ٹیکنالوجی کا استحصال اور گھریلو تشدد: ’گھر کی گھنٹی میں نصب کیمرے سے وہ میری جاسوسی کرتا رہا‘

تالیا فرینکو اور شروما سلوا - بی بی سی، کلک

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

گھریلو تشدد، ٹیکنالوجی
BBC
برطانیہ سمیت دنیا بھر میں لاک ڈاؤن کے دوران گھریلو تشدد کے کیسز میں واضح اضافہ دیکھا گیا ہے اور اس میں ٹیکنالوجی کے کردار کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

سمارٹ سپیکرز، کی لاگنگ سافٹ ویئر اور ٹریکنگ ایپس کی مدد سے بعض افراد نے لاک ڈاؤن کے دنوں میں اپنے پارٹنرز کے ساتھ گھریلو تشدد اور بدسلوکی کی۔ انھوں نے ٹیکنالوجی کے استحصال سے اپنے ساتھیوں کی جاسوسی بھی کی۔

گھریلو تشدد کے روک تھام کے امدادی ادارے ریفیوج کا کہنا ہے کہ آپس کے تعلقات کے 70 فیصد کیسز میں ٹیکنالوجی کے ذریعے بدسلوکی کی جاتی ہے۔

عالمی وبا کے دوران گھریلو تشدد کا سامنا کرنے والی دو خواتین نے اپنی کہانی بی بی سی کلک کو بتائی ہے۔ ان کی درخواست پر ان کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی تاکہ وہ محفوظ رہ سکیں۔

یہ بھی پڑھیے

محبت، سیکس اور آن لائن بدسلوکی کی ایک داستان

کنوارپن کی سرجری پر پابندی لگانے کا مطالبہ

لاک ڈاؤن میں گھریلو تشدد: ’کہتے ہیں شور مت مچاؤ، پڑوسی کیا کہیں گے‘

’اس نے جیب سے چاقو نکالا اور میری ناک کاٹ دی‘

کیٹ (تبدیل شدہ نام) کا کہنا ہے کہ ’مجھے پتا چلا کہ جب وہ (پارٹنر) گھر سے نکلتے تو وہ گھر کی گھنٹی میں نصب کیمرے کے ذریعے مجھے ٹریک کرتے تھے۔‘

وہ ایمازون کی اس سمارٹ سکیورٹی ڈیوائس کی بات کر رہی ہیں جو انٹرنیٹ کے ذریعے چلتی ہے اور کہیں سے بھی بیٹھ کر اس سے آپ اپنے گھر کی رکھوالی کر سکتے ہیں۔

’میں چاہتی تو اس میں سے بیٹری نکال سکتی تھی لیکن میں ایسا نہیں کر سکی کیونکہ مجھے لگا کہ وہ کہیں گے کہ ’تم ہمارے بچوں کی حفاظت پر سمجھوتہ کر رہی ہو۔

’میں فکر مند تھی کہ وہ پولیس کے پاس جائیں گے اور کہیں گے کہ میں ایک بُری ماں ہوں۔‘

ایک دوسری خاتون نے بتایا کہ ان کا ساتھی ان پر جاسوسی کرنے کے لیے ایمازون کی ورچوئل اسسٹنٹ ڈیوائس استعمال کرتا تھا۔ وہ اس کے سمارٹ سپیکر اور مائیک استعمال کرتے ہوئے ان کی باتیں سن سکتا تھا۔

گھریلو تشدد، ٹیکنالوجی

BBC

سوزی (تبدیل شدہ نام) کہتی ہیں کہ ’وہ تمام اکاؤنٹس کی سیٹنگ خود کرتے تھے۔

’وہ ان چیزوں میں فیملی شیئرنگ کے آپشن کو استعمال کرتے تھے۔ پورے گھر میں الیگزا کی کئی ڈیوائسز لگی ہوئی ہیں۔

’وہ بغیر بتائے اچانک باہر سے گھر آجاتے یا جب ہم گھر پر ہوتے تو وہ خود کسی اور کے گھر جا کر الیگزا کی گھنٹی بجا دیتے۔‘

عالمی وبا کے دوران آدمیوں کے ساتھ پیش آنے والے تشدد کے واقعات میں بھی اضافہ ہوا ہے۔

’دی رسپیکٹ مینز ایڈوائس‘ نامی ادارے کی رپورٹ کے مطابق برطانیہ میں گذشتہ سال کے برعکس رواں سال اس عرصے کے دوران پانچ ہزار زیادہ شکایات کالز کے ذریعے موصول ہوئی ہیں۔

لیکن اس کے باوجود خواتین کے تشدد اور ہراسانی کا شکار بننے کے زیادہ امکانات موجود رہتے ہیں۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق گذشتہ سال پولیس کو موصول ہونے والی گھریلو تشدد کی شکایات میں تین چوتھائی خواتین تھیں۔

اپنے ساتھی کو ’قابو میں رکھنا‘

ڈاکٹر لیونی ٹینزر کہتی ہیں کہ یونیورسٹی کالج لندن میں جس شعبے میں وہ کام کر رہی ہیں، اس میں وہ اکثر ایسے کیسز دیکھتی ہیں جن میں گھریلو تشدد انٹرنیٹ اور ٹیکنالوجی کے استحصال سے ممکن ہوتا ہے۔

وہ کہتی ہیں کہ ’یہ مجرم، جو زیادہ تر مرد ہوتے ہیں، ایسی ڈیوائس خرید کر اسے (اس مقصد کے لیے) استعمال کرتے ہیں۔‘

’ایسا کرنے سے انھیں اردگرد کے ماحول پر کنٹرول حاصل ہو جاتا ہے کیونکہ وہ ڈیوائس کی سیٹنگ اپنی مرضی سے کرتے رہتے ہیں۔‘

سوزی اور کیٹ کی کہانی سے یہ نظریہ درست ثابت ہو رہا ہے۔ سوزی کہتی ہیں کہ ’ہمیں گھر میں ایک بلبلے کے اندر رکھا جاتا ہے۔‘

’جب میں گھر سے نکلتی ہوں تو وہ میری سمارٹ واچ کے ذریعے میری لوکیشن دیکھ سکتے ہیں، یا میرا فون استعمال کر کے یا آئی پیڈ، یا کوئی اور چیز۔‘

’مجھے اب جا کر احساس ہوا ہے کہ میری اور میرے بچوں کی زندگی پر ہمارا خود کا کنٹرول کتنا کم ہو رہا ہے اور ان کا کتنا زیادہ۔ میرے لیے اس سے نکلنا ضروری تھا۔‘

ان کا کہنا ہے کہ ان کے ساتھی نے دونوں کے شیئرڈ ایمازون اکاؤنٹ سے انھیں لاک آؤٹ کر دیا تھا جس کی بدولت وہ اس اکاؤنٹ تک رسائی حاصل نہیں کر سکتی تھیں۔

مگر اکاؤنٹ میں ان کا ذاتی کریڈٹ کارڈ درج تھا جس کی وجہ سے اس شخص کے پاس یہ صلاحیت تھی کہ وہ اپنی ساتھی کے خرچے پر ایمازون اکاؤنٹ استعمال کر سکتا تھا۔ اس سے مراد بھی ایک قسم کا کنٹرول ہے۔

وہ کہتی ہیں کہ ’میں نے ایمازون کو کال کی اور انھیں بتایا کہ میں اس اکاؤنٹ سے اپنے کارڈ نہیں ہٹا پا رہی۔

’انھوں نے کہا کہ وہ معذرت خواہ ہیں کہ اُنھیں اب اپنے بینک سے کہنا ہوگا کہ ان کارڈز کو منسوخ کریں۔

’کمپنیوں کو علم ہونا چاہیے کہ ان کی چیزیں کن مقاصد کے لیے استعمال ہو سکتی ہیں۔‘

برطانیہ میں گھریلو تشدد کا ایک تاریخی بل زیر بحث ہے جس میں جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے اپنے ساتھی یا سابقہ ساتھی پر جاسوسی کرنا غیر قانونی قرار دیا جائے گا۔

گھریلو تشدد، ٹیکنالوجی

BBC

ٹیکنالوجی کے ہی استعمال سے ان مشکلات سے نمٹا جاسکتا ہے۔ لیکن ریفیوج نے متنبہ کیا ہے کہ ایسی کچھ ایپس کی وجہ سے لوگوں کی زندگیوں کو خطرات لاحق ہیں۔

اس کا کہنا ہے کہ ’کچھ کمپنیوں کی ایپس گھریلو تشدد کے شکار افراد کی مدد کے لیے موجود ہیں۔ لیکن ان ایپس سے بھی متاثرین کے تحفظ کو خطرات لاحق ہیں۔ (مثلاً) ایسی ایپس جن میں متاثرہ شخص کی لوکیشن پتا لگائی جا سکے۔‘

کیٹ کا کہنا ہے کہ کمپنیوں کو ایپس اور ڈیوائسز میں اس بات کا بھی خیال رکھنا چاہیے کہ اگر دو لوگوں کا آپسی تعلق ختم ہوتا ہے تو اس صورت میں انفرادی معلومات کو کیسے محفوظ رکھا جا سکتا ہے۔

’جوڑے کی صورت میں آپ ایک ہی ای میل اکاؤنٹ سے خود کو رجسٹر کرتے ہیں۔۔۔ اگر کچھ غلط ہوتا ہے تو متاثرہ فرد جو اب اس اکاؤنٹ کو استعمال نہیں کر سکتا وہ اس سے خود کو ہٹانے میں ناکام رہتا ہے اور اپنے متعلق معلومات میں وہاں کوئی رد و بدل نہیں کر سکتا۔

تحفظ کی قیمت

آئی بی ایم میں سکیورٹی ماہرین کی ٹیم نے گھریلو تشدد میں ٹیکنالوجی کے استعمال کے خدشات کو کم کرنے کی تجاویز تیار کی ہیں۔ انھوں نے سافٹ ویئر بنانے والوں اور ڈیوائسز کے صارفین کے لیے کچھ اصول طے کیے ہیں۔

ان کے مطابق اکثر متاثرین پر الزام لگتا ہے کہ وہ خود کو یہ چیزیں استعمال کرنا سکھائیں لیکن ڈیوائس بنانے والوں کو کوئی کچھ نہیں کہتا۔

آئی بی ایم کی لیزلی نوٹل کا کہنا تھا کہ ان کا خیال ہے کہ تحفظ کی قیمت صارفین کو ادا نہیں کرنی چاہیے۔ یہ ضروری ہے کہ ڈیزائن کے مرحلے میں ڈیوائس اور ایپس میں کچھ بنیادی چیزوں کا خیال رکھا جائے۔

ان کا کہنا ہے کہ مثلاً گھر کے لیے کچھ ڈیوائسز کو کہیں سے بھی آن کیا جاسکتا ہے اور انھیں اپنی مرضی سے چلایا جاسکتا ہے۔

’کئی سمارٹ ڈیوائسز اس خیال کو مدنظر رکھ کر ڈیزائن کی جاتی ہیں کہ گھر میں تمام افراد ایک دوسرے سے معلومات شیئر کرنے میں خوش ہیں۔ لیکن اس میں اس بات کو تسلیم نہیں کیا جاتا کہ خاندانی زندگیوں میں اس میں کچھ فرق بھی ہوسکتا ہے۔‘

کئی خاندانوں میں فیملی ایپس بچوں کے تحفظ کے لیے استعمال کی جاتی ہیں۔

لیکن اپنے ڈیزائن کی وجہ سے یہ سمارٹ ڈیوائسز لوگوں کی معلومات ایک دوسرے تک آسانی تک پہنچا دیتی ہیں اور انھیں پُرتشدد تعلقات قائم رکھنے میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔

وہ کہتی ہیں کہ مجرم کے ہاتھ میں یہ ڈیوائسز ہونے کی وجہ سے متاثرہ شخص صرف اپنا فون بند کر کے بھی بچ نہیں پاتا اور یہ بہانے بھی نہیں کر سکتا کہ فون کی بیٹری ختم ہوگئی تھی۔‘

انھوں نے تجویز دی ہے کہ بینک سے رقم کی منتقلی اور انٹرنیٹ پر شاپنگ کی نگرانی کی مدد سے ایسے کیسز کی نشاندہی کی جا سکتی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 16605 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp