جنسی جرائم اورہمارا معاشرہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

میں نے ایک بار کہیں پڑھا تھا کہ اگر موبائل کمپنیاں کچھ مخصوص ذہنیت کے لوگوں کے موبائل کی گیلری دیکھ لیں تو ان کو کبھی معزز صارف نہ کہیں، پڑھ کر ہنسی تھمنے کا نام نہیں لے رہی تھی کہ میری آنکھوں کے سامنے خواتین کے ساتھ ریپ کی وارداتوں کا موجودہ سوشل میڈیا ٹرینڈ گھوم گیا۔ پاکستانی قوم کی ایک خاص خوبی ہے کہ جیسے ہی کوئی نیا حادثہ وقوع پذیر ہوتا ہے، یہ قوم پرانا واقعہ بھول کر نئے وقوعہ کی گتھیاں سلجھانے کے ساتھ ساتھ اس کے عوامل و عواقب پہ بحث کرنا شروع کر دیتی ہے۔

حال ہی میں خاتون کے ساتھ موٹر وے پر ہونے والی جنسی زیادتی پر ایسی گرد اڑی کہ اس میں ہماری عوام باقی سب سکینڈل بھول گئی اور ایک نئی بحث چل نکلی، جس پر پاکستان کے مختلف علاقوں میں ہونے والی اس طرح کی مزید وارداتوں نے جلتی پہ تیل کا کام کیا اور مجھ جیسے سیکڑوں دانشور اپنا اپنا فلسفہ بگھارنے کے لئے اپنے مضامین کا سہارا لے کر میدان عمل میں کود پڑے۔ اسی دوران مشہور زمانہ دینی و تبلیغی شخصیت مولانا طارق جمیل کا یہ بیان بھی نظر سے گزرا کہ ملک میں پھیلتی ہوئی فحاشی اور بے حیائی کا اہم سبب یونیورسٹیوں کی مخلوط تعلیم ہے، ناچیز کیونکہ عرصہ دراز مختلف یونیورسٹیوں کا طالب علم رہا ہے اس لئے یہی سوچا کہ لگے ہاتھوں اس موقع سے فائدہ اٹھا کر اپنے تجربات و مشاہدات بھی بیان کیے جائیں۔

جہاں تک مخلوط تعلیم سے فحاشی پھیلنے کا تعلق ہے تو کم ازکم میں اس بات سے اتفاق نہیں کرتا کیونکہ آپ جنسی زیادتی کی تمام وارداتوں کے ملزمان کی ہسٹری کھنگال لیں تو آپ کو اس واردات میں کوئی بھی یونیورسٹی کا طالب علم مشکل سے ہی ملوث نظر آئے گا۔ جہاں تک خواتین، کمسن بچیوں اور بچوں سے زیادتی کا تعلق ہے تو اس میں اکثر وہی لوگ ملوث پائے گئے ہیں جو جنسی گھٹن کا شکار ہونے کے ساتھ ساتھ، فحش مواد کو مستقل دیکھنے کے عادی ہیں۔ موجودہ معاشرے میں میری تحقیق کے مطابق 90 فیصد سے زیادہ بالغ افراد پورن موویز کو یا تو مستقل دیکھتے ہیں یا ان سے جنسی حظ اٹھاتے ہیں۔ پورن انڈسٹری اس وقت نہ صرف مسلم امہ کے خلاف ایک اہم ہتھیار بن چکا ہے بلکہ اس کے ساتھ ساتھ جنسی جرائم کی اہم وجہ بھی ہے۔

دیکھا جائے تو مغرب کی نسبت ہمارے ملک میں جنسی بے راہ روی اور مخلوط محافل کے مواقع کم ہیں اس لئے جنسی جرائم کی شرح بھی یورپی ممالک کی نسبت زیادہ نہیں ہے لیکن بطور مسلمان اس طرح کے واقعات نہ صرف عوام بلکہ معصوم بچوں کے ذہن پر بھی انمٹ نقوش چھوڑ جاتے ہیں۔ مجھ ناچیز کی رائے میں جنسی جرائم کی سب سے بڑی وجہ ہمارے نظام میں موجود وہ نقائص ہیں جن کی وجہ سے معاشرے کی اکثریت شخصیت سازی اور کردار سازی سے محروم ہے۔

ملک میں قانون کی عمل داری بھی اس وقت ممکن ہے جب نظام اس کو لاگو کرنا چاہے کیونکہ ہمارے معاشرے کے اکثر جرائم پیشہ افراد اسی لولے لنگڑے نظام میں موجود مختلف ثقم ہائے سے فائدہ اٹھا کر نہ صرف بری بلکہ شیر ہو جاتے ہیں۔ اگر بات کی جائے شخصیت سازی اور کردار سازی کی تو ہمارا موجودہ نصاب کسی بچے کی کردار سازی کے لئے ترتیب نہیں دیا بلکہ یہ چوں چوں کا وہ مربع ہے جس کی بنیادیں لارڈ میکالے کے مغربیت زدہ اور فرسودہ تعلیمات سے جڑی ہیں۔

کسی بھی بچے کی انفرادی اور اجتماعی تربیت پر توجہ دینے کی بجائے اس کو اپنی تعلیم کے اختتام پر کاغذ کا ایک ٹکڑا پکڑا دیا جاتا ہے جس پر کہیں یہ تحریر نہیں ہوتا ہے یہ کون سے شعبہ میں ترقی کر سکتا ہے یا اس کی تربیت کے دوران اس کے کردار میں کون سی نفسیاتی گرہ کا مشاہدہ کیا گیا ہے۔ اگر ہمارے ملک میں ہونے والے جنسی مجرموں کا نفسیاتی مشاہدہ کیا جائے تو ہمارے علم میں باآسانی یہ بات آ سکتی ہے کہ ان مجرمان کی اکثریت نہ صرف معاشرے کے ٹھکرائے ہوئے افراد ہوتے ہیں بلکہ کسی نہ کسی نفسیاتی عارضے میں مبتلا ہوتے ہیں اور اس نفسیاتی عارضے کی شناخت نہ صرف والدین بلکہ اساتذہ کا بھی فرض ہے۔

ہمارے نظام تعلیم میں بچوں کو ایک رٹو طوطا بنانے کے علاوہ اس کو کچھ بھی نہیں سکھایا جا رہا۔ وہ ایک بہت بڑا سکول بیگ لے کر مدرسے جاتا ہے، مدرسے میں جب وہ معاشرتی تفاوت کا مظاہرہ دیکھتا ہے تو وہ نہ صرف اندر سے بے چینی کا شکار ہوتا ہے بلکہ اس کی صحبت بھی مخصوص مجرمانہ ذہنیت کے بچوں کے شروع ہو جاتی ہے۔ مسابقت اور مقابلہ بازی وہ رجحانات ہیں جن کا اگر مثبت استعمال کیا جائے تو نہ صرف بچہ عملی میدان میں کامیاب و کامران ہوتا ہے بلکہ اپنی ہم جولیوں سے چھوٹے چھوٹے مقابلہ جات اس کو عملی زندگی کے میدان میں شاداں و فرحاں کرنے کے کام آتے ہیں۔

عرصہ بیس سال سے چھوٹے بڑے طلباء و طالبات کی نفسیات کا مطالعہ کرنے کے بعد میرے مشاہدے میں یہ بات آئی ہے کہ ایک ایسا بچہ جو کسی نہ کسی ذہنی یا جسمانی کمزوری کا شکار ہوتا ہے اس کو اساتذہ، معاشرہ اور والدین تنہا چھوڑ دیتے ہیں اور بطور ردعمل وہ کوئی نہ کوئی ایسا غلط کام کرتا ہے جس کی وجہ سے پوری کمیونٹی چلا اٹھتی ہے۔ جنسی جرائم کی اس سے بھی بڑی وجہ ہمارے ملک، معاشرے اور قوم میں جنسیت کی طرف بڑھتا ہوا رجحان ہے جو دن بدن بڑھتا جا رہا ہے اور اہل عنان کی لاپرواہی اور کج ادائی کی وجہ سے ہمارے معاشرے میں ایک کینسر کی طرح پھیلتا جا رہا ہے جس میں ہر بزرگ، جوان، مردو خواتین مبتلا ہیں۔

کچھ لوگوں کے خیال میں اس کی اہم وجہ معاشرے میں نکاح اور شادی کا نہ ہونا ہے لیکن میری رائے میں جنسی شہوت میں اس وقت سب سے زیادہ شادی شدہ افراد جن میں بلا تفریق مرد و زن شامل ہیں، مبتلا ہیں۔ اگر آپ معاشرے کا مشاہدے کرنا جانتے ہیں تو شاید میری اس بات سے اتفاق کریں گے کہ جنسی لذت کے حصول کے لئے مختلف ادویات کی فروخت کا کاروبار اس وقت نہ صرف عروج پر ہے بلکہ ہر تیسرا فرد ویاگرہ جیسی قوت باہ میں اضافہ کرنے والی ادویات کے استعمال کا عادی ہو چکا ہے۔

اس وقت پورن موویز نہ صرف ایک انڈسٹری بن چکی ہے بلکہ پوری دنیا میں ایک عفریت کی طرح پھن پھیلائے اقوام عالم کو جکڑنے کو بے تاب ہے، اس وقت بھی فحش ویب سائٹس پر ایک سو سے زیادہ پورن کی مختلف اقسام موجود ہیں جو نہ صرف جنسی جرائم پیشہ افراد کی لذت کا باعث ہیں بلکہ جنسی جرائم کی راہ ہموار بھی کر رہی ہیں۔ موجودہ حکومت کے سامنے گو بہت سے معاشی اور سیاسی مسائل سر اٹھائے کھڑے ہیں لیکن فحش ویب سائٹس کو بلاک کرنا ایک اہم مسئلہ ہے جس کو ہر حال میں حل کرنا ہو گا تاکہ ہماری نوجوان نسل کے اذہان میں ایسا گند نہ انڈیلا جا سکے جس کی وجہ سے وہ خدانخواستہ ان سے کوئی قبیح فعل سرزد ہو جائے۔

رہی بات موجودہ پالیسی اور حکمت عملی کی تو صرف ٹک ٹاک کو پورے ملک میں بلاک کرنا ایسے ہی ہے جیسے بلی کو اپنے سامنے پا کر کبوتر اپنی آنکھیں بند کر لیتا ہے، ضرورت اس امر کی ہے نوجوانوں کے دل و دماغ میں مثبت نظریات کے ساتھ ساتھ ایسی تعلیمات دی جائیں جن کی بنا پر ایک طاہر و مطہر نسل معرض وجود میں آئے۔ ایک ایسی نسل جس کے سامنے قوم کی خدمت اور معاشرے کی فلاح جیسا اہم نصب العین ہو۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •