بلوچستان کی پہلی خاتون ’اے ایس پی‘ پری گل ترین
کسی بھی خواب کی تکمیل کے لئے انسان کو بہت محنت کرنی پڑتی ہے، مشکلات جھیلنی پڑتی ہے۔ وہ لوگ جو اپنے نصب العین کو پہچان کر مسلسل کوشش میں لگے رہتے ہیں وہ اپنا منزل مقصود پا کر ہی دم لیتے ہیں۔ اور بلاشبہ انسان کی محنت کے صلے کا وعدہ اللہ نے کیا ہوا ہے۔ بعض اوقات انسان ظاہری مشکلات سے ڈر کر پیچھے ہٹ جاتا ہے تو وہ ناکام تصور کیا جاتا ہے اور دنیا اسے یاد نہیں رکھتی مگر جو لوگ مستقل مزاجی سے خواب کی تکمیل میں لگے رہتے ہیں، رہتی دنیا تک ان کا نام یاد رکھا جاتا ہے۔
پاکستان ایک ایسا ملک ہے جہاں خواتین کی تعلیم پر کبھی کوئی خاص توجہ نہیں دی گئی ہے۔ اگر بات رقبہ کے لحاظ سے سب سے بڑے صوبہ بلوچستان کی آ جائے تو حالت مزید ابتر ہے۔ ایک ایسا صوبہ جہاں لڑکیوں کی تعلیم کی شرح انتہائی کم یعنی بمشکل 24 فیصد ہے۔ ایک ایسا صوبہ جہاں بیشتر اضلاع سکولوں اور کالجوں سے محروم ہیں، جبکہ یونیورسٹیاں تو پورے صوبہ میں گنتی کے تین، چار ہیں۔ جن علاقوں میں اگر کسی سکول کا وجود ہے بھی تو اساتذہ کا نہ ہونا، بنیادی سہولیات کا نہ ہونا یا پھر حتی کہ سکول کی عمارت کا نہ ہونا جیسے اہم مسائل ہوں تو وہاں اچھے نتائج کا حصول اور ٹیلنٹ کا آگے آنا ظاہرا مشکل نظر آتا ہے۔ مگر عزم جواں ہو اور ارادے مضبوط ہوں تو پہاڑ کی بلند سے بلند چوٹی کو سر کرلینا بھی بعض اوقات ممکن ہوجاتا ہے۔
پری گل ترین کی کہانی تمام نوجوان لڑکیوں اور لڑکوں کے لئے امید کی کرن اور مشعل راہ ہے۔ یہ ایک ایسی لڑکی کی داستان ہے جس نے پولیس کی وردی پہننا اپنی زندگی کا نصب العین منتخب کیا۔ یہ ایک ایسی بچی کا قصہ ہے کہ بچپن کی جس عمر میں کھلونوں کی فریاد کی جاتی ہے انہوں نے کتابوں کی طلب کی۔ یہ تعلیم سے محبت کرنے والی ایک ایسی لڑکی کی کہانی ہے جن کے گاؤں میں ابھی تک کوئی مڈل سکول نہیں بنا۔ یہ ایک ایسی بہادر لڑکی کی زندگی کا سفر ہے جس نے راستہ میں آنے والی ہر مشکل کا جواں مردی سے نہ صرف مقابلہ کیا اور تمام معاشرتی رکاوٹوں کو توڑ کر آخرکار منزل مقصود حاصل کرلی۔
بلوچستان کی تاریخ کی پہلی خاتون اے ایس پی ( اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ آف پولیس) پری گل بلوچستان کے ضلع پشین میں پیدا ہوئیں۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم کی سیڑھیوں سے گزرتے ہوئے 2008 میں میٹرک کی تعلیم مکمل کی تو وہ اپنے آٹھ بہن بھائیوں میں پہلی فرد تھی جنہوں نے اتنی زیادہ تعلیم حاصل کی کیونکہ ان سے پہلے نہ تو ان کے بھائیوں میں سے اور نہ بہنوں میں سے کوئی میٹرک تک تعلیم حاصل کرسکے ہیں۔ وہ اس حوالے سے اپنی خیالات کا اظہار کرتی ہیں کہ ’میرا تعلق بھی دوسری پشتون لڑکیوں کی طرح ایک ایسے قبائلی اور قدامت پسند معاشرہ سے ہے جہاں لڑکیوں کی تعلیم کبھی بھی پہلی ترجیح نہیں رہی ہے، مگر میں خوش قسمت تھی کہ میرے خاندان نے مجھے اس حوالے سے سپورٹ کیا‘ ۔ ان کے مطابق عموماً لڑکیوں کو تعلیم نہ دلوانے کے پیچھے ایک یہ نظریہ رکاوٹ ہے جو کہ یہ سمجھتا ہے کہ لڑکی بیاہنے کے بعد کمائی اپنے خاوند کے گھر لے جائے گی، یہی وہ بنیادی وجہ ہے کہ والدین اپنی بیٹیوں کی تعلیم کو اہمیت نہیں دیتے ’۔
میٹرک کے بعد بدقسمتی سے معاشرتی دباو اتنا زیادہ ہوا کہ پری گل ترین ریگولر تعلیم جاری نہیں رکھ سکی، اور وہ تعلیم کو خیرآباد کہہ گئی۔ مگر وہ ہمت نہیں ہاریں اور مسلسل اپنے خاندان کو تعلیم کی افادیت بتاکر آمادہ کرتی رہیں، کیونکہ ان کے خواب نے ان کو تمام معاشرتی رکاوٹیں دور کرنے کی ہمت دی۔ انہوں نے کالج اور گریجویشن تک پرائیویٹ تعلیم حاصل کی، جب امتحان میں اچھے نتائج آئے تو وہ پرامید تھیں کہ وہ اپنے خاندان سے اپنی بات منوا لیں گی، اور بالآخر اپنے مقصد میں کامیاب ہو کر ماسٹر کے لئے وہ اسلام آباد چلی گئیں جہاں انہوں نے نمل یونیورسٹی سے 2014 میں انگریزی ادب میں ڈگری حاصل کی۔ ان کا کہنا ہے کہ ”جب خواتین اپنے مردوں کو شاپنگ کے لئے منوا سکتیں ہیں تو تعلیم کے حصول کے لئے آمادہ کیوں نہیں کرسکتیں“ ۔ کیونکہ ان کا ماننا ہے کہ جب تک انسان اپنے پاؤں پر کھڑا نہیں ہوتا اس کی عزت نہیں کی جاتی کیونکہ یہ معاشرہ اتنا بھی دوستانہ نہیں ہے۔
اگرچہ بلوچستان میں اس سے پہلے بھی خواتین مختلف مقابلے کے امتحانات میں کامیاب ہو کر انتظامی عہدوں پر فائز ہیں جن میں اسسٹنٹ کمشنر ندا کاظمی، اسسٹنٹ کمشنر روحانہ کاکڑ، اسسٹنٹ کمشنر ثناماہ جبیں، اسسٹنٹ کمشنر فریدہ ترین اور اسسٹنٹ کمشنر حمیرا بلوچ جیسے مشہور نام موجود ہیں۔ مگر ایک بلوچستانی خاتون کا پولیس سروسز آف پاکستان میں بحیثیت افسر شمولیت یہ پہلی دفعہ ہوا ہے، اور یہ اعزاز پری گل ترین کے پاس ہے۔ ان سے تحریک لیتے ہوئے ایک اور لڑکی کائنات اظہر بھی اب پولیس سروسز کے لئے کامیاب ہوئی ہیں۔
پولیس کا شعبہ منتخب کرنے کے حوالے سے پری گل بتاتی ہیں : ’یہ وردی ہمیشہ سے میرے لئے ایک فخر اور موٹویشن کا ذریعہ رہی ہے۔ پولیس عوامی خدمت پر مشتمل ایک عزم اور ولولہ رکھنے والا ادارہ ہے۔ مجھے ادراک ہے کہ مرد غالب معاشرہ میں کام کرنا ہرگز آسان نہیں ہوگا مگر میں اس کے لئے ذہنی طور پر تیار ہوں‘ ۔ وہ گزشتہ ماہ صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں بطور اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (اے ایس پی) تعینات ہوئیں یہ نئی ذمہ داری سنبھالنے کے بعد پہلا کام جو انہوں نے کیا، وہ خواتین کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کی رپورٹ کی حوصلہ افزائی کے لیے ایک خصوصی ڈیسک کا قیام تھا۔
ان کا کہنا تھا: ’جب تک خواتین باہر نکل کر اپنے حقوق کے لیے نہیں لڑیں گی تب تک کوئی انہیں ان کے حقوق نہیں دینے والا۔‘ انہوں نے اس موقع پر مزید کہا: ’ہم خواتین کی آگاہی کے پروگرام پر کام کر رہے ہیں تاکہ وہ آگے آئیں اور پولیس کے ساتھ مل کر جرائم کی روک تھام کے لیے کام کریں۔‘ پری گل کا کہنا تھا: ’خواتین پر بھی یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ معاشرے کی فعال اور کارآمد رکن کی حیثیت سے تعمیری کردار ادا کریں۔
‘ انہوں نے خواتین پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ’معاشرہ اتنا دوستانہ نہیں ہے کہ وہ آپ کو جگہ فراہم کرے، لہٰذا اپنے لیے مقام آپ کو خود تلاش کرنا ہے۔‘ پری گل بتاتی ہے کہ: ’یہ میرا ہمیشہ سے خواب تھا کہ وردی پہن کر اپنے لوگوں کی خدمت کرسکوں،‘ ساتھ ہی انہوں نے افسوس کرتے ہوئے کہا: ’ایک طرف صوبے کی پہلی خاتون پولیس افسر بننا جہاں میرے لیے اعزاز کی بات ہے تو دوسری طرف یہ بات باعث پریشانی ہے کہ ایک خاتون 73 سالوں بعد یہ اعزاز 2020 میں ہی حاصل کرسکی اور کئی دہائیوں تک خواتین کو تعلیم اور معاشرے میں مثبت کردار کی ادائیگی سے محروم رکھا گیا‘ ۔
مقابلے کے امتحان سی ایس ایس کے حوالے سے وہ نئے امیدواروں کو رہنمائی کے حوالے سے کہتی ہے : ’یہ ایک طویل سفر ہے جس میں محنت اور مستقل مزاجی جاری رکھنی چاہیے‘ ۔ پڑھنے کے ساتھ ساتھ لکھنے کو بھی وہ لازمی قرار دیتی ہے، اور اپنے لکھے ہوئے کو کسی سینئر سے چیک کروانا بھی ضروری ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے گروپ ڈسکشن پر بھی زور دیا ہے کہ اس سے یاد دہانی کی شرح زیادہ ہوتی ہے۔ کمپوزیشن اور انگریزی مضمون کے پیپر کو وہ زیادہ اہمیت دیتی ہے اور ساتھ میں اخبارات اور کتابوں کے مطالعہ پر بھی زور دیتی ہے۔
انہوں نے تاکید کی کہ بہت سارے امیدوار وقت کو صحیح سے متعین نہیں کرپاتے جس کی وجہ سے ان کے سوالات رہ جاتے ہیں۔ اس کے لئے وہ سمجھاتی ہے : ’تمام سوالوں کے یکساں نمبر ہوتے ہیں لہذا ضروری ہے کہ سب کو یکساں وقت ہی دیا جائے تاکہ ایک سوال کو حل کرنے کی وجہ سے دوسرا سوال متاثر نہ ہو۔‘ صرف خواب مت دیکھیں بلکہ اس خواب کو حقیقت میں بھی بدلیں ’۔
محترمہ نے حکومت سے تعلیم پر زیادہ توجہ دینے کی گزارش کی ہے کیونکہ موجودہ وقت میں بھی ان کے گاؤں میں مڈل سکول تک نہیں ہے۔ اور یہ حالت صرف ان کے گاؤں کی نہیں بلکہ اکثر علاقوں میں سکولوں کی کمی ہے۔ وہ والدین بالخصوص والد، بھائی اور تمام مرد حضرات کو پیغام دیتی ہے کہ اپنے بچیوں کو تعلیم دلوائیں کیونکہ ان کا خیال ہے کہ لڑکیاں بھی اپنے والدین اور ملک کا نام روشن کر سکتی ہیں اگر ان کو موقع دیا جائے۔ ان کی سی ایس ایس کی کامیابی میں وہ اپنے والدین، بھائیوں کے ساتھ ساتھ شوہر کو بھی کریڈٹ دیتی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ان کی کامیابی پر ان کے گھر والے بہت خوش تھے کیونکہ معاشرے نے انہیں ان کی تعلیم حاصل کرنے کی وجہ سے دیوار سے لگایا تھا۔
ایک مشہورانگریزی مقولہ ہے ’اگر آپ کسی مرد کو تعلیم دلواتے ہیں تو دراصل یہ صرف ایک فرد کی تعلیم ہے مگر ایک عورت کو تعلیم دلوانا ایک قوم کی تعلیم یافتہ ہونے کی نشانی ہے۔ اور اس میں کوئی شک نہیں کہ اسلام نے بھی مردوں کے ساتھ ساتھ خواتین کی تعلیم پر یکساں زور دیا ہے، جیسے حدیث نبوی (ص) ہے ”علم حاصل کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے“ ۔ لہذا آج ضرورت اس امر کی ہے کہ لڑکیوں کی تعلیم کی راہ میں موجود رکاوٹوں کو دور کیا جائے اور ان کو بھی تعلیم کے حصول کے لئے یکساں وسائل فراہم کیے جائیں۔
ایک باشعور ماں ہی اپنے بچوں کی بہتر طریقے سے تربیت کر سکتی ہے۔ اس سلسلے میں جہاں حکومت کی ذمہ داری پوری کرنی ضروری ہے وہیں بحیثیت ایک بھائی، ایک والد، اور ایک خاوند کے ہم سب کو اپنی بہنوں، بیٹیوں اور بیویوں کو تعلیم دلوانی ضروری ہے۔ آئیں آج یہ عہد کریں کہ ہم سب اپنے گھروں میں پری گل ترین جیسی بیٹیوں اور بہنوں کو پروان چڑھائیں گے۔






