نفرت! اردو پڑھنے والوں سے یا اپنی قومی زبان سے


کچھ عرصہ پہلے کی بات ہے میں علامہ اقبال لائبریری میں بیٹھی ممتاز مفتی کاناول ”علی پور کا ایلی“ پڑھ رہی تھی۔ میرے سامنے ایک خاتون بیٹھ کر نوٹس بنا رہی تھیں۔ وہ نوٹس بناتے بناتے کن اکھیوں سے مجھے دیکھتیں اور پھر اپنے کام میں مصروف ہو جاتیں۔ تین سے چار مرتبہ یہ عمل دہرانے کے بعد آخر ان کی بے چین طبیعت نے ان کو مجھ سے سوالات کرنے پر اکسایا۔ اور وہ پوچھنے لگیں! بیٹا آپ کا کیا نام ہے؟ آپ کہاں رہتی ہیں؟

کیا کرتی ہیں؟ میں نے تمام سوالوں کا جواب دینے کے بعد کہا کہ میں اردو ادب میں ایم فل کر رہی ہوں۔ یہ سنتے ہی انھوں نے اپنے چہرے کے عجیب و غریب زاویے بنائے اور کہنے لگیں اردوادب! اردو کا جو منٹو ہے اس کا ایک افسانہ پڑھا تھا میں نے! اف توبہ اللہ معاف کرے! منٹو کے ہاں بہت عریانیت پائی جاتی ہے۔ منٹو بہت فحش گو افسانہ نگار ہے۔ میں نے کہا مادام! منٹو پر صرف ایک افسانہ پڑھ کر رائے قائم نہیں کی جا سکتی۔

منٹو پر تنقید کر نے کے لیے منٹو کا بہت وسیع مطالعہ درکار ہے تو کہنے لگیں پھر بھی بیٹا آپ اپنا وقت اور پیسہ دونوں ضائع کر رہی ہیں۔ اردو کی اب اہمیت ہی کیا ہے۔ اب تو کوئی بھی اردونہیں پڑھتا اردو پڑھنے والوں کا کوئی مستقبل نہیں ہے وغیرہ وغیرہ۔ یہ سب سن کر مجھے حیرانی نہ ہوئی کیوں کہ ایسے بہت سارے لوگ ملتے رہتے ہیں اور اپنے نادر خیالات کا اظہار کر تے رہتے ہیں اصل حیران میں اس وقت ہوئی جب وہ کہنے لگیں کہ میں پی۔ ایچ۔ ڈی کر رہی ہوں۔ یعنی مستقبل قریب کی ڈاکٹر ہوتے ہوئے ایسی جاہلانہ سوچ! وجہ صرف اور صرف اپنی قومی زبان سے نفرت اور احساس کمتری ہے۔

زبانیں انسانیت کا مشترکہ ورثہ ہوتی ہیں جن کی خفاظت زندہ قوموں کو تر و تازہ اور شاداب رکھتی ہے۔ قومی زبان کسی بھی ملک کی تہذیب و تمدن کی آئینہ دار ہوتی ہے ایسی ہی ہماری قومی زبان اردو ہے جس کو بولتے ہوئے ہمیں باہمی اپنائیت، ہم آہنگی اور سانجھ پن کا احساس ہو تا ہے۔ قومی زبان سے ہی قومی تہذیب و تمد ن قومی ثقافت جھلکتی ہے۔ اردو جنوبی ایشیا کی ایک اہم اور بڑی زبان ہے۔ اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ اردو کی تاریخ بہت پرانی ہے اور بر صغیر میں اردو کو ایک خاص مقبولیت حاصل رہی ہے۔

اردو زبان کی ابتداء کے بارے میں بہت سے نظریات ہیں نصیر الدین ہاشمی کہتے ہیں اردو زبان دکن سے نکلی ہے یعنی جو زبان عربوں اور دکن کے مقامی لوگوں کے باہمی اشتراک کا وسیلہ بنی وہ اردو کی ابتدائی شکل تھی۔ سید سلیمان ندوی کے مطابق اردو سندھ سے نکلی ہے جب مسلمان فاتحین سند ہ پر حملہ آور ہوئے اور وہاں کے مقامی لوگوں کے ساتھ مسلمانوں کا باہمی اختلاط و ارتباط ہوا جس کے نتیجے میں جو زبان وجود میں آئی وہ اردو کی ابتدائی شکل تھی۔

حافظ محمود شیرانی کے گہرے لسانی مطالعے اور ٹھوس تحقیقی دلائل کی بنا پر جو نظریہ وجود میں آیا وہ یہ ہے کہ اردو کی ابتداء پنجاب سے ہوئی ان کے مطابق اردو زبان اسی وقت وجود میں آ گئی تھی جب مسلمان فاتحین ہندوستان پر با ر بار حملے کر رہے تھے اور اور مسلمانوں نے ہندوستان میں آ کر ایک وطن کے طور پر رہائش اختیار کر لی تھی۔ حافظ محمود شیرانی کا یہ نظریہ حقیقت کے سب سے زیادہ قریب سمجھا جاتا ہے اس کے علاوہ اردو زبان کی ابتداء کے حوالے سے میر امن، سر سید اور محمد حسین آزاد نے بھی کچھ نظریے پیش کیے مگر وہ تما م تر نظریات حقیقت سے بہت دور تھے۔

اردو پاکستان میں بولی پڑھی اور لکھی جانے والی ایک بڑی زبان ہے اس کے علاوہ ہندوستان میں بھی اردو بولنے اور پڑھنے والے موجود ہیں شہر دہلی اردو ادب اور طباعت کا بڑا مرکز ہے۔ ہندوستان اور پاکستان کے متصل ملکوں مثلاً افغانستان، بنگلہ دیش اور نیپال میں بھی اردو بولی جاتی ہے اس کے علاوہ خلیجی ممالک، مشرق وسطی، مغربی یورپ، اسکینڈنیوائی ممالک (ڈنمارک، ناروے، سوئڈین ) امریکہ اور کناڈامیں اردو جنوبی ایشیاکے مسلمانوں کی تہذیبی زبان اور لنگوافرنیکا بن چکی ہے۔

ہمارے یہاں اردو زبان اور اردو پڑھنے والوں کو کم تر سمجھاجاتا ہے ہم اپنی زبان کو چھوڑ کرانگریزو ں کی زبان انگریزی کو بہت اہمیت دیتے ہیں۔ ہم اپنے بچوں کو اردو میڈیم سکول میں پڑھانا کسر شان سمجھتے ہیں یہاں تک کہ اب ہمارے بچے میڑک کرنے کی بجائے اے لیول اور اولیول کو اہمیت دیتے ہیں۔ انگریزی ایک اچھی زبان ہے اس کو ضرور سیکھنا چاہیے مگر ہمارے ہاں المیہ یہ ہے کہ اگر ہم انگریزی بولیں گے تو ہی پڑھے لکھے کہلائیں گے حالانکہ ایسا بالکل نہیں ہونا چاہیے انگریزی کونہ ہی قابلیت کا معیار سمجھنا چاہیے اور نہ ہی امتیاز کا ذریعہ۔

انگریزی زبان سے لگاؤ اب تو ایک وبا کی صورت اختیار کر چکا ہے۔ ہم اردو میں صرف سوچتے ہیں لیکن بولنے کی کوشش انگریزی میں کرتے ہیں۔ ہماری زبان انگریزی کے بے جا الفاظ کی آماجگاہ بن چکی ہے۔ ہمارا آدھا جملہ انگریزی اور آدھا اردو میں ہوتا ہے۔ ہماری اس اندھی تقلید نے ہمیں آدھا تیتر اور آدھا بٹیر بنا دیا ہے۔ نتیجتاً ہم نہ شستہ اردو بول پاتے ہیں اور نہ ہی سادہ اردو میں مافی ضمیر بیان کر سکتے ہیں۔ ہم نے اپنی مادری زبان سے بھی کوئی اچھا سلوک نہیں کیا۔

ہم اپنے بچوں کو پنجابی بولنے سے روکتے ہیں اور اگر کوئی بچہ پنجابی میں بات کر رہا ہو تو ہم اسے کند ذہن، نالائق سمجھ کر اس کا مذاق اڑاتے ہیں۔ ڈاکٹر ولسن کے بقول ”اگر آپ اپنی مادری زبان بولنے میں شرم اور ہچکچاہٹ محسوس کرتے ہیں تو سمجھ جائیں آپ ذہنی طور پر غلام ہیں اور ترقی آپ کے مقدر میں نہیں ہے۔“ اس کے بر عکس اگر ہم اپنے ہمسایہ ملک چین کو دیکھیں تو اس کا کوئی بھی سرکاری یا نجی عہدیدار ہمیں انگریزی بولتا نظر نہیں آئے گا۔

وہ اپنی قومی زبان ہی بولیں اور لکھیں گے۔ عرب ممالک اربوں کے مالک ہو کر بھی اپنی زبان عربی بولنا نہیں چھوڑتے۔ اسرائیل دنیا کا سب سے زیادہ جدید ترین ملک وہاں انگریزی نہ ہونے کے برابر ہے۔ انتہائی کم وقت میں ترقی کرنے والا جرمنی میں لوگ جرمن زبان کو بولنا اور پڑھنا پسند کرتے ہیں۔ دنیائے اسلام کا ترقی یافتہ ملک ترکی یہاں ایک عام سے شہری سے لے کر صدرمملکت تک سب ترکی زبان بولتے ہیں۔ ایران میں فارسی زبان رائج ہے اور اسی زبان میں تمام تر امور ترتیب دیے جاتے ہیں۔ یہاں تک کہ قدامت پسند ملک انڈیا بھی اقوام متحدہ میں ہندی بولتا نظر آئے گا۔ یہ احساس کم تری سب سے زیادہ ہمارے ہاں ہی پایا جاتا ہے کہ ہم نے اپنی قومی زبان اردو کو چھوڑ کر انگریزی کو اپنایا ہوا ہے حالانکہ ہماری ترقی کا رازصرف اپنی قومی زبان کو اپنانے میں ہی مضمر ہے۔

اردونثر اور نظم اور اس کے مختلف شعبوں نے گزشتہ چار سو سالوں میں غیر معمولی ترقی کی ہے۔ دنیا کی قدیم زبانوں کے مقابلے میں اردو کی عمر بہت کم ہے لیکن ادبی حیثیت سے اس کا پلڑا دنیا کی سینکڑوں زبانوں پر بھاری ہے۔ اردو ’افسانہ‘ ناول ’تنقید و تحقیق‘ انشاء و حکایات ’ڈرامہ‘ شاعری کا بیش بہا ذخیرہ دنیا کی اکثر زبانوں کے مقابلے میں رکھا جا سکتا ہے اور اردو کی ادبی ترقی آج بھی جاری و ساری ہے۔ ہمارے اردگر د جتنے بھی پڑھے لکھے سطحی اور جاہل سوچ کے مالک لوگ ہوں اور وہ اردو اور اردو پڑھنے والوں کو معمولی اور کم تر سمجھیں اس سب کے با وجود بہت سارے طلبا اور طلبات ارود پڑھ رہے ہیں اور پڑھتے بھی رہیں گے۔

Facebook Comments HS