محبت رسول ﷺ کے تقاضے


محبت رسول کے بلند آہنگ دعووں کے باوصف ہم ان کی شایان شان اظہار محبت کے اصول سے کورے معلوم ہوتے ہیں۔ دعوی جو بھی ہو، درست بات یہ ہے کہ یہ گراں قدر دولت ہر کس وناکس کے لیے ارزاں نہیں ہوتی، اور جنہیں حاصل ہوتی ہے وہ اپنے ڈھب سے پہچان لیے جاتے ہیں۔ سچی محبت کرنے والے عموماً ڈھنڈورا نہیں پیٹتے، محبوب کے نام کی تختیاں اپنے سینوں پر سجائے نہیں پھرتے، بلکہ چال ڈھال، رکھ رکھاؤ اور قول وعمل اس قسم کے کسی بھی دعوے سے انہیں بے نیاز کر دیتے ہیں۔

بعض وقت اسے چھپانے کی کوشش کرتے ہیں کہ مبادا ریا کا شائبہ نہ ہو۔ وہ اس حقیقت کو پا لیتے ہیں کہ محبت بجائے خود منزل مطلوب و مقام مقصود ہے وہ کسی منزل تک پہنچنے کا راستہ یا ذریعہ نہیں، اگر اس کے بعد کچھ ہے تو وہ اضافی انعام واحسان ہو سکتا ہے، اس کا اجر نہیں۔ محبت اپنے آپ میں عمل بھی ہے اور اجرت بھی، رستہ بھی ہے اور منزل بھی، روح میں رچنے اور سانسوں میں بسنے والا حسین احساس بھی۔ محبت روحانی آسودگی کا منتہائے کمال ہے، فنون لطیفہ میں سے ایک اعلی ترین فن ہے۔

اسے کسی حد تک ایسے سمجھا جا سکتا ہے کہ ایک سنگ تراش وارفتگی کی حد تک اپنے فن سے شغف رکھتا ہے، شب وروز اس میں جتا رہتا ہے، شاہکار تیار کرتا ہے، اور کسی دن قدر دان حاکم وقت باریاب کر کے اسے اشرفیوں میں تول دیتا ہے۔ اجرت ہوتی تو پتھر اور شاہکار کی تیاری میں صرف کیے جانے والے وقت کی قدر وقیمت کا تخمینہ لگایا جاتا، یا سنگ تراش اپنی صواب دید سے اپنے شاہکار کا نرخ متعین کرتا۔ نہ پتھر کی قیمت اہم ہے اور نہ ہی وقت کی قدر، قدردانی ہے تو صرف اور صرف فنکار کی اپنے فن سے محبت کی ہے اور اس کا شاہکار ہی اس کی حقیقی اجرت بھی ہے۔ محبت جز وقتی کام نہیں، کل وقتی مشغولیت ہے، چوبیس گھنٹے، ساتوں دن، بارہ مہینے؟ نہیں، زندگی کی ایک ایک سانس کا حساب مطلوب ہوتا ہے :

قہر ہے تھوڑی سی بھی غفلت طریق عشق میں
آنکھ جھپکی قیس کی اور سامنے محمل نہ تھا

اسی طرح یہ سالانہ اور موسمی تہواروں کی طرح بھی نہیں ہے کہ محرم میں تعزیہ داری کی، اکھاڑے میں کرتب دکھائے، ربیع الاول میں جھنڈا اٹھا کر شہر میں گھوم آئے، شب برات میں آتش بازی کی، چراغاں کیا اور بسنت میں پتنگ اڑائی پھر اللہ اللہ خیر صلا، بلکہ محبت سدا بہار عمل ہے جس میں خزاں کے لیے کوئی موقع یا وقفہ نہیں ہے۔

محبت رسول کے سلسلے میں ہمارا رویہ انتہائی مایوس کن ہے۔ یا تو ربیع الاول کے مہینہ میں ہم رضاکارانہ اس کا اظہار کرتے ہیں یا خدا نخواستہ کوئی گستاخی کرتا ہے تو ہمارا رد عمل سامنے آتا ہے۔ حالانکہ محبت سراسر ایک باطنی عمل ہے، حیرت انگیز یہ ہے کہ مذکورہ دونوں مظاہرے ہم سڑکوں پر ہی کرتے ہیں۔ ایک میں خوش وخرم اور تازہ دم نظر آتے ہیں، جبکہ دوسرے میں انتہائی غضبناک، اور اسی عالم غیظ و غضب میں کچھ ایسی بے سر وپا حرکتیں کر جاتے ہیں جسے مخالفین مزید گستاخیوں کے جواز طور پر استعمال کرلیتے ہیں۔

چوں کہ ہمارا محبوب عظیم ترین ہے، لہذا تقاضائے محبت کے تحت ہمیں اعلی ترین شائستگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ہرگز ایسا کوئی نا مناسب کام یا بات نہیں کرنی چاہیے جو ان کی طرف منسوب کر کے انہیں بدنام کرنے کا سبب بن جائے۔ مخالفین قرآن، حدیث یا سیرت کی کتابوں میں محمد رسول اللہ ﷺ کو تلاش کرنے کی زحمت نہیں کرتے، وہ انہیں ہمارے کردار میں ڈھونڈتے ہیں اور یہ بتانے کی چنداں ضرورت نہیں کہ ہم کیسے ہیں اور ہمارا کردار کیسا ہے۔

ہر ایک شخص جو محبت رسول کے اظہار کے لیے جلوس کا حصہ بنتا ہے، مظاہرے میں جان دینے اور جان لینے پر آمادہ نظر آتا ہے اسے چاہیے کہ جلوس اور مظاہرے میں نکلنے سے پہلے اپنے ماں باپ، بیوی بچے، بھائی بہن، دیگر رشتہ دار اور پڑوسیوں کے ساتھ اپنے رویوں اور معاملات پر مؤمنانہ تنقیدی نظر ضرور ڈالے۔ پہلے خود اپنی دریافت کرے کہ وہ رسول کی بتائی ہوئی باتوں اور لائی ہوئی تعلیمات کے مطابق مذکورہ بالا رشتوں کے ساتھ محبت کے عمودی زینہ کے کس پائدان پر کھڑا ہے۔

جو اپنے خونی وخاندانی رشتہ داروں سے محبت کرنا نہیں جانتا، جو پڑوسی کا خیال نہیں رکھتا، جس کے نزدیک اعلی انسانی اقدار کی کوئی اہمیت نہیں اور جس کے دل میں خلق خدا کے لیے درد نہیں وہ محبت رسول کے اپنے دعوے میں جھوٹا ہے۔ ہجومی ابال کی ہیجانی کیفیت کے ساتھ وہ جلوس ومظاہرے کا حصہ بنتا ہے، خود تکلیف اٹھاتا ہے، دوسروں کو نقصان پہنچاتا ہے لیکن محبت کے طفیل حاصل ہونے والے سکون سے خود بھی تا عمر محروم رہتا ہے اور اپنے رشتہ دار ومتعلقین کو بھی مایوس کرتا رہتا ہے۔ محبت کے سلسلہ میں احتساب ذات کا عمل جس دن شروع ہو جائے گا یقین سے کہا جا سکتا ہے کہ یا تو جلوس ومظاہرے کا اجتماع کیفیت کے اعتبار سے شائستہ اور عدد کے لحاظ سے آدھا رہ جائے گا یا مکمل مسلم سماج مہذب ہو جائے گا۔

ایک عام انسان اپنے جیسے کسی دوسرے انسان سے محبت کرتا ہے تو اس کا بھرم رکھنے کے لیے بہت سی جائز خواہشات کو دفن کر دیتا ہے، انسانی کمزوری کے سبب حاصل ہونے والے نقصانات اور صدموں کو زندگی کے کباڑ خانے میں ڈال دیتا ہے لیکن حرف شکایت زبان پر نہیں لاتا کہ اس کی لمبی محبت ورفاقت سر عام رسوا نہ ہو۔ اس کے برعکس محبت رسول ﷺ کے اظہار میں ہمارا طرز عمل انتہائی غیر محتاط ہے۔ ہم اپنے ممدوح و محبوب ﷺ کی شان کا خیال نہیں کرتے۔ بظاہر ان کی عظمت کا دفاع کرتے ہوئے مخالفین کے حق میں غلیظ زبان استعمال کرتے ہیں، عوامی اور شخصی املاک کو نقصان پہنچاتے ہیں، سڑک جام کر کے عوام کی آمد ورفت میں مشکلات کا سبب بنتے ہیں اور خود اپنی حکومتوں کو مشکل میں ڈالتے ہیں۔ یہ سارے اعمال ایک طرف در حقیقت اپنی ان غیر معقول حرکتوں کے ہم غیر شعوری طور پر خاکہ یا کارٹون بنانے والوں کا برانڈ ایمبسڈر بن کر ان کی تشہیر کا سامان بن جاتے ہیں۔

جو رسالے ہزاروں میں نہیں چھپتے ہیں ہم ان کی اشاعت کو راتوں رات لاکھوں تک پہنچا دیتے ہیں اور جس مصنف کی کسی دوسری کتاب کا نام تک کوئی نہیں جانتا اس کی توہین آمیز کتاب کو بیسٹ سیلر بنا دیتے ہیں اور جس ہذیان گو کو اس کا پڑوسی اپنے گھر میں پناہ دینے میں شرم محسوس کرتا ہے اس کے لیے بڑی بڑی حکومتیں اپنے دروازے کھول دیتی ہے، گویا اپنی حماقتوں سے ہم نے دشمنان رسول کو ہیرو بنا دیا ہے۔

ہم اپنی انفرادی زندگی میں جب لڑ کر اپنا حق حاصل کرنے کی سکت نہیں رکھتے تو کہتے ہیں ؛ صبر کر لیا ہے، اللہ پر چھوڑ دیا ہے، وہی بہتر فیصلہ کرنے والا ہے۔ آخر یہی رویہ ہماری اجتماعی زندگی میں کیوں بار نہیں پاتا! اجتماعی طور پر ہم کمزور ہیں تو اجتماعی معاملات کو اللہ پر کیوں نہیں چھوڑتے! شاید اس لیے کہ ہم چھوڑ بھی دیں لیکن کمبل ہمیں نہیں چھوڑتا۔ کچھ طالع آزما مذہبی و سیاسی قائدین کو اپنے خواب پورے کرنے ہوتے ہیں۔

بسااوقات ایسا محسوس ہوتا ہے کہ تحفظ عظمت رسالت مآب ﷺ کے پردے میں اقتدار و اختیار کا گھناؤنا کھیل کھیلا جاتا ہے۔ ایسا کرنے والوں کو خدا کے حتمی عذاب سے کوئی نہیں بچا سکتا، خواہ وہ بڑے سے بڑا عالم دین ہی کیوں نہ ہو۔ مخالفین ہماری بے لگام جذباتیت کو جان گئے ہیں، ہمیں وہ چڑاتے ہیں، بھڑکاتے ہیں اور ہم بھڑک جاتے ہیں۔

تاریخ گواہ ہے کہ رسالت مآب علیہ السلام کی شان میں گستاخی کرنے والے ہر دور میں پیدا ہوتے رہے ہیں لیکن ان کا نام ونشان باقی نہیں رہا۔ تھوکنے والوں کا تھوک خود ان کے منہ پر لوٹ آیا جبکہ نیر تاباں اپنی تمام تر تابانیوں کے ساتھ کائنات کے ذروں اور کونوں کھدڑوں کو روشن کرتا چلا جا رہا ہے، اور صبح قیامت تک ایسا ہی ہوتا رہے گا۔ ہمارے ممدوح محبوب محمد ﷺ کی ذات اس قسم کی سوقیانہ کمینگی اور سطحی عمومیت سے بہت زیادہ بلند ہے۔

Facebook Comments HS