ً عمر کی نقدی ً سے ایک اور ورق (2

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مجھے چھ سال کی عمر میں گاؤں کے پرائمری سکول میں داخل کروایا گیا، تو بے جی روزانہ مجھے خود سکول چھوڑنے جاتیں اور سکول میں چھوڑ کر کافی دیر سکول کے باہر کھڑی رہتیں۔ چھٹی ہونے سے بہت پہلے سکول کے باہر آ کر کھڑی ہو جاتیں۔ میرے سکول سے باہر نکلتے ہی میرا بستہ اٹھا تیں اور مجھے گھر لے آتیں۔ اسی وقت تازہ کھانا پکا کر کھلاتیں۔ غربت کا زمانہ تھا، گاؤں میں زیادہ تر لو گ عموماً دوپہر کو باجرہ پکاتے اور شام کو گندم۔

بے جی بہت سویرے اٹھ کر پہلے تہجد پڑھتیں پھر چکی پر دانے پیس کر آٹا بناتیں۔ فجر کے وقت بہنوں کونماز کے لئے اٹھاتیں، خود نماز پڑھ کر ناشتہ بنانے میں لگ جاتیں۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ ہم صبح سورج نکلنے سے پہلے ناشتہ کر چکے ہوتے تھے۔ ناشتہ کے بعد وہ ہمیں پڑوس میں خالہ بادشاہ کے گھر چھوڑ کر آتیں، جن سے ہم قرآن مجید پڑھتے تھے۔ خالہ بادشاہ ہماری والدہ کی خالہ زاد بہن تھیں اور ان کی شادی ہمارے سب سے بڑے ماموں سے ہوئی تھی، لیکن ہم انھیں ساری عمر خالہ ہی بلاتے رہے۔ ان کے پاس صبح اور سہ پہر کو گاؤں کے چھوٹے بچے اور بچیاں قرآن مجید پڑھنے آتے تھے۔ جب میں کچھ بڑا ہوا تو پھرپڑھنے کے لئے مسجد جانا شروع کر دیا۔ صبح سکول جانے سے پہلے ہم قرآن مجید پڑھنے ضرور جاتے تھے۔

گاؤں میں پرائمری سکول تھا۔ ہمارے پرائمری کے استاد جناب ظفر ہاشمی ایک بہترین استاد اور بہت اچھے حکیم تھے۔ ان کے والد صاحب بھی ایک بہت اچھے استاد اور چوٹی کے حکیم تھے۔ ہمارا سکول بہت ہی صاف ستھرا ہوا کرتا تھا۔ ہم سب مل کر اس کی صفائی کیا کرتے تھے۔ امتحانوں سے پہلے فروری، مارچ میں ہر سال سکول میں سفیدیاں ہوتیں اور ہر طرح سے سکول کو چمکایا جاتا۔ ہمارا سکول دوسرے نزدیکی گاؤں کے سکولوں کے بچوں کا امتحانی سینٹر بھی بنتا تھا۔

سکول کی عمارت تین کمروں پر مشتمل تھی۔ سکول کے اندر ہی ایک اور اضافی کمرے میں ڈاک خانہ قائم تھا۔ سکول کے کمروں اور برامدے کی دیواروں پر علامہ اقبال کے اشعار اور دوسرے اقوال زریں بہت خوبصورتی سے لکھے ہوتے تھے۔ یہ سارا کمال ظفر ہاشمی صاحب کا تھا جو ایک کاتب بھی تھے۔ سکول کے صحن میں ایک طرف ایک چھوٹا سا باغیچہ تھا جہاں ہم مختلف پھول لگاتے تھے۔ ان کو پانی دینا چوتھی اور پانچویں جماعت کی ذمہ داری تھی۔ استاد محترم نے پڑھائی اور دوسری اچھی باتوں کے علاوہ ہمیں تختی پر خوشخط لکھنا سکھایا۔ یہاں سے میں نے 1969 میں پرائمری پاس کیا اور پھر ہائی سکول کے لئے والدصاحب نے گورنمنٹ ہائی سکول افضل پور کا انتحاب کیا۔

اپریل 1969 کا وہ دن مجھے آج تک یاد ہے۔ والد صاحب نے میرے ہم جماعت اور دوست سکندر کے والد راجہ رحمت خان کی ڈیوٹی لگائی کہ دونوں بچوں کو سکول داخل کرا کر آئیں۔ وہ انگلینڈ سے چند دن پہلے واپس آئے تھے۔ وہ ہمیں سائیکل پر بٹھا کر افضل پور لے کر گئے اور سکول میں داخل کرا آئے۔ سکول کی داخلہ فیس ایک روپیہ تھی۔ اس وقت ہمارے پورے علاقہ میں یہ واحد ہائی سکول تھا جو ہمارے گاؤں سے تقریباً چار میل دور تھا۔ یہ سکول ایک ٹیچرز ٹریننگ انسٹیٹوٹ تھا، جہاں استاد بھی جے وی اور ایس وی کرنے کے لئے زیر تعلیم ہوتے تھے۔

ہم پیدل چل کر سکول جاتے تھے۔ گاؤں سے ہم بہت سارے بچے اکٹھے ہو کر سکول جایا کرتے تھے۔ سفید شرٹ۔ زین کی خاکی پینٹ اور کالے بوٹ سکول کا باقاعدہ یونیفارم تھا۔ یونیفارم بنوانے کے لئے والد صاحب مجھے جاتلاں لے کر گئے۔ وہاں شیخ یونس کی کپڑوں کی دکان تھی اور اس کے ساتھ ہی ان کے بھائی شیخ اشرف کی جوتوں کی دکان تھی۔ ایک دکان سے جوتے لئے اور دوسری سے پتلون اور شرٹ کا کپڑا تو پیسے کم پڑ گئے۔ والد صاحب نے کچھ ادھار کیا اور وہیں یونیفارم سینے کے لیے دے دیا۔

نیا یونیفارم پہن کر ہم اتراتے ہوئے سکول جاتے۔ میں سکول کی پی ٹی کلب کا بھی ممبر بن گیا جس کا یونیفارم علیحدہ تھا۔ ہفتہ کے روز پی ٹی ہوتی ہم اس کا یونیفارم گھر سے اپنے دوسرے یونیفارم کے نیچے پہن لیتے اور سکول میں پی ٹی کرنے کے بعد دوبارہ یونیفارم پہن لیتے۔ سحر خیزی کی عادت بچپن سے ہی بے جی نے ڈال دی تھی، چونکہ وہ صبح نماز کے لئے سختی سے اٹھایا کرتی تھیں۔ یہ عادت ساری عمر ساتھ چلی۔ کئی دفعہ ہم سکول کھلنے سے پہلے پہنچ جاتے اور گراؤنڈ میں فٹ بال کھیلتے رہتے۔ بڑے فٹ بال تو میسر نہیں تھے ہم کپڑے کی ٹاکیوں سے چھوٹا سا بال بنا لیتے اور اس سے کھیلتے تھے۔

نئے سکول میں نئی دوستیاں ہوئیں۔ ساتویں جماعت کا سال شروع ہوا تو گھریلو حالات کی وجہ سے میں نے فیس معافی کی درخواست دی جو ایک استاد محترم کی مہربانی کی وجہ سے منظور نہ ہو سکی۔ لیکن اس کے تین چار ماہ بعد ہی جب سردار عبدالقیوم کی حکومت آئی تو انہوں نے سب کی فیس ختم کر دی۔ آزادکشمیر کے سب تعلیمی اداروں کے لئے انگریزی یونیفارم ختم کر کے ملیشا کا یونیفارم رائج کر دیا۔ ہم جیسے غریب طلبا کے لئے یہ بھی بہت مشکل تھا۔

لیکن نیا یونیفارم بنوانا پڑا۔ ساتویں کلاس میں ساتھی طالب علم ارشد سے ایک شعر کی تشریح پر میرا جھگڑا ہو گیا تو میں نے والد صاحب کی لائبریری کھنگال کر اس شعر کی تین صفحوں کی تشریح تحریر کی اور کتابوں کا حوالہ دے کر اپنے آپ کو درست قرار دیا۔ جواب میں اس نے بھی کچھ لکھ کر دیا جس کے جواب میں، میں نے پھر چار صفحوں کی تشریح لکھ کر اسے دی جو کہ ہمارے اردو کے استاد جناب محمد حسین شاہ صاحب کے ہاتھ لگ گئی۔ انہوں نے ہم دونوں کو بلایا اور ساری بات پوچھی۔ پھر وہ ہم دونوں کو ہماری ان تحریروں سمیت پرنسپل جناب خدا بخشؒ کے پاس لے گئے۔ انہوں نے ہماری ساری لکھائی پڑھی۔ ہماری اس علمی بحث پر بہت خوش ہوئے۔ ہمیں پاس بٹھا کر پیار سے سمجھایا کہ آپ دونوں ہی بہت اچھے ہیں لیکن ابھی آپ چھوٹے ہیں اس لئے اس کو یہیں ختم کر دیں اور اپنی نصابی پڑھائی پر توجہ دیں۔

آٹھویں جماعت کی گرمیوں کی چھٹیوں کے دوران ایک دن چچی نے بلایا اور کہا، روز تم پیدل سکول جاتے ہو، اندر تمہارے چچا کی سائیکل کھڑی ہے وہ لے لو اور اس پر سکول جایا کرو۔ میں نے ابا جان کو بتایا تو انہوں نے پہلے چچی سے پوچھا کہ کیا چچا سے اجازت لے لی ہے۔ تسلی کرنے کے بعد مجھے سائیکل لینے کی اجازت دے دی۔ میں نے سائیکل لی اور پل منڈا جا کر اس کا ایک نیا ٹائر نئی ٹیوب ڈلوایا۔ تین چار دن لگا کر اسے چلانا سیکھ لیا۔

جو خوشی اس وقت تیس سال پرانی ریلے سائیکل پا کر ہوئی تھی وہ آئندہ زندگی میں بڑی بڑی زیرو میٹر گاڑیاں لے کر بھی وہ خوشی نہیں ہوئی۔ اس خوشی کو ابھی تھوڑے دن ہی ہوئے تھے کہ زندگی کے ایک بہت بڑے صدمے سے دوچار ہونا پڑا۔ بے جی اس دنیا سے رخصت ہو گئیں۔ بریسٹ کینسر ان دنوں اتنا عام نہیں تھا لیکن بے جی کو ہو گیا تھا۔ پچھلے ایک سال سے ابا جی کی دکان کی زیادہ کمائی ان کے علاج پر ہی خرچ ہو جاتی تھی۔ ابا جی نے ان کا مقدور بھر علاج کروایا۔ لاہور کے میو ہسپتال میں ان کو داخل کروایا، لیکن اگست 1972 کی ایک اداس شام وہ اس دنیا سے رخصت ہو گئیں۔

ان کی وفات کے بعد مجھے پتہ چلا کہ وہ ہماری حقیقی والدہ نہیں تھیں بلکہ انہوں نے ہمیں پالا تھا۔ ہماری حقیقی والدہ تو دو سال کی عمر میں مجھے چھوڑ کر اللہ کو پیاری ہو گئیں تھیں۔ بے جی نے حقیقی ماں سے زیادہ پیار دے کر اس طرح ہمیں پالا کہ ان کی وفات تک ہمیں پتہ نہیں چلا کہ وہ ہماری حقیقی ماں نہیں ہیں۔ یہ میرے لئے ایک بہت بڑا صدمہ تھا جس کا تا دیر مجھ پراثر رہا۔

لیکن ان کی وفات کے بعد میری تینوں بہنوں نے مجھے اس طرح ماں بن کر مجھے سنبھالا کہ آج تک مجھے اماں کی کمی محسوس نہیں ہونے دی۔ چھوٹی باجی تو اپنا سسرال چھوڑ کر ہمارے پاس رہنے کے لئے آ گئیں تھیں۔ اب والد صاحب اکثر مجھے اپنے ساتھ لاہور اور دوسری جگہوں پر ساتھ لے جانے لگے۔ مجھے کچھ شعور بھی آ گیا تھا جس کی وجہ سے میں وقت سے بہت پہلے سنجیدہ ہو گیا تھا۔ (جاری ہے )

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •