اگر مجھے قتل کیا جاتا!

قائد آباد میں ہونے والے واقعہ قتل کی روداد تو اب سوشل میڈیا کی مہربانی سے دنیا بھر میں نشر ہو چکی ہے۔ اور ابتداء سے لے کر اب تک جو معلومات تحریری یا وڈیو کی صورت میں شیئر کی گئی ہیں ان کے مطابق:۔

1۔ ”خوشاب میں توہین رسالت کرنے پر پر بینک مینجر کو گارڈ نے گولی مار دی ہے۔ نیشنل بینک کا مینیجر جو کہ قادیانی تھا اس نے ایک سیکورٹی گارڈ کے سامنے حضور اقدس (ص) کی شان میں گستاخی کی۔ جذبہ ایمان سے منور سیکورٹی گارڈ نے فائر مار کر جہنم واصل کر دیا“ ۔

2۔ ”قائدآباد۔ نیشنل بینک منیجرقائدآباد برانچ ملک محمد عمران حنیف ولد ملک محمد حنیف قوم اعوان ساکن آصف ٹاؤن جوہرآباد کو اپنے ہی بینک کے گارڈ احمد نواز نے فائرنگ کر کے زخمی کر دیا شدید زخمی حالت میں ٹی ایچ کیو ہسپتال قائدآباد منتقل ابتدائی اطلاعات کے مطابق منیجرنے حضورﷺ کی شان میں گستاخی کی جس پرگارڈ نے مشتعل ہو کر فائرنگ کردی اورلبیک یا رسول ﷺ کے نعرے لگاتا ہوا بینک سے باہرآ گیا“ ۔

3۔ علماء کی قیادت میں ایک جلوس اور اس غازی کے کارنامے کی رپورٹ تھانے میں درج کروانے کے لئے روانہ ہوتا ہے۔ اور جذبہ ایمانی سے مخمور یہ جلوس تھانے کے سامنے اپنی حب رسول ﷺ کا نعروں سے اظہار کرتے ہوئے رک جاتا ہے اور عمائدین جلوس  کی شکل میں تھانے کی چھت پر جا پہنچتے ہیں۔

4۔ مولانا صاحب تھانے کی چھت پر مع جناب ”غازی“ صاحب و دیگر متدین احباب کے جب چڑھ جاتے ہیں تو دستی لاؤڈ سپیکر استعمال کرتے ہوئے اپنے خطاب میں تھانے کے سامنے دھرنا دھروں کو اشتعال میں آنے سے منع فرماتے ہوئے اعلان کر رہے ہیں کہ ”عاشقان رسول کی امنگوں کے مطابق سارا کام ہوگا“ ۔ ان کے خطاب کے بعد ”غازی“ صاحب نعرۂ رسالت اور نعرۂ حیدری لگواتے ہیں پھر ”گستاخ رسول کی ایک ہی سزا“ کا غلغلہ بلند کرتے ہیں جس کے جواب میں ہجوم کے جواب ”سر تن سے جدا۔ سر تن سے جدا“ کی گونج سے قائد آباد کی فضاؤں میں لرزہ طاری ہو جاتا ہے۔ ان کے بعد محترم غازی صاحب ہجوم کو خطاب میں اشتعال سے منع فرماتے ہیں کہ ”تھانہ ایک سرکاری ادارہ ہے“ ۔ عین اس وقت سرکاری ادارہ کا ایک نمائندہ بھی چھت پر باوردی موجود ہوتا ہے۔

5۔ کچھ دیر بعد مقتول ملک محمد عمران حنیف صاحب کے ماموں جان راجہ فیاض صاحب تاجر رہنما جوہر آباد کا ایک وڈیو بیان منظر عام پر آ جاتا ہے جس میں وہ اپنے بھانجے کے متعلق بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ”میں حلفاً کہتا ہوں کہ ہم سچے عاشق رسول ہیں۔ اور ہمارا قادیانیوں سے کوئی تعلق نہ ہے“ ۔

6۔ جنازہ کے موقعہ پر امام صاحب نے فرمایا :

”سب سے پہلے یہ کہا گیا کہ وہ ایک قادیانی تھا۔ میں یہ گواہی دیتا ہوں کہ میری اپنی مسجد میں اس نے کئی بار نماز جمعہ ادا کی ہے“ ۔

اور اسے شہید قرار دیتے ہوئے ایک بہت بڑی تعداد میں حاضرین کو یہ اطمینان دلوایا کہ مقتول قادیانی نہیں تھا۔

خاکسار چونکہ احمدی ہے اس لئے میرا تبصرہ غیر جانبدارانہ تصور کرنا شاید مشکل ہو۔ اس کے لئے اسی واقعہ کو تصور میں اپنی ذات پر وارد کر کے جو صورت دکھائی دیتی ہے وہ پیش کر کے ہر باشعور اور محب وطن پاکستانی سے پوچھنا تو بنتا ہے کہ مندرجہ بالا بیان کردہ واقعات جو خود ساختہ نہیں اور اصلی الفاظ میں پیش کیے گئے ہیں۔ ان کی روشنی میں بینک مینیجر عمران کی جگہ اگر میں ہوتا تو

(ا) مجھے کسی نجی تنازع کی بدولت قتل کر دیا گیا تھا۔
(ب) قاتل پر میرے (نعوذ باللہ) گستاخ رسول ہونے پر مجھے قتل کرنے کا حق تھا
(ج) مجھے قتل کرنے پر وہ غازی بن کر محبان رسول مقبول ﷺ کی آنکھوں کا تارہ بن گیا۔

(د) اگر بفرض محال اسے ”غیر اسلامی عدالت“ کے ہاتھوں سزا کے نتیجہ میں زندگی کی قربانی بھی دینی پڑ جاتی ہے تو اسے شہید کا مقام مل جائے گا۔ اور ملی نغمہ:

شہید کا ہے مقام کیسا۔ افق کے اس پار جا کے دیکھو
حیات تازہ کے کیا مزے ہیں ذرا یہ گردن کٹا کے دیکھو

کی روشنی میں جنت میں اعلیٰ مقام کے ساتھ مولانا جمیل کے بیان فرمودہ لوازمات بھی میسر ہوں گے جن کا دنیا داروں کو ادراک ناممکن ہے گویا اس ”کار خیر“ میں نفع ہی نفع ہے۔

(ہ) احمدی کے خون کی کوئی قیمت نہیں ہے۔

(و) اگر کسی پر احمدی ہونے کا شبہ ہو تو کوئی بھی مسلمان اپنے دست مبارک سے ( فرضی ) گستاخیٔ رسول کے بہانے اسے جہنم واصل کرنے کا حق رکھتا ہے جس کے لئے حکومتی مشینری کے حرکت میں آنے تک انتظار کی ضرورت نہیں۔ ( یہ من گھڑت بات نہیں۔ ایک وفاقی وزیر کے بیان کی بنیاد پر لکھا گیا ہے )

(ز) غازی شہید کا مزار بنے گا۔ جہاں محبان رسول دلی عقیدت سے آئیں گے اور نذرانے چڑھائیں گے۔ اور اس سے حصہ رسدی غازی شہید کے ورثاء کو بھی کچھ دیا جائے گا۔

قتل کے ان دو واقعات کے تقابلی تناظر میں جو منظر ابھرتا ہے آپ نے مشاہد ہ فرما لیا ہے۔ احمدی تو مجبور وفا ہیں۔ ستم سہہ رہے ہیں دکھ کی بات یہ ہے کہ اب عمران حنیف جیسے حب رسول ﷺ کے دعویداروں پر ہونے والا ستم بھی انہیں سہنا پڑ رہا ہے۔

اب غور کیا جانا چاہیے کہ اس معاملہ میں اسلام کی تعلیم کیا ہے اور اس سے پاکستان کس قدر دور جا چکا ہے؟

اگر پاکستان کے دینی اور سیاسی راہنما ؤں میں علمی اختلاف ہے تو اس کا حل قرآن میں ہے۔ ”اگر تمہارے درمیان کسی چیز میں اختلاف ہو جائے تو اگر واقعی تم اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتے ہوتو اسے اللہ اور رسول کے حوالے کر دو۔ یہی طریقہ بہترین ہے“ ۔ لہذا ایسی صورت میں اپنی بات کو بزور شمشیر منوانے کی کوشش کرنے والا حکم خدا اور رسول ﷺ کا نافرمان ٹھہرے گا۔ اور بد قسمتی سے اسی جرم کا ارتکاب بار بار کیا جا رہا ہے۔ اور اکثریت راہنماؤں کی عوام الناس کو دلیل سے بات کرنے سے جو روکتی ہے ان پر اسی جہالت کا غلبہ ہے۔ ورنہ قرآن میں ”ہاتوا برہانکم“ کا حکم نہ آتا۔

نہایت درد دل ہر محب وطن کی خدمت میں درخواست ہے کہ احمدیوں کو آپ بے شک غیر مسلم سمجھیں۔ احمدی ہر حال میں آئین کے پابند اور قانون کے تابعدار تھے اور آئندہ بھی رہیں گے۔ پاکستان کی مسلمان اسمبلی نے ناٹ مسلم قرار دیا ہے۔ اور احمدی اپنے آپ کو ”پاکستان کے آئین کے مطابق ناٹ مسلمان“ ہی سمجھتے ہیں اور کسی قسم کی بغاوت یا امن شکنی والی بات نہیں کرتے۔ اما بعد محترم جنرل ضیا الحق صاحب کے نافذ کردہ اینٹی قا دیانی آرڈیننس کو غلط سمجھتے ہوئے بھی ا س کی خلاف ورزی سے پرہیز کرتے ہیں۔

پاکستانی عوام کی طرف سے ملاؤں کی انگیخت پر اٹھائے جانے والے ستم پر بھی ان کے لئے دعا ہی کرتے ہیں۔ لیکن احمدیوں پر ظلم وستم کا زہر اب ہر طبقہ میں سرایت کر گیا ہے اور یقین کے ساتھ کوئی بھی اپنے آپ کو محفوظ نہیں پاتا۔ میرے نزدیک تو اسٹنٹ کمشنر عزیزہ جنت نیکو کارہ کی بے بسی پر حکومت کی بے حسی عمران کی موت پر منتج ہوئی ہے۔ لہذا

خدا کے لئے! خدا کے لئے اب ہی جاگ جائیں۔ اس کے لئے جھوٹ سے پرہیز کرتے ہوئے گناہوں کو ترک کرنا ہوگا۔ اور بقول طاہر القادری کے ”قوم کو اجتماعی طور پر توبہ کرنی ہو گی“ یہ عقیدہ کہ ہر قسم کی حرامزدگیوں کے ارتکاب کے باوجود رسول مقبول ﷺ کی جھوٹی محبت نجات کا باعث بن سکے گی خلاف شریعت ہے۔ کیونکہ

سچی محبت حبیب ﷺسے تو اعمال صالحہ کی توفیق ملتی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words