ڈنک: ایک نوجوان پاکستانی لڑکے کو فہد مصطفیٰ کے نئے ڈرامے سے کیا مسائل ہیں؟

منزہ انوار - بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

’ہراسانی کے جھوٹے الزامات کے موضوع پر بنایا گیا ڈرامہ (ڈنک) یہ کہہ کر نشر کیا جا رہا ہے کہ اس کا مقصد اس مسئلے کے بارے میں شعور پیدا کرنا ہے؟ مگر ہمارے معاشرے میں تو پہلے ہی زیادہ تر لوگ 90 فیصد الزامات کو جھوٹ کا لیبل لگا کر مسترد نہیں کر دیتے۔ یہ ڈرامہ عورتوں سے تعصب برتنے والے ہمارے معاشرے اور ہراسانی کرنے والے افراد کے ان نظریات کو مزید تقویت دے گا کہ لڑکیاں توجہ حاصل کرنے کے لیے یا جب انھیں جو چاہیے ہو وہ ملتا نہیں تو مایوسی کے عالم میں ایسے الزامات لگاتی ہیں۔ ڈرامہ بنانے والوں نے جان بوجھ کر اس چیز کو نظر انداز کیا ہے کہ اس ڈرامے کے بعد جنسی ہراسانی کا شکار خواتین چپ رہنے پر مجبور ہو جائیں گی۔‘

یہ کسی لڑکی کی نھیں بلکہ لاہور میں رہنے والے ایک 22 سالہ نوجوان محمد سلمان کی گذشتہ شب ایک نجی ٹی وی چینل پر نشر ہونے والے نئے ڈرامہ سیریل ’ڈنک‘ کے متعلق رائے ہے۔

کورونا وائرس کی وبا نے جہاں ایک طرف لوگ گھروں میں زیادہ وقت گزارنے پر مجبور کیا ہے وہیں ایسے وقت میں بیشتر افراد کے لیے پاکستانی ڈرامے انٹرٹینمنٹ کا واحد ذریعہ بن کر سامنے آئے ہیں۔

ایسے میں دوستوں اور عزیزوں کے ساتھ چائے پیتے بیٹھ کر کی جانے والی بحث بھی اب کیفے ٹیریا اور ڈرائنگ رومز سے سوشل میڈیا پر آ گئی ہے اور آئے روز کسی نہ کسی ڈرامے سے متعلق بحث ہوتی نظر آتی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

’جلن اور نند پر بات ہونا ہی ان ڈراموں کی کامیابی ہے‘: فہد مصطفیٰ

کیا پاکستانی ٹی وی ڈرامہ فحش اور غیراخلاقی ہو گیا ہے؟

’عورت ریپ کرنے کی برابری نہیں مانگ رہی‘

’ڈنک‘ ڈرامہ بنانے والوں کا دعویٰ ہے کہ اس ڈرامے کا مقصد جنسی ہراسانی کے جھوٹے الزامات کے متعلق شعور بیدار کرنا ہے۔ لیکن اس ڈرامے کی پہلی قسط کے بعد سوشل میڈیا پر رائے منقسم نظر آتی ہے۔ جہاں ایک طرف اس کے موضوع کی تعریف ہو رہی ہے تو کئی افراد اس پر سخت تنقید کرتے ہوئے اسے پاکستان میں ’می ٹو‘ تحریک کو نقصان پہنچانے کی ایک اور کوشش قرار دے رہے ہیں۔

کئی افراد کا کہنا ہے کہ ڈراموں میں دکھائے جانے والے مواد کے معاشرے پر دور رس اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ لیکن اگر کسی معاشرے کی اجتماعی سوچ عورتوں کے متعلق پہلے ہی متعصبانہ ہو تو ایسے میں مردوں کو مظلوم اور عورتوں کو جھوٹی ظاہر کرنے سے عورتوں کے ساتھ ہونے والے تعصب اور ہراسانی جیسے واقعات میں مزید اضافہ ہو گا۔

سلمان نے انھی مسائل کی جانب نشاندہی کی ہے اور اس ڈرامے کے حوالے سے ان کے خیالات پر مشتمل تھریڈ ٹویٹر پر وائرل ہے۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے سلمان کا کہنا تھا کہ ہمیں یہ ماننا پڑے گا کہ پاکستان کی میں زیادہ تر لوگ ناصرف عورتوں کے مسائل کو نظر انداز کرتے ہیں بلکہ عورتوں کے متعلق ان کی سوچ متعصبانہ ہے۔

’جہاں تک اس ڈرامے کی بات ہے تو اگر آپ جنسی ہراسانی سے متعلق امریکہ اور برطانیہ کے اعداد و شمار دیکھیں تو ان ممالک میں تقریباً صرف 2-5 فیصد مقدمات جھوٹے نکلتے ہیں لیکن اگر پاکستان کی بات کریں جہاں غیرت کے نام پر قتل ایک عام سی بات ہے اور ہمارے مرد اپنے گھر کی خواتین کو لے کر اتنے جنونی ہوتے ہیں، ایسے معاشرے میں ہراسانی کے متعلق جھوٹ بول کر عورتوں کو ملے گا کیا؟‘

سلمان کا کہنا ہے جس معاشرے میں بہادری کا مظاہرہ کرکے اپنے ساتھ ہونے والی زیادتی رپورٹ کرنے اور اس کے خلاف آواز اٹھانے والی عورتوں کو اتنا کچھ سننے کو ملتا ہے، اور جہاں پہلے ہی 90 فیصد اصل مقدمات کو غلط کہہ کر بھی مسترد کر دیا جاتا ہے، سوچیں ایسے میں دو یا تین غلط الزامات کی بنیاد پر ڈرامہ بنا کر نیشنل ٹی وی پر نشر کرنے کے کیا اثرات ہوں گے۔

ڈرامے کے پروڈیوسر فہد مصطفیٰ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے ان کا کہنا ہے کہ ’فہد مصطفی کہتے ہیں کہ وہ ہر نظریے کو پیش کرنا چاہتے ہیں اور ان کے خیال میں یہ موضوع اہم ہے تو آپ دفاتر، گھروں، ٹیوشن سینٹروں، سکولوں، ہسپتالوں، شاپنگ مالز، مدرسوں میں رشتے داروں، اساتذہ، والد اور شوہروں کے ہاتھوں ہونے والی ہراسانی کے بارے میں ڈرامے کیوں نہیں بناتے۔۔۔پہلے آپ ان حقیقی مسائل پر ڈرامے بنا لیں پھر جو 0.00001 فیصد رہ جائے گا اس پر بھی بنا لیجیے گا۔‘

انھوں نے ’میرے پاس تم ہو‘ ڈرامے کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ اس ڈرامے کی طرح ڈنک کے ذریعے بھی ہمارے عورتوں سے نفرت کرنے اور انھیں ہی موردِ الزام ٹھہرانے والے معاشرے کے تعصب میں اضافہ ہو گا اور ہراسانی کے واقعات کی رپورٹنگ کے حوالے سے پہلے سے موجود دشواریوں میں مزید اضافہ ہوگا۔

سلمان کا کہنا ہے کہ جب کوئی عورت ہراسانی یا ریپ کا شکار ہوتی ہے تو جو اس عورت پر گزرتی ہے وہ بہت مشکل صورتحال ہوتی ہے، ایسے میں جب آپ نیشنل ٹی وی پر ایسے ڈرامے بنا کر دکھائیں گے تو آپ کو اندازہ ہے لوگ کیسی باتیں کریں گے؟ ’اس کے بعد جو بھی نیا مقدمہ سامنے آئے گا لوگ کہیں گے ’یاد ہے نا فلاں ڈنک میں بھی ایسے ہوا تھا، لڑکی نے جھوٹ بولا تھا۔‘

ان کا ماننا ہے کہ اس ڈرامے کے بعد ہمارا معاشرہ 99 فیصد حقیقی اور سچے مقدمات کو چھوڑ کر صرف ایک اس مقدمے کے حوالہ دیں گے جو جھوٹ نکلا۔

سلمان کے مطابق یہ ڈرامہ اس نظریے کو ناصرف بیچ رہا ہے بلکہ اسے مزید فروغ دے رہا ہے کہ بہت دفع ایسے ہوتا ہے کہ لڑکیاں جھوٹ بولتی ہیں، حالانہ ایسا صرف ایک آدھ بارہی ہوتا ہے کہ لڑکی نے جھوٹا الزام لگایا ہو۔

فہد مصطفیٰ

BBC

ڈرامہ پروڈیوسر اور اداکار فہد مصطفیٰ نے چند دن قبل بی بی سی اردو کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ ’لوگوں کو ڈرامے کا مقصد سمجھنے کے لیے تھوڑا صبر سے بھی کام لینا چاہیے، فیصلہ سنانا ہے تو کہانی ختم ہونے کے بعد سنائیں، درمیان میں نہیں۔‘

تو کہیں ہم صرف ٹیزر اور پہلی قسط دیکھ کر جلد بازی میں رائے قائم تو نہیں کر رہے؟ اس بارے میں سلمان کہتے ہیں ’ایک چیز ہوتی ہے ہسٹری، اے آر وائی پر دکھائے جانے والے زیادہ تر ڈرامے فہد مطفی کی کمپنی بگ بینگ نے تیار کیے ہیں جن کی حالیہ مثالیں ’جلن‘ اور ’نند‘ ہیں۔۔۔ آپ یہ سارے ڈرامے دیکھ لیں ان میں 99 فیصد عورت کو ہی فساد کی جڑھ دکھایا گیا ہے۔‘

’ان کے ڈرامے دیکھ کر تو لگتا ہے عورتوں کی وجہ سے پورے کے پورے ملک ہی ٹوٹنے لگے ہیں۔‘

سلمان کہتے ہیں ناصرف فہد کے بنائے گئے ان ڈراموں کی ہسٹری بلکہ اگر آپ فہد کے انٹرویو اٹھا کر دیکھ کر لیں تو آپ جان لیں گے میری تنقید کتنی جائز ہے۔

فہد مصطفی کے ایک حالیہ انٹرویو کا حوالہ دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’اس انٹرویو میں فہد نے کہا تھا ’میں ایک مثال قائم کرنا چاہتا ہوں تاکہ باقی برینڈ کی حوصلہ افزائی ہو اور وہ ہراسانی کے جھوٹے مقدمات کا شکار افراد کو کام دیں‘۔۔۔۔ یعنی فہد ہراسانی کے مبینہ ملزمان کو کام دلوانا چاہتے ہیں۔‘

سلمان کا ماننا ہے کہ اکثر لوگ جو کہتے ہیں کہ ’مصنف یا پروڈیوسر اپنی ذاتی سوچ اور نظریات کو سائیڈ پر رکھ کر ڈرامہ لکھتا یا بناتا ہے، ایسا نہیں ہو سکتا۔ آپ جو سوچتے اورجس کے بارے میں بات کرتے ہیں آپ وہی لکھتے اور بناتے ہیں اور آپ کے ڈرامے میں آپ کی سوچ نظر آتی ہے اور یہی انسانی فطرت ہے۔‘

’جیسے ’میرے پاس تم ہو، میں خلیل الرحمن قمر کی سوچ سامنے آئی تھی، ایسے ہی ’ڈنک‘ میں فہد مصطفی کی سامنے آئے گی۔‘

کیا تنقید کرنے سے ڈرامے پر پابندی لگوائی جا سکتی ہے؟

اس بارے میں سلمان کا کہنا ہے کہ اگر ’چڑیلز‘ جیسے فیمینیسٹ ڈرامے پر صرف اس بنیاد پر پابندی لگائی جا سکتی ہے کہ اس میں عورتوں کو زیادہ لبرل دکھایا گیا ہے، اور جہاں ہر دوسرے دن چھوٹی سے چھوٹی بات پر ڈرامے اور فلموں پر پابندی لگا دی جاتی ہے، ایسے میں پیمرا کے لیے ڈنک پر پابندی لگانا کوئی اتنا بڑا معرکہ نہیں ہونا چاہیے۔‘

سلمان کا کا کہنا تھا کہ اگرچہ وہ آرٹ پر پابندی کےسخت خلاف ہیں لیکن ہمارے پہلے سے ہی عورتوں سے نفرت کرنے والے اور ان سے متعصبانہ رویے والے معاشرے میں اگر کچھ ڈرامے ایسی سوچ اور رائے سے فائدہ اٹھانے اور عورتوں کے ساتھ زیادتی اور تشدد میں مزید اضآفے کا سبب رہے ہیں، تو مجھے نہیں لگتا کہ اس طرح کے ڈراموں پر پابندی غلط ہو گی۔‘

ان کا کہنا تھا کہ اگر اس ڈرامے پر پابندی نہیں لگتی تو ایسے میں ہمیں اس ڈرامے کو نظر انداز کرنا چاہیے اور خود پر حاوی نہیں ہونے دینا چاہیے تبھی پروڈکشن کمپنیوں کو سمجھ آئے گی کہ عوام ایسے ڈرامے نہیں دیکھنا چاہتی۔ لیکن اگر ہم دیکھتے رہے اور ان کی وئیورشپ بڑھتی رہی اور پیسے بنتے رہے تو وہ کیوں بند کریں گے۔‘

سلمان کا ماننا ہے کہ ان مسائل پر بولنا بہت ضروری ہے ’میں ٹویٹر پر بولتا ہوں آپ کہیں پر بھی اپنے خیالات اور رائے کا اظہار کر سکتے ہیں اور یہ بہت ضروری ہے۔‘

ناصرف پاکستان بلکہ جہاں جہاں پاکستانی ڈرامے دیکھے جاتے ہیں، وہاں رہنے والے نجی ٹی وی چینلز پر نشر ہونے والے اس ڈرامے کی کہانی سے لے کر کرداروں اور پروڈیوسر، ڈرائریکٹروں کے ماضی میں دیے گئے بیانات تک کو ڈھونڈ کر اس کا موازنہ ان کی تخلیق سے کرنے لگے ہیں اور حتیٰ کہ چینل انتظامیہ بھی تنقید کی زد میں ہے۔

ایک صارف نے لکھا ’اے آر وائی نے نے پہلے ‘جھوٹی’ کے نام سے ایک ڈرامہ نشر کیا جس میں انھوں نے دکھایا کہ خواتین گھریلو تشدد کے بارے میں کس طرح جھوٹ بولتی ہیں اور اسے بطور ہتھیار استعمال کرتی ہیں اور اب ‘ڈنک’ میں وہ ہراساںی کے متعلق بھی ایسا ہی کررہے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ یہ ملک خواتین سے نفرت کرتا ہے اور وہ یہی چیز فروخت کر رہے ہیں۔‘

دوسری جانب کئی صارفین کو اس ڈرامے کا موضوع بہت پسند آیا اور ان کا کہنا ہے کہ اس ڈرامے میں ایک اہم سماجی مسئلے کی نشاندہی کی گئی ہے۔

اسی جانب اشارہ کرتے ہوئے مہر لکھتے ہیں ’ہماری سوسائٹی کے اہم اور حساس مسئلے پر کافی دیر بعد ڈرامہ بنا ہے۔ ہراساں کرنے سے ہمیشہ عورت کی زندگی برباد نہیں ہوتی۔ کبھی کبھی اپنے فائدے کے لیے اس کا غلط استعمال کسی مرد کی عزت اور زندگی کو بھی تباہ کر دیتا ہے۔‘

’جب تک لوگ بات کررہے ہیں، تب تک میرے خیال میں صحیح ہے‘

ناقدین کے اسی رویہ کے متعلق چند دن قبل بی بی سی اردو کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ڈرامہ پروڈیوسر اور اداکار فہد مصطفیٰ کا کہنا تھا کہ ‘ٹی وی آج سے نہیں، ہمیشہ سے ہی ایسا تھا، بولڈ اینڈ دی بیوٹی فل کے زمانے سے، لیکن اب چونکہ لوگوں کے پاس اپنی رائے کا اظہار کرنے کے لیے گیجٹ موجود ہیں، تو سب دیکھتے بھی ہیں اور بات بھی منفی زیادہ کرتے ہیں۔ جب تک لوگ بات کررہے ہیں، تب تک میرے خیال میں صحیح ہے۔‘انھوں نے مزید کہا کہ ہر ڈرامے سے لوگوں کو سکھا نہیں سکتے، جتنی ان کی کوشش ہوتی ہے اتنا ضرور کرتے ہیں۔ فہد کا کہنا تھا کہ میں ایک کہانی دکھاتا ہوں، اچھی لگی تو لوگ دیکھیں گے، نہیں لگی تو نہیں دیکھیں گے، جس ڈرامے کی بات نہیں ہوتی وہ لوگ نہیں دیکھ رہے ہوتے۔ ان کا کہنا تھا کہ پہلے تو کچھ بھی کہیں بھی چل جاتا تھا اور عشق ممنون اس کی سب سے بڑی مثال ہے ’سینٹرل آئیڈیا کہیں سے بھی آسکتا ہے، بات جو نکلی ہے وہ سب نے دیکھی ہے، اور ان کو ٹھکی بھی ہے، اگر ٹھکی ہے تو ٹھیک ہے۔‘

جلن ڈرامے پر تنقید کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ ’میرے لحاظ سے ‘جلن’ میں کوئی غیر اخلاقی بات نہیں ہوئی، جس کو برا لگا اس کا اپنا دماغی مسئلہ ہے۔‘

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 17287 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp