کیا ویب سیریز چڑیلز میں جھوٹ بولا گیا ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

چڑیلز نامی ویب سیریز، سنا تو سب نے ہی ہے ساتھ ہی دیکھے، جانے اور سمجھے بنا پرکھ بھی لیا گیا کہ اپنی نوعیت کا منفرد نمونہ معاشرتی اقدار کے خلاف ہی ہوگا۔ ابھی یہ شاہکار نشر بھی نہ ہوا تھا کہ پذیرائی سے بڑھ کر رسوائی میں سینچا گیا۔ ہمارے یہاں کہ معدوم جدت پسندوں اور کمیاب حقوق نسواں کے مچانوں پر خوب مدح سرائی ہوئی تو قدامت پرست اور یقیناً قوم پرست حلقوں میں مذمت اور ناپسندیدگی کا نشانہ بنایا گیا۔ جس کی وجوہات بتانے کی ایسی کوئی ضرورت نہیں۔ غالباً پہلی بار کوئی ایسا نمونہ بنائے جانا، جس میں بلا جھجک اور واشگاف الفاظ میں ان مظالم اور جرائم کو عیاں طور پر فلمایا گیا جس کا سمجھداری اور وزن کے ساتھ فلمائے جانا سوچ کے حصاروں کو پہلے کبھی حقیقی طور پر چھوا بھی نہ تھا۔

ناقدین اور ناپسند کرنے والے شرفا کو اس ناٹک کے تقریباً ہر پہلو پر اعتراض رہا جن میں سے چند گوش گزار کرتی ہوں :

ڈرامے کا نام: چڑیلز

اول تو لفظ چڑیل ہی کوفت کا باعث بنا۔ سماجی اور اخلاقی ناقدین کے حضور چڑیل جیسا ناخوشگوار اور قدرے غیر شگفتہ لفظ کا انتخاب کیے جانا ہی قابل اعتراض تھا۔ بھلا، اب حقوق شیطانی صنفی شناخت پر تو حاصل نہیں کیے جا سکتے نا؟ کچھ روایات کے بے سرو پا امین مرد و زن کے لئے ایسا لفظ باعث وحشت اور ہتک تھا۔ کوئی مناسب سا نام بھی دیا جاسکتا تھا جیسے روزمرہ نشر ہونے والے ڈراموں کے بے بس اور ”پاکیزہ“ کرداروں کی طرح جو کھانے میں نمک کی زیادتی کی بدولت ساس یا سسر کی جھڑکی کھانے والی معصومہ یا گھریلو تشدد صبر و شکر سہنے والی شبنم بھی تو ہو سکتا تھا۔ بات بات پر عورتوں کو چڑیل، بھوتنی، ڈائن، ناگن، سنپولن کہنے والوں کو اعتراض کا مرض لاحق ہوا کہ آیا لفظ چڑیل ہی کیوں چنا گیا؟

برقعہ اور بد چلن عورتیں

بہت سوں کو اس بابت سنگین اختلافات تھے کہ آوارہ، بد چلن اور بگڑی عورتوں کی پہچان پر تشکیل پانے والے اس ناٹک میں چڑیلوں یعنی عورتوں کو برقعہ پہنے ہی کیوں دکھایا گیا ہے، جبکہ ڈرامے کو بنا دیکھے انہوں نے نتیجہ اخذ کر لیا تھا کہ اس میں برقعے جیسے مقدس لباس کی تحقیر ہوگی، عورتوں کو ”جھوٹی“ آزادی اور خود سری کے نام پر برہنہ لباس پہننے پر اکسایا جائے گا جس سے یقیناً وطن کی ”بہن بیٹیاں“ برقعے، عبایہ، آنچل، دوپٹے، چادریں، اوڑھنیاں ہواؤں میں پھینک اڑائیں گی۔ حالانکہ اس میں ایسے کسی امر کی ترغیب نہیں دی گئی۔

البتہ، معاشرتی ناک اور ذاتی انا کی اڑان کی خاطر زبردستی برقعہ پہننے اور عورت کو لطف اور لذت کی مورتی بنا کر پیسہ کمانے کے لئے زبردستی کپڑے اتارنے کی خاصی نفی کی گئی ہے۔ اس کو فیمنسٹ تنقید میں خواتین کی ان کی چاہ اور مرضی کے بنا انفرادی بے توقیری اور پدرانہ تسلط کہا جاتا ہے۔ اس کا کسی مذہب، اخلاق، اقدار یا جدت پسندی سے کوئی تعلق نہیں۔ یہ خالصتاً عالمی حقوق نسواں سے منسلک پہلو ہیں۔

سال بھر عورتوں کو برقعوں میں پابند کرنے کا درس دینے والوں کو مسئلہ تھا کہ ان فیمنسٹوں نے برقعہ پہننا تو کیوں پہننا؟ اگر خواتین ڈراموں میں دوپٹے نہ پہنے تو تب اعتراض، اگر برقعے پہن لیں تو تب بھی زحمت؟

گھریلو جنسی تشدد

چڑیلز کی کہانی کے بہت سے مضبوط کردار ہیں مگر ذاتی رائے میں میرے نزدیک بتول جان کا کردار بہت پختہ اور پرعزم ہے۔ بتول کم سنی میں ہی ایک بالغ مرد جو عمر میں خاصا بڑا ہوتا ہے سے بیاہ دی جاتی ہے۔ بتول کا جرم کم سن بیٹی کو باپ کے ہاتھوں جنسی جبر سے بچانا تھا جس کی عمر قید وہ کاٹتی ہے۔

کم سن ماں کے ”جرم“ کی خبریں تو ملک بھر کے اخبارات کی زینت بنتی ہیں مگر کوئی یہ جاننے کی زحمت نہیں کرتا کہ آیا اس نے ایسا انتہائی قدم اٹھایا ہی کیوں؟ قتل کی مکمل سزا کاٹنے والی عورت کو فرشتہ صفت ماں کی بجائے شوہر کی قاتلہ کو چڑیل نہیں کہیں گے تو کیا لقب دیں گے؟

ریفرنس کے طور پر ساحل نامی ادارے کے وہ اعداد دیے جاتی ہوں جن کے مطابق گھر کے اندر صرف رپورٹ ہوتے بچوں کے خلاف جنسی تشدد کے کیسز اکسٹھ فیصد ہیں۔ کیا چڑیلز میں غلط دکھایا ہے؟ کیا یہ سچ نہیں؟ اگر سچ ہے تو اتنا کڑوا کیوں لگ رہا ہے؟ دنیا بھر میں یہ جرائم رونما ہوتے ہیں اور فنکار، مصنفین اور تخلیق کار ان موضوعات پر سوال اٹھاتے رہتے ہیں جو ان کے شعوری زندہ ہونے کا ثبوت دیتے ہیں۔

یہ کہانی ہرگز صرف اور صرف امرا و عیاش عورتوں کی زندگیوں کی رنگ رلیوں کے گرد نہیں گھومتی۔ معاشرے کے محروم طبقات کی معاشی پیچیدگیوں، بیٹیوں کی رضامندی اور ان کے علم میں لائے بنا زبردستی کی شادیوں کی حقیقت سے حجاب اٹھاتی ہے۔ کیا مائیں حالات سے تنگ آ کر اپنی جان نہیں دیتی یا وسائل کی غیرمنصفانہ تقسیم کا کھیل بند ہو چکا ہے؟ اگر نہیں تو سچ دیکھ کر اس قدر انحراف کیوں؟

گھریلو تشدد

چڑیلز میں گھریلو تشدد کے نکتے کو خوب اٹھایا گیا ہے۔ اس ملک کا کوئی ہی باشندہ ہوگا جو دل سے اس بات پر مطمئن ہوگا کہ اس نے کبھی کسی عورت کو پٹتے اور جھڑکیاں کھاتے نہیں سنا۔ ہاں، پیٹنے والے کو اس ڈرامے میں عورتوں کے ہاتھوں پٹتا دکھایا گیا ہے جو ہر حال میں پیٹنے والوں کو نازیبا معلوم ہوگا۔

غیر اخلاقی منظر کشی

مجھے ذاتی طور پر تو نہیں معلوم کہ ناقدین کے نزدیک غیر اخلاقی منظر کشی کی تعریف کیا تھی جس پر اعتراض کیے گئے۔ آیا وہ خواتین کا متشدد شوہروں کو پیٹنا تھا، یا بچوں کے خلاف جنسی تشدد کے مدعے کو اٹھانا، مگر یہاں بار بار منتخب ناظرین کو اس بات کا احساس دلایا گیا ہے کہ ان کو دیکھ کر کسی بھی مرد کا خود کو چھونا ناقابل قبول اور ناقابل برداشت فعل ہے۔ ڈرامے میں دکھائے گئے ایسے مناظر ناظر خواتین کے لئے ہرگز معیوب تھے نہ ہی باعث حیرت۔

گھر ہو یا باہر، بچیوں اور خواتین کو دیکھ کر گلیوں، چوراہوں، ویمن کالجز اور بازاروں میں مردوں کی غیر اخلاقی حرکات اور سکنات پر کوئی بات کرتا ہے نہ ہی مذمت۔ البتہ، عورت کب، کہاں اور کیوں تھی کے بلاجواز جواز دے کر ایسے مجرموں کی پشت پناہی ضرور کی جاتی ہے۔ کچھ لوگوں کے قریب مردوں کا کالج، یونیورسٹی، مدرسہ، دفتر جاتی خواتین اور بچیوں کو دیکھ کر چھونا نہایت قابل اعتراض امر ہے کہ وہ اس کیا سیکھیں گی، حالانکہ وہی خواتین اور بچیاں ایسے نازیبا مناظر روز ہی براہ راست دیکھتی ہیں جس پر کسی کو اعتراض نہیں ہوتا اور ایسے مناظر سے ان خواتین کو اس بات کا ادراک ہوگا کہ یہ غلط ہے جس کا منہ توڑ جواب دیے جانا چاہیے۔

معاشی محرومیوں کی شکار لڑکیاں، اغوا اور جنسی جرائم

ڈرامے کی کہانی ارتقائی رخ اختیار کرتی ہے جب ایک ایسے خفیہ مگر طاقتور گروہ کے مضموم کرداروں کو سامنے لاتی ہے جو خواتین اور بچیوں بارے ہیجانی خیالات رکھتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کے دم سے ملک میں جسم فروشی اور خواتین کے اغوا کاروبار چلتا ہے، ایسے خفیہ ہاتھ جن کو کوئی بھی ہاتھ لگانے کی جرآت نہیں کر سکتا۔ جن کے ہاتھوں کے اشاروں سے ملک کے کاروبار اور سیاست جھولتی ہو، جن کے یہاں یتیم خانوں سے کم سن بچیاں اور مغوی لڑکیاں خلوت کو ارسال کی جاتی ہیں۔ بظاہر جدت پسند اور روایت پسند طاقتور لوگ یہاں بنا کسی نظریاتی اختلاف کے ایک دکھائی دیتے ہیں۔

کیا اس ملک کے دارالامان اور یتیم خانوں سے بچیاں اور عورتیں اغوا نہیں ہوتی؟ صرف یہی نہیں، ڈرامہ سیریز چڑیلز میں انٹرٹینمنٹ انڈسٹری میں خواتین کے جسم کی نمائش پر بھی فیمنسٹ تنقید ہے۔ معاشی مسائل کا شکار نوجوان لڑکیاں کیسے درندہ صفت لوگوں کے ہاتھوں اپنی مجبوریوں باعث استعمال کی جاتی ہیں کی بڑے سمجھدار انداز میں دکھایا گیا ہے۔

علاوہ ازیں، مرکز تنقید سماج کے وہ ضابطے بھی ہیں جن کے باعث خواتین عمر بھر ظاہری جمالیات کے باعث محرومیوں میں مبتلا رہتی ہیں۔ کسی کا کالی، کالا، موٹا، پتلا، سرخ، پیلا، بھینگا گنجا کہہ کر ان کی انفرادی شناخت ہی سرے سے تلف کی جاتی ہے۔ کیا ان امور پر بات نہیں ہونا چاہیے کہ آیا وہ کون سے عناصر ہیں جو صرف منافع کی خاطر انسانوں میں ایسے نقص تلاش کر اس کو کاروبار میں ڈھالتے ہیں؟ کارل مارل سمیت بہت سے نقادوں اور فلسفیوں کا اس نکتے پر مفصل جائزہ موجود ہے۔

ڈرامہ سیریز چڑیل کا مختصر خلاصہ کیا جائے تو اس کہانی میں گھریلو تشدد، اغوا، معاشی مسائل سے تنگ آ کر خودکشی، نوکری کے بہانے کم عمر لڑکیوں کو جسم فروشی میں بیچنے، خواتین اور بچوں کے خلاف جنسی تشدد، زبردستی اسقاط حمل، مردوں کا لڑکیوں کو سیکسٹنگ، شادی شدہ مردوں کی بے وفائی، زنا، اولاد میں صنفی تفریق، زبردستی نکاح، میڈیا کی جانبدار رپورٹنگ، انٹرٹینمنٹ انڈسڑی میں خواتین کی جنسی نمائش، ذاتی دفاع کے باوجود جیلوں میں سزا کاٹتی عورتوں کے مسائل پر بے باک تنقید دکھائی گئی ہے۔ سمجھدار اور غیر جانبدار ناظرین کو حقیقی معنوں میں جبر اور جرائم کا انفرادی اور سماجی زندگی پر چھوڑے گئے سنگین مسائل کا ادراک ہوگا، ایسے کسی بھی منصوبے سے معاشرے کے دکھ درد اور کڑوی سے بدتر سچائیوں کا اندازہ ہوگا جن کی دانست میں ایسے منفرد منصوبے جھٹلانے کی بجائے سراہے جائیں گے۔

چڑیلز میں ہر اس شخص اور سوچ کی مذمت کی گئی ہے جو مخلوط اور جانبدار مقاصد کے لئے محروم طبقات اور عورتوں کو استعمال کرتے ہیں، چاہے وہ ایک ریڑھی والے سے لے کر سیاست دان ہو، عام دکاندار سے لے کر جامعہ کا استاد ہو، قدامت پرست مذہبی شخص سے لے کر روشن خیال شخصیت ہی کیوں نہ ہو، مذہبی ہو یا لبرل آدمی، عورتوں کے خلاف تشدد آمیز سوچ، حسرت سے لبریز نفسیات اور سماجی، معاشی، سیاسی، اخلاقی و روحانی فضیلتوں کو منہ چڑاتا چڑیلز نامی ڈرامہ ایک انقلابی، جدید فکر کو پروان چڑھاتا ہے، جس میں پہلی بار معاشرتی ناسور کو کھلم کھلا للکارا ہے۔ ایسا قابل فخر شاہکار، آخر کو کیوں سماج کی اکائیوں میں پذیرائی پائے گا جس کے اطوار ہی جبر، ہیجانیت اور خیالی برتری پر مرتب کردہ ہوں؟

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •