ماہر نفسیات سالیوان اور انسانی رشتوں کی نفسیات انسانی نفسیات کے راز۔ قسط نمبر 4

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

انسانی نفسیات کے رازوں کی اس سیریز کی پہلی دو قسطوں میں ہم نے سگمنڈ فرائڈ کے نظریات اور تیسری قسط میں کارل ینگ کے خیالات کا جائزہ لیا۔ ان دونوں ماہرین نفسیات کے خیالات میں قدرے اختلاف کے باوجود یہ قدر مشترک تھی کہ ان کا موقف تھا کہ انسان کے نفسیاتی مسائل اس کے شعور اور لاشعور کے تضادات سے جنم لیتے ہیں۔ فرائڈ کا زیادہ جھکاؤ جنسیات کی طرف اور ینگ کا زیادہ جھکاؤ روحانیات کی طرف تھا لیکن ان دونوں دانشوروں نے انسانی نفسیات کے جدید علم کی ایسی پختہ اور دیرپا بنیادیں رکھیں کہ ان پر ماہرین نفسیات کی آنے والی نسلوں نے بلند و بالا عمارتیں تعمیری کیں۔ ان ماہرین میں سے ایک ماہر نفسیات جن کے خیالات پر آج ہم اپنی توجہ مرکوز کریں گے ان کا نام ہیری سٹاک سالیوان ہے۔

HARRY STACK SULLIVANایک امریکی ماہر نفسیات تھے جو 1892 میں نیویارک میں پیداہوئے اور 1949 میں فوت ہوئے۔ سالیوان کی تعلیمات کی وجہ سے نفسیات کے علم کے مراکز یورپ کے ساتھ ساتھ امریکہ میں بھی بننے شروع ہوئے۔

سالیوان انسانی نفسیات کے جس مکتبہ فکر کے بانی تھے وہ INTERPERSONAL SCHOOL OF HUMAN PSYCHOLOGY

کہلاتا ہے۔ سالیوان کاموقف تھا کہ جب ایک انسان کسی دوسرے انسان کے ساتھ تضاد محسوس کرتا ہے اور سمجھتا کہ اس کا کوئی عزیز یا رشتہ دار ’ہمسایہ یا رفیق کار‘ دوست یا اجنبی ’اس سے نفرت یا تعصب سے پیش آتا ہے تو وہ ذہنی طور پر پریشان ہو جاتا ہے اور اینزائٹی محسوس کرتا ہے۔ سالیوان کا کہنا تھا کہ کوئی انسان ذہنی طور پر اتنا ہی صحتمند ہے جتنے اس کے انسانی رشتے۔

سالیوان ذہنی صحت میں انسان کی خود اعتمادی اور self esteem کو بہت اہمیت دیتے تھے۔ انہوں نے انسان کی خود اعتمادی کے بارے میں ایک نظریہ پیش کیا تھا۔ میں ان کے پیچیدہ اور گنجلک نظریے کو عام فہم زبان میں پیش کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔ ان کا کہنا تھا کہ انسان کا اپنی ذات۔ اپنی میں۔ کے بارے میں تصور دو حصوں پر مشتمل ہوتا ہے۔

GOOD MEاچھا میں
BAD MEبرا میں

سالیوان کا موقف تھا کہ جب والدین اور اساتذہ اپنے بچے پر محبت نچھاور کرتے ہیں ’پیار سے تعریف کرتے ہیں اور اسے کہتے ہیں

تم ذہین ہو
تم خوبصورت ہو
تم ہوشیار ہو

تو ان جملوں کو بار بار سننے اور ماں باپ اور اساتذہ کا پیار جذب کرنے کے بعد بچہ ماں باپ اور اساتذہ کی رائے کو لاشعوری طور پر تسلیم کر لیتا ہے اور اپنے آپ سے کہنے اور سمجھنے لگتا ہے

میں ذہین ہوں
میں خوبصورت ہوں
میں ہوشیار ہوں
اس طرح اس بچے کا گڈ می۔ اچھا میں۔ بنتا ہے۔

اس بچے کے مقابلے میں وہ بچہ جس کے والدین اور اساتذہ کی شخصیت میں غصہ نفرت اور تلخی بھرے ہوتے ہیں ’جو زندگی سے نالاں اور ناراض ہوتے ہیں‘ وہ اپنے بچے کو بات بات پر سرزنش کرتے ہیں ’جھڑکیاں دیتے ہیں اور کہتے ہیں

تم بے وقوف ہو
تم بدصورت ہو
تم سست اور کاہل ہے

تو کچھ عرصے کے بعد وہ بچہ لاشعوری طور پر بزرگوں کے جملے نفسیاتی طور پر ہضم کر لیتا ہے اور اپنی ذات کے بارے میں سوچنے اور سمجھنے لگتا ہے کہ

میں بے وقوف ہوں
میں بدصورت ہوں
میں کاہل اور سست ہوں۔
اس طرح اس بچے کا برا میں۔ بیڈ می۔ بنتا ہے۔
ذہنی طور پر صحتمند انسان میں۔ اچھا میں۔ برا میں۔ سے (گڈ می بیڈ می سے ) بڑا ہوتا ہے۔
ذہنی طور پر غیر صحتمند انسان میں۔ برا میں۔ اچھا میں۔ سے (بیڈ می گڈ می سے ) بڑا ہوتا ہے۔

یہاں میں اس بات کی وضاحت کرتا چلوں کہ مغرب میں اپنی ذات کو پسند کرنا اچھا سمجھا جاتا ہے اور لوگ سوچتے ہیں کہ اگر میں اپنے آپ کو پسند نہیں کروں گا تو دوسرے مجھے کیسے پسند کریں گے۔ اس لیے مغرب کے سکولوں میں بچوں کو اپنے آپ پسند کرنا سکھایا جاتا ہے تا کہ ان کی خود اعتمادی بڑھے اور وہ احساس کمتری کا شکار نہ ہوں۔

مشرق میں بدقسمتی سے عاجزی اور انکساری پر اتنا زور دیا جاتا ہے کہ بہت سے روایتی انسان اپنی ذات کو پسند کرنے کو بڑی ایگو ’انا پرستی اور نرگسیت سے جوڑ دیتے ہیں۔ اس موقع پر مجھے ایک مزاحیہ واقعہ یاد آ رہا ہے۔

ایک محفل میں ایک دانشور ہمیشہ گفتگو کرنے سے پہلے کہا کرتے تھے۔ میری ناقص رائے میں۔ ۔ ۔
ایک دن ایک مزاحیہ نوجوان نے اس بزرگ سے کہا
’حضور! اب آپ اپنی ناقص رائے پیش کریں‘

میرا ایک شعر ہے
؎ میں ایسے شہر میں رہتا ہوں سب بیزار ہیں خود سے
میں اپنے آپ کو چاہوں تو لوگوں کو گراں گزرے

میں اب تک نجانے کتنے مشرقی مردوں اور عورتوں سے مل چکا ہوں جو خاندان اور سکول کے منفی رویوں سے آج تک احساس کمتری کا شکار ہیں۔

میں ایسے بہت سے لوگوں سے بھی ملا ہوں جو مثبت خود اعتمادی اور منفی نرگسیت میں فرق نہیں کر پاتے۔ وہ نہیں جانتے کہ مثبت خود اعتمادی رکھنے والے انسان اپنی ذات ’اپنے مخلص دوستوں اور اپنے آدرشوں پر فخر کرتے ہیں۔ وہ دوسروں کا بھی اسی طرح احترام کرتے ہیں جس طرح وہ چاہتے ہیں کہ دوسرے ان کا احترام کریں۔ ان کے مقابلے میں منفی نرگسیت کا شکار انسان اپنے آپ کو بڑا ثابت کرنے کے لیے دوسروں کو چھوٹا ثابت کرنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں اور ناکام رہتے ہیں۔

سالیوان نے پاگل پن ’دیوانگی اور psychosis کا جو نظریہ پیش کیا اس کا تعلق بھی اپنی ذات کے تصور اور خود اعتمادی سے جڑا ہوا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب۔ بیڈ می۔ گڈ می۔ سے بڑھنے لگتاہے تو انسان نفسیاتی مسائل کا شکار ہونے لگتا ہے اور اگر وہ ایک حد سے زیادہ ہو جائے تو بیڈ می۔ کا ایک حصہ ذات سے کٹ کر۔ NOT ME۔ کا حصہ بن جاتا ہے اور اس شخص کو غیبی آوازیں آنے لگتی ہیں جو نفسیات کی زبان میں HALLUCINATIONSکہلاتی ہیں۔ بجائے یہ سوچنے کے۔ میں ایک برا انسان ہوں۔ اس شخص کو کسی دشمن یا شیطان کی غیبی آواز آتی ہے جو اسے کہتا ہے۔ تم برے انسان ہو۔

فرائڈ صرف اینزائٹی کے مریضوں کا علاج کرتے تھے۔ سالیوان نے فرائڈ کے نظریات کو چند قدم آگے بڑھایا اور سکزوفرینیا کے مریضوں کا بھی علاج کیا۔

سالیوان اپنے مریضوں کے علاج کے دوران ان کی خود اعتمادی کو بڑھاوا دینے کی پوری کوشش کرتے تھے۔

سالیوان نے نیویارک میں ایک مکان کرائے پر لے رکھا تھا۔ وہ اپنے مریضوں کو ہسپتال بھیجنے کی بجائے اس گھر میں داخل کرلیتے تھے جسے انہوں نے اپنا کلینک بنا رکھا تھا۔ وہ اپنے عملے میں نرسوں کے ساتھ ان مریضوں کو بھی ملازم رکھتے تھے جو اپنی بیماری سے شفایاب ہو چکے تھے۔

فرائڈ کا موقف تھا کہ انسان کی بنیادی نفسیاتی ضرورت تسکین ہے وہ PLEASURE PRINCIPLEپر عمل کرتا ہے۔

سالیوان کا موقف تھا کہ انسان کی دو بنیادی نفسیاتی ضروریات ہیں۔ تسکین اور تحفظ۔ SATISFACTION AND SECURITY

سالیوان کاکہنا تھا کہ ہر انسان کو ایسے رشتوں کی نفسیاتی ضرورت ہے جن میں وہ محفوظ محسوس کرے۔ میں اپنے دوستوں سے کہتا ہوں کہ انسان پیدا ہونے سے پہلے۔ میں۔ بننے سے پہلے۔ رحم مادر میں ماں اور بچے کے رشتے۔ ایک۔ ہم۔ کا حصہ ہوتا ہے اور ساری عمر انسانی رشتوں سے جڑا ہوتا ہے۔

سالیوان نے خصوصی تعلق کا نظریہ پیش کیا جو اب مغرب میں SIGNIFICANT OTHERکے نام سے جانا جاتا ہے۔ ان کا خیال تھا کہ انسان اتنا ہی ذہنی طور پر صحتمند ہوگا جتنا اس کے خصوصی رشتے۔ بعض دفعہ دل اور ذہن کے رشتے۔ خون کے رشتوں سے زیادہ اہم ہو جاتے ہی۔ میں ایسے رشتوں کو فیمیلی آف دی ہارٹ کا نام دیتا ہوں۔

سالیوان انسانی رشتوں اور تعلقات کو اتنی اہمیت دیتے تھے کہ وہ اپنے مریضوں کے علاج میں ان کی مدد کرتے تھے کہ وہ اپنی زندگی میں اپنے دوستوں اور رشتہ داروں ’ہمسایوں اور رفقا کار سے صحتمند رشتے قائم کریں اور پر خلوص دوستیاں کریں۔

سالیوان ماہرین نفسیات کو بھی مشورہ دیتے تھے کہ وہ اس بات کا خیال رکھیں کہ ان کے مریض ان کا احترام کریں اور ان پر اعمتاد کریں تا کہ وہ علاج سے صحتیاب ہوں۔ وہ تھراپسٹ سے کہتے تھے کہ وہ مریضوں کی خود اعتمادی میں بڑھاوا دیں۔

سالیوان کا خیال تھا کہ انسانوں کے لیے دوسرے انسانوں سے جڑے رہنا اتنا اہم ہے کہ بعض دفعہ وہ اکیلے رہنے کی بجائے ایسے رشتوں میں برس ہا برس گزار دیتے ہیں جو تکلیف دہ اور نفسیاتی مسائل کا شکار ہوتے ہیں کیونکہ وہ احساس تنہائی سے بچنا چاہتے ہیں ان کے لیے

A BAD RELATIONSHIP IS BETTER THAN NO RELATIONSHIP

اسی لیے سالیوان اپنے مریضوں کی مدد کرتے تھے کہ وہ غیر صحتمند رشتوں کو الوادع کہیں اور از سر نو صحتمند رشتے بنائیں تا کہ ذہنی اور جذباتی طور پر صحتمند زندگی گزار سکیں۔

فرائڈ انسانی نفسیات میں اینزائٹی کو سب بڑا مسئلہ سمجھتے تھے جبکہ سالیوان احساس تنہائی اور LONELINESSکو انسانی نفسیات کا سب سے بڑا مسئلہ سمجھتے تھے۔

نوٹ: انسانی نفسیات کے رازوں کی اگلی پانچویں قسط ماہر نفسیات MURRAY BOWEN اور خاندانی نظام کی نفسیات کے بارے میں ہوگی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ڈاکٹر خالد سہیل

ڈاکٹر خالد سہیل ایک ماہر نفسیات ہیں۔ وہ کینیڈا میں مقیم ہیں۔ ان کے مضمون میں کسی مریض کا کیس بیان کرنے سے پہلے نام تبدیل کیا جاتا ہے، اور مریض سے تحریری اجازت لی جاتی ہے۔

dr-khalid-sohail has 394 posts and counting.See all posts by dr-khalid-sohail