حیدر عباس گردیزی: تیرا ماتم اسی چپ چاپ فضا میں ہو گا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

28  اکتوبر 2020 کا دن تھا میں اور میرے ساتھی دوسرے ملتان لٹریری فیسٹیول کی تیاریوں میں غرق تھے، ہزار طرح کے مسائل، الجھنیں، خدشے ہر روز ہمارے سامنے آ کھڑے ہو رہے تھے، کبھی اطلاع آتی کہ فلاں سپانسر نے انکار کر دیا ہے تو کبھی اطلاع آتی کہ فلاں پارٹیسیپنٹ نہیں آ پا رہا، کبھی کوئی کہتا کہ کہیں فیسٹیول سے پہلے لاک ڈاؤن نہ لگ جائے تو کبھی کچھ اور، ایسے میں مجھے جنابِ حیدر عباس گردیزی کا فون آتا ہے انکل حیدر مجھے ہمیشہ میرے پورے نام علی عباس سے مخاطب کیا کرتے تھے، فرمایا کہ علی عباس یہ کیا کر دیا ہے تم نے؟ مجھے لگا کہ شاید کوئی مسئلہ ہو گیا ہے میں نے پوچھا کہ کیوں سر کیا ہوا؟ فرمانے لگے کہ کمال ہو گیا یے یہ پروگرام کہ جس کی تم نے مجھے تفصیل بھیجی ہے یہ کیسے، کب اور کس کے ساتھ مل کر ترتیب دیا ہے؟ میں نے جواب دیا کہ سر کووڈ کے دنوں سے اس پر میں اور ڈاکٹر مقبول گیلانی کام کر رہے تھے، خالد سعید صاحب اور انوار صاحب کی مشاورت بھی شامل ہے، فرمایا

Ali you are Creating History

یہ وہ کام ہے جو ادارے کیا کرتے ہیں، میں نے کہا کہ سر کوشش کر رہے ہیں۔ میرے اس جملے پر ایک باپ ایک بڑا بھائی نمودار ہوا اور کہنے لگے کہ اس پر تو کافی پیسے خرچ ہوں گے، تفصیل بتاؤ مجھے۔ میں نے اپنا رونا شروع کیا کہ انکل اس وقت کرونا کی وجہ سے مارکیٹ کی صورت حال بہت خراب ہے۔ بڑی سے بڑی کمپنی بڑے سے بڑا کاروباری اس وقت بہت مشکل صورتحال کا شکار ہے اور ہم پیسوں کے لیے کوشش کر رہے ہیں۔ کہنے لگے کہ میں شام میں تمہارے پاس آتا ہوں اور تمہاری تیاریاں دیکھتا ہوں اور اس پر بھی غور کرتے ہیں کہ ہم کس کس سے اس سلسلے میں پیسوں کی بات کر سکتے ہیں۔ رات کے دس بجے انکل حیدر کا فون آتا ہے کہ میرے گلے میں خراش ہو رہی ہے تو میں کہتا ہوں کہ میری بیگم آپ کو ادرک اور دار چینی والی چائے پلائے گی تو یہ خراش دور ہو جائے گی۔ کچھ ہی دیر میں انکل حیدر میرے گھر تشریف لاتے ہی فرمایا کہ تمام مہمانوں کا اتوار کی دوپہر کا کھانا ان کے گھر پر ہو گا۔ باقی معاملات پر بات ہوتی ہے اور انکل یہ کہہ کر اٹھ جاتے ہیں کہ کل یا پرسوں ہم کچھ لوگوں کے پاس چل کر اس کے پیسوں کی بات کریں گے۔ آخر ہم بھی تو دیکھیں کہ جس شہر میں ہم نے پوری عمر گزاری وہاں کتنے لوگ ہماری بات پر کان دھرتے ہیں۔ اگلے دن میں فون کرتا ہوں تو فرماتے ہیں کہ علی عباس شاید مجھے کرونا ہو گیا ہے، میرا ٹیسٹ آج ہو گیا ہے۔ کل رزلٹ آئے گا۔ اگلا دن آتا ہے تو میں انکل کا فیس بک کا سٹیٹس پڑھتا ہوں کہ

ہم ہوئے تم ہوئے، کہ میر ہوئے

اسکی زلفوں کے سب اسیر ہوئے

یہ اطلاع تھی کہ ان کو کرونا ہو گیا ہے، فون کیا آگے سے شدید کھانسی میں دبی آواز میں انہوں نے میر کا یہی شعر سنایا اور پوچھا کہ تیاری کہاں تک پہنچی؟ میں نے کہا کہ تیاری اچھی ہے، ہم فیسٹیول بھرپور کر پائیں گے۔ آخری جملہ جو میرے کانوں نے سنا وہ یہ تھا کہ “فیسٹیول ہر قیمت پر کرنا ہے” بعد میں بات کرتے ہیں۔ فون بند ہو جاتا ہے، دن گزرتے گئے، سات نومبر کی صبح آنکھ مقبول گیلانی صاحب کے فون سے کھلی جو کہ لاہور مہمانوں کو لینے گئے تھے اور جنابِ وجاہت مسعود کے گھر کا پتہ معلوم کرنا چاہتے تھے ان کا فون سن کر جیسے ہی فیس بک کھولی، برادرم حارث اظہر کے سٹیٹس پر انکل حیدر کی تصویر دیکھی تو دل جیسے بند سا ہو گیا۔ معلوم ہو گیا کہ کرونا ہمیں برباد کر گیا۔ ایسے لگا کہ جیسے تھکن نے جسم جکڑ لیا ہو، نڈھال ہو کر دوبارہ تکیے پر گر گیا، فیسٹیول کا پہلا دن اسی سوگواریت کے ساتھ شروع ہوا۔ ہر شخص اداس تھا۔ مجھے یاد ہے کہ وجاہت مسعود صاحب جو کہ فیسٹیول شروع ہونے سے پہلے آرٹس کونسل کی پارکنگ میں کھڑے تھے اور شاکر حسین شاکر بھائی، قمر رضا شہزاد بھائی، رضی الدین رضی بھائی، جس جس سے ملے، بات تعزیت سے شروع ہوئی۔ خالد سعید صاحب کی اپنی طبیعت بھی ناساز تھی لیکن وہ، انوار احمد صاحب، وجاہت مسعود صاحب، ہر شخص جو گردیزی صاحب کو جانتا تھا بہت اداس تھا۔ خالد صاحب نے مجھے کہا کہ بد نصیبی یہ ہے کہ جنازہ بھی نہیں پڑھ سکے کیونکہ اجازت نہیں مل سکی تھی.. مجھے نہیں معلوم کہ مجھے اس بات پر خوش ہونا چاہیے یا نہیں کہ میں شاید کمیونٹی کا وہ آخری آدمی تھا کہ جس سے انکل حیدر کی ملاقات ہوئی کیونکہ اگلی صبح سے انہوں نے خود کو قرنطینہ کرلیا تھا…

انکل حیدر کے انتقال کے بعد جب میں اپنی اور ان کی پہلی ملاقات کے بارے میں سوچا تو دل مز ید چھلنی ہو گیا کیونکہ میری ان سے پہلی ملاقات راشد رحمان کے ساتھ ہوئی تھی..

میں کیا کیا یاد کروں۔ سمجھ نہیں آرہا HRCP اور دوسری این جی اوز کی کانفرنسیں یاد کروں یا ترقی پسند مصنفین کے ایونٹ، سیاسی اکٹھ یاد کروں یا ملتان آرٹس فورم کے اجلاس، اپنے گھر پر دی ہوئی عید، بقر عید کی پارٹیاں یاد کروں یا وہ رات کہ جس رات ہم نے انکل حیدر کے ساتھ Parallel Narrative پر ان کا انٹرویو ریکارڈ کیا تھا۔ وہ شامیں یاد کروں کہ جب ان کے ساتھ واک کرتے ہوئے انقلابی کہانیاں سنیں یا وہ گرمی کی دوپہر کہ جب ہم نے ایک پیپر پیپلزپارٹی کے لیے تیار کیا یا وہ رات کہ جب قسور گردیزی صاحب کی برسی کی تقریب سے فارغ ہو کر وجاہت مسعود، عبد الحئی بلوچ اور جنابِ آئی اے رحمان کے ساتھ ان کے گھر پر وجاہت بھائی نے گردیزی صاحبان کو یہ سمجھانے کی کوشش کی تھی کہ آگے بڑھنے کے لیے نواز شریف دشمنی اب بالائے طاق رکھنی پڑے گی۔ سوائے حیدر انکل کے ہر گردیزی ان سے اختلاف کر رہا تھا۔ وہاں سے اٹھ کر وجاہت بھائی نے میرے گھر آنا تھا۔ جب نکلنے لگے تو انکل حیدر نے وجاہت بھائی سے ایسے معذرت کی کہ جیسے وہ ہی تھے جو وجاہت بھائی کی مخالفت کر رہے تھے، بعد میں مجھے کہنے لگے کہ یار علی دیکھو، وجاہت کیا سوچے گا کہ قسور گردیزی کی اولاد کو بھی بات سمجھانا مشکل ہوتا جا رہا ہے…..

پیپلزپارٹی ان کا پہلا اور آخری سیاسی پیار تھا میں نے ان کا ایک ہی انٹرویو کیا، اور بہت سخت سوال پوچھے جو مجھے یقین ہے کہ بلاول سمیت اگر کسی بھی اور پیپلز پارٹی کے رہنما سے پوچھے جائیں یا تو وہ غصہ کر جائے گا یا ہمیں اس کو ایڈٹ کرنے پر مجبور کرے گا لیکن آج بھی آپ اس انٹرویو کو دیکھیں تو آپکو انکل حیدر کا جملہ ملے گا کہ

Ali you are putting very hard questions

لیکن اس کا انہوں نے جواب دیا اور جراتمندانہ جواب دیا مجھے یاد ہے کہ جب میں نے آصف علی زرداری کی سربراہی میں لیفٹ کی سیاست کے سکوپ پر بات کی تو انہوں نے بلا تامل کہا کہ مجھے اب بھی لیفٹ کی سیاست کی آواز اگر کہیں سے آتی ہے تو وہ پیپلز پارٹی ہے اگر نہ آتی ہوتی تو میں کسی ق لیگ کا حصہ نہ بن گیا ہوتا…

میری رائے میں ہر وہ شخص خصوصاً نوجوان کہ جو سیاست میں دلچسپی رکھتا ہے اس کو وہ انٹرویو سننا چاہیے اور پیپلزپارٹی کے موجودہ لیڈر شپ کو یہ انٹرویو سننا چاہیے کہ جس میں انہوں نے واضح کہا کہ اگر پیپلز پارٹی نے اپنی اس پرانی اسپرٹ کو آواز نہ دی اگر پیپلز پارٹی کی موجودہ لیڈر شپ اپنی کھوئی ہوئی میراث (Legacy) سے نہ جڑ سکی تو اس کا احیا بہت مشکل ہو جائے گا….

میں نے کئی بار ان کی موجودگی اور غیر موجودگی میں کہا کہ کاش کہ انکل حیدر جیسے شائستہ، پڑھے لکھے، نظریاتی لوگ پارلیمنٹ اور سینیٹ تک پہنچیں تو شاید کچھ حبس کم ہو شاید کچھ روشنی آئے لیکن ہماری کسی بھی پولیٹیکل پارٹی کا یہ ایجنڈا نہیں ہے انہیں حلقے کے سیاست دان چاہئیں جن کے قابو میں ایس ایچ اوز ہوں، جن کے نام پر بھتے وصول کیے جا سکیں، جو بلاول اور مریم کے جلسوں کو کرائے کے لوگوں سے بھر سکیں، جو پارٹی فنڈ میں کروڑوں جمع کرا سکیں، جن کے اپنے بحریہ ٹاؤنز ہوں، جو اسٹیبلشمنٹ سے تانا بانا بُن سکیں، جو طالبان سے جلسے میں دھماکا نہ کرنے کی گارنٹی دلا سکیں، جو ہارس ٹریڈنگ کر سکیں، جن کو ووٹ سے زیادہ امپائرز کی حمایت کی فکر ہو اور یقیناً ان کاموں کے لیے انکل حیدر جیسے لوگ ناکارہ ہیں…

میں آج انکل حیدر کا پرسہ ہر اس شخص کو دینا چاہتا ہوں کہ جس نے کبھی آزادی کا خواب دیکھا تھا، جس نے جمہوریت کو ایک لمحے کے لیے بھی ایک شاندار نظام کے طور پر سوچا تھا، ہر اُس شخص کو کہ جس کے نز دیک سیاست ایک معتبر کام ہے، ہر اس شخص کو کہ جو لوگوں کو ان کی معاشرتی حیثیت سے بالاتر ہو کر دیکھتا ہے، جو جمہوریت کے حق میں اور آمریت کے خلاف جدوجہد کرتا ہے، جو مزدوروں، محنت کشوں اور مظلوموں کا حامی ہے، انکل حیدر کی تعزیت ہر شخص کو کہ جس کے لیے اس کے نظریات اس کے مفادات سے زیادہ اہم ہیں….

میں اس بات پر اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں کہ اس نے انکل کو ہمارے اس فیسٹیول کے لیے کسی سے پیسوں کی درخواست کرنے سے بچا لیا کیونکہ یہاں نظریات کے لیے پیسوں کی بات کرنے والے کو جو جوابات دیے جاتے ہیں اگر وہی جوابات میری موجودگی میں کوئی فیکٹری مالک کہ جو چھ جماعتیں پاس نہ کر سکا ہو، جو کل تک سبزی منڈی میں گنے کا آڑھتی تھا اور آج ٹیکس اور بجلی چوری کر کے شوگر مل کا مالک بن گیا ہو، جس کے چار چار ریٹائرڈ جنرل کرنل ملازم اس لیے ہوں کہ اس کا کاروبار محفوظ رہے، جو مجرے پر لاکھوں روپے خرچ کرتے فخر سے تن جاتا ہے، جس نے فلم بنانے پر کروڑوں روپے اس لیے خرچ کئے کہ اس نے ہیروئین کے ساتھ ٹائم گزارنا تھا، انکل حیدر کو ویسا جواب دیتا جو میں نے کئی بار سنا تو شاید میں ساری زندگی اُس ملال سے نہ نکل پاتا….

میں اللہ سے دعا کرتا ہوں کہ وہ انکل حیدر عباس گردیزی جیسے لوگ پیدا کرتا رہے تا کہ مجھ ایسے راستہ تلاش کرتے رہیں…

ہم انکل کا جنازہ نہ پڑھ سکے، ان کا آخری دیدار نہ کر سکے اس کا افسوس سار عمر ساتھ رہے گا بات انکل کے دوست محسن نقوی کے شعر پر ختم کر رہا ہوں

تیرا ماتم اسی چپ چاپ فضا میں ہو گا

تیرا نوحہ انہی گلیوں کی ہوا لکھے گی

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •