بچیوں کی تعلیم اور چڑیوں دا چنبہ


زندگی اک نیا موڑ مڑ رہی ہے جس کے آگے نئے مناظر منتظر ہیں۔ ان نئے مناظر کا عادی ہونے میں، ان سے مانوس ہونے میں کچھ تو وقت لگے گا۔ ابھی تو بے کلی سی ہے، ایک خوش گوار راہ سے گزر چکنے کے بعد مسرت بھرے ملال جیسی بے چینی۔ جیسے انسان بیک وقت ایک کام کرنا اور نہ کرنا چاہتا ہو مگر کیے بنا چارہ بھی نہ ہو۔ جمشید رضوانی کہتا ہے جس روز آپ بیٹی کو اعلیٰ تعلیم کے لئے بھیجتے ہیں، یوں جانیے آپ نے ان کو رخصت کر دیا۔

خیر سے جمشید کی دو بیٹیاں اسلام آباد اورلاہور میں پڑھ رہی ہیں۔ ڈگری لے کر لوٹے گی تو ہاتھ پیلے کرنے کی عمر ہو چکی ہوگی اور بیٹیوں پر ہی کیا موقوف اب تو بیٹے بھی۔ رؤف کلاسرا سے پرسوں ایک شادی میں ملاقات ہوئی۔ پوچھا ؛سناؤ شہزادے کیسے ہیں؟ بتایا؛ ایک امریکہ ہے دوسرا لندن، ہم میاں بیوی اسلام آباد کی دھوپ سینکا کرتے ہیں۔ کیسے تیز پر لگے ہیں وقت کے پنچھی کو ’ابھی تو رؤف اور رضوانی کی شادیوں کے منظر آنکھوں میں روشن ہیں۔

یادش بخیر! ان دنوں بسلسلہ روزگار لاہور میں قیام تھا۔ ملتان روڈ کی طرف سے سمن آباد میں داخل ہوں تو کار شوروموں سے اٹی سڑک پر پہلے گول چکر سے ذرا ادھر جو سڑک دائیں کو پھوٹتی ہے ’اس پر چار سو اکتیس نمبر کا گھر ہم نے کرائے پر لے رکھا تھا۔ زینب سات ماہ کی تھی جب ہم نے وہ گھر لیا، وہیں سکول جانے کی عمر کو پہنچ گئی۔ اسی سڑک پر گھر سے ذرا آگے فاطمہ فاؤنڈیشن نام کا سکول تھا۔ گھر کا بڑا بچہ بارش کا وہ پہلا قطرہ ہوتا ہے جو زمین کی جانب لپکنے کو ہچکچایا کرتا ہے۔

زینب کسی طور نہ مانتی تھی سکول جانے کو۔ چوہدری پرویز الٰہی ان دنوں وزیر اعلیٰ پنجاب تھے اور بچوں کو سکول میں لانے کہ مہم زور شور سے برپا تھی۔ ٹی وی پر اشتہار چلا کرتا تھا جس کے آخر میں چوہدری صاحب سکرین پر آ کر کہتے ”آپ بھی اپنے بچوں کو سکول بھجوائیں“ عام پنجابیوں کی طرح وہ بھی‘ بھجوائیں ’کی‘ بھ ’پر زبر لگایا کرتے تھے۔ مجھے نہیں پتہ اس اشتہار کا اور کہیں اثر ہوا کہ نہیں مگر ہمارے ہاں بہت۔ زینب کی ماں نے اسے کہا جو بچے سکول نہیں جاتے، انہیں یہ انکل پکڑ کر جیل میں بند کردیتے ہیں۔ زینب نے سوچا ہوگا کہ مستقل جیل میں رہنے سے چند گھنٹے کے لئے سکول جانا بہتر۔ ہم نے اسے فاطمہ فاؤنڈیشن میں داخل کروایا اور بڑے اہتمام سے اسے سکول چھوڑنے گئے۔ انکل پرویز الٰہی کا ڈر اپنی جگہ مگر پہلے دو تین دن زینب کی ماں کو سکول کے گیٹ پر موجودرہنا پڑا۔

برس ہا برس گزرگئے، اے لیول کے بعد اب زینب یونیورسٹی کی طالبہ ہے۔ پچھلے مہینے ایک دفعہ پھر ہم زینب کو اس کے نئے تعلیمی ادارے میں چھوڑنے لاہور گئے تو ڈھلتی دوپہر سمن آباد کا چکر لگایا۔ مین روڈ سے پھوٹنے والی وہ سڑک جہاں ہم اطمینان سے چہل قدمی کیا کرتے تھے، کمرشلائزیشن کی نذر ہو چکی ہے، دکانیں ہی دکانیں اور رش۔ لگتا ہے ہم پورا ملک دکان بنا کر ہی دم لیں گے۔ فاطمہ فاؤنڈیشن ختم ہو چکا ہے، اس عمارت میں اب کوئی اکیڈمی کھلی تھی۔

زینب نے گاڑی سے اتر کر اپنی پہلی مادر علمی کی تصویریں بنائیں۔ پھر ہم چار سو اکتیس نمبر گھر کے سامنے رکے۔ چار سو تیس اور اکتیس دونوں گھر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ سے ریٹائرڈ رانا صاحب کے تھے، ان کی اہلیہ بھی ریٹائرڈ سکول ٹیچر تھیں۔ رانا صاحب نہایت شریف آدمی تھے۔ فروری سن دو ہزار دو کو اخبار میں اشتہار پڑھ کر میں مکان دیکھنے گیا تو رانا صاحب نے چھے سات ہزار روپے کرائے والا مکان مجھے ساڑھے تین ہزار ماہانہ میں دے دیا۔ انہوں نے کہا تھا میں کاروباریوں کا ڈسا ہوا ہوں مجھے اپنے جیسا سرکاری ملازم کرائے دار چاہیے۔

ان کا ایک بیٹا ہمارے والے حصہ کی زیریں منزل میں رہتا تھا مگر وہ زوجہ کو پیارا ہو چکا تھا۔ وہ شب مجھے اچھی طرح یاد ہے جب راناصاحب کی میت ان کے گیسٹ روم میں پڑی تھی اور سوائے ان کی بزرگ اہلیہ کے کوئی پاس نہ تھا۔ عالیہ نے وہ رات آنٹی کے ساتھ میت کے سرہانے گزاری، علی الصبح رانا صاحب کا اسلام آباد والا بیٹا پہنچ گیا تھا۔ جب تک رانا صاحب اور پھر آنٹی حیات رہیں انہوں نے ہمارا بہت خیال رکھا۔ ان کے آنکھیں موندتے ہی ہم سے وہ مکان چھڑوا لیا گیا اور ہم اقبال ٹاؤن کے راوی بلاک میں شفٹ ہو گئے۔

خیر! دروازہ بجایا تو ایک نوجوان باہر نکلا۔ اس سے افتخار (رانا صاحب مرحوم کا بیوی کو پیارا ہو چکا بیٹا) کا پوچھا۔ اس نے بتایا کہ وہ تو یہاں نہیں ہوتے۔ چار سو اکتیس کے حالیہ مکین نہایت ہی اچھے لوگ تھے۔ جونہی انہیں پتہ چلا کہ ہم اس مکان میں رہتے رہے ہیں، ان کی خواتین بھی آ گئیں اور بہ اصرار گھر کے اندر لے جاکر پرتکلف میزبانی کی۔ سب کچھ ویسا ہی تھا، رانا صاحب اور آنٹی نہیں تھے۔ زینب اور زہرا کو اپنا بچپن دھندلا دھندلا کہیں کہیں دکھائی دیا۔ گوشت پوست اور سنگ و خشت میں یہی فرق ہے، انسان چلے جاتے ہیں، عمارتیں موجود رہتی ہیں۔ چار صدیاں پہلے مٹی میں مٹی ہو چکے اکبر کا قلعہ ابھی بھی پورے قد سے لاہور میں کھڑا ہے۔

زینب خیر سے گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور کی طالبہ ہے۔ جیسے کئی برس پہلے اسے فاطمہ فاؤنڈیشن سکول چھوڑنے گئے تھے ایسے ہی میں، عالیہ، زہرا، امامہ سب مل کے اسے جی سی یو چھوڑنے گئے۔ بس فاطمہ فاؤنڈیشن کے وقت امامہ نہیں تھی۔ زینب میں کوئی قدیم روح بسی ہے، پرانی عمارات کو دیکھنا، گزر چکی شخصیات کو جاننا اس کو مرغوب ہے۔ گورنمنٹ کالج لاہور کا آرکیٹیکچر اسے ہانٹ کیا کرتا تھا، وہیں اسے داخلہ مل گیا۔ اپنے پسندیدہ شعبہ میں نہ سہی مگر اکنامکس میں۔

میری بھی خواہش تھی کہ زینب انگریزی ادب پڑھے کیوں کہ وہ لکھنے پڑھنے کی شائق ہے اور اس کی تحریریں اور نظمیں چھوٹی کلاسوں میں ہی انگریزی اخبار کے بچوں کے ایڈیشن میں چھپا کرتی تھیں۔ اس عمارت کے ان کمرہ ہائے جماعت سے شمع علم کی روشنی پائے جو احمد شاہ بخاری پطرس کو استاد اور فیض احمد فیض کو طالب علم کے روپ میں دیکھنے کی گواہ ہیں۔ مگر انگریزی ادب میں داخلہ نہ مل سکا۔ خیر! میں خوش ہوں کہ زینب اس عظیم ادارے کی طالبہ ہے جہاں شاعر مشرق علامہ ڈاکٹر سر محمد اقبال طالب علم رہے اور استاد بھی۔

جہاں صوفی تبسم ایسے مدرس رہے، جہاں فیض، شہاب، اشفاق احمد اور بانو قدسیہ تحصیل علم کو آیا کرتے تھے۔ ان در و دیوار میں میری بیٹی بھی سانس لے گی۔ نجی یونیورسٹیوں کا دور ہے، سرکاری ادارے نزع کے مرحلے کی طرف گام زن ہیں مگر پچھلے ڈیڑھ سو برس میں برصغیر کی نابغہ شخصیات کی تربیت کرنے کا اعزاز تو جی سی یو سے کوئی نہیں چھین سکتا۔

بات کچھ اور کہنا تھی مگر یادوں کے دفتر جو کھلے تو کھلتے چلے گئے۔ ابتدائی پیراگراف کو رجوع کرتے ہیں۔ زندگی اک نیا موڑ لے چکی۔ سکولوں اور کالجوں سے ہوتے ہوئے بچے اب یونیورسٹیوں میں پہنچ گئے ’گویا بہ زبان رضوانی رخصتی کا وقت ہوا۔ دو لوگوں نے مل کر جس گھر کی نیو اٹھائی تھی، وہ پھر سے دھیرے دھیرے تنہا ہونے لگے ہیں۔ تنکا تنکا جڑتا ہے اور گھونسلہ بنتا ہے۔ اس میں نئے پرندوں کی چہچہاہٹ سنائی دیتی ہے اور پھر وہ رفتہ رفتہ اڑنے لگتے ہیں۔ یہی زندگی ہے‘ اس کو یوں ہی چلتے رہنا ہے۔ جو یہاں آیا اور جس کو زندگی عطا ہوئی اسے آخری مرحلے تک پہنچنے کو سبھی مراحل سے گزرنا ہے۔ بس آرزو ہے تو یہ ہر موڑ اور اس سے آگے کے مناظر خوش گوار ہوں۔

Facebook Comments HS