آصفہ بھٹو کی سیاست میں آمد: جدوجہد کا تسلسل یا موروثی سیاست
ملتان جلسے میں محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کی چھوٹی صاحبزادی آصفہ بھٹو زرداری نے اپنے سیاسی کیریئر کا آغاز کیا تو اس موقع پر آصف علی زرداری کا ایک پرانا بیان یاد آ گیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ”بی بی شہید کا قرض آصفہ اتارے گی“ ۔ اس آغاز پر دو رائے سامنے آئیں۔ اس طبقہ نے اس پر خوشی کا اظہار کیا جو ذوالفقار علی بھٹو یا بے نظیر بھٹو سے عقیدت رکھتا ہے۔ اور ان کی جمہوری اور عوامی خدمات کا اعتراف کرتا ہے۔ مگر مخالفین اسے موروثی سیاست کا نام دیتے ہیں۔ مگر ایک بات قابل غور ہے کہ اگر آصفہ بھٹو یا کسی لیڈر کی اولاد کو سیاسی میدان میں اتارا جاتا ہے تو جمہوری ممالک اور جمہوری روایات کے مطابق اس کا فیصلہ عوام کرتے ہیں کہ اس کی عوام میں کس قدر پذیرائی ہے اور وہ کس قدر عوام مقبولیت حاصل کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں۔ یہ پذیرائی محترمہ بے نظیر بھٹو نے اس قدر حاصل کی تھی کہ وہ دو مرتبہ وزارت عظمی کے عہدے پر فائز ہوئے۔
انہوں نے اس وقت جبر اور جلاوطنی کا سامنا کیا جب ان کے والد کو اقتدار سے سزائےموت کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ اس کڑے وقت میں ذوالفقار علی بھٹو کے عوامی جدوجہد کے علم کو ان کی بیوی نصرت بھٹو ہی اٹھا سکتی تھیں یا پھر ان کی بیٹی بے نظیر بھٹو۔ بے نظیر نے اپنے والد کے علم کو بلند رکھا یہاں تک کہ انہیں اس رستے میں بہت مصائب اور پریشانیاں اٹھانے کے ساتھ بالآخر جان کی قربانی تک دینی پڑی۔ ملتان میں پیپلز پارٹی کے یوم تاسیس کے جلسے میں بھٹو کی نواسی اور بی بی شہید کی بیٹی کی ایک نومولود سیاستدان کے طور پر سیاسی کیریر کا آغاز تھا اور اتنے بڑے اجتماع میں پہلا خطاب تھا مگر اس کا انداز گفتار سیاسی میدان میں آنے والے وقتوں میں اس کا سیاسی قد ناپنے اور سیاسی راہیں متعین کروا رہا تھا۔ دیکھنے والے کو اس میں ایک اور بے نظیر ک جھلک دکھائی دے رہی تھی جو یہ عزم رکھتی ہو کہ بہترین انتقام جمہوریت ہے اور نانا کا یہ عزم دہرا رہی ہو کہ طاقت کا سرچشمہ عوام ہیں اور آنے والے وقتوں میں عوام یہ فیصلہ کریں گے کہ بی بی شہید کی بیٹی کا سیاست میں آنا جمہوریت کا تسلسل ہے یا موروثی سیاست؟
ذہن میں ابھر کر بے نظیر کی تصویر آئی ہے
جب کرنے تقریر دختر بے نظیر آئی ہے
اے قدیر یہ اک جہدو جہد کا تسلسل ہے
جو نانا سے یہ تاثیر آئی ہے





