اغوا ہونے والی لڑکیاں اور ٹوٹے ہوئے لوگ
حیدرآباد میں کلپنا کو تلاش کرنے میں زیادہ مشکل نہیں ہوئی تھی۔ سومرو اور روپ چند کراچی سے حیدرآباد بس پر گئے تھے۔ بس صدر کے علاقے سے نکلی تھی شہر کے درمیان سے ہوتی ہوئی حیدرآباد پہنچی تھی۔ دونوں شہر تقریباً ایک جیسے تھے۔ اسے تو ایسا ہی لگا تھا جیسے وہ ہندوستان میں گھوم رہا ہو۔ وہی فقیر، وہی گانے، یہاں خدا کے نام پر مانگ رہے تھے وہاں رام کا نام چلتا ہے، یہاں نعت گا رہے تھے، وہاں بھجن پڑھتے ہیں۔ وہی ٹوٹی ہوئی سڑکیں، دھویں سے بھرا ہوا ماحول، پانی کا رونا، بجلی کی کمی، دھتکارے ہوئے غریب، ذلتوں کی مارے لوگ۔ کچھ بھی فرق نہیں تھا اور اگر تھا تو کوئی خاص نہیں تھا۔
وہ کلپنا کے بڑے سے گھر میں اس سے ملا تھا۔ اس کا نام اب کلثوم تھا۔ اس کے جوان جوان بچے تھے۔ اس کی بیٹی کی شادی ہو چکی تھی۔ اس کی نظروں کے سامنے جیسے اس کی ماں کا چہرہ آ گیا تھا۔ بڑا اس کا دل چاہا تھا اس کے پیروں کو چھوئے، اس کے ہاتھوں کو چومے، اس کے سینے سے لگ کر رو دے۔ ”دیدی میں ہوں روپ چند۔ تیرا بھائی۔“ وہ بس اتنا ہی کہہ سکا تھا۔ بڑے دن گزر گئے تھے، بہت فاصلہ تھا، مہینوں اور برسوں کا۔ بیتے ہوئے سپنوں کا، کھوئے ہوئے رشتوں کا اور اب تو مذہب کا فاصلہ تھا جو انہیں کھینچ کر دو الگ الگ کناروں پرلے گیا تھا۔
اس نے اسے بتایا تھا کہ ”دادی مر گئی ہے، پتا جی مر گئے ہیں، کانتا بھی مر گئی ہے۔“ رک رک کر ساری کہانی سنائی تھی۔ آنسوؤں کی لڑی تھی جو بہہ رہی تھی، کلپنا روتی رہی، سنتی رہی۔
پھر کلپنا نے بتایا تھا کہ موسیٰ جوکھیو کی اب دو اور بیویاں ہیں۔ ایک اسلام آباد میں ہے جب کہ دوسری کراچی کے کلفٹن میں۔ اسے خرچ مل جاتا ہے اور اب تو بچے بھی بڑے ہو گئے ہیں۔ اغوا ہونے کے بعد موسیٰ نے شادی زبردستی کی تھی۔ مگر شروع کے آٹھ سال تک شوہر اچھا تھا، پھر آہستہ آہستہ بدل گیا تھا۔ اپنے باپ کے ساتھ سیاست شروع کی تھی۔ وہ حیدرآباد میں رہتی تھی اور وہ کبھی کراچی میں اور کبھی زمینوں پر۔ پھر فوجی حکومت میں تو وہ بڑا آدمی بن گیا تھا۔
کراچی میں، لاہور میں، پنڈی میں، اسلام آباد میں مکان تھے۔ دو بیویاں مر چکی تھیں اور دو بیویاں اور موجود تھیں۔ میں نے ایک دفعہ بچوں کے نام پر شور کیا تھا تو اس نے کہا تھا کہ یاد رکھنا دو بیویاں مر چکی ہیں تیسری بھی مر جائے گی تو کیا بگڑ جائے گا۔ مجھے پتا لگ گیا تھا کہ میری اوقات کیا ہے۔ کلپنا سے کلثوم تک ایک کہانی ہے، ایک قصہ ہے۔ اب وہ کہتی رہی تھی وہ روتا رہا تھا۔
پھر وہ لوگ جدا ہو گئے تھے۔ اس نے اپنے مسلمان بھانجوں کو پیار کیا۔ کلپنا کو آخری دفعہ دیکھا تھا۔ کلپنا نے کہا تھا ”ماں جی کو بتانا میں خوش ہوں۔ بچے بھلے مسلمان ہیں، میں وہی ہوں، کلپنا۔ بھگوان سے پراتھنا میرے لیے۔“ اس نے جھک کر کلپنا کے قدم آخری دفعہ چھو لیے۔
روپ چند کا دل پھر سے زور سے دھڑکا۔ کیا ہو گیا ہے، کس جنم کے گناہوں کی سزا ہے۔ سرحد کے اس طرف بھی اس پار بھی، ہندوستان میں بے روزگاری، پاکستان میں غربت۔ کبھی بابری مسجد جل جاتی ہے، کبھی یہاں مندر ڈھائے جاتے ہیں، وہاں اگنی اور پرتھوی میزائل بنتا ہے۔ یہاں ہدف اور غوری بنتا ہے۔ وہاں کے محلوں میں بیٹھے ہوئے لوگ یہاں کے محلوں میں سمٹے ہوئے لوگوں سے بابر، غوری، پرتھوی اور اور نگ زیب کی جنگ لڑ رہے ہیں اور ہم لوگ زندگی کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ زندہ رہنے کی جنگ ایسی شدید ہوگی کس نے سوچا تھا۔
سومرو کے ساتھ بوجھل قدم لیے ہوئے روپ چند کراچی لوٹا تھا۔ صدر کے اس فلیٹ میں گھرمیں داخل ہوتے ہی وہ بڑے میاں نظر آئے تھے، ماسٹر الٰہی بخش سومرو کے بابا جی۔ وہ چیخ رہے تھے، مر گئے، مر گئے، سب مر گئے۔ رحمان بھی مر گیا، ہائے ہائے۔
رحمان کو دیکھتے ہی جیسے ان کو چپ سی لگ گئی تھی۔ وہ اٹھے اور آہستہ آہستہ رحمان کو گلے لگایا اور خاموشی سے اندر چلے گئے، نہ اس کی طرف دیکھا تھا اور نہ ہی کوئی بات کی تھی۔
یہ بابا تھے، روپ چند۔ اب تو یہی حال ہو گیا ہے۔ ایک دن بھی اگر میں گھر سے غائب ہوجاتا ہوں تو یہ اسی طرح چیختے چلاتے رہتے ہیں۔ ایک دن حیدرآباد میں سندھیوں نے مہاجروں کے گھروں کے آگ لگادی تھی، بہت سارے مہاجر مر گئے تھے۔ کوئی جل گیا تھا اور کوئی گولی کا نشانہ بنا تھا۔ اس کے دوسرے دن میرا چھوٹا بھائی اور چاچا ٹھٹھے سے آرہے تھے تو مہاجروں نے بس کو روک کر سارے سندھیوں کو مار ڈالا تھا۔ ان کی لاشیں پہنچی تھیں، تب سے بابا ایسے ہی ہو گئے ہیں۔ میں اگر نہ ہوں تو چیختے رہتے ہیں لیکن تیرے ساتھ تو مجھے جانا تھا۔ ابھی ٹھیک ہوجائیں گے۔ لوگ مرتے ہی رہتے ہیں۔ یہ کہہ کر سومرو خاموش ہو گیا۔ جیسے کہنے کے لیے کچھ نہ ہو۔

