پاکستان میں صحافت پہ کیا گزری؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ضمیر نیازی آبروئے قلم بھی ہیں اور آبروئے صحافت بھی۔ ان کا سر بلند قلم کبھی سر قلم نہیں کیا جا سکا۔ وہ ہمیشہ جنوں کی حکایات خونچکاں لکھتے رہے۔ ضمیر نیازی نے اپنی زندگی کو خودی اور خودداری کے جس جوہر کے ساتھ برتا وہ کم لوگوں کے حصے میں آتا ہے۔ جہاں اہل قلم قبیلوں میں بٹے ہوں، لفظ خریدے اور بیچے جاتے ہوں اور گفتار سے کردار کی سند چھین لی گئی ہو، وہاں ایک مرد علم و عمل ضمیر نیازی کا دم خم دیکھنے والوں کو دم بخود کر دیتا ہے۔

وہ پاکستانی صحافت کی پوری تاریخ ہیں اور اسے بیان بھی تاریخ وار کرتے ہیں۔ 1986 ء میں ان کی پہلی کتاب ”The Press in Chains“ منظرعام پر آئی تو دنیائے صحافت میں تہلکہ مچ گیا۔ پھر 1992 ء میں ان کی دوسری کتاب ”The Press Under Siege“ شائع ہوئی جس میں مختلف حکومتوں کے ادوار میں پریس کو دبانے، جھکانے اور اس پر کیے جانے والے تشدد کا جائزہ لیا گیا۔ 1994 ء میں ان کی ایک اور معرکہ آرا کتاب ”The Web of Censorship“ سامنے آئی۔ یہ کتاب فوجی حکومتوں کے زمانے میں پریس سے سلوک کی ایک پوری تاریخ کا احاطہ کرتی ہے۔

”باغبانی صحرا“ کے نام سے لکھی گئی کتاب ضمیر نیازی کے انٹرویوز پر مشتمل ہے، جسے راحت سعید نے مرتب کیا اور آصف فرخی کے مشہور ادارے شہرزاد نے شائع کیا۔ کتاب میں ضمیر نیازی سے کیے گئے سوالات کے جوابات کی روشنی میں صحافت پہ گزری کہانی بیان کی گئی ہے، جو کچھ یوں ہے :

ضمیر نیازی کہتے ہیں پاکستان کی صحافت اپنی پچاس سالہ تاریخ کے تقریباً آدھے حصے میں زنجیروں میں جکڑی رہی ہے۔ ملک کی پہلی مارشل لاء حکومت کے دور میں پریس اینڈ پبلیکیشنز آرڈیننس کے نفاذ کے بعد سے آنے والی ہر حکومت نے، چاہے وہ آمر ہو یا مشکوک اعمال والی جمہوریت، پریس کے ساتھ اپنے اول نمبر کے دشمن کا سا سلوک کیا۔

ضمیر نیازی سے سوال کیا گیا، صحافت میں کرپشن کی ابتدا کس نے کی؟ اس کا جواب انہوں نے کچھ یوں دیا:

یہ بہت چھوٹے پیمانے پر شروع ہوئی۔ 1951 ء میں ایڈیٹروں کا ایک وفد مصر جا رہا تھا۔ خواجہ شہاب الدین اس زمانے میں وزیر اطلاعات و نشریات تھے، انھوں نے دیکھا کہ اردو اخبارات کے مدیروں کے پاس ڈھنگ کے کپڑے نہیں تھے۔ دورے کے لیے یہ طے کیا گیا کہ انہیں respectable کپڑے بنا کر دیے جائیں۔ اب منسٹری میں پتا نہیں کون پاگل آدمی بیٹھا تھا جس نے یہ طے کیا کہ اردو اخبار والوں کو شیروانی، جناح کیپ اور شلوار، جب کہ انگریزی اخبار والوں کو تھری پیس سوٹ اور نکٹائی بنا کر دیے جائیں۔ اردو اخبار والوں کو پتہ چلا تو لڑ گئے کہ تم ہم کو گھٹیا سمجھتے ہو۔ بہرحال، اس کے بعد سب کو شیروانیاں بھی دی گئیں اور سوٹ بھی۔ یہ پہلا پتھر تھا۔ اگر ان ایڈیٹروں نے یہ تحفہ قبول نہ کیا ہوتا تو کرپشن کا اس وقت آغاز نہیں ہوتا۔

ایوبی آمریت کے خلاف لکھنے والے ”ڈان“ کے ایڈیٹر الطاف حسین جب اسی ایوب خان کی کیبنٹ میں شامل ہو کر وزیر بنے تو اس بارے میں سوال کا جواب دیتے ہوئے ضمیر نیازی کا کہنا ہے : اس زمانے میں ”پاکستان ٹائمز“ سب سے بڑا اخبار تھا، اپنی بہترین ادارت اور بہترین لے آؤٹ کے ساتھ، جس کے بارے میں ”ٹائم میگزین“ نے لکھا کہ The best produce in the east، اس کامطلب یہ ہے کہ اس میں ہندوستان بھی شامل تھا، تو ذرا سوچیے کہ اس اخبار کو جب حکومت نے ٹیک اوور کر لیا تو پھر اس کے بعد حکومت کا پلان ”ڈان“ پر قبضے کا تھا۔

Altaf Hussain – Dawn

اس کے بعد حکومت نے سوچا، اگر ”ڈان“ کو ٹیک اوور کریں تو پوری دنیا میں بہت ہنگامہ ہوگا، ”پاکستان ٹائمز“ کو ٹیک اوور کرنے پر خاصہ ہنگامہ ہوا تھا تو ”ڈان“ تو ایک آزاد ادارہ تھا۔ یوں سمجھ لیا جائے کہ ایک ادارے کو بچانے کے لیے الطاف حسین نے قربانی دی کیونکہ حکومت نے یہ کہا تھا کہ اگر الطاف حسین ”ڈان“ چھوڑ دیں تو ہم ”ڈان“ کو چھوڑ دیں گے۔ مجبوراً سخت دباؤ کے تحت انھو ں نے کابینہ میں شمولیت اختیار کی اور پھر وزارت قبول کرنے کے چار مہینے بعد ہی ان کا انتقال ہو گیا۔

ان کا المیہ یہ بھی تھا کہ ان کو انفارمیشن کی منسٹری نہیں دی گئی، انہیں انڈسٹری کی منسٹری دی گئی جس کے بارے میں وہ کچھ نہیں جانتے تھے۔ تمام کام ان کا سیکریٹری کرتا تھا اور وہ صرف دستخط کرتے تھے۔ یہ ان کے ساتھ انتقامی کارروائی تھی۔ ان کے ایک ساتھی ”ڈان“ کے اسسٹنٹ ایڈیٹر تھے، مولوی محمد سعید جو بعد میں ”پاکستان ٹائمز“ میں ایڈیٹر رہ چکے ہیں، انہوں نے اپنی یاداشت لکھی ہے جس میں انھوں نے لکھا کہ جب ان سے الطاف حسین کی ملاقات ہوئی تو وہ انہیں اپنے کمرے میں لے گئے، اس وقت وہ بہت دلبرداشتہ تھے انہوں نے ان سے کہا کہ:

I made a great mistake, my mission was over on 14th August 1947 and I should have resigned but left the press and I made a great blunder.

لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ وزارت کے لیے سب کچھ چھوڑا جا سکتا ہے جب کہ That man was a king maker۔

ضمیر نیازی نے 63 ء کے آرڈینینس اور اس کے بعد ضیاء الحق کے دور حکومت کو پاکستان میں صحافت کی تاریخ کا سیاہ ترین باب قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے اخبارنویسوں کو پہلی مرتبہ کوڑے مارے گئے، صحافی مارے جانے لگے، انفرادی لحاظ سے صحافیوں پر اور اجتماعی لحاظ سے اخبارات کے دفا تر پر مسلح گروہو ں کی طرف سے باقاعدہ اور منظم طور پر حملے کیے جانے لگے۔

ضمیر نیازی ایک سوال کے جواب میں ضیاء الحق کے دور کا ایک واقعہ سناتے ہیں۔ APNS ہر سال بہترین لکھنے والوں کو انعام دیتی تھی۔ ضیاء الحق جب تک زندہ رہے وہ اس کے اجلاس کی خود صدارت کرتے تھے اور اپنے ہاتھوں سے بہترین صحافیوں کو انعام دیا کرتے تھے۔ ایک مرتبہ انہوں نے جتنی صحافت کی کریم تھی، ان کو ایک رسی سے باندھا اور سب کو ایک لاٹھی سے ہانکا۔ ”نوائے وقت“ کے بڑے نظامی اس وقت APNS کے صدر تھے، انہوں نے آزادی صحافت پر ایک لمبی چوڑی تقریر کی اور صحافت کو درپیش مسائل اور مشکلات پیش کیں اور کہا کہ حکومت ہماری مدد کرے۔

ضیاء الحق صاحب سٹیج پر آئے۔ اے۔ ڈی۔ سی نے تحریری تقریر روسٹرم پر رکھی۔ انہوں نے تقریر پڑھنے کے لئے چشمہ لگایا لیکن ابتدائی کلمات کے بعد ایک دم چپ ہو گئے۔ چشمہ اتار ا، تقریر اے۔ ڈی۔ سی کے حوالے کی اور کچھ توقف کے بعد برجستہ کہنا شروع کیا کہ نظامی صاحب کی بہت ہی پر مغز تقریر آپ نے ملاحظہ فرمائی۔ مجھے صحافت کو درپیش مشکلات کا پہلی دفعہ احساس ہوا ہے۔ میرا بھی ایک مسئلہ ہے، یہاں میر صاحب بھی بیٹھے ہیں، ہارون بھی ہیں، صادق صاحبان بھی ہیں، قریشی برادران بھی موجود ہیں، ان سے درخواست ہے کہ یہاں سے کھانا کھا کے، بجائے گھر جانے کے، اپنے دفتر تشریف لے جائیں، اکاؤنٹس کے لوگوں کو گھروں سے بلا کر ان سے کہیں کہ یکم جولائی 1977ء کی اکاؤنٹس بک نکالیں اور یہ دیکھیں کہ اس وقت آپ کو سرکاری اشتہار کتنا ملتا تھا۔ سرکولیشن کتنی تھی، بلڈنگیں کتنی تھیں، موٹر کاریں کتنی تھیں اور آپ کے اخبارات کن کن شہروں سے نکلتے تھے۔ وہ گوشوارے اور آج آپ کے پاس جو کچھ ہے، وہ گوشوارے لے کر صدیق سالک صاحب کے ساتھ میرے پاس آئیں۔ انہوں نے صدیق سالک سے کہا کہ صدیق صاحب، نظامی صاحب سے ٹائم لے کر اسی ہفتے میں وقت نکال کر انہیں میرے پاس لائیں تاکہ صحافت کی مشکلات حل ہو سکیں، کیوں کہ ان مشکلات کو حل ہونا چاہیے۔ آپ دیکھئے گا کہ یہ ہم تک پہنچ سکیں۔ وقت نکالیے گا ان کے لیے بھی اور ہمارے لیے بھی، یہ کہہ کر انھوں نے ’خدا حافظ‘ کہا اور تقریر ختم کر دی۔ کسی مائی کے لال میں ہمت نہ ہوئی کہ وہ گوشوارے لے کر ضیاالحق کے پاس جاتا۔

ضمیر نیازی اپنی کتاب ”The Press in Chains“ کی پہلی اشاعت کے بارے میں کہتے ہیں، ”یہ کہنا جھوٹ ہوگا کہ میں خوفزدہ نہیں تھا۔ میں یقیناً خوفزدہ تھا، لیکن مجھے اس امر کا یقین تھا کہ آدھی سچائی کو پیش کرنا بد دیانتی کے عمل کے مترادف تھا۔ اس کے بعد ایک اور اہم مسئلہ پیدا ہو گیا۔ کوئی بھی شخص مسودے کو ہاتھ لگانے کے لیے تیار نہیں تھا۔ کسی نے مجھے مشورہ دیا کہ میں کتاب کو پاکستان سے باہر چھپواؤں، لیکن ا س کا مطلب ہوتا، بھرے بازار میں اپنے آپ کو رسوا کرنا۔

تاہم، کراچی پریس کلب نے، جس نے جبر و تشدد کے بد ترین حالات میں اتنا عظیم کردار ادا کیا ہے،“ The Press in Chains ”کو شائع کیا۔ آپ میرا انٹرویو لینے والے غالباً وہ پہلے شخص ہیں جس کے سامنے میں یہ انکشاف کر رہا ہوں کہ جیسے ہی اس کتاب کی کاپیا ں چھپ کر پریس سے باہر آئیں، ویسے ہی میں نے سو کتابوں کے پیکٹ اپنے دوستوں میں تقسیم کر دیے۔ تاکہ وہ انہیں اپنے گھروں میں رکھ لیں۔ میں نے اپنے پاس صرف پانچ سو کاپیاں رکھیں تاکہ پولیس کے چھاپے کی صورت میں ساری کتابوں کا نقصان نہ ہو جائے۔

تفتیشی رپورٹنگ کے بارے میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے ضمیر نیازی کہتے ہیں آج کل کہاجا رہا ہے کہ تفتیشی رپورٹنگ بہت ہو رہی ہے۔ میں آپ سے عرض کروں کہ 99 فیصد تفتیشی رپورٹنگ انگریزی اخبار میں ہو رہی ہے اور ایک رپورٹر کامران خان کر رہے ہیں، جن کے بارے میں بے نظیر نے عدالت میں کہا تھا کہ ہم نے ان کو استعمال کیا ہے۔ مرتضیٰ بھٹو مرڈر کیس میں جب بینظیر بھٹو کے خلاف کامران خان کی رپورٹ پیش کی گئی تو بے نظیر نے کہا کہ ان کا کیا ہے، ان کو تو ہم نے بھی استعمال کیا ہے۔

آپ جانتے ہیں کہ بے نظیر نے کامران خان کو کہاں استعمال کیا تھا۔ کچھ سال قبل شام کے دارالحکومت میں کامران خان نے مرتضی بھٹو کا ایک انٹرویو کیا تھا۔ یہ انٹرویو بے نظیر بھٹو کے کہنے پر ہوا تھا تو تفتیشی رپورٹنگ کی حقیقت یہ ہے کہ ہمارے ملک کی ایجنسیاں جو خبریں اخبارات میں پلانٹ کرنا چاہتی ہیں، وہ خبریں تفتیشی رپورٹوں کی صورت میں شائع ہو جاتی ہیں۔ یا پھر ہمارا منہ کالا کرنے یا کسی اور کا منہ کالا کرنے کے لیے ایسی رپورٹیں شائع کی جاتی ہیں۔ ہمارے ہاں کی تفتیشی رپورٹنگ اس سے آگے نہیں بڑھ سکی ہے۔

ضیاء الحق کی آمریت کے بعد نام نہاد جمہوری ادوار میں میں صحافت پر کیا گزری اس پر تبصرہ کرتے ہوئے ضمیر نیازی کہتے ہیں جولائی 1995 میں حکومت میں شام کو نکلنے والے چھے اخباروں پر دو مہینے کے لئے اس الزام میں پابندی عائد کر دی کہ وہ کراچی میں تشدد کے بارے میں سنسنی خیز خبریں شائع کرتے ہیں۔ اس پابندی کو حق بجانب قرار دیتے ہوئے وزیر تجارت احمد مختار نے گرج کر کہا کہ ”اگر ضرورت پڑی تو پورے پریس پر پابندی عائد کر دی جائے گی۔“

دسمبر 1995 میں سندھی کے روزنامہ ”کاوش“ کو اس بات کی سخت سزا دی گئی کہ اس نے حیدرآباد میں ایک نسل پرست رہنما ڈاکٹر قادر مگسی کی مبینہ طور پر مجرمانہ سرگرمیوں پر سے پردہ اٹھانے کی کوشش کی۔ مگسی نے الزامات کی تردید کی اور ”کاوش“ پر الزام لگایا کہ وہ صحافت کی آزادی کا ناجائز فائدہ اٹھارہا ہے اور زرد صحافت پر عمل کر رہا ہے۔ ان کے پیروکاروں نے ”کاوش“ کے خلاف ہفتے بھر تک پر تشدد مہم جاری رکھی جس کے دوران کراچی اور دوسرے دو شہروں میں اس کے دفاتر پر حملے ہوئے اور غارت گری کی گئی، اخبار کی کاپیوں، ایک نیوز اسٹینڈ اور ایک گاڑی کو نذر آتش کر دیا گیا۔

سب سے زیادہ نفرت انگیز واقعہ 3 مارچ 1995 ء کو پیش آیا جب سندھی کے اخبار روزنامہ ”بختاور“ کے رپورٹر ممتاز علی شاہ کو سندھ کے قصبے جھول میں مقامی وڈیرے نے اغوا کر الیا اور اس کے بعد انہیں ایک قریبی گاؤں لے جایا گیا جہاں ان کو ننگا کیا گیا، انہیں کوڑے مارے گئے پھر ان پر مجرمانہ حملہ کیا گیا جو جنسی نوعیت کا تھا۔

ضمیر نیازی کا کہنا ہے نواز شریف کے دور میں تو اطلاعات کی پالیسی دو جملوں میں بیان کی جا سکتی ہے، ”ایدے نال گل کرو“ ، مطلب تھا اسے پیسے دو، اسے خریدو، اس کا منہ بند کرو اور پھر ”اینوں کسو“ ، یعنی اسے مزہ چکھاؤ۔ اس تبصرے کے بعد ضمیر نیازی سے سوال ہوا حالانکہ اس دور میں ایک صحافی مشاہد حسین صاحب وزیر اطلاعات تھے۔ ایک صحافی کے وزیراطلاعات ہونے پر صحافت کے ساتھ یہ سلوک روا رکھنا حیرت انگیز ہے۔ ضمیر نیازی نے جواب دیتے ہوئے کہا اس سلسلے میں صحافیوں سے گفتگو ہوئی تو ہم اس نتیجے پر پہنچے کہ شاید وزارت کی کرسی میں کوئی لعنت ہے جس کی وجہ سے ایسے افسوسناک واقعات پیش آ جاتے ہیں۔

وزارت اطلاعات کی کرسی پر تین نہایت قابل افراد متمکن ہوئے۔ ایک تو الطاف گوہر جو ادیب، شاعر، نقاد اور اعلی پائے کے دانشور ہیں۔ ان کے سال بھر پہلے جو کالم چھپے ان کے بارے میں میری رائے یہ ہے کہ یہ نہایت عالمانہ کالم تھے اس سے بہتر کالم اردو میں نہیں لکھے گئے۔ اتنے بڑے جینیس نے پریس کے ساتھ کیا کیا۔ ان کے بعد سیکر یٹری اطلاعات کے عہدے پر ایک نہایت پڑھے لکھے صاحب آئے، حسین حقانی، لفافہ جرنلزم انہی کی ایجاد ہے۔

حسین حقانی کے بعد مشاہد حسین صاحب وزارت اطلاعات کے عہدے پر فائز ہوئے۔ ان کے زمانے میں ایک بڑے اخبار کے ساتھ کیا ہوا اور پھر انفرادی طور پر صحافیوں کے ساتھ کیا ہوا خاص طور پر خواتین صحافیوں کے ساتھ جو شرم ناک سلوک روا رکھا گیا، ماریانہ بابر، کا ملہ حیات اور ملیحہ لودھی کے ساتھ جو کچھ ہوا، وہ تو اس سے پہلے کبھی نہیں ہوا تھا۔

ضمیر نیازی کہتے ہیں کہ اخبارات پر پابندی لگا کر حکومت اپنا بین الاقوامی امیج خراب کرتی ہے، اس سے ملک پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ مولوی اے۔ کے فضل الحق جو مشرقی بنگال کے وزیر اعلی بھی رہ چکے تھے، بڑے مزے کی بات کہا کرتے تھے۔ جب ان سے کہا جاتا تھا کہ آپ کے خلاف فلاں ا خبار نے لکھا ہے تو وہ کہتے تھے کہ ہم کو اس کی کوئی پروا نہیں۔ پوچھا جاتا، کیوں پروا نہیں؟ تو جواب دیتے تھے کہ جو اخبار پڑھتا ہے وہ ووٹ ڈالنے نہیں جاتا اور جو اخبار نہیں پڑھتا وہ ووٹ ڈالنے جاتا ہے۔ تو ہم کو کیا پریشانی ہے۔

ضمیر نیازی کہتے ہیں کہیں نہ کہیں صحافت نے بھی کوئی چیز کھو دی ہے۔ یہ کھوئی ہوئی چیز لکھے ہوئے لفظ کی حرمت ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ صحافت اپنے اعتبار سے محروم ہو گئی ہے۔

ضمیر نیازی کو صدر مملکت کی جانب سے حسن کارکردگی کا ایوارڈ بھی دیا گیا تھا۔ اس اعزاز کو قبول کرتے ہوئے حرمت الفاظ سے آشنا اس مرد قلندر نے صدر کو لکھا تھا کہ ”یہ لکھے ہوئے الفاظ کی طاقت کا اعتراف ہے۔ یہ پریس کی آزادی کے لیے صحافیوں کی عظیم جدوجہد کو دیا جانے والا اعزاز ہے۔“ اب تک یہ صرف ایک تمغہ تھا پھر اس میں ”حسن کارکردگی“ کا اضافہ اس وقت ہوا جب اس وقت کے وزیر داخلہ نصیراللہ بابر نے کراچی آپریشن کے دوران شام کے تمام اردو اخبارات پر بیک جنبش قلم پابندی عائد کر دی۔

ضمیر نیازی کی حمیت نے اسے گوارا نہیں کیا اور انہوں نے بلاتاخیر صدر پاکستان کو اپنا ایوارڈ واپس کرتے ہوئے لکھا کہ ”پاکستان کی افسوسناک تاریخ میں کبھی ایسا نہیں ہوا۔ ہم پر حکمرانی کرنے والے جابروں کے دور میں بھی نہیں کہ چھ اخبار قلم کی ایک جنبش سے مینٹینینس آف پبلک آرڈر کے تحت بند کر دیے گئے ہوں۔ ایم۔ پی۔ او کے تحت کیے جانے والے کسی بھی اقدام کی اپیل صرف حکومت ہی کے سامنے کی جا سکتی ہے، یہ بالکل ایسا ہی ہے کہ نیرو کی سنائی ہوئی سزائے موت کے خلاف اپیل نیرو ہی کے سامنے کی جائے۔“ مکار بیوروکریسی نے صدر کو ضمیر نیازی کا ایوارڈ واپس لے کر انہیں نظرانداز کرنے کی راہ سمجھاتے ہوئے ان اخبارات تک کو اس خبر سے دور رکھا جن کے لیے ضمیر نیازی نے اپنا اعزاز واپس کیا تھا۔

دوسرا اعزاز انہوں نے لینے سے تب انکار کیا جب کراچی یونیورسٹی نے انہیں ڈاکٹریٹ کی اعزازی ڈگری دینے کا فیصلہ کیا، جس کی سادہ وجہ یہ تھی کہ وہ یہ ایوارڈ گورنر ہاؤس کی بجائے یونیورسٹی میں اور گورنر کے ہاتھوں کی بجائے وائس چانسلرکے ہاتھوں لینا چاہتے تھے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •