آخری دس منٹ باقی ہیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

”آخری دس منٹ باقی ہیں“

اس کی پاٹ دار آواز ہال میں گونجی، جواب میں ایک مانوس بھنبھناہٹ ابھری، کچھ قلم مزید تیزرفتاری سے کاغذ پر گھسٹنے لگے، کچھ نے غیریقینی انداز میں اپنی کلائی کی گھڑیوں پر نظر ڈالی، ایک دو احتجاجی آوازیں اور کچھ التجائیہ فقرے۔ سر پانچ منٹ اور، پیپر بہت مشکل تھا، نہیں نہیں سر مشکل نہیں لمبا تھا۔ اور اس تمام بھگدڑ میں اس کی نظر اس چہرے پر پڑی۔ وہ چہرہ جو ہر کلاس کے ہر امتحان میں کسی نہ کسی جسم پر سوار ہو کر اس کے سامنے آ کھڑا ہوتا تھا۔

وہ اپنی بدن بولی سے، اپنی آنکھوں سے، چیخ کر کبھی جھجکتے ہوئے، کبھی التجا کرتے ہوئے اسے بتاتا کہ مجھے امتحان کا ایک ایک سوال آتا ہے، ”یہ نیومیریکل میں نے کئی بار پریکٹس کیا تھا، اس تھیورم کا پروف مجھے ازبر ہے، اس کیمیائی عمل کے سارے خواص، ساری ایکویشنز مجھے معلوم ہیں، ۔ لیکن دس منٹ؟“ اور یہ چہرہ اسے کبھی متاثر نہ کر پایا تھا۔ ایسی ذہانت، ایسی قابلیت کس کام کی جو ٹائم مینیجمنٹ نہ کر پائے۔

*****

ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے الوداعی تقریب سے فارغ ہو کر وہ اکاؤنٹس آفس کی جانب بڑھا، اکاؤنٹس افسر شبیر اس کو دیکھ کر مسکرایا، ”آئیے پروفیسر اسد! سر، تمام ڈاکومنٹس تیار ہیں، جہاں جہاں میں نے نشان لگائے ہیں یہاں دستخط کر دیجئیے، انشا اللہ آپ کی پنشن اگلے ماہ سے ہی چالو ہو جائے گی،

”اور وہ گریجوئیٹی، ؟“ اس نے پوچھا
”جی وہ بھی ایک دو ماہ میں آ جائے گی، اور ساتھ ہی دس سال کی کومیوٹیشن بھی،“

”ہاں ہاں، ٹھیک ہے، (خود کلامی کے انداز میں ) دس سال کی کومیوٹیشن، بھلا یہ دس سال ہی کی کیوں ہوتی ہے؟“

”سر، سرکار کا خیال ہے ریٹائرمنٹ کے بعد دس سال ہی ہوتے ہیں انسان کے پاس، ۔“ ”آخری دس سال باقی ہیں“ ”یاد ہے ناں سر جیسے آپ اگزامینیشن ہال میں آواز لگاتے تھے،“

شبیر بھی انجنئیرنگ سے ڈراپ آؤٹ ہو کر اکاؤنٹس میں گریجوئٹ ہوا تھا اسی یونیورسٹی سے، اس کا اولڈ سٹوڈنٹ تھا، اور اس ناتے تھوڑا منہ چڑھا بھی تھا۔

اس نے دستخط کیے ، کاغذات سنبھالے اور چل پڑا

ساتھیوں اور طلبہ کی نیک خواہشات، عمر بھر کی جمع پونجی کا بہی کھاتا، اور ساٹھ سال کی تھکن لیے وہ گاڑی میں بیٹھا تو بے نام خواہشوں، نا تمام حسرتوں اورانجان ارادوں کی ایک بند پوٹلی ناجانے کہاں سے ساتھ چل دی۔

*****

گاڑی ڈرائیو کرتے ہوئے اس کے ذہن میں بار بار شبیر کی آواز گونجتی رہی، ”دس سال باقی ہیں“ ، ۔ اور آہستہ آہستہ اسے محسوس ہوئے بغیر بے نام خواہشوں، نا تمام حسرتوں اورانجان ارادوں کی وہ بند پوٹلی کھلنے لگی، ہولے ہولے، پرت در پرت، فلم کی متحرک ناچتی تصویروں کی طرح چلبلی، کبھی سمفنی کی لرزیدہ آہنگ جیسی مدھر، کبھی ریگزاروں میں بھٹکتی روح کی طرح یاس زدہ، اور کبھی ریس میں بگٹٹ بھاگتے گھوڑے کی طرح منہ زور۔

*****

کلاس روم کے ڈیسک پر تھرکتی اس کی انگلیاں دیکھ کر اس کے بچپن کے کلاس فیلو نے کہا تھا۔ ”تمہیں سر تال کی بڑی شد بد ہے، سیکھنا شروع کر دو۔“ وقار مشہور فلم موسیقار رحمٰن ورما کا بیٹا تھا، اس کی بات ذہن میں کبھی رہ گئی۔ کالج ہوسٹل کے زمانے میں جمیعت کی خشمناک نظروں سے بچ بچا کر نا جانے کہاں سے ایک طبلہ ہاتھ لگ گیا، جسے الٹے سیدھے تھپتھپاتے کچھ دال دلیہ ہونے لگا۔ دوستوں کی ایک محفل میں غزل کے لیے سنگت بھی دے ڈالی۔

اسد کو خود کبھی لگتا تھا کہ موسیقی محض وقت گزاری نہیں بلکہ اس کی روح کی آواز ہے۔ مشہور فلمی گانے غزلیں تو سبھی گنگنا لیتے تھے مگر اس کے دل و دماغ میں ان سنی دھنیں، طرزیں اور ردھم سنسناتے رہتے تھے۔ انہیں عدم سے وجود میں کیسے لایا جائے؟ گم ہونے سے پہلے محفوظ کیسے کیا جائے؟ انجینئرنگ کے فائنل ائر کے دوران آرٹس کالج میں شام کی کلاسوں میں میوزک کے شارٹ کورس کا اشتہار دیکھا تو داخلہ لے لیا۔

پہلے دن استاد نے پوچھا کسی کو کوئی ساز بجانا آتا ہے۔
” جی طبلہ بجا لیتا ہوں“ اسد نے بڑے فخر سے ہاتھ اٹھایا۔

چلیے تو ذرا سنتے ہیں، ڈائس کے ساتھ بنے پلیٹ فارم پر مختلف ساز دھرے تھے، اسد نے طبلہ سیدھا کیا تو کچھ بھنبھناہٹ سی ہوئی، تھوڑی کھسر پھسر، ایک کھی کھی کھی، اور ایک اونچی سی سیٹی۔ استاد صاحب نے بھی ٹیڑھی نظروں سے دیکھتے ہوئے فرمایا

”میں بول کہتا ہوں آپ بجائیے۔ تڑکت دھم تڑکت دھم تا تھا“
اسد نے ہونقوں کی طرح استاد صاحب کی شکل دیکھتے ہوئے نفی میں گردن ہلائی
”اچھا چلیں تین تالہ میں کچھ بجائیے“
اسد نے منمناتے ہوئے کچھ کہنا چاہا، مگر منہ سے آواز نہ نکل سکی
”کہاں سے سیکھا؟“ استاد نے پوچھا
” خود سے ہی مشق کر کے سیکھا ہے“ اسد نے جواب دیا
” اچھا چلئے جو آتا ہے وہی سنا دیجیئے

اسد نے اپنے تئیں کچھ بجایا، جو اس کے اپنے کانوں کو بھلا ہی لگا لیکن کلاس میں کسی کی شکل پر پسندیدگی کا تاثر نظر نہ آیا۔

”میاں بجانا تو بعد کی بات ہے آپ نے طبلہ ہی الٹا پکڑاہوا ہے، یہ چھوٹا والا طبلہ ہوتا ہے اسے سیدھے ہاتھ سے بجاتے ہیں اور بڑے والا بایاں ہوتا ہے جو بائیں ہاتھ میں رکھتے ہیں۔“ چلئے بیٹھیئے۔

” چلیں طبلے ہی سے شروع کرتے ہیں،“ استاد صاحب کی سپاٹ آواز جیسے کہیں دور سے آ رہی تھی۔ ”طبلہ اور بایاں تو میں نے بتا دیا، طبلے یعنی چھوٹے والے کو دایاں، داہنا، یا چھٹو بھی کہتے ہیں اسے دائیں ہاتھ کی انگلیوں سے بجایا جاتا ہے۔ بایاں، جو تھوڑا بڑے سائز کا آپ دیکھ رہے ہیں، اس کی سکن پر ہتھیلی کے زور سے اس کی آواز کی پچ کم یا زیادہ کی جاتی ہے۔ طبلے کی سکن کی سائڈ پر لگی ڈوریوں کو ان چھوٹے چھوٹے لکڑی کے مستطیل ٹکڑوں کی مدد سے اسے ٹیون کیا جاتا ہے، عام طور پر اسے سولوئسٹ کی بیسک کی نوٹ پر ٹیون کیا جاتا ہے۔ جس سے یہ سولوئسٹ کو کمپلیمنٹ کرتا ہے۔ یہ راگ کی گراؤنڈ نوٹ یعنی ’سا‘ پر۔“ استاد کی آواز اسد کے دماغ کی سائیں سائیں میں کہیں گم ہو گئی۔

پہلی سبکی کا اثر تھا یا موسیقی کی ابجد سے ناواقفیت، اس شام اسد کواندازہ ہوا کہ کانوں کو بھلا لگنے اور انگلیوں سے بھلا نکلنے میں موجود فاصلہ چھ ہفتے کے شارٹ کورس میں طے ہونے والا نہیں۔

’ایک بار کیرئیر سیٹ ہو جائے، یہ شوق تو بعد میں بھی پورا ہو جائے گا‘ ۔ کیرئیر تو سیٹ ہو کر اختتام کو بھی آپہنچا، اب وقت ہے شوق پورا کرنے کا۔ لیکن اس عمر میں میرے ہاتھوں میں تسبیح کی جگہ طبلہ دیکھ کر دنیا کیا کہے گی؟ دنیا ایک طرف، بچے کیا سوچیں گے؟

تسبیح؟ ہاں وہ بھی تو ایک دور تھا۔
*****

شاہ جمال کے قبرستان سے چند گلیاں چھوڑ کر ایک گھر میں شاہ صاحب کا آستانہ تھا۔ گیٹ سے اندر داخل ہو کر چھوٹے سے صحن اور نسبتاً بڑے برامدے سے ہوتے ہوئے ایک وسیع کمرے میں چند درجن کے قریب لوگ زمین پر بیٹھے تھے، ایک دیوار سے ٹیک لگائے سفید کرتے اور شلوار میں ملبوس سانولی رنگت کے ایک باریش بزرگ تشریف فرما تھے۔ سر ڈھکنے کے لئے کسی مخصوص ٹوپی یا پگڑی کی بجائے ایک سفید رومال رکھا ہوا تھا جسے گرنے سے بچانے کے لئے اگلے دونوں کونے ماتھے سے کھینچ کر کانوں میں اڑسے ہوئے تھے پانچ پانچ چھ چھ کی تعداد میں لوگ ان کے سامنے دوزانو ہوتے اور وہ آٹھ دس دفعہ سب کو ”اللہ ہو“ کہنا سکھاتے اور اگلے لوگوں کی باری آجاتی۔

دفعتہ راغب نے اسد کا ہاتھ پکڑ کر اسے بھی ایک گروپ کے ساتھ شاہ صاحب کے سامنے کر دیا۔ ماحول کے با رعب تقدس کے باوصف اسد کی اچٹتی نظر شاہ صاحب کے سر کے اوپر ایک کاغذ پر بڑے حروف میں لکھے جملے پر پڑی ”صرف مصافحہ کریں، ہاتھ چومنا یا گھٹنوں اور پاؤں کو ہاتھ لگانا منع ہے“ شاہ صاحب نے اپنے معمول کے بر خلاف اسد کو مخاطب کر کے پوچھا

” کیا کرتے ہیں“
”یونیورسٹی میں لیکچرر ہوں۔“
”ہمارے پاس کیوں آئے ہیں؟“
اسد نے راغب کی طرف دیکھا
” سرکار آپ سے اذن لینے آیا ہے“
” جب تک آپ کی صحبت میں رہے تو چلتے رہیں گے، اکیلے میں ان کے لئے مشکل ہوگا“ ۔

اسد کئی ماہ تک راغب کے ساتھ شاہ صاحب کی محفلوں میں جاتا رہا۔ شاہ صاحب کا آستانہ سکہ بند پیروں کی خانقاہ نہیں تھا، لیکن اشفاق احمد صاحب کی بیٹھک بھی نہیں تھی۔ گفتگو بہت زیادہ علمی، فلسفیانہ یا فقہی موضوعات پر نہیں ہوتی تھی، ذکر کی تلقین ہوتی اور سادہ سادہ لفظوں میں نبیوں، پیغمبروں، اولیاء اللہ کے قصے اور روایتیں بیان ہوتیں، لیکن ایک سحر تھا جو اسد سمیت سارے حاضرین پر طاری رہتا۔ ایک دفعہ اسد نے ہمت کر کے پوچھا

” سرکار تصوف کو سمجھنے کے لئے کوئی کتاب بتائیں“

” کتاب؟ کتنی کتابیں گنواؤں؟ قرآن سے شروع کر لیں، کشف المحجوب پڑھ لیں، غنیۃ الطالبین دیکھ لیں، فقیر نور محمد کی عرفان پڑھ لیں۔ لیکن آپ تصوف کیوں پڑھنا چاہتے ہیں؟ تصوف پڑھ کر سمجھ آنے والی چیز نہیں۔ یہ علمی نہیں عملی شعبہ ہے“ ۔ شاہ صاحب اسد کو ہمیشہ آپ کہہ کر مخاطب کرتے تھے۔

”تصوف نہ بتا کر سمجھایا جا سکتا ہے، نہ پڑھ کر سمجھا جاسکتا ہے، تصوف سیکھنا ہے تو صحبت اختیار کرو، جو کامل ہوگا وہ تصوف کروائے گا، بتائے گا نہیں۔ بتانے لگ جائے تو سمجھو کامل نہیں۔ جو خود کامل نہیں اس کے ساتھ بیٹھ کر کیا پاسکو گے“ اب شاہ صاحب اسد سے نہیں سب حاضرین سے مخاطب تھے۔

یونیورسٹی میں شام کو سیلف فنانس پروگرام کی کلاسز شروع ہوئیں تو اسدکے حصے میں بھی کچھ کورسز آ گئے۔ ہفتہ میں چار دن کی مصروفیت ہو گئی۔ شاہ صاحب کی طرف جانا محدود ہو گیا۔ ایک دن راغب نے اسد کو شاہ صاحب کی طرف چلنے کی دعوت دی، اسد نے اپنی شام کی کلاسز کی مصروفیت کا بتایا تو راغب کہنے لگا۔ ”پارٹنر یہ کلاسیں، یہ نوکری یہ سب دنیا داری، یہ شیطانی ڈھکوسلے ہیں، فلاح تو نیک صحبت میں ہی ہے“ اسد نے چند لمحے سوچا اور یونیورسٹی ضروری کام کی اطلاع کر کے راغب کے ساتھ چل دیا۔ اس دن اسد نے شاہ صاحب کی صحبت میں ایک انوکھے جذب کا مزا چکھا۔

رفتہ رفتہ اسد کی شام کی کلاسز میں حاضری کم سے کم ہونے لگی، سمیسٹر کے اختتام پر ڈین نے بلا کر وجہ پوچھی، اسد نے گول مول سے جواب دیے، تو وہ کہنے لگے

” دیکھئے اسد صاحب ابھی آپ جوان ہیں کیرئیر کا آغاز ہے، آپ کا فوکس لوز ہو گیا تو مشکل ہو گی آپ کے لئے، یہ کومپیٹیشن کا دور ہے۔ آپ تو خود سمجھدار ہیں“

اسد سمجھدار تھا، تصوف کرنے کی چیز تھی پڑھنے کی نہیں، تو پھر شاہ صاحب کی باتیں سن کر سیکھنے کی بھی نہیں ہو سکتی تھی۔ شاہ صاحب کی صحبت رفتہ رفتہ کم ہو کر ختم ہو گئی۔ راغب کا تبادلہ کراچی ہو گیا۔ اسد اب بھی عارفانہ کلام سن کر جھوم اٹھتا تھا۔ لیکن فوکس لوز ہونے سے بچنے کے لئے کبھی کسی صوفی کی صحبت تلاش کرنے کی نوبت نہ آئی۔

کبھی وقت آئے گا اس کا بھی، بعض اوقات وہ سوچتا۔
تو کیا اب اس کا وقت ہے؟ کیا اب عشق حقیقی کا سفر ممکن ہے؟
یا پھر عشق کا؟
*****

وہ لڑکپن کے دوچار ’کرش‘ تو کب کے شادیوں کی پیچیدگیوں، رشتوں کی وضعداریوں اور فکردوراں کی قبروں میں جا مدفون ہوئے تھے، مگر کبوتروں کی ایک جوڑی آج بھی دل کی ترتیب میں خلل ڈال دیتی تھی۔ وادی گلیات میں پہلی دفعہ وہ اپنے گھر کے صحن میں مونگ پھلیاں کھاتی نظر آئی تھی۔ ایک چارپائی پر بیٹھی دوسری چارپائی کی بانہی پر پاؤں رکھے اپنی گود میں پڑے مونگ پھلی کے دانے چھیلتی ہوئی۔ پائنچے ٹخنوں سے کچھ اونچے، کچی مٹی میں کچھ کچھ اٹے ساتھ ساتھ جڑے سفید دودھیا پاؤں، دو مٹیالے کبوتروں کی جوڑی جیسے۔

اس کے آنے کے کھٹکے پر اپنے خیالوں سے نکل کر سیدھی بیٹھی تو یوں لگا جیسے کبوتروں کی جوڑی منڈیر پر سے پھر سے اڑ گئی ہو۔ ان کبوتروں کی جوڑی کے اوپر زندگی سے بھرپور ایک ہوشربا نوخیز سراپا اپنی تمام تر حشر سامانیوں کے ساتھ ایستادہ تھا۔ زینت کے والد سرکاری محکمے میں انیسویں گریڈ کے افسر تھے، مری میں تعیناتی تھی، سرکاری بنگلے میں رہائش تھی اور اپنے مزاج کے میل جول والے لوگوں کی شدید قلت۔ آنا جانا بڑھا اور اسد کی پرائیویٹ کنسٹرکشن کمپنی میں ملازمت کے ڈیڑھ سال انہی کبوتروں کی نگہبانی میں گزر گئے۔

اپنی سود و زیاں کے ترازو پر تلی ہوئی فطرت کے ہاتھوں وہ دل کو تسلی دیتا رہا، ابھی مناسب وقت نہیں آیا، ذرا کیرئیر مستحکم ہولے تو بات آگے بڑھاؤں۔ ویسے بات چیت بھی ہوجاتی تھی، میل ملاقات بھی اور ایک درجہ بے تکلفی بھی۔ کیرئیر کی دوڑ میں اگلا گیئر لگانے کے لیے ماسٹرز میں داخلہ لیا۔ الوداعی ملاقات میں پہاڑی راستوں پر چہل قدمی کرتے وہ دور تک چلے گئے۔ اونچائی سے پاؤں نیچے رکھتے ہوئے سہارے کے لئے اس نے اپنا ہاتھ اسد کے ہاتھ میں دیا۔

راہ ہموار ہونے کے بعد بھی دور تک نہ اسد نے ہاتھ چھوڑا، نہ زینت نے چھڑوایا۔ انگلیوں کی گرفت نے کب ہاتھوں سے بڑھ کر کہنی کندھے اور گردن تک کا سفر طے کیا، کب سانسوں نے ترتیب کا دامن چاک کر کے دھڑکنوں کی دیوانگی اپنا لی، کب نگاہوں سے کہی جانے والے بات بنا لفظوں کے ہونٹوں سے ادا ہو گئی۔ اسے آج بھی ٹھیک سے یاد نہ تھا۔ دل میں اٹھنے والی کبھی کبھی کی بے نام کسک کو دبانے کے لئے اس کے پاس ایک ہی مرہم تھا، ”میں نے کبھی کوئی وعدہ، کوئی دعویٰ نہیں کیا تھا۔ کوئی عہد شکنی اس کے نامہ اعمال میں نہیں“ ۔

برسوں بعد سوشل میڈیا نے گڑھے مردوں کی طرح متروک رشتے، شناسائیاں اور واقفیتوں کو دوبارہ سروں پر منڈھ دیا تو زینت کے والد سے بھی رابطہ استوار ہوا۔ ایک شادی کی تقریب میں ملاقات بھی ہو گئی۔ ان کبوتروں کی جوڑی پر ایستادہ وہ سراپا آج بھی اتنا ہی دلنشیں تھا۔ بس جوانی کے الھہڑ پن کی جگہ ادھیڑ عمری کے ٹھہراؤ نے لے لی تھی۔ ناکام شادی کی خفت اور آرتھرائٹس کے درد کو چال کی تمکنت میں ڈھالتے ہوئے وہ اسی رسان سے ملی، اور کبوتروں کی جوڑی پھر سے دل کے آہلنے میں آ بیٹھی۔ تب وہ شادی شدہ ہو چکا تھا۔ شادی نہ سہی، کبھی کبھار مل بیٹھنے میں کیا مضائقہ ہو سکتا ہے؟ دل نے فریاد کی۔ ترازو فطرت نے فوراً تنبیہ کی کہ اس سواری کے ساتھ زندگی کی گاڑی الار میں آ جائے گی۔ یوں کبوتروں کی جوڑی ایک بار پھر دل کی کابک سے رشتے کی منڈیر تک کا سفر نہ طے کرسکی۔

’ابھی نہیں، ابھی ہمارا معاشرہ اتنا پختہ ذہن نہیں ہوا کہ ایسے تعلق کو ٹھنڈے پیٹوں ہضم کر سکے‘ ۔ تب اس نے سوچا تھا۔

شاید اب؟ اب اس عمر میں تو لوگوں کی نظریں نہ اٹھیں گی۔
بس ایک دفعہ یہ آؤٹ ریچ کولیبوریشن والا پراجیکٹ چل پڑے تو شاید
*****
ابھی پچھلے سال ہی کی تو بات تھی
”پروفیسر اسد، آپ کی مدد چاہیے یونیورسٹی کو،“ وائس چانسلر صاحب نے بڑے رچاؤ کے ساتھ دانہ پھینکا تھا۔
” سر حکم کیجیئے“ اسد نے کہا

” آپ جانتے ہی ہیں، پروفیسر ارشاد ریٹائر ہو رہے ہیں، اور حسب معمول ریپلیسمنٹ کا ابھی تک نام و نشان نہیں، آپ سے زیادہ مناسب اس پوزیشن کے لئے میری نظر میں تو کوئی نہیں۔ میں نے اضافی چارج کے لئے آپ کے نوٹیفیکیشن پر سائن کر دیے ہیں۔ بیسٹ آف لک“

اب اس کے پاس ڈیپارٹمنٹ کے ساتھ ساتھ آفس آف ریسرچ، انوویشن اینڈ کمرشلائزیشن کا چارج بھی تھا۔

” ارے، یہ بوئنگ سے کیپ سٹون پراجیکٹ کی دعوت آئی ہوئی ہے، ابھی تک ہم نے کیا کیا اس پر“ اس نے پر جوش انداز میں پوچھا۔ ”سر ارشاد صاحب نے کچھ بتایا نہیں تھا“

”لاحول ولا قوۃ۔ اچھا تم کیس بناؤ میں بات بھی کرتا ہوں“
اسد نے وی سی آفس کو فون ملایا
” ہاں بھئی سر موجود ہیں؟“ ”سر یہ ہفتہ تو سخت مصروف ہیں، ایچ ای سی کا ڈیلیگیشن آیاہوا ہے،“
” یار کوئی وقت نکال کر میری بات کروانا“
ایک ہفتہ بعد ”سر میں پچھلے ہفتے سے آپ سے بات کرنا چاہ رہا تھا“
” جی فرمایئے پروفیسر اسد“
” سر بوئنگ سے ایک کیپ سٹون پراجیکٹ کی آفر ہے،“
”کتنی فنڈنگ دے رہے ہیں؟“
”سر فنڈنگ کا کیس نہیں، بڑا اہم پراجیکٹ ہے“

” ذرا سوچیئے، ایک سائبر بیسڈ ڈیزائن انوائرنمنٹ ہے، جہاں دنیا کے مختلف ملکوں کے انجینئرنگ کے مختلف شعبوں سے وابستہ سٹوڈنٹس اور پروفیسرز ایک ورچوئل ماحول میں کلاؤڈ بیسڈ کمپیوٹر ایئڈڈ ڈیزائن مشین پر کام کر رہے ہیں۔ ان پراجیکٹس پر جو دنیا میں لیڈنگ صنعتوں کے حقیقی مسائل کے متعلق ہیں۔ یہ دنیا کی اعلیٰ ترین ایروسپیس انڈسٹری کے لیٹسٹ انجینئرنگ ڈیزائننگ کے تجربے میں شمولیت کا موقع ہے“

اپنے جوش میں اسد بھول ہی گیا تھا کہ وی سی صاحب اردو ادب کی ایک نامور شخصیت ہیں، اپنی تقریر کے بعد ان کے چہرے کا ہونق پن دیکھتے ہوئے اسے یاد آیا کہ سائنس اورانجینئرنگ سے ان کی آخری ملاقات کہیں بیس سال پہلے ایف ایس سی کے دوران ہوئی ہوگی۔

” آپ فائل بھیج دیں میں دیکھ لیتا ہوں“

فائل کی آنیوں جانیوں میں بوئنگ کی طرف سے آخری تاریخ گزر چکی تھی۔ اسد نے اپنے طور پر ان کے رابطہ دفتر سے ای میلز پر معاملہ اٹھائے رکھا، لیکن آخر وہ بھی کسی شیڈول کے پابند تھے۔ آخری حربے کے طور پر اس نے اگلے سال کے پروگرام میں شمولیت کی بات چیت کی جو قبول کر لی گئی۔ اس نے اپنے طور پر مختلف شعبوں سے اچھے گریڈز والے کئی سٹوڈنٹس کو انگیج کیا اور اگلے سال کے لئے تیاری شروع کر دی۔

اس دوران آفس آف ریسرچ، انوویشن اینڈ کمرشلائزیشن کے نئے ڈائریکٹر کا تقرر بھی ہو گیا اور معاملہ اسد کی براہ راست ذمہ داری سے نکل گیا۔ کچھ ماہ بعد اس نے نئے ڈائریکٹر سے اس پراجیکٹ کا ذکر کیا تو انہوں نے عدم دلچسپی کا اظہار کرتے ہوئے کہا۔

”ارے اسد صاحب، آپ کن چکروں میں پڑ گئے، کوئی فنڈنگ ونڈنگ والا کیس ہوتا تو کوئی بات بھی تھی، سٹوڈنٹس کا بھی بھلا ہوتا، اور ہونیورسٹی کا بھی۔“ ۔ ”لیکن ڈاکٹر صاحب۔“ ( نئے ڈائریکٹر تازہ تازہ پی ایچ ڈی ہوئے تھے اور پروفیسر کی بجائے ڈاکٹر کہلانا پسند فرماتے تھے )

” اسد صاحب، ایک بات کہوں، آپ ریٹائر ہو رہے ہیں، ایسا ہی درد دل رکھتے ہیں تو ان سٹوڈنٹس کو پرائیویٹلی سپانسر کروا دیں ناں اس پراجیکٹ میں۔“

بات اسد کے دل میں کھب سی گئی۔ اس نے رابطہ آفس میں رابطہ کیا۔ اپنی ساری زندگی کی علمی اور تحقیقی کاوشیں گنوائیں۔ آخر کار ایک راستہ سامنے آیا کہ اگر اسد اپنا ایک ریسرچ اینڈ ڈیزائن آفس رجسٹر کروا دیتا ہے تو اس کے ذریعے پروگرام میں شامل ہو سکتا ہے۔

اسد نے حساب کتاب جوڑا تو کافی مہنگا سودا تھا، لیکن اس کے ریٹائرمنٹ کے واجبات اور تھوڑی بہت جمع پونجی شامل کر کے بات بن سکتی تھی۔

’وقت آنے پر دیکھیں گے۔‘
مگر وقت تو آ گیا تھا۔
*****

گھر پر میلہ لگا ہوا تھا، دوست، عزیز، رشتے دار سبھی جمع تھے، ایک کامیاب کیرئیر کے باعزت اختتام پر اسے مبارک باد دینے، اسد کا سینہ جہاں ماضی کی فتوحات پر فخر سے پھول رہا تھا وہیں ادھوری خواہشوں کی تکمیل کی ممکنات کے خیال سے پرعزم وہ ایک نئی توانائی محسوس کر رہا تھا۔

”کیوں جناب اب کیا ارادے ہیں“
” ارادے کیا بھئی، اپنی اننگز کھیل چکا، اب تو ڈٹ کر آرام کریں گے، سارے شوق پورے کریں گے“

” ہاں بھئی اب تو بنتا ہے، لیکن آپ نے ساری عمر کوئی مشغلہ، کوئی ہابی تو بنائی نہیں، بور ہوجائیں گے آپ فارغ رہ کر“

کیوں بھئی بڑے ارمان ہیں، ارادے ہیں، سب پورے کروں گا۔ طبلہ بجاؤں گا، صوفی بنوں گا، عشق کرو ں گا ”
”بھابھی سنیں کیا ارادے ہیں موصوف کے“ ایک اجتماعی قہقہے کے درمیان آواز آئی۔
*****
مہمانوں کے جاتے جاتے شام گہری ہو چکی تھی۔ رات کے کھانے کے بعد چائے کی چسکی لیتے ہوئے بیگم بولی
” لوگوں اور بچوں کے سامنے تو میں نے بات چھیڑنا مناسب نہیں سمجھا، لیکن اصل میں سوچا کیا ہے آگے؟“
اسد نے بے یقینی، حیرت اور تذبذب بھری نظروں سے بیوی کی جانب دیکھا
” آپ تو مصروف ہوتے ہیں، میں نے کچھ حساب کتاب جوڑا ہے،“
” کس چیز کا؟“

” بڑا سعید تو ماشا اللہ برسر روزگار ہو گیا ہے، شادی بھی سر پر کھڑی ہے، جیسے ہی آپ کی گریجیوٹی کی رقم آتی ہے میں تو کہتی ہوں اس فرض سے سبکدوش ہوجائیں“

” درست“ اسد نے سر ہلایا۔ (یعنی وہ ریسرچ اینڈ ڈیزائن والے معاملے کو سر دست آئندہ کے لئے اٹھا رکھنا ہوگا)

” پیچھے رہ گیا ولید ابھی دو سال اس کی گریجوئشن میں ہیں، شکر ہے اللہ نے اپنی چھت تو اچھے وقتوں دے دی تھی مگر ہاؤس بلڈنگ والوں کی قرضے کی قسط بھی ابھی چار سال مزید چلنی ہے۔“

اسد کے چہرے کے تاثرات میں فکر مندی زیادہ تھی یا اپنے ناسٹلجک یوفوریا کی بھاپ اڑنے پر سٹپٹاہٹ، اسے خود سمجھ نہ آئی۔ البتہ بیوی نے ہمیشہ کی طرح ا س کی ان کہی کو سنتے ہوئے جلدی سے بات آگے بڑھائی

”فی الحال آپ کی کمیوٹیشن کی رقم پنشنرز اکاؤنٹ میں ڈال دیں گے، آپ کی پنشن ملا کر اس سے ولید کی فیس اور گھر کے دوسرے اخراجات پورے ہوتے رہیں گے۔ جب اللہ خوشی کا موقع لائے گا تو اسی رقم کو نکال کر اس کی شادی کردیں گے۔“

اسد کی چہرے پر اطمینان ایک لحظہ ہی ٹھہر سکا

”پیچھے رہ گئی فضہ وہ ابھی میٹرک کی بچی ہے، کافی وقت ہے، بس آپ جلدی سے کوئی اچھی پرائیویٹ یونیورسٹی دیکھ کر جوائن کر لیں، انشا ا للہ اس کی شادی کی عمر ہونے تک میں آ پ کی تنخواہ سے جہیز کی تیاری کے ساتھ ساتھ شادی کے خرچہ کی رقم بھی جمع کر لوں گی۔“

*****

مقامی پرائیویٹ یونیورسٹی کے ایچ آر ہیڈ کا نمبر ڈائل کرتے ہوئے، اسے اپنی حالت اس سٹوڈنٹ جیسی لگی جو آخری دس منٹ میں اپنے پرچے کے سارے سوال حل کرنا چاہ رہا ہو۔ اسے لگا قدرت کا ممتحن اس کی بے بسی پر ویسے ہی خندہ زن ہے جیسے وہ ان طالب علموں کی ملتجی نظروں سے محظوظ ہوا کرتا تھا۔

”جی، آپ نے چند دن پہلے رابطہ کیا تھا، اپنی یونیورسٹی میں فیکلٹی پوزیشن کے لئے“
” جی بالکل، مگر آپ تو انٹرسٹڈ نہیں تھے شاید“

” جی ایسا ہی تھا، دیکھیں میری کوئی مالی مجبوری تو نہیں، آرام کرنا چاہتا تھا، کچھ ادھورے شوق تھے جنہیں پورا کرنے کا سوچا تھا۔ مگر پھر میں نے سوچا کہ اللہ نے جو علم، تجربہ اور مہارت مجھے بخشی ہے، اس کو اگر نئی نسل کو منتقل نہ کیا تو کہیں اللہ کے بخشے ہوئے خزانے میں بخیلی کا مرتکب نہ پایا جاؤں، کہیں اسی پر پکڑ نہ ہو جائے“ اپنے لہجے کا کھوکھلا پن اسے بری طرح کھلا،

”ماشا اللہ، بڑے عظیم خیالات ہیں آپ کے، مگر ہمیں افسوس ہے فوری طور پر تو ہم وہ ویکینسی پر کر چکے ہیں، لیکن میں آپ کا نام نوٹ کر لیتا ہوں، آپ اپنا سی وی بھیج دیں، جیسے ہی کوئی صورت نکلی میں آپ سے دوبارہ رابطہ کر لوں گا“ ۔

فون رکھتے ہوئے اس نے سوچا
” ایسی قابلیت، ایسی ذہانت کس کام کی جو ٹائم مینیجمنٹ نہ کر پائے۔“

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •