اردو ادب کا ٹائی ٹینک ڈوب رہا ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


حالات بتاتے ہیں کہ شاید اگلے پانچ سے دس سال میں دنیا میں اسکولز، کالجز اور یونیورسٹی کی عمارتیں چھوٹے چھوٹے کمپیوٹر سے سجے کیبنوں میں بدل جائیں۔ جدید ترین امیر ملکوں میں پہلے ہی آن لائن کلاسز اور سکول کالجز نئے نارمل کا حصہ بن رہے ہیں جسے جلد یا بدیر اپنانا تیسری دنیا کے چھوٹے ملکوں کے لئے مجبوری بن جائے گا۔ ایسی صورتحال میں اردو ادب کا کیا مستقبل ہے؟ اب آپ سوچیں گے آن لائن کلاسز کا اردو ادب سے کیا تعلق ہے؟ اردو ادب کا آن لائن تعلیم سے وجود کا تعلق ہے۔

آن لائن تعلیم بہت جلد ایسی نسل مارکیٹ میں لے آئے گی جو اوراق پر مبنی کتاب سے ناواقف ہوگی۔ علم، ادب، کتابیں سب کی سب اگلے کچھ سالوں میں مکمل ڈیجیٹل ہونے جا رہا ہے ایسی صورتحال میں جو بھی کتاب، علم اور ادب ڈیجیٹل نہ کیا گیا اس کی شاید اس دنیا میں آخری سانسیں ہیں۔

انٹرنیٹ پر اردو ادب کی صورتحال کچھ یوں ہے کہ اس پر اردو کا تماتر وجود محض تھوڑے سے اخباروں اور رسالوں تک کا ہے۔ اخباروں اور رسالوں میں سب جانتے ہیں کہ اردو ادب بہت ہی کم چھپتا ہے خصوصاً کلاسیکی ادب جس میں آج سے سو سال پہلے والے شعرا اور ادبا شامل ہیں تقریباً مکمل طور پر غائب ہیں۔ انٹرنیٹ پر دستیاب تمام تر مواد موجود صورتحال، خبروں یا پھر روزانہ کے حالات پر مشتمل چند مخصوص ناموں کے بلاگز اور کالمز تک کا ہے۔

آپ کو حامد میر، سہیل وڑائچ کے کالمز تو ڈھیروں ڈھیر ملیں گے مگر مستنصر حسین تارڑ کے ناولز ملیں گے نہ اقبال کی بانگ درا ملے گی، مسدس حالی، نہ انتظار حسین کا بستی اور نہ عبداللہ حسین کا اداس نسلیں، منٹو کے افسانے نہ مشتاق یوسفی کی کتابیں، لے دے کر آپ کو کچھ اسکین شدہ کاپیاں اور غیر معیاری پی ڈی ایفس مل جائیں گے وہ بھی بہت محدود مقدار و معیار میں۔

بدقسمتی سے پچھلے بیس سال میں انٹرنیٹ پر پاکستان کی طرف سے اردو ادب کی جگہ بنانے کی کوئی کوشش نہیں کی گئی۔ جبکہ دوسری طرف انڈیا میں اردو کی نیشنل کونسل بہرحال سرکاری سرپرستی میں نام نہاد ہی سہی، موجود ہے جس پر اردو کی ترویج کے لئے تھوڑا بہت کام بھی کیا جاتا ہے۔ پاکستان میں ہر بڑے شہر میں آپ کو برٹش کونسل تو ضرور ملے گی مگر اپنی قومی زبان کی ترویج کی کسی اردو کونسل کا کہیں وجود بھی دکھائی نہیں دے گا۔

اردو کی سب سے بڑی نجی ویب سائٹ ریختہ بھی انڈیا کی ہے۔ پاکستان میں نجی یا سرکاری سطح پر کوئی ایسی ویب سائٹ موجود نہیں جو اردو ادب کی اشاعت، ترویج اور اس کی لائبریری رکھنے کا دعویٰ کر سکے۔ چھوٹی چھوٹی مختلف پرائیویٹ افراد یا کمپنیوں کی ادبی ویب سائت اگرچہ موجود ہیں جو زیادہ سے زیادہ عہد حاضر کا تھوڑا بہت کام انٹرنیٹ پر مہیا کر پاتی ہیں۔ اس کے علاوہ انٹرنیٹ کی دنیا اردو ادب کے وجود سے خالی ہے۔

یہ کام افراد کے کرنے کا ہے بھی نہیں۔ اردو ادب کو مکمل طور پر انٹرنیٹ پر منتقل کرنا توجہ، محنت، اور بڑے پیمانے پر کوشش مانگتا ہے جو صرف سرکاری معاونت کے ساتھ ہی مکمل ہو سکتا ہے۔

بدقسمتی سے بیس برس میں کسی بھی حکومت یا کسی بھی ادارے نے اردو کو انٹرنیٹ پر منتقل کرنے کی کوشش نہیں کی۔ دنیا بہت تیزی سے بدل رہی ہے، مہینوں میں اسکولز اور کالجز زمین سے غائب ہوتے جا رہے ہیں۔ انسان کی نظریں سکرین پر جم چکی ہے، کتاب پڑھنے والی نسلیں گزر چکی ہیں جو کچھ بچی ہیں وہ آخری سانسوں میں ہیں اور کرونا کی وجہ سے ڈیجیٹل مطالعہ اور تعلیم کے لئے مجبور ہیں اور یہ مجبوری جلد ہی عادت بن کر کتابوں اور کاپیوں کا کاروبار دنیا سے شاید مکمل طور پر ختم کر دے۔

تو کیا آپ کو نہیں لگتا جو چیز کتاب کے وجود کے ساتھ غائب ہو جائے گی، وہ مستنصر حسین تارڑ کے سفرنامے، ممتاز مفتی کے افسانے، اشفاق احمد کی ایک محبت سو افسانے اور بانو قدسیہ کی راجہ گدھ ہو گی۔ صرف یہی نہیں انتظار حسین، احمد فراز، غالب، علامہ اقبال، سرسید احمد خان، میر تقی میر، مومن، ساغر صدیقی جیسے نام جن کو پہلے ہی اسکولوں کے اساتذہ کے سوا کوئی نہیں جانتا اس دنیا سے اپنی گواہی سمیت غائب ہو جائیں گے۔

کہ شاید اب یہ آخری کاپیاں ہیں جو چھپ چکی ہیں۔ کتاب کی دوست آخری نسل اب چالیس پچاس کے پیٹے میں ہے اور اگلے بیس برس میں مجموعی طور پر صفحہ ہستی سے مٹ جائے گی۔ پھر کوئی کس کی خاطر کتابیں چھاپے گا یا کتابوں کے نئے ایڈیشن تیار کیے جائیں گے؟ جب کتاب کے اوراق دنیا میں سے وجود کھو دیں گے تو صرف وہی اردو ادب بچ سکے گا جو انٹرنیٹ پر ڈیجیٹل حالت میں موجود ہو گا۔

انگریز نے اپنی پوری پوری تاریخ، ادب، فلسفہ سمیت ہر طرح کے علم پر مشتمل پوری پوری لائبریریاں انٹرنیٹ پر منتقل کر دی ہیں۔ آپ دنیا کے جس کونے میں بیٹھ کر گھر بیٹھے جو چاہے انگلش کتاب اپنے موبائل پر خرید اور پڑھ سکتے ہیں لیکن اردو کتاب کے لئے آپ کو پاکستان میں اردو بازار جانا ہو گا۔ آپ پانچ صدیاں پرانے شیکسپیئر پر اپنے شہر لاہور، فیصل آباد یا گھوٹکی بیٹھے ریسرچ کر سکتے ہیں کیونکہ انٹرنیٹ پر آپ کے سامنے کتابوں پر کتابیں کھلتی چلے جائیں گیں مگر انتظار حسین کا ناول نہیں پڑھ سکتے۔

جب انگلش کتابیں اس قدر عام ہو چکی ہیں کہ اب انہیں پڑھنے کی زحمت کی بھی ضرورت نہیں، آپ چلتے پھرتے سفر کرتے آڈیو میں کتاب سن سکتے ہیں، وہاں آج تک اردو ادب کی ترویج کے لئے سرکار کی طرف سے ایک بھی ڈیجیٹل لائبریری نہیں بنائی جا سکی، ایک بھی اردو ادب کی ویب سائٹ نہ بن سکی، ای ریڈر اور آڈیو بکس تو بہت دور کی بات ہے۔ ایسے میں اردو ادب اگلی صدی میں کیسے جائے گا؟

ان آڈیو ای ریڈرز سے نہ صرف کتاب پڑھنے میں آسانی ہو چکی ہے بلکہ آپ اپنے موبائل پر دنیا کے کسی کونے میں بیٹھے انگلش زبان میں اپنا لہجہ، الفاظ اور تلفظ کی صحیح ادائیگی بھی سیکھ سکتے ہیں جس کی خاطر اب تک مہنگے مہنگے اسکولز اور کالجز میں داخلے لیے جاتے تھے۔ یہی فائدہ اردو ای ریڈرز بھی اپنے قاری کو دے سکتے ہیں تا کہ لوگ اپنے شہروں میں بیٹھے نہ صرف بہترین اردو کتاب اپنے موبائل پر حاصل کر سکیں بلکہ اس کی آڈیو کی مدد سے اپنی اردوکا تلفظ اور لہجہ بھی پہلے سے بہتر بنا سکیں۔

آنے والے وقت میں ڈیجیٹل دنیا میں شاید اردو ادب کی پہچان کے لئے صرف عصر حاضر کے وہ ادبی لوگ رہ جائیں جو اپنی ای بکس بنانے میں دلچسپی رکھتے ہیں یا اپنے کام کو ذاتی حیثیت میں انٹرنیٹ پر پیش کر نے کی زحمت اٹھانے سے گھبراتے نہیں۔

پچھلے بیس سال میں بہت سے شعرا، ادیب، دانشور دنیا سے رخصت ہوئے، جو رہ گئے عجز و انکساری کی چادر اوڑھے جانے کی راہ تک رہے ہیں ان کو نوید ہو کہ اگر خود انہوں نے اب اردو اور ادب کی ڈیجیٹل ترویج کے لئے بلند آواز نہ اٹھائی تو شاید ان کی نسلیں ان کی تحریریں دیکھ تک نہ سکیں گیں۔ شاید وہ اپنی کتابیں پانی پر تحریر کر رہے ہیں جن کا مقدر مٹ جانا ہے۔ اگر وہ چاہتے ہیں کہ ان کا کام محفوظ ہو سکے تو ایک بار ضرور جم کر ان کو اپنے اور اپنی قومی زبان کے حق کے لئے آواز اٹھانی ہو گی ورنہ داستان تک نہ ہو گی داستانوں میں۔

حکومت پاکستان کا فرض ہے کہ برائے مہربانی اردو کی طرف بھی توجہ دے، اثاثہ سمجھ کرنہ سہی تو ورثہ سمجھ کر ہی اس کی کچھ نشانیاں سنبھالنے کی ضرورت ہے۔ سرکاری سرپرستی میں ڈیجیٹل اردو لائبریریوں کا قیام آج کے وقت کی ایک اہم ترین ضرورت ہے۔ آپ کا سارا پڑھا لکھا طبقہ بے روزگار بیٹھا ہے، کرونا کی وبا نے ہزاروں اساتذہ کو بھی بے روزگاری میں دھکیل دیا ہے۔ ڈیجیٹل لائیبریری کے قیام کے لئے بھی اتنی ہی چستی کی ضرورت ہے جتنی سوشل میڈیا ٹیم بنانے پر لگائی جاتی ہے۔

اسکول کالجز کے اندر ہی شام یا رات کی شفٹ میں کمپیوٹر مہیا کر کے ہزاروں لوگوں کو اس کی مدد سے روزگار مل سکتا ہے۔ آپ پرائیویٹ اداروں کی سپانسرشپ لیں تا کہ ان ڈیجیٹل لائیبریرز میں ان کی پبلسٹی کے عوض اس کام کا معاوضہ نکل سکے۔ یہ نوکوری گھر بیٹھے بھی کی اور کروائی جا سکتی ہے۔ اور اس کی اہمیت اور ضرورت سمجھنے کے لیے اور اس پر عمل کرنے کے لئے کسی راکٹ سائنس کی بھی ضرورت نہیں۔

اردو ڈیجیٹل لائبریریاں قائم کرنے کی کوشش سے نوکریاں بھی مہیا ہو ں گی اور لگے ہاتھوں اپنے گھر کی یتیم اردو کی کچھ داد رسی بھی ہو سکے گی۔ اردو پڑھنے والے طبقے کو بھی ای بکس چاہیں، آڈیو بکس چاہیں تا کہ آپ کے نوجوان اور بچے اچھی اردو سیکھ سکیں اور آپ کی قومی زبان کی بنیاد گہری ہو سکے۔ اگر موجودہ حکومت اپنے فواد حسین چودھری جیسے ”قابل“ سائنس و ٹیکنالوجی کے وزیر اور چوہدری سرور جیسے ”عظیم“ گورنر کے ساتھ جو بڑی شدت سے کسی فعال کردار کے متلاشی ہیں، مل کر اردو اور اس کے ادب کو بچانے کی کوئی کوشش، کوئی انقلابی اور ضروری قدم اٹھا سکیں تو شاید پاکستان کی قومی زبان کو کوئی تحفظ اور مضبوط بنیاد مل سکے۔ ورنہ بے مقصود بہتے تو شاید ہی کبھی کسی کشتی کو کنارہ نصیب ہوا ہو، اردو زبان اور ادب کو بھلا ساحل کیسے نصیب ہو گا!

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •