں، اگر انھیں کسی چیز پر اعتراض ہے تو واضح الفاظ میں اس کی نشاندہی کریں۔

ان کا کہنا تھا ’ان اداروں کی جو بھی ہدایات یا معیار ہیں، ایک بار ان کے بارے میں ابہام دور کریں اور ایک چارٹر بنا دیں جس میں درج ہو کہ کیا کرنے کی اجازت ہے اور کیا نہیں۔‘

سرمد کا کہنا تھا کہ انھوں نے بھی اشتہار دیکھا ہے لیکن انھیں سمجھ نہیں آرہی کہ اعتراض کس چیز پر ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ کوئی چار چیزیں نام لے کر بتائے کہ اس میں یہ چار چیزیں غلط ہیں۔

پابندی کسی مسئلے کا حل نہیں

آمنہ مفتی کے مطابق پابندی کسی مسئلے کا حل نہیں، چیزوں کو بنتے اور چلتے رہنے دینا چاہیے، اسی سے لوگوں کے ذہن کھلیں گے اور انھیں چیزوں کی سمجھ آنے لگے گی اور اسی سے بعد میں آگے آنے والوں کو سمجھ آتی جائے گی کہ انھیں اپنی بات کہنی کیسے ہے۔

تسنیم احمر کا ماننا ہے کہ مذہب کا کارڈ استعمال کرتے ہوئے چیزوں پر بندش کوئی حل نہیں اور مرد اور عورت دونوں کے ساتھ یکساں سلوک ہونا چاہیے اور ملک کو صرف مردوں کا معاشرہ نہیں بننے دینا چاہیے۔ ’لوگوں کے اندر خود شعور بیدار ہونے دیں کہ کیا چیز ٹھیک اور اور کیا غلط۔‘

بی بی سی نے ان اشتہار کے حوالے سے پیمرا اور حکومت کے متعلقہ حکام، اشتہار بنانے والی ایجنسی اور اداکارہ مہوش حیات سے رابطہ کرنے کی بارہا کوشش کی تاحال ان سے رابطہ قائم نہیں ہو سکا ہے۔

سوشل میڈیا پر ہونے والی بحث

اشتہار کے مخالفین سے لے کر حکمران جماعت پاکستان تحریکِ انصاف سے تعلق رکھنے والے کچھ حکومتی وزرا کا کہنا ہے کہ یہ اشتہار بیہودہ اور فحش ہے اور ریاستِ مدینہ میں اس طرح کے مواد کو نشر کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

اس معاملے میں بظاہر اشتہار پر سب سے زیادہ تنقید صحافی انصار عباسی کی جانب سے کی گئی ہے۔ مگر جہاں ان کی ہاں سے ہاں ملانے والوں کی کمی نہیں وہاں ان پر خاصی تنقید بھی کی جا رہی ہے۔

ویسے تو اس معاملے پر انصار عباسی کی ان گنت ٹویٹس ہیں جن میں سے ایک میں وہ پیمرا کو ٹیگ کرتے ہوئے کہتے ہیں ’بسکٹ بیچنے کے لیے اب ٹی وی چینلز پر مُجرا چلے گا۔ پیمرا نام کا کوئی ادارہ ہے یہاں؟‘

ساتھ ہی انھوں نے وزیرِ اعظم عمران خان کو ٹیگ کرتے ہوئے پوچھا کہ کیا وہ اس معاملے پر کوئی ایکشن لیں گے؟ کیا پاکستان اسلام کے نام پر نہیں بنا تھا؟؟‘

لیکن جب گذشتہ روز پیمرا نے ایکشن لے لیا تو انھوں نے پیمرا کی جانب سے جاری ایڈوائزری شئیر کرتے ہوئے لکھا کہ ’الحمدللہ! پیمرا نے عوامی احتجاج پر بسکٹ کو بیچنے کے لیے رقص پر مبنی اشتہار چلانے پر تمام ٹی وی چینلز، پی بی اے اور متعلقہ اداروں کو ایڈوائزری جاری کر دی ہے اور کہا ہے کہ ہماری اقدار کا خیال رکھا جائے۔‘

ساتھ ہی انھوں نے اس کامیابی پر اُن تمام افراد کا شکریہ ادا کیا جنھوں نے اس کے خلاف آواز اُٹھائی۔

یاد رہے کہ اس سے قبل بھی انصار عباسی نے گذشتہ ماہ پاکستان کے سرکاری ٹی وی چینل پاکستان ٹیلی وژن کے ایک شو کا کلپ شیئر کرتے ہوئے اس پر اعتراض اٹھایا تھا۔ سات سیکنڈ کے اس کلپ میں ورزش کا لباس ہنے ہوئے ایک خاتون کو ایک مرد ٹرینر کے ساتھ ورک آؤٹ کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔

خیر اس معاملے میں حکومتی وزرا کی جانب سے بھی دو مختلف آرا سامنے آ رہی ہیں۔

پی ٹی آئی کے علی محمد خان نے انصار عباسی کی ٹویٹ ری ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا ’ہماری حکومت کا وژن مدنی ریاست کا ہے۔ وزیرِ اعظم عمران خان صاحب بیہودگی کے خلاف ہیں۔‘

’اور وہ پاکستان کے واحد وزیراعظم ہیں جنھوں نے اقوام متحدہ میں کھڑے ہو کر دنیا کو پیغمبرِ اسلام و صحابہٖ کی عظیم شخصیت، عظمت و مرتبت و مدنی ریاست کی بات کی۔‘

لیکن دوسری جانب فواد چوہدری جیسے وفاقی وزرا بھی موجود ہیں جنھوں نے صحافی انصار عباسی اور علی محمد خان کی ٹویٹ کے جواب میں طنزیہ انداز میں لکھا ’آپ اور علی 24 گھنٹے فحاشی کیوں سرچ کرتے رہتے ہیں؟ کوئی تخلیقی کام بھی کر لیا کریں۔‘

کئی صارفین یہ بھی پوچھ رہے ہیں کہ اگر اس اشتہار اور رقص میں مہوش کی جگہ کوئی مرد ہوتا تو کیا تب بھی ایسا ہی ردِعمل آتا؟ جبکہ کئی افراد کا کہنا ہے کہ گھٹیا مواد والے ڈراموں پر پابندیاں لگانے میں پیمرا ایسی پھرتی کیوں نہیں دکھاتا؟

کئی افراد اسی بسکٹ کے سنہ 2013 میں بنے اشتہار کو بھی شیئر کرتے پوچھتے نظر آئے کہ حالیہ اشتہار کو فحش کہنے والے سات سال قبل کہاں تھے؟

بیشر صارفین کا ماننا ہے کہ 2013 والے اشتہار میں اب سے زیادہ رقص کے مناظر شامل تھے لیکن اس وقت تو کسی نے کوئی تنقید نہیں کی تھی نہ کسی حکومتی ادارے کی جانب سے کوئی نوٹیفکیشن سامنے نہیں آیا تھا۔

کئی لوگ یہ بھی پوچھتے نظر آئے کہ کیا اس کی وجہ یہ ہے کہ اس وقت کی حکومت (پاکستان مسلم لیگ نون) نے کوئی ایکشن نہیں لیا تھا اور اب والی پی ٹی آئی حکومت زیادہ قدامت پسند ہے؟

سوشل میڈیا پر بیشتر صارفین اس بات سے بھی نالاں ہیں کہ کیسے چند افراد کی ذاتی پسند ناپسند یا ذاتی رائے حکومت کے ضابطہ اخلاق پر اثر ہو سکتی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 15998 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp