اغوا ہونے والی لڑکیاں اور ٹوٹے ہوئے لوگ
اٹھارہ دن اس کی زندگی کے سرکاری ہسپتال میں ٹھوکریں کھا کھا کر گزرے تھے۔ گھر پر پہلے ہی بہت قرض تھا، پھر پتا جی کی بیماری، ہسپتال میں تو کچھ نہیں ملتا تھا۔ کاغذ کے پرزے ملتے تھے۔ یہ دوا لاؤ، وہ دوا لاؤ، خون کی بوتل، گلوکوز کی بوتل، پیشاب کی تھیلی، پیشاب کی نالی، منہ کا ٹیوب، خون کا ٹیسٹ، ایکسرے، انہوں نے سسک سسک کر جان دے دی تھی۔ آخری وقت میں سندھی ایسوسی ایشن کے کچھ لوگوں نے مدد کی تھی، مگر یہ مدد بھی ایسی ہی تھی جس سے تکلیف دہ زندگی کے ختم ہونے میں کچھ مزید دن لگ گئے تھے۔
پتا جی کے مرنے کے بعد وہ ماتا جی کے گلے لگ کر زار زار رویا تھا اور اس نے سوچا تھا کہ وہ کبھی بھی کانتا کو معاف نہیں کرے گا۔ نہ اس جنم میں اور نہ کسی اور جنم میں۔ اس نے اس کے لیے جنم جنم کی بددعا دی تھی۔ اس نے ہندوستان کے اس نظام کو بددعا دی تھی جس میں لڑکیوں کو اغوا کر کے طوائف بنا دیا جاتا ہے، اس نے ان لوگوں کو بددعا دی تھی جنہوں نے ہندوستان کو تقسیم کر کے اس کے پورے خاندان کو ختم کر کے رکھ دیا تھا۔ اس نے اپنے باپ کے سرہانے پڑی ہوئی شیشی کو اٹھا کر چوما تھا جس میں سندھ دھرتی کی میلی میلی مٹی سونے کی طرح چمک رہی تھی۔
پتا جی کے مرنے بعد اس نے جی جان سے دکان پر کام کرنا شروع کر دیا تھا۔ ماتا جی کے کہنے پر پاروتی سے اس کی شادی بھی ہو گئی تھی۔ زندگی نے ایک تھوڑی دیر کے لیے سکھ کا سانس لیا تھا، پھر نہ جانے کیوں اٹھتے بیٹھتے ماں جی کلپنا کے خواب دیکھنے لگی تھیں، ان کی بیٹی کلپنا، اس کی بہن کلپنا زندہ تھی۔ سندھ کے شہر حیدرآباد میں نہ جانے کیسی تھی۔ کتنے اس کے بچے تھے، مسلمان ہونے کے بعد خوش تھی کہ ناخوش۔ وہ لوگ اکثر اس کی باتیں کرتے تھے۔
ایک دن پاروتی کے کسی رشتہ دار نے خبر دی تھی کہ وہ لوگ پاکستان گئے تھے، حیدرآباد میں کلپنا سے ملے تھے۔ اسے الہاس نگر والوں کا کچھ پتا نہیں تھا۔ پاروتی والے نوابشاہ کے رہنے والے تھے۔ نوابشاہ جانے کی جلدی میں کلپنا سے زیادہ خبر نہ لے سکے تھے۔ اس نے اپنی روتی ہوئی ماں سے وعدہ کیا تھا کہ وہ پاکستان جائے گا، ایک بار پھر کلپنا کو تلاش کرے گا، اس کی خبر لے گا۔ اس نے دل میں سوچا تھا کہ ماں جی کے مرنے سے پہلے شاید انہیں کوئی اچھی خبر دے سکے۔ کاش وہ ایسا کر سکتا۔
دہلی جا کر پاکستانی سفارت خانے سے ویزا لینا کوئی آسان کام نہیں تھا۔ رشوت اور فارم کی فیس ملا کر پورے پانچ ہزار روپے خرچ ہوئے تھے، تو کراچی حیدرآباد کا ویزا ملا تھا۔ شکارپور کا ویزا منع ہو گیا تھا۔ دہلی میں پاکستانی سفارت خانے کے باہر مسلمانوں، ہندوؤں کا ہجوم تھا، بکھرے ہوئے لوگ، بچھڑے ہوئے لوگ، ٹوٹے ہوئے لوگ اور ہر کوئی رشوت دے رہا تھا، اپنے عزیزوں سے ملنے کے لیے۔ ایک سزا تھی جو پوری کرنی تھی۔
رمیش چاچا نے اسے بتایا تھا کہ بندر روڈ پر سندھ زمیندار، سندھ جاگیردار ہوٹل ہے اور میکلوڈ روڈ پر بمبئی ہوٹل ہے جہاں ٹھہرا جاسکتا ہے۔ کراچی میونسپل کارپوریشن کے سامنے مندر ہے اور مسافر خانہ، کلفٹن اور گارڈن پربھی مندر ہے جہاں کچھ جاننے والوں کے فون نمبر انہوں نے دیے تھے، مگر روپ چند کا خیال تھا کہ وہ عبدالرحمان سومرو کا پتا چلائے گا۔ اسے ابھی تک بچپن کا وہ سومرو یاد تھا۔ املی کاوہ درخت جس کی ٹھنڈی چھایا کے نیچے وہ لوگ کھیلتے تھے، لڑتے تھے، جھگڑتے تھے اور پھر کھیلنے لگتے تھے۔
شاید اس کی قسمت اچھی تھی۔ اتنے بڑے شہر کراچی میں جہاں امریتا رام پریتم داس روڈ کھو گیا تھا۔ جہاں پرانی ہوادار اونچی چھت والی پتھروں کی بلڈنگوں کی جگہ پر بمبئی کی طرح سیمنٹ کے جنگل گھر بن گئے تھے، وہاں اسے سندھ مدرسے میں جا کر ماسٹر الٰہی بخش کے گھر کا پتا مل گیا تھا۔ وہ ایمپریس مارکیٹ کے سامنے ایک عجیب سی بلڈنگ کی چھٹی منزل کے فلیٹ میں رہ رہے تھے۔ روپ چند کو ایمپریس مارکیٹ یاد تھی۔ بچپن کی ایمپریس مارکیٹ کراچی کی خوبصورت ترین جگہ تھی۔
وہ پتا جی کے ساتھ کئی دفعہ یہاں ٹرام پر بیٹھ کر آیا تھا۔ کیماڑی سے آنے والی ٹرام بندر روڈ سے ہوتی ہوئی گارڈن روڈ سے مڑ کر ایمپریس مارکیٹ آتی تھی۔ ایمپریس مارکیٹ پر ٹرام بدل کر کینٹ اسٹیشن جایا جاسکتا تھا۔ ایمپریس مارکیٹ کی ٹرامیں بندر روڈ پر نیپیئر روڈ کے راستے سے ملتی تھیں۔ وہ نریندر ناتھ جگن داس ودیلا۔ این جے وی اسکول کا پڑھا ہوا تھا اور ٹراموں میں بھی آنا جانا ہوتا تھا۔ ایمپریس مارکیٹ کی سیڑھیوں پر کھڑے ہو کر دیکھنے سے جہاں پارسیوں کا آتش کدہ نظر آتا تھا، وہاں دور کینٹ اسٹیشن بھی نظر آتا تھا۔
صاف ستھری سڑکیں، گھنٹی بجاتی ہوئی ٹرامیں، گھوڑا گاڑی پر آنے والے گورے گورے یورپین اور کراچی کے پارسی، ہندو، یہودی اور کرسچنوں کا ایمپریس مارکیٹ میں ہجوم، وہ پرانا منظر اس کی نظروں کے سامنے آیا۔ دور کہیں ٹرام کی آواز، نہ کوئی دھواں نہ کوئی ہاکروں کی غیرقانونی تجاوزات، نہ لوگوں کا ہجوم اور نہ ہی کوئی جھگڑا۔ پرانا منظر نئے منظر میں مل کر بے اختیار سا ہو گیا تھا۔ روپ چند نے سوچا تھا جیسے کراچی مر گیا ہے، کراچی مٹ گیا ہے۔ اس کے خاندان کے ساتھ کراچی بھی اجڑ گیا ہے۔
عبدالرحمان سومرو ویسا ہی تھا جیسا اس سوچا تھا۔ اس کے بتانے پر وہ دونوں گلے ملے تھے۔ بڑی محبت سے اسے گھرمیں بٹھایا گیا تھا۔ کچھ پرانی باتیں ہوئی تھیں، کراچی میں گزرے ہوئے بچپن کے دن، نہ سومرو نے اس سے اس کے پتا جی کا پوچھا تھا اور نہ اس نے ماسٹر الٰہی بخش کے بارے میں کوئی سوال کیا تھا۔

