ڈاکٹر مہندر واتسا: انڈیا میں سیکس ایجوکیشن دینے والے معروف ڈاکٹر 96 برس کی عمر میں چل بسے

دس سال سے زیادہ عرصے تک اپنے کالمز کے ذریعے عوام میں سیکس ایجوکیشن دینے والے ڈاکٹر واتسا 96 برس کی عمر میں وفات پا گئے ہیں۔

وہ ‘سیکسپرٹ (یعنی سیکس کے ماہر) سے سوالات’ کے عنوان سے کالم لکھا کرتے تھے۔

ڈاکٹر مہندر واتسا ایک ماہر گائناکولوجسٹ تھے اور اپنے کالمز میں وہ ہزاروں انڈینز کی جانب سے سیکس سے متعلق پوچھے گئے سوالات کا طنز و مزاح اور معلومات سے بھرپور جواب دیتے تھے اور نہایت ہی آسان الفاظ استعمال کرتے تھے۔

ڈاکٹر مہندر کے بچوں کی جانب سے ان کی وفات کے بعد جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ ‘ڈاکٹر واتسا نے بھرپور اور اپنی شرطوں پر زندگی گزاری۔’

یہ واضح نہیں ہے کہ موت کے وقت وہ کسی بیماری میں مبتلا تھے یا نہیں۔

ڈاکٹر واتسا نے 80 برس کی عمر میں سیکس کے مشوروں پر مبنی اپنا مشہور و معروف کالم لکھنا شروع کیا جو کہ اخبار ’ممبئی مرر ایکسپریس‘ میں شائع ہوتا تھا۔

اشاعت کے فوراً بعد ہی یہ کالم نہ صرف بہت مقبول ہوا بلکہ اس پر شدید تنقید بھی ہوئی کیونکہ انڈین معاشرے میں سیکس ابھی بھی ایک ایسا موضوع ہے جس پر کھل کر بات کرنا مناسب نہیں سمجھا جاتا۔

چھ سال قبل بی بی سی کو ایک انٹرویو دیتے ہوئے ممبئی مرر کی ایڈیٹر مینل باغل نے کہا ‘جب تک ہم نے کالم چھاپنا شروع نہیں کیا تھا، اس وقت تک انڈین میڈیا میں لفظ پینس یعنی عضو تناسل اور وجائنا یعنی اندام نہانی شاذ و نادر ہی استعمال کیا جاتا تھا۔’

انھوں نے بتایا کہ ڈاکٹر واتسا کے کالم کی اشاعت پر انھیں فحاشی پھیلانے کے کئی الزامات کا سامنا کرنا پڑا جس کے نتیجے میں ان پر مقدمات درج کیے گئے اور نفرت آمیز مواد پر مبنی ڈاک آئی لیکن انھوں نہ کہا کہ اس کالم کو چھاپنے کے فوائد ان تمام مشکلات سے زیادہ تھے۔

ڈاکٹر واتسا کے بارے میں لکھتے ہوئے اخبار کی ایڈیٹر کا کہنا تھا کہ ‘صرف ہمارے اخبار کے لیے ڈاکٹر واتسا نے 20 ہزار سے زیادہ لوگوں کو جوابات دیے۔ اور اگر ہم ان کے بحیثیت سیکس کاؤنسلر کرئیر کو دیکھیں تو ممکنہ طور پر یہ تعداد 40 ہزار سے زیادہ ہو جائے گی۔’

جب ڈاکٹر واتسا 30 کے پیٹے میں تھے تو 1960 کی دہائی میں خواتین کے ایک جریدے نے ان سے کہا تھا کہ وہ ‘ڈیئر ڈاکٹر’ کے نام سے کالم شائع کریں۔

بی بی سی کو 2014 میں دیے گئے انٹرویو میں ان کا کہنا تھا ‘میں یہ اعتراف کرتا ہوں کہ میں خود اس وقت زیادہ تجربہ کار نہیں تھا۔’

لیکن یہ کالم لکھتے ہوئے انھیں بہت جلد اندازہ ہوا کہ ان کے قارئین جو سوالات پوچھ رہے ہیں اس کی وجہ سیکس ایجوکیشن میں کمی ہے۔

اس وجہ سے انھوں نے اپنی زندگی کا مقصد بنا لیا کہ وہ عوام کو سیکس ایجوکیشن دیں گے۔

اس کام کے لیے پہلے انھوں نے فیملی پلاننگ ایسوسی ایشن آف انڈیا کا سہارا لیا اور اس کے بعد پھر ’کونسل آف سیکس ایجوکیشن اینڈ پیرنٹ ہوڈ انٹرنیشنل‘ کے نام سے اپنا ادارہ قائم کیا۔

جب 1974 میں ڈاکٹر واتسا فیملی پلاننگ ایسوسی ایشن آف انڈیا کے لیے کام کر رہے تھے تو انھوں نے ادارے کو باور کرایا کہ ایک ایسا پروگرام شروع کیا جائے جس میں لوگوں کی سیکس کونسلنگ ہو اور انھیں سیکس سے متعلق معلومات دی جائیں۔

حالانکہ اس موضوع پر گفتگو کو بہت متنازع اور فحش سمجھا جاتا تھا لیکن ادارے نے ان کی حمایت کی اور انڈیا کا پہلا سیکس ایجوکیشن اینڈ تھیراپی سینٹر کھولا۔

ممبئی کے ایک میڈیکل کالج میں دوران تعلیم ان کی رہائش اپنے والدین کے جاننے والوں کے گھر میں تھی جہاں ان کی ملاقات اپنی مستقبل کی اہلیہ، پرومیلا سے ہوئی۔ شادی کے بعد وہ انگلینڈ چلے گئے جہاں وہ دو سال مقیم رہے۔

لیکن جب ان کے والد کی طبعیبت ناساز ہوئی تو ڈاکٹر واتسا وطن واپس لوٹ آئے۔

بی بی سی سے 2014 میں بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ‘سیکس ایک بہت پرمسرت چیز ہے۔ لیکن اس کے بارے میں لکھنے والے بہت سنجیدہ ہو جاتے ہیں اور مشکل زبان استعمال کرتے ہیں۔ میں اپنے پڑھنے والوں کی زبان استعمال کرتا ہوں، جسے وہ زیادہ قابل قبول سمجھتے ہیں۔ انھیں لگتا ہے کہ جو شخص ان سے بات کر رہا ہے وہ ان کے جیسا ہی ہے۔‘

ڈاکٹر واتسا کے کالمز میں پوچھے گئے چند سوالات کی جھلکیاں

سوال: دو روز پہلے میں نے اپنی گرل فرینڈ کے ساتھ بغیر کونڈم پہنے سیکس کیا۔ حاملہ ہونے سے روکنے کے لیے ہم نے مانع حمل گولی خریدی لیکن فرطِ جذبات میں وہ گولی میری گرل فرینڈ کے بجائے میں نے کھا لی۔ کیا اس سے مجھے کوئی تکلیف ہوگی؟

جواب: اگلی بار کونڈم پہننا مت بھولیے گا اور خیال رکھیے کہ کہیں آپ اسے بھی نہ نگل جائیں۔

سوال: میں نے سنا ہے کہ تیزابیت والی مائع چیزیں حاملہ ہونے سے روک سکتی ہیں۔ کیا میں سیکس کے بعد اپنی گرل فرینڈ کی اندام نہانی میں لیموں کے یا سنگترے کا جوس ڈال سکتا ہوں یا اسے تکلیف ہوگی؟

جواب: کیا آپ بھیل پوری بیچنے والے ہیں؟ آپ کے ذہن میں یہ عجیب سا خیال آیا کیسے؟ برتھ کنٹرول کرنے کے لیے بہت سے بہتر اور محفوظ طریقے ہیں۔ انھیں استعمال کریں۔

سوال: دن میں چار بار سیکس کرنے کے بعد میں تھک جاتا ہوں اور اگلے دن کمزور محسوس کرتا ہوں۔ کم از کم پانچ منٹ کے لیے مجھے نظر نہیں آتا۔ پلیز میری مدد کریں۔

جواب: آپ کو کیا توقع تھی؟ پورے محلے بھر کو چیخ کر بتانا کہ میں فاتح ہوں؟

سوال: میرا عضو تناسل بہت چھوٹا ہے اور میں اپنی گرل فرینڈ کو تسکین اور راحت نہیں پہنچا پا رہا۔ میرے جوتشی نے مجھے کہا ہے کہ عضو تناسل کو ہر روز 15 منٹ تک کھینچو اور دعا پڑھو۔ میں ایک مہینے سے یہ عمل دہرا رہا ہوں لیکن کوئی افاقہ نہیں ہوا۔ میں کیا کروں؟

جواب: اگر آپ کا جوتشی درست ہوتا تو تقریباً ہر مرد کا عضوِ تناسل گھٹنوں تک لٹک رہا ہوتا۔ خدا ایسے احمقوں کی مدد نہیں کرتا۔ کسی جنسی امور کے ماہر کے پاس جائیں جو آپ کو سیکس کرنے کے بہتر طریقے سے آگاہ کر سکے۔

سوال: میرے گھر والے مجھ پر دباؤ ڈال رہے ہیں کہ میں شادی کروں۔ میں یہ کیسے جان سکتا ہوں کہ جس لڑکی سے میری شادی ہوگی وہ ورجن یا کنواری ہے؟

جواب: میرے خیال میں آپ شادی نہ کریں۔ یہ معلوم کرنے کے لیے شاید آپ کو جاسوس درکار ہو۔ اس بیچاری لڑکی کو اپنے شکی دماغ سے دور رکھیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words