تشدد بھارتی معاشرے کا حصہ بن چکا: اوباما کا اپنی نئی کتاب میں تبصرہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

امریکہ کے سابق صدر براک اوباما کی کتاب 17 نومبر کو شائع ہوئی ہے۔

امریکہ کے سابق صدر براک اوباما کی یادداشتوں پر مشتمل کتاب ‘دی پرومسڈ لینڈ’ کے بعض اقتباسات دہلی کے سیاسی و صحافتی حلقوں میں موضوعِ بحث ہیں۔

براک اوباما کی 17 نومبر کو شائع ہونے والی کتاب میں بھارت کی سیاست اور بھارتی سیاست دانوں بالخصوص سابق وزیرِ اعظم ڈاکٹر من موہن سنگھ، کانگریس صدر سونیا گاندھی اور سابق کانگریس صدر راہول گاندھی کے بارے میں جن خیالات کا اظہار کیا گیا ہے وہ ان دنوں میڈیا میں خبروں کی زینت ہیں۔

قابل ذکر یہ کہ انہوں نے اپنی کتاب میں راہول گاندھی کے بارے میں تو لکھا ہے لیکن موجودہ وزیرِ اعظم نریندر مودی کے بارے میں ایک لفظ بھی موجود نہیں۔

سابق امریکی صدر نے جب پہلی بار نومبر 2010 میں بھارت کا دورہ کیا تو اُس وقت کانگریس کی قیادت والے محاذ یونائیٹڈ پروگریسیو الائنس (یو پی اے) کی مرکز میں حکومت تھی اور بھارتیہ جنتا پارٹی اصل اپوزیشن جماعت تھی۔ نریندر مودی اُس وقت گجرات کے وزیر اعلیٰ تھے۔

گجرات کے 2002 کے فرقہ وارانہ فسادات کی وجہ سے امریکہ نے نریندر مودی پر امریکہ آنے پر پابندی لگا دی تھی۔ یہ پابندی اُس وقت اٹھائی گئی جب 2014 میں وہ ملک کے وزیرِ اعظم منتخب ہوئے۔

براک اوباما کی کتاب ان کی یادداشتوں پر مشتمل ہے جس میں انہوں نے بھارت اور پاکستان سمیت مختلف امور کا ذکر کیا ہے۔
براک اوباما کی کتاب ان کی یادداشتوں پر مشتمل ہے جس میں انہوں نے بھارت اور پاکستان سمیت مختلف امور کا ذکر کیا ہے۔

اوباما نے دوسری بار 2015 میں بھارت کا دورہ کیا تو اُس وقت بھارتیہ جنتا پارٹی برسرِ اقتدار تھی اور نریندر مودی ملک کے وزیرِ اعظم تھے۔ اس دورے میں انہوں نے جاتے جاتے اپنے آخری خطاب میں بھارت میں مذہبی آزادی کا ذکر کیا کرتے ہوئے کہا تھا کہ بھارت کے دستور کی دفعہ 25 کے مطابق ہر شخص کو اپنے مذہب پر چلنے کی آزادی ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اس وقت تک ملک میں مذہبی جنون کافی بڑھ گیا تھا اور مذہب کی بنیاد پر ہجوم کے ہاتھوں مسلمانوں کی ہلاکت کے واقعات ہونے لگے تھے۔

میڈیا میں شائع ہونے والے اوباما کی کتاب کے اقتباسات سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اوباما بھارت کے سابق وزیرِ اعظم ڈاکٹر من موہن سنگھ سے کافی متاثر ہیں۔ جب من موہن سنگھ برسرِاقتدار تھے تو ایک بار اوباما نے ان کی تعریف کرتے ہوئے کہا تھا کہ “جب من موہن سنگھ بولتے ہیں تو دنیا سنتی ہے۔”

اس کتاب میں انہوں نے 2008 میں ممبئی پر ہونے والے حملوں کا ذکر کیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ “ممبئی حملے کے بعد پاکستان کے خلاف کارروائی کے مطالبات پر انھوں نے بڑے تحمل سے کام لیا تھا۔ لیکن اس کی انہیں سیاسی قیمت چکانی پڑی۔”

خیال رہے کہ اس حملے میں 166 افراد ہلاک ہوئے تھے جن میں کئی امریکی باشندے بھی تھے۔

اپنی کتاب میں اوباما لکھتے ہیں کہ ڈاکٹر منموہن سنگھ نے ان سے کہا تھا کہ ”جناب صدر! غیر یقینی کے اس ماحول میں مذہبی اور ذات برادری کے اتحاد کی اپیل عوام کو بہکا سکتی ہے۔ ایسے میں سیاست دانوں کے لیے اس صورتِ حال کا استحصال زیادہ مشکل نہیں ہوتا۔ خواہ وہ بھارت میں ہو یا کہیں اور ہو“۔ اس سے براک اوباما نے اتفاق کیا تھا۔

اوباما کے مطابق من موہن سنگھ کو اندیشہ تھا کہ اگر وہ پاکستان کے خلاف کارروائی کریں گے تو اس سے مسلمانوں کے خلاف ایک ماحول پیدا ہوگا اور (ہندوتوا کی سیاست کرنے والی) بھارتیہ جنتا پارٹی کو اس کا فائدہ پہنچے گا۔

اوباما نے لکھا ہے کہ من موہن سنگھ جوہری ہتھیاروں سے لیس ہمسایہ ملک پاکستان کے ساتھ جاری مسلسل کشیدگی سے متعلق بھی بہت فکر مند تھے۔

سابق امریکی صدر کے مطابق “اس وقت پاکستان کے ساتھ بھی مسائل تھے۔ سال 2008 میں ممبئی کے دو ہوٹلوں اور دوسرے مقامات پر ہونے والے حملوں کی بھارت کے ساتھ مل کر تحقیقات کرنے میں وہ مسلسل ناکام ثابت ہو رہا تھا۔ اس سے دونوں ملکوں میں قابلِ ذکر انداز میں کشیدگی بڑھ رہی تھی۔ کیوں کہ ایسا سمجھا جاتا تھا کہ حملے کے لیے ذمہ دار دہشت گرد تنظیم لشکر طیبہ کے پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی سے تعلقات ہیں۔”

اوباما نے من موہن سنگھ کی تعریف کرتے ہوئے لکھا کہ وہ ایک شریف ٹیکنوکریٹ ہیں جنھوں نے نہ صرف عوام کے جذبات کو عملی شکل دیتے ہوئے ان کا اعتماد حاصل کیا بلکہ ان کے معیارِ زندگی کو بلند کیا اور اس دوران بد عنوان نہ ہونے کے اپنے امیج کو بھی برقرار رکھا۔

اوباما کے مطابق خارجہ پالیسی کے سلسلے میں من موہن سنگھ بہت محتاط تھے۔ تاریخی طور پر امریکی ارادوں کو شبہے کی نظر سے دیکھنے والی بھارتی نوکر شاہی کی سوچ سے وہ بہت آگے نہیں جانا چاہتے تھے۔ ہم نے جو وقت ایک ساتھ گزارا اس نے ان کے بارے میں میری اس ابتدائی رائے کو مضبوط کیا کہ وہ ایک غیر معمولی طور پر قابل اور مہذب انسان ہیں۔

براک اوباما نے کانگریس صدر سونیا گاندھی کو ایک 60 سال کی پرکشش خاتون قرار دیا ہے۔ انہوں نے لکھا ہے کہ ملاقات کے وقت وہ روایتی ساڑھی پہنے ہوئے تھیں۔ ان کی آنکھیں سیاہ تھیں اور ان کا ایک شاہانہ انداز تھا۔

اوبامہ لکھتے ہیں کہ یہ یورپی نژاد خاتون پہلے ماں کی ذمہ داری نبھاتے ہوئے گھر کی چار دیواری تک محدود تھیں۔ لیکن 1991 میں سری لنکا کے خودکش حملہ آور کے ہاتھوں اپنے شوہر کی ہلاکت کے بعد وہ اپنے ذاتی غموں سے اوپر اٹھ کر خاندان کی سیاسی وراثت کو سنبھالتے ہوئے قومی سطح پر ایک اہم سیات دان کی حیثیت سسے ابھریں۔

یاد رہے کہ 1991 میں تمل ناڈو کے سری پیرومبدور میں ایک عوامی جلسے کے دوران خودکش حملے میں ان کے شوہر اور سابق وزیرِ اعظم راجیو گاندھی ہلاک ہوگئے تھے۔

اوباما نے اپنی کتاب میں لکھا کہ ڈنر کے وقت سونیا گاندھی بول کم اور سن زیادہ رہی تھیں۔ پالیسی امور کو وہ احتیاط کے ساتھ من موہن سنگھ کی جانب موڑ دیتی تھیں۔ البتہ باتوں کا رخ اپنے بیٹے کی طرف موڑنے کی بھی کوشش کرتیں۔

اُن کے بقول، “بہت سے مبصرین کا خیال ہے کہ سونیا گاندھی نے وزیرِ اعظم کے منصب کے لیے من موہن سنگھ کا انتخاب اس لیے کیا تھا کہ ایک معمر سکھ جس کی کوئی قومی سیاسی بنیاد نہ ہو ان کے 40 سالہ بیٹے راہول گاندھی کے لیے کوئی خطرہ نہیں تھے جن کو وہ کانگریس پارٹی کا صدر بننے کے لیے تیار کر رہی تھیں۔”

راہول گاندھی کے بارے میں اوباما نے کتاب میں جو کچھ لکھا ہے اس سے بی جے پی کے رہنماؤں کو ان پر طنز کرنے کا ایک موقع مل گیا ہے۔

اوباما کے مطابق راہول گاندھی ایک نروس اور غیر منظم خوبیوں والے لگے۔ جیسے کہ وہ ایک ایسے طالب علم ہوں جس نے اپنا کام مکمل کر لیا ہے اور وہ اپنے استاد کو متاثر کرنا چاہ رہا ہے۔ لیکن اندرونی طور پر یا تو اس کے اندر اپنے موضوع کی صلاحیت نہیں ہے یا اس میں کام کرنے کا جنون نہیں ہے۔

تاہم انہوں نے راہول کو ایک اسمارٹ اور پرجوش شخص قرار دیا ہے جس کے نین نقش اپنی والدہ سے ملتے ہیں۔

بھارت کے بارے میں بحیثیت ایک ملک براک اوباما لکھتے ہیں کہ وہ ایک کامیاب ملک ہے جو کئی قسم کی حکومتیں بدلنے، سیاسی پارٹیوں کے درمیان تیکھے مباحثوں، کئی علیحدگی پسند تحریکوں اور ہر قسم کی بدعنوانیوں کو دیکھ چکا ہے۔

بھارت میں اونچ نیچ کا رجحان اپنی انتہا کو پہنچا ہوا ہے اور تشدد بھارتی معاشرے کا ایک حصہ بن چکا ہے: اوباما

لیکن ان کے خیال میں بھارت اب بھی گاندھی کے خوابوں والے ایک مساوات پسند، پر امن اور خیر سگالی جذبات رکھنے والے معاشرے کے امیج سے مماثلت نہیں رکھتا۔ اُن کے بقول بھارت میں اونچ نیچ کا رجحان انتہا کو پہنچا ہوا ہے اور تشدد بھارتی معاشرے کا ایک حصہ بن چکا ہے۔

اوبامہ لکھتے ہیں کہ نومبر کی اس شام کو من موہن سنگھ کی رہائش سے نکلتے وقت وہ سوچ رہے تھے کہ جب 78 سال کے وزیرِ اعظم اپنی ذمہ داری سے الگ ہوں گے تو کیا ہوگا۔ کیا یہ (اقتدار کی) مشعل کامیابی کے ساتھ راہول گاندھی تک پہنچ پائے گی۔ ان کی ماں نے جو سوچ رکھا ہے کیا وہ پورا ہوگا اور بی جے پی نے جو تقسیم کرنے والی قوم پرستی پیش کی ہے اسے شکست دیتے ہوئے کانگریس کا دبدبہ قائم رہے گا۔

“جانے کیوں مجھے شبہ تھا کہ یہ مسٹر سنگھ کی غلطی نہیں تھی۔ انہوں نے اپنا کردار ادا کیا اور وہ سرد جنگ کے بعد تمام روادار ملکوں کے راستے پر چلے۔ انہوں نے آئینی نظام کو قائم رکھا، مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کو بڑھایا اور سماجی تحفظ کا دائرہ وسیع کیا۔”

اوباما نے مزید لکھا کہ “تشدد، لالچ، بدعنوانی، کرپشن، قوم پرستی اور عدم رواداری جیسی باتوں کو پس پشت ڈالتے ہوئے دوسروں کو کمتر ٹھیرانے کی فضول سی کوشش جیسے متعدد عناصر اتنے مضبوط ہیں کہ کسی بھی جمہوریت کے لیے ان پر پابندی لگانا ممکن نہیں ہے۔”

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اوباما کے سوالات کا جواب 2014 میں اس وقت ملا جب ہندو قوم پرستی والی جماعت بی جے پی کو انتخابات میں اکثریت حاصل ہوئی۔

اوباما کی یہ کتاب 2011 میں اسامہ بن لادن کی موت کے ساتھ ختم ہو جاتی ہے۔ مبصرین کا خیال ہے کہ یہ اوبامہ کی یادداشتوں کا پہلا حصہ ہے۔ جب اس کا دوسرا حصہ شائع ہو گا تب ممکن ہے کہ اس میں نریندر مودی کا ذکر بھی ہو۔

بہر حال اوبامہ نے راہول گاندھی کے بارے میں جو کچھ لکھا ہے اس پر بی جے پی کے کئی رہنماوں نے ان کی چٹکی لی ہے اور ان پر طنز بھی کیا ہے۔

بی جے پی کے ترجمان سمبت پاترا کا کہنا ہے کہ راہول گاندھی خود اپنی پارٹی کو ختم کرنے کے ذمہ دار ہیں۔

بی جے پی رہنما ٹام وڈکم نے جو کہ چند سال قبل تک کانگریس میں تھے اور اس کے میڈیا سیل کے انچارج تھے، اوبامہ کے بیان کی روشنی میں راہول گاندھی پر طنز کیا۔

بی جے پی ایم پی میناکشی لیکھی نے کہا ہے کہ سیاست کوئی ایسی چیز نہیں کہ چمچے سے دودھ پلا کر کامیاب کروایا جا سکے۔ ان کے بقول راہول گاندھی کو سیاست میں ترقی کرنے کے تمام مواقع اور وسائل ملے لیکن سیاست میں آگے بڑھنے کے لیے ذاتی صلاحیت بھی ہونی چاہیے۔

کانگریس کے قومی ترجمان رندیپ سنگھ سرجے والا کا کہنا ہے کہ وہ کسی انفرادی شخص کی رائے پر کوئی تبصرہ کرنا نہیں چاہتے۔ البتہ کانگریس کے کچھ لوٹے رہنماؤں نے راہول گاندھی پر تبصرے کی وجہ سے براک اوباما پر تنقید کی ہے۔

سینئر کانگریس رہنما ششی تھرور نے ٹوئٹ کر کے کہا ہے کہ انہیں اوبامہ کی کتاب کی ایڈوانس کاپی ملی ہے۔ بڑی خبر یہ ہے کہ 902 صفحات کی اس کتاب میں نریندر مودی کا نام تک نہیں ہے۔

یاد رہے کہ سابق امریکی صدر نے اپنی کتاب میں 1400 الفاظ نومبر 2010 کے اپنے بھارت کے دورے سے متعلق وقف کیے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وائس آف امریکہ

”ہم سب“ اور ”وائس آف امریکہ“ کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے مطابق ”وائس آف امریکہ“ کی خبریں اور مضامین ”ہم سب“ پر شائع کیے جاتے ہیں۔

voa has 396 posts and counting.See all posts by voa