نک میرا ”ہیرو“ کیو ں ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

نک سے اپنے بھرپور عشق کے اظہار میں مجھے قطعاً کوئی عار نہیں۔ وہ میرا ہیرو ہے اور میرے دل کے بہت نزدیک اگر اس کی خاموش شریر مسکراہٹ میرا جی موہ لیتی ہے تو ہزاروں کا مجمع دم سادھے اس کی سنجیدہ متاثر کن گفتگو کا ایک ایک لفظ سنتا ہے۔ اور ہاں اکثر تو نک میری ملازمت کے اوقات میں میرے منشیات کے عادی کلائنٹ کی تھراپی کے دوران کمپیوٹر کے اسکرین پہ بھی موجود ہوتا ہے۔ عسرت اور محرومیوں کے شکار، کامیاب زندگی کی لذتوں سے محروم و مایوس، نشہ کی گود میں پناہ ڈھونڈتے میرے کلائنٹس کے درمیان۔

جن میں سے اکثر باوجود امریکہ میں ہمیشہ سے رہتے ہوئے نک کے کام سے تو کجا نام سے بھی واقف نہیں ہیں۔ میرے کلائنٹس نشہ سے دور رہ کر کامیاب زندگی گزارنا تو چاہتے ہیں مگر ان کے پاس مجھے سنانے کو اپنی مجبوریوں اور محرومیوں کی ایک لمبی فہرست بھی ہوتی ہے۔ تب میرا ہیرو میرے سامنے آ جاتا ہے۔ ہنستا مسکراتا فتح مندی کی قلانچیں بھرتا۔

اس کی وڈیو لگانے سے پہلے میں اپنے کلائنٹس سے کہتی ہوں ”چلو آؤ میں تمہیں نک سے ملواؤں۔ اس کے پاس کامیاب زندگی بسر کرنے کا طاقتور اور متاثر کن فلسفہ ہے اور جو کہتا ہے کہ“ ناممکن کو ممکن بنا دو ”۔ پھر میں یو ٹیوب کے سرچ انجن پہ ٹائپ کرتی ہوں۔

Nicholas James Vujicic without arms and legs

(نکولس جیمز واؤجیچ ود آؤٹ آرم اینڈ لیگز) اور میرے ہیر و کی وڈیو کے سینکڑوں لنکس آ جاتے ہیں۔ وہ جو بازوؤں اور ٹانگوں سے مکمل محروم ہے، کبھی سمندر کی سطح پہ سرفنگ کرتا، تو کبھی وسعتوں سے کود کر اسکوبا ڈائیونگ کرتا ہے، اور کبھی سوئمنگ پول میں اونچائی سے کود کر مچھلی کی سی پھرتی سے پیراکی کرتا گہرے پانیوں کی خبر لاتا، گالف کھیلتا، پیانو بجاتا، کبھی اپنے آفس کے کمرے میں کمپیوٹرپہ 45 الفاظ فی منٹ سے ٹائپ کرتا، اپنے خوبصورت بچوں کے ساتھ کھیلتا تو کبھی اپنی حسین بیوی اور زندگی کی ساتھی کے ساتھ ملکوں ملکوں کے دورے پہ کہ جہاں وہ بطور موٹویشنل اسپیکر وہ اب تک لاکھوں افراد کی زندگیوں کو اپنے حوصلہ اور ثابت قدمی سے متاثر کر چکا ہے۔ جب تک لوگوں کو ہمت اور امداد کی ضرورت ہو گی، نک کے نامکمل جسم کا کام مکمل نہیں ہوگا۔

نک یعنی نکولس جیمز واؤجیچ آسٹریلیا کے شہر ملبورن میں 4 دسمبر 1982ء میں ڈوسکا اور ڈیشکا واؤجیچ کے گھر پیدا ہوا۔ اس کا باپ مسیحی پادری اور ماں ایک نرس تھی۔ جس نے ہسپتال میں کئی بچوں کی نگہداشت کی تھی اور یقیناً باپ نے بطور مذہبی پیشوا بہت سوں کو ہمت کا سبق دیا ہوگا۔ لیکن نک کی پیدائش کی صبح باپ نے جب اولاد کو دیکھا تو وہ سناٹے میں آ کے تقریباً بے ہوش ہو گیا۔ ہسپتال سے گھر آ کے اس کے والدین نے الٹی کی۔ جبکہ ماں نے صدمے کے مارے چار ماہ تک اسے دیکھنے اور گود میں لینے تک سے انکار کیا۔ ان کا بیٹا جس عارضہ میں مبتلا تھا اس کا نام ٹٹیرا امیلیا سنڈروم Tetra Amelia Syndrome ہے جس کے ہونے کی شرح اکہتر ہزار حمل میں سے صرف ایک ہے۔ نک کی طرح ایسے عارضہ کا شکار بچے بغیر بازوؤں اور ٹانگوں کے پیدا ہوتے ہیں۔

نک کے جسم پہ ٹانگوں کے بجائے مختصر پاؤں نما تھے جن میں دو جڑی انگلیاں تھیں، جنہیں ڈاکٹر نے آپریشن کر کے جدا کر دیا تاکہ وہ ان سے چیزیں پکڑنے اور اپنی زندگی کے کام خود انجام دینے کے قابل ہو سکے۔ نک اپنی ان کارآمد انگلیوں کو مذاق سے ”چکن ڈرم اسٹک“ کہتا ہے جن کی مدد سے اسے کنگھی کرنے، برش کرنے، شیو کرنے، فون اٹھانے، لکھنے، مصوری کرنے، الیکٹرک وہیل چئیر اور کمپیوٹر چلانے کے علاوہ بال سے کھیلنے، پیانو بجانے اور ڈرم بجانے میں مدد ملتی ہے۔

اس شاذ و نادر حالت میں مبتلا نک کے والدین اسے ایک نارمل اسکول میں بھیجنا چاہتے تھے کیونکہ وہ جسمانی معذوری کے باوجود بہت ذہین تھا۔ مگر اس وقت کے قانون کے مطابق اس قسم کی معذوری میں مبتلا بچوں کے لیے نارمل اسکولوں میں گنجائش نہ تھی۔ نک وہ پہلا بچہ تھا جس کے لیے یہ قانون بدلا گیا۔ تاہم تمام تر ذہانت اور اہلیت کے باوجود نک کو اپنی معذوری کی وجہ سے اسکول میں تمسخر کا مستقل سامنا تھا۔ جس نے اسے ڈپریشن میں مبتلا کر دیا۔

کبھی وہ منشیات سے اپنے ذہن کو سن کرنے کا سوچتا تو کبھی موت سے ہم آغوش ہونے کا۔ لہٰذا ایک دن نک نے اپنے گھر کے باتھ روم ٹب میں ڈوب کے خودکشی کا فیصلہ کر لیا۔ اس وقت اس کی عمر دس سال تھی۔ لیکن اس موت کے ساتھ جب اس کے تصور میں اپنی قبر پہ روتے ہوئے اپنے والدین اور بھائی کا چہرہ آیا تو اس نے اپنا فیصلہ بدل کر مثبت سوچ اختیار کی۔ اس کی طاقت اس کا خدا اور مذہب پہ کامل ایمان تھا۔

نک خدا سے روزانہ دعائیں مانگتا کہ کسی دن وہ بازو اور ٹانگوں کے ساتھ اٹھے۔ مگر یہ معجزہ کبھی نہ ہوا۔ ہاں البتہ معجزہ تو جب ہوا جب ایک دن اس کی ماں نے صبح اخبار میں اس کی ہی جیسی معذوری میں مبتلا کسی اور آدمی کو دکھایا تو اسے پتہ چلا کہ وہ اکیلا ہی اس حالت میں مبتلا نہیں۔ اب اس نے اپنے ادھورے جسم کے ساتھ بھرپور زندگی جینے کا عزم کر لیا۔ اس نے مستقل مزاجی سے محرومی کو اپنی طاقت بنا لیا۔ اس کی بھر پور حس ظرافت بھی اس کی سب سے بڑی ڈھال ثابت ہوئی۔

سیکنڈری اسکول میں وہ اپنے اسکول کا کیپٹن منتخب ہوا۔ اس نے اسٹوڈنٹ کونسل میں رہتے ہوئے کامیابی سے معذور افراد کے لیے عطیاتی مہم چلائی۔ سترہ سال کے عمر میں اپنے چرچ گروپ کے چھ افراد میں پہلی بار بطور اسپیکر اپنی زندگی کی کہانی اور تجربات بیان کیے۔ اس کا کہنا تھا کہ ”ناممکن کو ممکن بنا دو“ ۔ نک نے اکیس برس کی عمر میں کامرس کی ڈگری ڈبل میجرز مضامین اکاؤنٹنگ اور فانینشل پلاننگ میں گرفتھ یونیورسٹی (آسڑیلیا) سے حاصل کی۔

اس نے اپنی ایک آرگنایزیشن لائف ود آؤٹ لمبس Life Without Limbs کا آغاز سال 2005ء میں کیا۔ نو مارچ سال 2007ء میں اس کے والدین نے آسٹریلیا سے کیلیفورنیا (امریکہ) نقل مکانی کی۔ اور 2007ء میں ہی اس نے ایک سیکیولر موٹوپیشنل اسپیکنگ کمیٹی کا بھی اجرا کیا۔ دنیا میں رفاہی کاموں کی مد میں ایک دفعہ اس نے اپنی عمر بھر کی کمائی یعنی بیس ہزار ڈالرز کا عطیہ غریبوں کی مدد کے لیے دے دیا۔ وہ دنیا کے بے شمار ممالک میں جا کر لوگوں میں زندگی کی تحریک، حوصلہ، امید اور طلبا میں تمسخر (bullying) کے خلاف تقاریر سے لوگوں کو متاثر کرتا ہے۔ آج اس کا شمار دنیا کے سب سے مشہور اسپیکرز میں ہوتا ہے۔ وہ اپنے فلاحی کاموں کی وجہ سے بہت سے ایوارڈز حاصل کر چکا ہے۔

سال 2009ء میں اس کی زندگی پہ فلم The Butterfly Circus بنی جس میں اس نے اداکاری کی اور ایک ادارے کی جانب سے بہترین اداکار کا ایوارڈ بھی حاصل کیا۔ اس کی متاثر کن زندگی پہ دستاویزی فلم بھی بنی۔ سال 2010ء میں اس کی شہرہ آفاق سوانح عمری ”لائف ود آؤٹ لمب“ چھپی جس کا تیس زبانوں میں ترجمہ ہوا ہے۔ جب سے وہ آٹھ کتابیں لکھ چکا ہے۔ تاہم دنیا بھر کو متاثر کرنے کے باوجود اس کو کبھی گمان بھی نہیں تھا کہ کسی دن ایک خوبصورت لڑکی کو متاثر ہی نہیں کرے گا،اس کا دل بھی چرا لے گا۔ جس کی محبت اسے مکمل کردے گی اور پھر وہ چار بہت ہی پیارے، نارمل اور صحتمند بچوں کا باپ بھی بنے گا۔

ہوا یوں کہ سال 2008ء میں نک اپنی تقریر کے لیے ڈیلس گیا جہاں اس کو سننے کے لیے نرسنگ کی طالبہ کنیے Kanae بھی موجود ھی۔ اور پھر ان کے درمیان پہلی میں ہونے والی محبت کا آغاز ہوا۔ سال 2011ء میں اس نے اپنی شادی کا پیغام دیا اور یوں دونوں کی شادی 2012 ء میں ہوئی۔ وہ دونوں آج بھی بھرپور رومانس اور دوستی کی ڈور میں بندھے ہوئے ہیں۔ نک نے اپنی رومانی زندگی کو اپنی کتاب لو ود آؤٹ لمب (Love Without Limb) کو سنہ 2016ء میں چھپوایا۔ ان کا گھرانا لاس اینجلس میں رہتا ہے۔ وہ اپنی نان پرافٹ آرگنائزیشن کا صدر اور سی ای او (CEO) ہے۔

4 دسمبر کو نک کی اڑتیسویں سالگرہ ہے۔ زندگی کے اس مختصر سے عرصے میں اس کی کامیابیوں کی فہرست طویل ہے۔ اس کی وجہ اس کا مثبت انداز فکر ہے۔ اس موقع پہ اس کے چند افکار ملاحظہ ہوں۔

1۔ خطرہ مول لینا زندگی کا حصہ ہی نہیں، زندگی ہے۔
2۔ ہم میں خوف سب سے بڑی معذوری ہے جو آپ کو وہیل چئیر میں ہونے سے زیادہ معذور کر دیتا ہے۔

3۔ کردار تن آسانی اور سکوت میں نہیں بنتا۔ صرف ہماری کوششوں کے تجربات اور صعوبتیں ہماری روح کو مضبوط، حوصلوں کو متاثر اور ہمیں کامیابی سے ہمکنار کرتی ہیں۔

4۔ میں اس وقت تک مفلوج نہیں ہوا جب تک میں نے امید نہیں کھوئی۔

5۔ مجھے اختیار تھا کہ میں خدا سے اس سب پر خفا ہو جاؤں جو مجھ میں نہیں یا پھر اس سب پہ اس پر اس کا شکر گزار بنوں جو مجھے دیا گیا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •