ہم کیوں پڑھتے ہیں؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سوشل میڈیا پر میں نے کتابوں میں دلچسپی رکھنے والے کچھ دوستوں سے تجسس کے مارے استفسار کیا: آپ کیوں پڑھتے ہیں؟ موصول ہونے والے جوابات دلچسپ اور فکر انگیز تھے۔ دوستوں کے ناموں کو میں نے ان کے ملک کے نام سے تبدیل کر دیا ہے۔ ملاحظہ کیجئے۔

پڑھنا ایک عادت ہے، جیسے فلم بینی یا میوزک سننا۔ جب آپ اس میں داخل ہوتے ہیں تو رک نہیں پاتے۔ ہمیشہ تشنگی رہتی ہے۔ جتنا آپ کی سمجھ میں اضافہ ہوتا ہے، اتنا دلچسپی بڑھتی ہے۔ روس

پڑھنے کے لئے طبیعت میں ٹھہراؤ چاہیے۔ لفظوں سے مانوسیت وقت مانگتی ہے۔ امریکہ

بہت سے لوگ اسے مضر صحت سمجھتے ہیں۔ ان کے خیال میں کتابوں کا حقیقت سے کوئی واسطہ نہیں ہوتا۔ نا مستقبل میں یہ ان کے کام آتی ہیں۔ شاید ایسے لوگ حقیقت پرست ہوتے ہیں۔ ایک پڑھنے والے کو لگتا ہے کہ دنیا بہتر ہو گئی ہے۔ وہ چبھتی ہوئی سچائیوں سے آزاد ہو کر خود کو چھلکتا ہوا محسوس کرتا ہے۔ بہت کم لوگ ہیں جو دنیا کو علم و دانائی سے نوازتے ہیں۔ لوگ انھیں پاگل سمجھتے ہیں۔ مگر وہ ان کی باتوں کی پرواہ نہیں کرتے۔ پاکستان

میں بہت چھوٹی عمر میں کتابوں سے متعارف ہوئی۔ میں نے ان سے محظوظ ہونا سیکھا۔ اور یوں میں آزاد ہو گئی۔ امریکہ

کبھی کبھار ایک کتاب ہماری سوچ کو بدل دیتی ہے۔ پھر ہم اس خوشگوار تجربے کو دہرانے کی کوشش کرتے ہیں۔ پاکستان

اگر آپ پڑھنے کی عادت اپنانا چاہتے ہیں تو اس کے لئے پختہ عزم کی ضرورت ہے۔ جہاں تک میرا تعلق ہے، مجھے ان سے سکون ملتا ہے۔ کتاب بہترین رفیق ہے۔ فن لینڈ

درسی کتابیں یقیناً ضروری ہیں۔ اگر آپ پڑھ نہیں سکتے تو آپ سیکھ نہیں سکتے۔ فکشن آپ کے تخیل اور فکر کو پر لگا دیتا ہے۔ پاکستان

ہر کوئی ایک مثالی دنیا کے خواب دیکھتا ہے۔ بہت سے لوگ اس دنیا کو کتابوں میں ڈھونڈتے ہیں۔ پاکستان

آپ اپنی شخصیت کی تعمیر کر سکتے ہیں۔ دنیا سے وقتی فرار پا سکتے ہیں۔ خیالوں کی ٹرین پکڑ سکتے ہیں۔ رومانیہ

اگر آپ پڑھنا شروع کرتے ہیں تو وقت خود میسر آ جاتا ہے۔ اگر آپ نہیں پڑھتے تو کبھی وقت نہیں ملتا۔ امریکہ

فکری توازن درست رہتا ہے۔ روحانی سکون ملتا ہے۔ کتب بینی ہنساتی ہے، سکھاتی ہے، چیلنج کرتی ہے۔ پرانے وقتوں میں لے جاتی ہے۔ یہ ایک تلخ و شیریں تجربہ ہے۔ مراکش

پڑھنا بہت ضروری ہے۔ میری والدہ مجھے پڑھاتی تھیں۔ تبھی میں الفاظ کی محبت میں گرفتار ہو گئی۔ کچھ ایسا ہے جو آپ کے اندر پروان چڑھتا ہے۔ آپ خواب دیکھنے والے بن جاتے ہو۔ عمان

برٹرینڈ رسل یاد آ گیا۔ انسان کے حالات اس کے فلسفے کو جنم نہیں دیتے۔ انسان کا فلسفہ اس کے حالات کو جنم دیتا ہے۔ پاکستان

انسان ایک عجب مخلوق ہے۔ کتاب آپ کو ایک نئے روپ میں ڈھال دیتی ہے۔ امریکہ

معلومات ملتی ہیں۔ سمجھ اور دانائی میں اضافہ ہوتا ہے۔ تجسس سیراب ہوتا ہے۔ وقت اچھا گزر جاتا ہے۔ البانیہ

کچھ لوگوں میں علم کی پیاس ہوتی ہے۔ وہ اپنے وقت سے آگے دوڑنا چاہتے ہیں۔ زندگی میں ان کے کچھ عظیم اہداف ہوتے ہیں۔ پاکستان

کتابیں پڑھنے والے چیزوں کو مختلف زاویہ ہائے نظر سے دیکھنا سیکھ جاتے ہیں۔ پاکستان
کچھ لوگوں کا لکھے ہوئے لفظ سے گہرا رشتہ ہوتا ہے۔ وہ پڑھنے سے چیزوں کو گرفت میں لیتے ہیں۔ آسٹریلیا

کہانیاں سننا اور سنانا انسان کی فطرت میں شامل ہے۔ کچھ لوگ اپنے سے مختلف لوگوں میں دلچسپی لیتے ہیں۔ کچھ لوگ زندگی، اس کی حقیقت اور اسرار کے بارے میں سوچتے ہیں۔ پڑھنے والے عموماً فلسفیانہ انداز فکر رکھتے ہیں۔ پاکستان

بہت کم کتابیں ہیں جو آپ کے علم میں اضافہ کرتی ہیں۔ زیادہ تر فرار کا رستہ دیتی ہیں۔ خود کو لفظوں، مناظر اور تصورات میں گم کر دینا۔ پاکستان

آپ لکھے ہوئے لفظ کی با آسانی غلط تشریح کر سکتے ہیں۔ برطانیہ
ادب سیکھنے کا بہترین ذریعہ ہے۔ امریکہ
جی تو یہ تھے دوستوں کے خیالات۔
کتاب اور اس سے منسلک تجربات کے بارے میں چند رائیٹرز کی آرا پڑھیں :
کتاب دوسری زندگی ہے جسے آپ دوبارہ لکھتے ہو۔ پڑھنا گویا خود کلامی ہے۔ اورحان پاموک
میں اپنی یاداشتوں کو بدلنے کے لئے لکھتا ہوں۔ ایمری کرٹیس
کتاب پینٹنگ ہے اور ناول ایک تصویر۔ مارسل پروست
کتاب ایک کلہاڑا کی مانند جمود کو توڑتی ہے۔ فرانز کافکا
کتاب بارود سے بھری ہوئی ایک بندوق ہے۔ ہمیں اپنی حماقت کا احساس دلاتی ہے۔ رے بریڈ بری
کتاب ان لوگوں سے فرار ہے جو ہمیں نہیں سمجھتے۔ جان گرین
قاری کتاب کے تمام الفاظ خود ایجاد کرتا ہے۔ بورجس
پڑھتے ہوئے ہم ایک گہرے انجذاب کا تجربہ کرتے ہیں۔ سوسن کین
کتاب ہمیں یاد کراتی ہے کہ دوسرا بھی موجود ہے۔ یہ امکانات کا ایک وسیع ذخیرہ ہوتی ہے۔ کارلوس فیونٹس

میری تمام کتابیں ایک ایسے تنہا آدمی کے بارے میں ہیں جو دنیا میں مسلسل اپنی جگہ تلاش کرتا ہے۔ لکھنا کتھارسس کی طرح ہے۔ مسئلہ خود کہانی کا حصہ بن جاتا ہے۔ چک پلوہنیک

پڑھنا ایک تعلق قائم کرنے کے مترادف ہے۔ میں مختصر کتابیں پڑھنے کا شوقین ہوں۔ اور پھر دوبارہ انھیں پڑھتا ہوں۔ محسن حامد

ہم کیوں پڑھتے ہیں؟ میں خود بھی اس سوال کے بارے میں غور کرتا رہا ہوں۔ میری سوچ میں کئی بار تبدیلی واقع ہوئی ہے۔ گھر میں شیلف کی گرد جھاڑتے ہوئے میں اکثر سوچتا ہوں : کتابوں کا کچھ نہیں بدلا! کتابوں کی قطاروں کے پیچھے ایک دنیا آج بھی سانس لے رہی ہے۔ زمان و مکاں کی قید سے آزاد ایک خزانے کی طرف دروازہ کھلتا ہے۔ گھر کے مکیں جس سے اکثر بے خبر ہی رہتے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •