اے ماؤ، بہنو، بیٹیو

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہائے نا ہوئے معصوم حالی صاحب آج کے زمانے میں ورنہ ماؤں بہنوں بیٹیوں درگت دیکھ کر وہ یہ شعر ہر گز نا کہہ سکتے اور ویسے بھی اس شعر پر تو ایک نئی نا ختم ہونے والی بحث کا آغاز ہو جاتا جو اخباری کالمز، سوشل بلاگز سے ہوتی ہوئی ٹی وی چینلز تک آ پہنچتی اور چند دن کے لئے سب ہی کی دکان چمک جاتی، اس بحث میں ترقی پسند بھڑک بھڑک جاتے اور کہتے کہ ان رشتوں کے علاوہ اب عورت کی الگ پہچان ہے اور ڈاکٹر، پروفیسر، جج بلکہ سربراہ مملکت ہے اس لئے اس فرسودہ خیال کو ترک کیا جائے اور اس کو ”میرا جسم میری مرضی“ کے مطابق زندگی گزارنے دی جائے۔ دوسری پارٹی کہتی کہ عورت چاہے آسمان کو تھگلی لگا لے وہ بس درجہ دوم ہی کی مخلوق ہے اگر وہ گھریلو امور کے علاوہ اپنے آپ کو کسی قابل سمجھے تو وہیں بیخ کنی کر دو۔

ہمارے خیال میں تو عورت شاید درجہ دوم، سوم، چہارم یا شاید اس سے بھی نچلے درجے کی کوئی مخلوق ہے، جب ہم سکول کالج میں تھے تو خواتین کی بے حرمتی پر چھپتی خال خال خبریں پڑھ کر بے حد شرمندگی سی محسوس ہوتی تھی اور معصوم پی ٹی وی پر تو بحث مباحثہ کا کوئی سوال ہی نا تھا مگر اس وقت کے روشن خیال لوگ تو یہی کہتے تھے کہ ان موضوعات پہ کھلے عام بحث ہونی چاہیے کیونکہ گند قالین کے نیچے چھپانے سے تعفن پھیلنے لگے گا لیکن یہاں پرانے وضع دار لوگ کہتے کہ کسی کی ہو چکی ذلت کا جنازہ نکال کر کتنی صفائی کر لیں گے آپ؟ بہرحال دونوں ٹھیک تھے یا دونوں غلط یہ تو کوئی تیسری پارٹی ہی بتا سکتی ہے۔

پچھلے کافی عرصہ سے خواتین اور بچیوں کی بے حرمتی اور قتل و غارت نے دل بہت ہی بو جھل کر رکھا ہے، یہ بچیاں کسی کے دل کا ٹکڑا تھیں، ماں باپ نے نجانے کیا خواب ان کے بارے میں بنے تھے مگر ہوا کیا؟ کوڑے ڈھیروں اور کوڑے دانوں میں ایک آئٹم کا اضافہ ہوا اور ماں باپ کی دنیا اندھیر ہو گئی۔ اپنے بچوں کے سامنے ہم اپنے وطن کو ارض پاک کے طور پر پیش کرتے ہیں اور اس میں کوئی شک بھی نہیں ہے مگر پاکستانی نیوز چینلز پر تواتر سے نشر ہونے والی ان خبروں پہ وہ ہمیں سوالیہ انداز میں دیکھتے ہیں تو ہم نظریں چرا کر کہتے ہیں کہ ایسے واقعات دنیا میں ہر جگہ ہوتے ہیں۔

مروہ نام کا فرشتہ ایک شیطان کے ہاتھوں پامال ہوا اور اس کی آدھ جلی میت ملی تو اس کی تفصیل فوری نشر ہونے لگی جو سننا بے حد مشکل تھا، مگر ریٹنگ کے ہوکے میں ایک مورننگ شو کی میزبان نے ماں باپ کو پروگرام میں بلا کر جو نا مناسب گفتگو کی وہ معافی کے قابل نہیں تھی مگر کون تھا جو اس پروگرام پر پابندی لگواتا؟ اس کے بعد بھی معصوم بچیوں کے ساتھ زیادتی کے ان گنت واقعات ہو چکے ہیں اور ارباب اختیار مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچانے کا اعادہ کرتے رہتے ہیں۔

پچھلے دنوں موٹر وے کے واقعے نے بھی پوری قوم کا سر جھکا دیا، ”شرم“ کا لفظ اس لئے استعمال نہیں کیا کہ

شرم تم کو مگر نہیں آتی

اس مظلوم اور شکر ہے نامعلوم (پبلک کے لئے ) خاتون پہ گزرنے والے واقعے کو حرف حرف بہتر گھنٹوں سے بھی زیادہ دہرایا گیا اور ہر بار نئے اضافے کے ساتھ یہ سوچے سمجھے بغیر کہ اس غریب کا ایک خاندان ہے اور وہ مظلوم بچے جو شاید ساری زندگی سائیکو تھراپی پہ جئیں گے، جب آپ مجرموں کا تعین ہی نہیں کر پا رہے، وقت پر مدد کے لئے نہیں پہنچ پائے تو یہ بیہودہ شور کیسا؟ اتنے بجے فون آیا اتنے بجے فون گیا کئی لوگ پکڑے گئے کئی لوگ چھوڑے گئے، پکڑے جانے والوں نے نئی کہانی کی جاتے ہوئے ہزار روپیہ ڈیش بورڈ پر چھوڑ گئے مگر زمین نا پھٹی اور اصل مجرم پھر نا پکڑا جا سکا۔

کوئی بتلاؤ کہ ہم بتلائیں کیا
( ابھی ابھی نیوز میں پتا چلا ہے کہ اصل مجرم گرفتار ہو گیا ہے الحمدللٰہ!

فیصل آباد میں جب ایک ایم این اے صاحب اور صاحبہ کا سکینڈل سامنے آیا تو میڈیا کے پو بارہ تھے، قصور کس کا تھا یہ تو اللہ جانتا ہے یا وہ دونوں مگر معذرت کے ساتھ مرد حضرات کی ہمدردیاں صاحب کے ساتھ تھیں جو موقع پر موجود لوگوں سے بری طرح پٹے تھے، آئے تو بیچارے تنظیم سازی کے لئے تھے مگر ”میم سازی“ کا شکار ہو گئے اور قدرت کی ستم ظریفی دیکھئے کہ ان خاتون پر بھی پر اٹھنے والی نظریں بہت مشکوک تھیں اور اہل وطن سر دھنتے تھے کہ عورت ذات ہے کیا بھروسا؟

پچھلے دنوں ایک خاتون پوسٹ ماسٹر پر تشدد کا واقعہ سامنے آیا جو عام انسان کو گنگ کرنے کے لئے کافی تھا، ایک اجڈ انسان دندناتا ہوا آیا اور پوسٹ مسٹر خاتون کو تھپڑوں اور گھونسوں پر رکھ لیا ارد گرد عوام الناس تماشا دیکھتی رہی اور ان کو خاموشی سے اس وقت یہ برداشت کرنا پڑا کہ وہ خاتون تھیں اور اس وقت اپنے دفاع سے قاصر تھیں چنانچہ اس واقعہ کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے، وہ جتنا بھی قصور وار ہوں مگر سر عام اس ذلت کی حقدار نا تھیں۔ ایک مہذب معاشرے میں یہ سب زیب نہیں دیتا۔

معصوم بچیوں اور خواتین کی بے حرمتی اور قتل و غارت نا صرف قانون نافذ کرنے والے اداروں بلکہ بائیس کروڑ عوام کے لئے بھی لمحہ فکریہ ہے۔ اس ناقابل معافی اور قبیح جرم کی جڑیں کیسے کینسر کی طرح سوسائٹی میں سرایت کرتے ہوئے اندر ہی اندر پھیلتی رہیں؟ یہ ایک سوالیہ نشان ہے اور جواب دہ ہم سب ہیں۔ ان جرائم کے لئے ریپڈ ٹرائل کے بعد عبرتناک سزاؤں کا قانون بہرحال فوری نافذ ہونا چاہیے۔

ہائے نا ہوئے معصوم حالی ورنہ کبھی نا کہہ سکتے
اے ماؤں بہنو بیٹیو
دنیا کی عزت تم سے ہے!

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
فائزہ جاوید چیمہ کی دیگر تحریریں