اے این پی اور پیپلز پارٹی کے لئے ’’دہائی مچانے‘‘ کا موقع

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اتوار کی سہ پہر طویل وقفے کے بعد میں نے اسلام آباد کے نواح میں واقع ایک دیہات میں چند گھنٹے صرف کئے۔ خودروجھاڑیاں اور درخت رونق سے محروم نظر آئے۔ فرض کرلیا کہ سردی کی آمد سے گھبراگئے ہیں۔تھوڑی دیر بعد مگر احساس ہوا کہ فصلوں اور سبزیوں کی کاشت کے لئے جو رقبے مکانات تعمیر ہونے سے بچ گئے ہیں کسانوں کی توجہ سے محروم ہیں۔زمین خشک مٹی کی تہہ میں چھپ گئی ہے۔

کاشت کاری کے لئے مختص رقبوں پر چھائی ویرانی نے مجھے حیران کیا۔نومبر کا مہینہ شروع ہوچکا ہے۔اس مہینے میں عموماََ زمین گندم کی کاشت کے لئے تیار ہوئی نظر آیا کرتی ہے۔مقامی لوگوں سے گفتگو کو مجبور ہوا تو ’’دریافت ‘‘ہوا کہ تقریباََ ڈھائی مہینوں سے ان رقبوں پر بارش کی ایک بوند بھی نہیں پڑی ہے۔ بارشوں سے میسر ہوئے ’’وتر‘‘ کے بغیر کسان زمین میں ہل چلانے سے گریز کرتا ہے۔بوائی کا عمل اس کے بعد شروع ہوتا ہے۔زمین کی ویرانی نے یہ فرض کرنے کو بھی اُکسایا کہ ہمارے بارانی علاقوں کے اکثر رقبوں کا غالباََ یہی عالم ہوگا۔

گھر لوٹتے ہوئے ارادہ باندھا کہ ان علاقوں میں موجود دوستوں سے پیرکی صبح اُٹھ کر رابطہ کروں گا۔ ان سے گفتگو کے بعد ہی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ اس برس کے ستمبر اکتوبرمیں وہ بارش ہوئی یا نہیں جو زمین کو گندم کی کاشت کے لئے تیار کرتی ہے۔اگر بیشتر علاقوں میں ایسا نہیں ہوا تو اس حقیقت کا ایک بار پھر ادراک کرنا ہوگا کہ ہمارے بارانی خطوں میں موسم کا وہ پیٹرن یقینا تبدیل ہورہا ہے جس کے ہم نسلوں سے عادی رہے ہیں۔اگرکوئی نیا Pattern اُبھررہا ہے تو اس کے ٹھوس جائزے کے بعد ہی ہمارے ہاں کاشت کاری کے نئے طریقے ڈھونڈنے کی اُمنگ دلوں میں بیدار ہوگی۔

رات سونے سے قبل مگر روایتی اور سوشل میڈیا پر نگاہ ڈالی تو کاشت کاری سے جڑے بنیادی سوالات کے بارے میں کوئی ایک شخص بھی متفکر دکھائی نہیں دیا۔ایاز صادق کا قومی اسمبلی میں دیا ایک بچگانہ بیان بدستور زیر بحث تھا۔ یوٹیوب پر چھائے حق گو افراد بہت شاداں تھے کہ مذکورہ بیان نے نواز شریف کے نام سے منسوب پاکستان مسلم لیگ کی صفوں میں ہلچل مچادی ہے۔وہاں موجود ’’محبانِ وطن‘‘ خود کو اس جماعت پر حاوی بیانئے سے بالآخر لاتعلق دکھانا شروع ہوگئے ہیں۔

اس ضمن میں بلوچستان سے ابھرے ریٹائرڈ جنرل عبدلقادر نے پہلا پتھر پھینک دیا ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ میری دانست میں موصوف کی اپنی جماعت میں ’’اہمیت‘ ‘اس دن ہی آشکار ہوگئی تھی جب PDM نے اکتوبر کی آخری اتوار کوئٹہ میں ایک ریلی منعقد کی تھی۔بجائے اسٹیج پر بیٹھنے کے جنرل صاحب نے اس جلسے میں ہوئی تقاریر کو پانچ گھنٹوں تک اپنی کار میں بیٹھے ہوئے سنا تھا۔ وہ سردار ثناء اللہ زہری کو اختر مینگل کی دلجوئی کی خاطر اس جلسے سے دوررکھنے کے فیصلے پر خفا تھے۔ اس کے بعد جدائی کا اعلان کرنے کا موقعہ ڈھونڈرہے تھے۔ ایاز صادق کے بیان نے انہیں مطلوبہ Space فراہم کردی۔ نواز شریف سے مختص ’’بیانیے‘‘ ہی سے واقعتا پریشان ہوتے تو 20 ستمبر کے روز اپوزیشن جماعتوں سے ہوئے ان کے خطاب کے بعد ’’بغاوت‘‘ کا اعلان کردیتے۔

ایاز صادق کے بیان کی وجہ سے ابھر ی ’’شورش‘‘ کے تناظر میں مریم نواز شریف کی اس تقریر کا ’’پوسٹ مارٹم‘‘ بھی ہورہا تھا جو انہوںنے اتوار ہی کے دن نواز شریف کے ’’بیانیے‘‘ سے متحرک ہوئے نوجوانوں کے اجلاس میں کی۔چند دوستوں نے اس خطاب کو Damage Controlکی سوچی سمجھی کاوش ٹھہرایا۔یہ مگر طے نہیں ہوپایا کہ یہ کاوش بارآور ثابت ہوگی یا نہیں۔حق گو افراد کی اکثریت اگرچہ مصر تھی کہ ’’بہت دیر ہوگئی‘‘ ۔ ایاز صادق نے قومی اسمبلی میں بیان مبینہ طورپر نواز شریف کے ایماء پر دیا تھا۔

یہ بیان دینے کے بعدانہیں لندن سے تھپکی بھی ملی۔ حق گو افراد کو ’’باوثوق ذرائع‘‘ سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ نواز شریف ہی نے مولانا فضل الرحمن کو ایاز صادق کی قومی اسمبلی میں ہوئی تقریر کے بعد ان کے گھر جانے کو اُکسایا۔ ان سے ملاقات کے بعد ایاز صادق اپنے بیان پر ’’ڈٹ‘‘ گئے ہیں۔نواز شریف کے ’’اُکسانے‘‘ پربلکہ اب خرم دستگیر بھی More Overکی ’’دھمکیاں‘‘ دے رہے ہیں۔

سوشل میڈیا پر حاوی ہیجان کے تازہ ترین موضوعات کا جائزہ لیتے ہوئے خیال آیاکہ ’’غدار سازی‘‘ کے اس موسم میں اگر میں ہماری زندگی کے لئے لازمی شمار ہوتی خوراک کی فراہمی سے متعلق چند بنیادی سوالات اٹھانا شرو ع ہوگیا تو یہ کالم کون پڑھے گا۔ ’’گوشہ نشینی‘‘کا ڈھونگ رچانے کے باوجود مجھ جیسے کالم نگار ا پنی تحریر کے لئے Likesاور Sharesکی حرص میں مبتلا رہتے ہیں۔گندم کی ہمارے بارانی علاقوں میں بروقت بوائی ہوسکے گی یا نہیں؟ اس سوال کو لہٰذا خود غرضی کی نذر کرنے کو مجبور ہوں۔

وزراء یا اپوزیشن رہ نمائوں کے بیانات ہی اگر زیر بحث لانا ہے تو میری دانست میںحال ہی میں سب سے زیادہ پریشان کن بیان نہ ایاز صادق نے دیا ہے اور نہ ہی جواب آں غزل کے طورپر فواد چودھری نے۔ جو بیان حقیقی توجہ کا مستحق تھا وہ وزیر داخلہ جناب اعجاز شاہ صاحب نے دیا ہے۔اپنے حامیوں کے ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے وہ یہ ’’تجزیہ‘‘ فراہم کرتے سنائی دئیے کہ عوامی نیشنل پارٹی نے افغانستان اور اس کے تناظر میں ابھری دہشت گردی کے بارے میں جو رویہ اختیار کیا تھا وہ اس جماعت کے کئی کارکنوں کے قتل کا باعث ہوا۔پشاور کا بلور خاندان اس ضمن میں بالخصوص نشانہ بنا۔

شاہ صاحب کو نظربظاہر اب ’’فکر‘‘ یہ لاحق تھی کہ ایاز صادق کا قومی اسمبلی میں دیا بیان نواز شریف سے منسوب جماعت کے وفاداروں کے لئے ویسی ہی قیامت برپا کرسکتا ہے۔ اسی باعث انہوں نے ایسے افراد کو امرتسر منتقل ہوجانے کا مشورہ دیا۔پاکستان کے وفاقی وزیر داخلہ کی جانب سے ہوا یہ خطاب ہر حوالے سے غیر ذمہ دارانہ تھا۔ وسیع تر تناظر میں اس نے ہمارے ہاں War on Terrorکی وجہ سے نازل ہوئی دہشت گردی کو ایک حوالے سے فطری اور برجستہ بناکرپیش کیا ہے۔

ایک لمحے کو ان کا دعویٰ مان لیتے ہیں کہ عوامی نیشنل پارٹی کے نظریا ت نے چند انتہا پسندوں کو اس جماعت کے رہ نمائوں اور کارکنوں کے قتل پر اُکسایا۔ ستر ہزار سے زائد عام پاکستانیوں نے مگر وہ کونسے بیان دئیے تھے جو انہیں دہشت گردی کا نشانہ بنانے کا باعث ہوئے۔ جان سے گئے یہ بدنصیب اپنے گھروں سے سودا سلف لینے بازار گئے تھے۔ اپنی پریشانیوں کے ازالے کے لئے مساجد،مزاروں اور امام بارگاہوں میں فقط دُعا کے لئے ہاتھ اٹھانا چاہ رہے تھے۔میاں افتخارحسین کے اکلوتے بیٹے کا قتل ہر حوالے سے ایک بہت بڑا المیہ ہے۔ میاں صاحب نے اسے کمال صبر اور بہادری سے برداشت کیا ہے۔

شاہ صاحب کے مذکورہ بیان کے بعد اب فقط اے این پی ہی کو اپنے داغ دل یاد نہیں آئیں گے۔ پیپلز پارٹی کی محترمہ بے نظیر بھٹو بھی راولپنڈی میں ان ہی عناصر کا نشانہ بنی تھیں جو اے این پی کے خلاف جنونی انداز میں متحرک ہوئے تھے۔شاہ صاحب ان کے قتل کے روز ایک اہم ادارے کے سربراہ تھے۔محترمہ بے نظیر بھٹو صاحبہ نے وطن لوٹنے کے بعد سانحہ کارساز کے ان کی دانست میں ’’مشتبہ منصوبے سازوں‘‘کی فہرست میں شاہ صاحب کا نام بھی شامل کیا تھا۔

ایسی ’’تاریخ‘‘ کے ہوتے ہوئے شاہ صاحب کو کوئی بھی لفظ بولنے سے پہلے سو بار سوچنا چاہیے تھا۔ وہ مگر محتاط رہنے سے انکاری ہیں۔ ان کا دیا ہوا بیان مگر اے این پی اور پیپلز پارٹی کے لئے نظرانداز کرنا ممکن ہی نہیں۔ وہ اس کے بارے میں دہائی مچانے کو مجبور ہوں گی۔ یہ دہائی ریاستی اور حکومتی پالیسی سازوں کی اس امید کا بھی خاتمہ کردے گی جو ان دونوں جماعتوں کو نوازشریف کے نام سے منسوب جماعت پر حاوی ’’بیانیے‘‘ سے فاصلہ اختیار کرتی دیکھ رہی تھی۔

بشکریہ روزنامہ نوائے وقت

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •