منور ظریف سے طارق ظریف تک: ہدایت کار شاہد مہربان کی نئی فلم ”سچی مچی“

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

میں ایک عرصے سے کوشش کر رہا تھا کہ عظیم کامیڈین منور ظریف کے کسی قریبی عزیز سے ملاقات ہو جائے۔ ایک دوپہر میں ایور نیو اسٹوڈیوز کے منیجر، نگار ایوارڈ یافتہ فلم ایڈیٹر زیڈ اے زلفی صاحب کے دفتر میں بیٹھا تھا کہ مجھے برابر میں واقع باری فلم اسٹوڈیوز سے فلمساز و ہدایتکار نوید رضا کا فون آیا کہ آپ کے مطلب کی خبر ہے۔ میں فوراً ان کے دفتر پہنچا۔ انہوں نے بتایا کہ منور ظریف مرحوم کا کوئی عزیز تو نہ مل سکا لیکن ایک محنتی، ذہین اور جد و جہد مسلسل پر پکا یقین رکھنے والا شخص طارق ظریف مل گیا ہے۔ وہ کئی ایک فلموں اور ٹی وی چینلوں میں کامیڈی رول کر چکا ہے۔ میں نے فون پر اس سے رابطہ کیا اور اگلے روز دن کے گیارہ بجے شالامار باغ میں ملاقات طے ہوئی۔

میں بار ہا اس تاریخی باغ کے سامنے سے گزر ا لیکن عجیب اتفاق ہے کہ آج تک کبھی اس کے اندر نہیں گیا۔ ٹھیک وقت پر ایک صاحب ہیٹ لگائے آئے۔ ہیٹ، چال حتیٰ کہ سراپے سے یوں لگا گویا منور ظریف کو جیتا جاگتا دیکھ رہا ہوں۔ یہی طارق ظریف نکلے۔ بہرحال۔ طارق ظریف سے بے حد دل چسپ بات چیت ہوئی۔ اس کے خاص خاص حصے پڑھنے والوں کے لئے پیش ہیں :

” فنکار پیدائشی ہوتا ہے۔ یعنی یا ہوتا ہے یا نہیں۔ میں نے جب سے ہوش سنبھالا تو منور ظریف اور ان کی بے ساختہ اداکاری دل کو بھاتی تھی۔ میں خود بھی ویسی ہی حرکات کرنے کی کوشش کرتا تھا۔ یہ شوق مجھے فلم اسٹوڈیوز لاتا رہا اور پھر میں نے فلم“ سجن ملدے کدی کدی ”( 1972 ) میں اداکار حبیب صاحب کے بچپن کا کردار ادا کیا۔ اس کا پس منظر یہ تھا کہ ’الحمرا سنیما‘ (اب نہیں رہا) میں مذکورہ فلم کے اس کردار کے لئے اداکار آغا طالش بچوں کے انٹرویو کرہے تھے۔ میری عمر اس وقت 11 سال ہو گی۔ میں بھی چلا گیا۔ نانی کو پتہ چلا تو انہوں نے میری پٹائی کر دی۔ 20 بچوں میں سے میں منتخب ہو گیا۔ اس کے بعد فلم ”ہاشو خان“ (1972) میں بھی بچے کا کردار ادا کیا ”۔

” وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ منور ظریف کو دیکھ کر ان جیسی اداکاری کرنے کا جنون بڑھتا ہی گیا۔ پھر قسمت مجھے منور ظریف صاحب کی شوٹنگ دیکھنے فلم“ دھن جگرا ماں دا ”(1975) کے سیٹ پر لے گئی۔ وقفے کے دوران میں نے ان سے کہا کہ میں آپ کا شاگرد بننا چاہتا ہوں۔ جواب میں انہوں نے مجھے تھپکی دی اور کہا کہ پہلے پڑھائی کرو“۔

” وہ سن 1976، جمعرات 29 تاریخ اور اپریل کا مہینہ تھا جو میں کبھی نہیں بھول سکتا۔ میں ’ریجنٹ‘ سنیما میں اپنے محبوب فنکار کی فلم“ جانو کپتی” (1976) دیکھ رہا تھا کی دفعتا فلم رک گئی اور ہال میں اعلان کیا گیا کہ اداکار منور ظریف انتقال کر گئے۔ مجھے ایسا لگا کہ میری دنیا اجڑ گئی۔ شوبرا ہوٹل کے پیچھے منور ظریف صاحب کے گھر پر ایک دنیا امڈ آئی۔ رنگیلا، ننھا، علی اعجاز، مسعود رانا اور ادکارہ بابرہ شریف کو میں نے خود وہاں دیکھا“ ۔

فلموں میں اپنی آمد کے بارے میں طارق ظریف نے بتایا: ”میری پہلی فلم“ لالو” ( 1989 ) تھی جس کے ہدایت کار فیصل اعجاز تھے۔ اداکارہ کویتا اور سلطان راہی صاحب کے ساتھ میرے تین سین تھے۔ پھر ہدایتکار امتیاز قیصر کی فلم ” خون دا حساب“ (1995) میں سلطان راہی صاحب کے ساتھ 3 سین کئیے۔ فلم ”لاہڑا سربالا تے نائی“ میں سربالے کا مرکزی کردار میں نے ادا کیا۔ فلم مکمل ہو کر ریلیز کے لئے تیاری کے مرحلے میں تھی کہ ڈائریکٹر انتقال کر گئے۔ پھر اس کے بعد میری اگلی فلم ”میں کیہڑے پاسے جاواں“ میں منور ظریف کے گیٹ اپ میں میرا مرکزی کردار تھا۔ اس کے فلمساز لیاقت سائیں کا انتقال ہو گیا۔ امید تو ہے کہ باقی ماندہ کام مکمل کروا کے فلم نمائش کے لئے پیش کر دی جائے گی۔

ایک اور فلم ”مٹی دے باوے“ میں سخاوت ناز، میرا اور امان سوہنا ہم تینوں کے مرکزی کردار ہیں۔ سب اندھوں کے کردار کر رہے ہیں۔ اس کے ہدایتکار یوسف مراد ہیں۔ فلم تقریباً تیار ہے۔ فلم ”رب وارث“ ( 2018 ) میں، میں نے خواجہ سرا کا رول ادا کیا۔ اس کے ہدایتکار شاہد مہربان صاحب تھے۔ میرا کردار پوری فلم میں تھا۔ ہدا یت کار وسیم بٹ صاحب کی اردو فلم ”بچ کے رہنا“ ( 2017 ) میں بھی میرا بڑا رول تھا ”۔

” شاہد مہربان صاحب کی فلم“ سچی مچی ”میں میرا شروع سے آخر تک کردار ہے۔ میں معمر رانا کا دوست ہوں۔ جب سنسر بورڈ یہ فلم دیکھ رہا تھا تو بتانے والے نے بتایا کہ ممبران سنسر بورڈ نے فلم کے ڈائریکٹر شاہد مہربان صاحب سے فلم کی تعریف کی اور پوچھا کہ یہ منور ظریف کہاں سے پکڑا؟“ ۔

جانے والے چلے جاتے ہیں لیکن یادیں چھوڑ جاتے ہیں۔ مجھے یاد ہے طارق ظریف (م) نے مجھے بتایا :۔ ”میں کام کو عبادت سمجھ کر کرتا ہوں“ ۔ مجھے یقین ہے کہ میری طرح جب آپ لوگ اس کی فلم ”سچی مچی“ دیکھیں گے تو آپ بھی اس کو دیکھ کر کہیں گے کہ واقعی طارق ظریف نے سچ کہا۔

اپنی بات چیت میں اس نے کہا : ”نعیم یوسف ٹریجیڈی میں میرے استاد ہیں۔ ببو برال، مستانہ میرے ساتھیوں میں سے ہیں۔ میں نے تھیٹر بھی کیا۔ جیسے :“ رشتہ کا غذ دا ”یہ روبی انعم کے ساتھ کیا تھا جب وہ 14 سال کی تھی۔“ ادھے پاگل ”( 1985 ) میں مجھے سائیں کا رول دیا گیا“ ۔

اپنے استادوں کے ذکر پر طارق ظریف نے بتایا : ”نعیم یوسف صاحب کے ہم 5 شاگرد تھے : شمشاد علی جو پاکستانی فلموں

کے معروف و لن ’شفقت چیمہ‘ کے استاد بھی ہیں، طارق جاوید، منا لاہوری، عابدہ بیگ کے شوہر اور آخری شاگرد، میں خود ”۔

منور ظریف کے ذکر پر طارق ظریف نے بتایا: ”منور ظریف وہ و احد کامیڈین تھے جو اپنے فی البدیہہ مکالموں میں ردیف قافیہ لے کر چلتے تھے۔ انہیں موسیقی میں بھی بہت دسترس حاصل تھی“ ۔

طارق ظریف نے دلچسپ بات بتائی: ”گانے کی ریہرسلوں میں موسیقار ماسٹر عبدا اللہ اکثر منور ظریف صاحب سے ڈھولک بجواتے تھے“ ۔ اس انکشاف سے تو مجھ پر حیرت کے پہاڑ ٹوٹ پڑے۔ کیوں کہ پاکستانی فلمی موسیقاروں میں ماسٹر عبدا اللہ کا غصہ۔ بہت مشہور تھا۔

اپنی گفتگو میں طارق ظریف نے بتایا : ”فلم“ سچی مچی ”کی بیرونی عکسبندی میں ایک شاٹ سے پہلے میری اور معمر رانا کی ریہرسل ہو رہی تھی۔ وہاں اگلے شاٹ کے لئے موجود اداکار شاہد نے بے ساختہ کہا :“ ایسا لگا کہ منور ظریف سیٹ پر آ گیا۔ ”۔ یقین مانیں یہ میرے لئے ایک اعزاز سے کم نہیں!“ ۔

ایک سوال کے جواب میں اس نے بتایا: ”میں نے ٹی وی چینل پر بھی کام کیا۔“ سالیاں ادھے گھر والیاں ”کی ’اپنا چینل‘ سے 13 اقساط نشر ہوئیں۔ اس کے اداکاروں میں سردار کمال، افتخار ٹھاکر شامل تھے۔ رائل ٹی وی سے پروگرام

” رائل کیفے“ میں، میں نے بے شمار گیٹ اپ کئیے۔ یہ پروگرام سال بھر چلا۔ اسٹار ایشیا چینل سے پروگرام ”چٹخارا“ نشر ہوا۔ میرے ساتھ امان سوہنا اور نعیم شوکی بھی تھے۔ یہ 2 سال چلا۔ لوگوں نے میری اور امان سوہنا کی جوڑی کو بہت پسند کیا ہے۔

’ انڈس ٹی وی‘ سے ایک مقبول کامیڈی پروگرام ”جبر نامہ“ بھی عوام نے پسند کیا۔ اس پروگرام میں میرا شاگرد کاشف پرنس

( م ) خبریں پڑھتا اور میں مختلف گیٹ ایپ میں آتا۔ میں نے ایک سال میں 33 گیٹ اپ بدلے۔ ہم دونوں لاہور سے ہر ہفتے تین دن کے لئے کراچی جا تے اور تین چار پروگرام ریکارڈ کروا دیتے تھے۔ یہ پروگرام ایک سال چلا ”۔

کاشف ( م ) کے ساتھ میری بھی ملاقات تھی۔ نہایت سلجھا ہوا انسان تھا۔ یہ اکثر فارغ وقت میں میرے چینل میں گپ شپ کو آتا۔ ہمارا وہ ٹی وی چینل پنجاب اسمبلی کے سامنے مال روڈ پر تھا۔ کچھ ہی فاصلے پر ’الحمر ا آرٹس کونسل‘ تھی اور سامنے

’ پلازا تھیٹر‘ ۔

اپنی آئندہ آنے ولی فلموں کے بارے میں طارق ظریف نے بتایا: ”بہت جلد میری فلمیں“ آ ویخ میرا پنجاب ”اور“ محافظ ”ہیں۔ ہدایتکار ندیم چیما کی ایک بڑی کاسٹ کی فلم“ دہلی گیٹ ”عنقریب آنے والی ہے۔ اس میں میر ا نواب

مرزا کا کامیڈی کردار ہے۔ فلم کے دیگر ادا کاروں میں ندیم، جاوید شیخ، سعود، امان سوہنا وغیرہ ہیں ”۔

امان سوہنا خود بہت بے ساختہ انسان ہے۔ میری اس سے 2007 سے ملاقات ہے جب میں لاہور کے ایک نجی ٹی وی چینل سے منسلک تھا۔ یہاں زیادہ تر پنجابی کے پروگرام ریکارڈ اور نشر ہوتے تھے۔ آپ امان سوہنے سے کہیں کہ میں ایک نئے اچھوتے موضوع پر کامیڈی پروگرام کرنا چاہتا ہوں۔ تو لمحے بھر میں وہ کیا ”غضبناک“ آئڈیا دیتا تھا کہ بے ساختہ اس کا ماتھا چوم لینے کو دل چاہے۔ ہمارے ملک میں کتنا زبردست ہنرہے۔ ماشاء اللہ!

طارق ظریف سے مزید بات چیت ہوتی لیکن میں نے آگے کہیں جانا تھا۔ مجھے ایسے تمام فنکاروں سے مل کر بے حد خوشی ہوتی ہے جو اپنی صلاحیتوں پر یقین رکھتے ہیں۔ اس فنکار نے اسٹیج، ٹی وی اور فلم میں اپنی پہچان کروا لی ہے۔ اس کا کہنا ہے : ”کامیڈی اور فلم کا معیار بہتر ہو رہا ہے۔ پنجابی اور اردو دونوں زبانوں میں اچھے موضوع آ رہے ہیں۔ میں پاکستان فلمی صنعت کو دوبارہ اٹھتے دیکھ رہا ہوں ’‘ !

افسوس کہ ان فلموں کی تکمیل یا ریلیز سے پہلے ہی طارق ظریف، منور ظریف سے ملنے راہیٔ عدم ہو گئے۔ طارق سے میری صحیح معنوں میں ایک ہی بھرپور ملاقات ہوئی تھی۔ وہ اب بھی میری یادوں میں موجود ہے۔ زندہ باد طارق ظریف!

طارق ظریف سے بات چیت کے بعد مجھے بھی فلم ”سچی مچی“ دیکھنے اور اس کے ہدایتکار شاہد مہربان سے ملنے کا اشتیاق ہو گیا۔ کیپٹل سنیما کے حاجی صاحب سے علیک سلیک تو ہے ہی۔ ان کے سنیما میں مذکورہ فلم کولگے دوسرا دن تھا۔ میں نے ہدایتکار شاہد مہربان سے ملاقات کا پوچھا تو انہوں نے کہا کہ میں آ جاؤں۔ وہ بھی کچھ دیر میں آنے ہی والے ہیں۔ لمبے قد کے شاہد مہربان دور سے یوں دکھائی دیے جیسے ( 1970 کی دہائی کے ) موسیقار ناشاد صاحب آ رہے ہوں۔ میری شاہد صاحب سے ایک نشست اس سنیما میں اور دوسری ان کے پروڈکشن آفس واقع ایور نیو فلم اسٹوڈیوز میں ہوئی۔ یہ کم گو انسان ہیں اور ضرورتا ہی بولتے

ہیں۔ بہر حال اس فلم کے بہانے مہربان صاحب سے تفصیلی بات چیت ہوئی جو پڑھنے والوں کے لئے پیش خدمت ہے :

” یہ فلم صرف چار سنیماؤں میں نمائش کے لئے پیش ہوئی تھی۔ ابھی کراچی سرکٹ میں ریلیز ہونا ہے۔ انشاء اللہ جب حالات بہتر ہوئے تو کوشش ہو گی کہ آئندہ سال“ سچی مچی ”ڈیجیٹل پرنٹ میں کراچی سمیت تمام ملک میں ریلیز کی جائے“ ۔

” مجھے بتلایا گیا ہے کہ مذکورہ فلم کے پوسٹ پروڈکشن کے کام کو سنسر بوڑد کے ارکان نے بہت سراہا!“ ۔ میں نے سوال کیا۔

” فل بورڈ نے“ سچی مچی ”کے سنسر سرٹیفیکیٹ کے لئے لاشاری صاحب کے ’سوزو ورلڈ‘ میں یہ فلم دیکھی۔ اس کے ایک ممبر نے فلم کی تعریف میں کہا کہ عرصے بعد اچھی پنجابی فلم دیکھی۔ بورڈ نے سوال کیا کہ پوسٹ پروڈکشن کا کام کہاں سے کروایا؟ میں نے کہا کہ جناب یہیں سے!“ ۔

ماشاء اللہ اب گویا ہمارے اپنے ملک میں بھی نہایت اعلیٰ پائے کا پوسٹ پروڈکشن ہو رہا ہے۔ جب ہی تو اس بورڈ ممبر نے یہ سوال کیا!

” مذکورہ سنیما کے مالک نے کہا کہ جب چاہیں میرے سنیما میں نمائش کروا لیں۔ اس فلم کا یو ٹیوب پر پرومو چلا تو فیصل آباد، سیالکوٹ اور مختلف شہروں سے کئی ایک ’سنی‘ اور دیگر ’ملٹی پلیکس‘ سنیما والوں نے رابطہ کیا کہ ہمارے ہاں چلائیں۔ ’شاہین‘ سرگودھا سے بھی فون آئے کہ ہمیں یہ فلم درکار ہے۔ لیکن ابھی فلم کے ڈیجیٹل سنیما پرنٹ نہیں بنے۔ اگر ہمارے پاس ’ڈی سی پی‘ پرنٹ ہوتے تو فلم ریلیز سے پہلے ہی 50 سنیماؤں میں چلنا یقینی تھا۔ اس فلم کو دیکھ کر کچھ اور فلمساز بھی میرے پاس فلمیں بنوانے آ رہے ہیں۔ اس فلم کے کیمرہ مین مسعود بٹ صاحب ہیں۔ فلم کی پس منظر موسیقی اور ساؤنڈ مکسنگ کی بھی لوگوں نے تعریف کی۔ یہ خالصتاً ایک اچھی فیملی فلم ہے جو ضرور دیکھنا چاہیے“ ۔

ایک سوال کے جواب میں شاہد مہر بان نے کہا : ”مجھے فلم لائن میں کام کرتے ہوئے 40 سال ہو گئے۔ میں نامور ہدایتکار جمیل اختر صاحب کا شاگرد تھا“ ۔ ان کی مشہور فلمیں : ”خاموش رہو“ ( 1964 ) ، ”جاپانی گڈی“ ( 1972 ) ، ”ایک رات“ ( 1972 ) ہیں۔ میں نے ہدایتکار الطاف حسین اور حسن عسکری صاحب کے ساتھ بھی کام کیا ہے۔ 60 کے قریب فلمیں اسو سی ایٹ کی حیثیت سے کیں ”۔

اپنی ہدایت میں بننے والی اولین فلم کے بارے میں کہا: ”میری پہلی فلم“ چیز بڑی ہے مست مست ”( 1996 ) ہے۔ مجھے یاد ہے کہ جب مجھے یہ فلم ملی، عین اسی وقت ہدایتکار ایس سلیمان صاحب نے مجھے بلوایا۔ یہ ایک طویل عرصے بعد واپس فلم ہدایتکاری کے میدان میں آئے تھے۔ اور اپنی فلم“ ویری گڈ دنیا ویری بیڈ لوگ ”کے لئے ایک اچھے، محنتی اور قابل بھروسا

اسو سی ایٹ ڈائریکٹر کی تلاش میں تھے۔ ان کو مختلف ذرائع سے کچھ نام دیے گئے تا کہ ان ناموں میں سے کسی ایک کا انتخاب کر سکیں۔ کئی ڈائریکٹروں کی رائے لی گئی اور قرعہ میرے نام نکلا۔ ایس سلیمان صاحب نے مجھے بلوایا اور اپنے ساتھ کام کرنے کی پیشکش کی۔ اتنے بڑے ڈائریکٹر کا مجھے اپنی فلم میں معاون کی حیثیت سے بلوانا ایک اعزاز تھا۔ میری تو دل سے ان سے سیکھنے کی آرزو تھی لیکن سامنے میری اولین فلم تھی۔ میں نے یہ صورت حال انہیں بتائی۔ وہ بہت خوش ہوئے اور میرے مستقبل کے لئے دعا دی ”۔

” پھر اس کے بعد“ انسانیت کے قاتل ”( 1999 ) ،“ ضدی پتر ”،“ رب وارث ”( 2018 ) کیں۔ میں نے ہمیشہ فلم کو بے ہودگی سے دور رکھا۔ اسی طرح گانوں کی عکسبندی میں بھی فحاشی سے اجتناب کیا۔ بلکہ میری فلم میں ایک سبق ہوتا ہے“ ۔

خاطر خواہ مشہوری نہ ہونے کے باوجود فلم بین کیپٹل سنیما میں ”سچی مچی“ دیکھنے آئے۔ میں نے خود نفرادی طور پر فلم دیکھ کر نکلنے والوں سے ان کے تاثرات پوچھے۔ انہوں نے پسندیدگی کا اظہار کیا۔ یہ بھی کہتے سنا گیا کہ فلمساز نے یہ فلم ڈیجیٹل سنیماؤں کے لئے بنائی ہے۔ اس کا تو ڈیجیٹل پرنٹ بنوا کر سنی پلیکس قسم کے سنیماؤں میں ریلیز کرنا چاہیے تھا۔

باتوں باتوں میں اسلم ڈار صاحب کا ذکر چھڑ گیا۔ اس پر شاہد مہربان نے کہا:

” اسلم ڈار اپنی ذات میں ایک اکیڈمی سے کم نہیں تھے۔ خود میں نے ان کی فلموں کو دیکھ کر اور ان کے پاس بیٹھ کر بہت کچھ سیکھا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ کام کے دوران وہ سخت تھے لیکن ہر ایک چھوٹے بڑے سے پیار سے بات کرتے تھے“ ۔

” ایک کامیاب ہدایتکار کے لئے کیا چیز سب سے ضروری ہوتی ہے؟“ میں نے سوال کیا۔

” ایک اچھے ہدایتکار کو اسکرپٹ کی فہم ہونا چاہیے۔ اگر مصنف کہیں پھسلا ہے تو ہدایتکار کو فوراً علم ہو جانا چاہیے۔ اسی طرح ہدایتکار کو فلم ایڈیٹنگ کی حدود کا پتہ اور اس کی سوجھ بوجھ ہونا ضروری ہے“ ۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا : ”تعلیم انسان کا شعور بیدار کرتی ہے۔ میں نے ’ڈی کام‘ کیا ہے ’‘ ۔

” پنجابی فلم“ رب وارث ”( 2018 ) کی کہانی میں نے خود لکھی اور ہدایات بھی دیں۔ اسی طرح فلم“ ضدی پتر ”کی کہانی بھی میں نے لکھی“ ۔

” اپنی فلم“ سچی مچی ”بناتے وقت جیسا آپ نے سوچا، ایڈیٹنگ کے بعد فائنل پرنٹ کیا آپ کی توقع کے عین مطابق تھا یا۔ مایوسی ہوئی؟“ ۔

” اس فلم میں مجھے بے شمار سمجھوتے کرنے پڑے۔ فلمساز ی میں چادر کے حساب سے ہی پیر پھیلانے ہوتے ہیں۔ لیکن اس سب کے باوجود میں نے اپنی فلم“ سچی مچی ”کے بارے میں جیسا سوچا تھا آخر تک ویسا ہی ہوا۔ فلم کی رفتار شروع ہی سے میرے کنٹرول میں رہی۔ میں اس کوشش میں اللہ تعالیٰ کی مدد سے کامیاب رہا“ ۔

” پہلے بھی لاہور میں خاص طور پر اور دیگر شہروں میں عام طور پر سنی پلیکس سنیماؤں میں فلم بینوں کا رش قدرے کم ہو گیا تھا۔ کیا سنیماؤں کی بندش ختم ہونے پر کچھ گہما گہمی نظر آئے گی؟“ ۔

” میں نے بھی اس زمانے میں لاہور شہر کے کئی ایک سنی پلیکس دیکھے۔ لیکن ان میں وہ پہلے والا رش نظر نہیں آیا۔ دیکھیں نا! پچھلے مسلسل کئی ایک سالوں سے پاکستان کے عوام کی معاشی حالت ٹھیک نہیں۔ اکثر لوگوں نے فلم کی تفریح کو اپنی ترجیحات میں پیچھے کہیں رکھ چھوڑ دیا ہے۔ جب ایک ٹکٹ پانچ سو اور سات سو روپے کا ہو گا تو فیملیاں سنیما کا رخ کیوں کریں گی؟ یوں سمجھیں کہ پاکستانی فلمی صنعت میں پچھلے 12 سال سے مندی کا رجحان ہے“ ۔

ایک تلخ حقیقت پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا: ”سنگل اسکرین نے پنجابی فلموں کا جنازہ نکال دیا ہے۔ پرانی پروجیکشن مشینوں سے پردے پر فلم دھندلی نظر آتی ہے۔ ان مشینوں سے زیادہ سے زیادہ 60 فٹ کے فاصلے کی اسکرین پر فلم واضح اور اچھی نظر آئے گی۔ آپ ان ہی مشینوں سے 90 فٹ پر فلم پروجیکٹ کریں تو نتیجہ اچھا کیسے نکل سکتا ہے؟“ ۔

” مہربان صاحب! لاہور اور ملک کے دیگر شہروں میں سنیماؤں کی مجموعی حالت اچھی نہیں ہے۔ عوام کو قابل قبول سنیما گھروں کے لئے کیا کرنا چاہیے؟“ ۔ میں نے سوال کیا۔

” اب ہر ایک کام حکومت پر نہیں چھوڑا جا سکتا۔ اس سلسلے میں ’پاکستان فلم پروڈیوسر اسو سی ایشن‘ کو چاہیے کہ سنیما مالکان سے سنیماؤں کی اسکرینوں، آپریٹنگ سسٹم، سنیماہال، سیٹوں، واش روم وغیرہ کو بہتر کرائیں“ ۔

شاہد مہربان صاحب سے فلمی صنعت کے مسائل پر کافی بات ہوئی۔ مجھے ان کی ایک بات بہت پسند آئی کہ یہ پر امید ہیں کہ انڈسٹری کے یہ برے دن بھی گزر جائیں گے۔ انہوں نے ایک حوصلہ افزا بات بتائی:

” میری فلم“ سچی مچی ”کو دیکھ کر فلم“ سونے کی تلاش ”(1987) کے فلمسازنے مجھے بلوا کر اس فلم کی تعریف کی۔ خود میں جب کیپٹل سنیما گیا تو سنیما مالک نے کہا :“ یہ ”سچی مچی“ اچھی فلم ہے لیکن اس سنیما کے لئے نہیں۔ پھر بھی فلم نے پبلک کو مایوس نہیں ہونے دیا”۔

شاہد مہربان نے ڈائریکٹر کی اہمیت اور اس کے فرائض پر ایک نہایت ہی خوبصورت بات کی۔ انہوں نے کہا : ”ڈائریکٹر ہی معاشرے کو سدھارتا اور بگاڑتا ہے۔ کلام پاک کی آیات ملاحظہ فرمائیں :

” اے لوگو جو ایمان لائے ہو، بنو علمبردار انصاف کے، گواہی دینے والے اللہ کے لئے اگر چہ ہو ( یہ گواہی ) خلاف تمہاری اپنی ذات کے یا والدین اور رشتہ دار وں کے، خواہ ہو کوئی مال دار یا غریب بہرحال اللہ ہے تم سے زیادہ خیر خواہ ان کا۔ پس مت پیروی کر و تم خواہشات نفس کی عمل نہ کرنے میں اور اگر گھما پھرا کر بات کرو گے ( گواہی میں ) یا گریز کرو گے تو بے شک اللہ ہے تمہارے اعمال سے پوری طرح با خبر۔ 4 : 135 سورۃ النسا“

بات جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا: ”یہ آیات میری فلم“ سچی مچی ”کا مرکزی خیال ہیں۔ میں نے اس کو سامنے رکھتے ہوئے یہ فلم بنائی کہ خواہ کچھ ہو گواہی سچی ہی دینا چاہیے۔ اس سچی گواہی کی پاداش میں ایک بھائی پھانسی چڑھ جاتا ہے تو دوسرے کو سچ بولنے پر باپ گھر سے نکال دیتا ہے۔ کہانی میں اتار چڑھاؤ آتے ہیں اور ٹوٹے رشتوں کو نئی نسل جوڑتی ہے۔ بہرحال۔ کچھ مناظر نے اداکاروں اور فلم بینوں کے آنسو نکال دیے۔ جیسے : جب زمانے بعد دادا ( اداکار شاہد ) اور پوتا ( معمر رانا ) ملتے ہیں اور دادا پوتے سے پوچھتا ہے کہ تمہارا باپ تو مجھے بالکل ہی بھول گیا ہو گا۔ اس پر پوتا کہتا ہے کہ وہ تو ہردم آپ کو یاد کر کر کے روتے رہتے ہیں۔ اس پر شاہد نے بے ساختہ تاثرات دیے۔ ایک اور منظر میں جب بالآخر بیٹے اور باپ کی طویل عرصہ بعد ملاقات ہو رہی ہوتی ہے تو مقتول کی بیوہ ( فلم میں شاہد کی بہو) بیچ میں آ جاتی ہے کہ

یہ آئے گا تو میں گھر سے چلی جاؤں گی۔ یہاں شاہد نے بہت رقعت انگیز اداکاری کی۔ شہباز اکمل ( شاہد کا بیٹا ) نے کہا کہ میں پہلے بھی یہاں سے گیا تھا اب بھی میں ہی چلا جاتا ہوں ”۔ واضح ہو کہ شہباز اکمل اداکار اکمل (م ) کے بیٹے ہیں۔ بات سے بات نکلی تو بتاتا چلوں کہ مجھے شاہد مہربان نے بتایا :“ جب شہباز اکمل مذکورہ فلم کی ڈبنگ کے لئے آئے تو ایک گھنٹے باہر کھڑے ہو کر بات کی کہ میں نے بہت سی فلموں میں کام کیا لیکن یہ میری یاد گار فلم ہے۔ میں انشاء اللہ اس کو اپنی لائبریری میں رکھوں گا ”۔

ڈبنگ کے ذکر پر شاہد مہربان نے کہا: ”عام طور پر ہم فلموں کی ڈبنگ تین چار شفٹوں میں کرتے ہیں۔ جب معمر رانا ڈبنگ کے لئے آیا تو کہنے لگا کہ اس فلم نے تو مجھے جکڑ لیا ہے۔ اور اس نے ایک ہی نشست میں اپنا کام کر لیا۔ کہنے لگا کہ یہ تو“ چوڑیاں ”( 1998 ) اور“ نکی جئی ہاں ”( 1999 ) جیسی فلم ہے۔ یہ بھی کہا کہ اس فلم کو ملٹی پلیکس سنیماؤں میں لگنا چاہیے“ ۔

بات کو آگے بڑھاتے ہوئے شاہد مہربان نے کہا: ”سنسر بورڈ نے فلم کی تعریف میں کہا کہ فلم“ باجی ”( نئی ) نے 18 کروڑ کا بزنس کیا۔ یہ تمہاری فلم اس سے کئی درجے بہتر ہے۔ آپ صحیح طرح اس کی مشہوری کروائیں۔ یہ بہت بزنس کرے گی“ ۔

فلم کے گانوں میں عام پبلک نے یہ گانا زیادہ پسند کیا ”نرگس تے پارلر توں ہوئی تیار میں، دے کے آئی پورے پچونجا ہزار میں“ ۔ گانوں کے ذکر میں شاہد کامران نے ایک دلچسپ بات بتائی: ”وجو بھائی ( موسیقار وجاہت عطرے ) نے گلوکارہ مہناز کی آواز میں ایک خوبصورت گیت ریکارڈ کرایا تھا۔ فلم کسی وجہ سے نہ بن سکی۔ وہ گیت میرے ذہن میں تھا۔ اس فلم کی ایک سچو ایشن پر یہ انگوٹھی میں نگینے کی طرح فٹ بیٹھ رہا تھا۔ سو، میں نے اس گیت کو فلم میں شامل کر لیا:“ جیڑی منگی سی دل نے دعا، توں اوہدا ایں جواب سجناں۔ ”۔ اس گانے کو بھی خاصا پسند کیا گیا“ ۔

میں نے باتوں باتوں میں شاہد مہربان سے کہا : ”مجھے تو ایسا لگا کہ طارق ظریف نے اس فلم میں منور ظریف کی یاد تازہ کروا دی؟“ ۔

اس کے جواب میں شاہد مہربان نے ایک مزے دار بات بتلائی: ”ہم گانے کی بیرونی فلمبندی کے لئے کسی دیہات میں گئے۔ کام ختم ہونے کے بعد وہاں کے ’بڑوں‘ نے فرمائش کی کہ اداکارہ سے کہیں کہ ڈانس کرے۔ ہم لوگ سمجھ گئے کہ یہ لوگ کچھ تفریح چاہتے ہیں۔ میں نے کہا کہ آپ کو ڈانس سے بھی اچھی تفریح دکھاتے ہیں۔ طارق ظریف سے کہا کہ وہ مکمل منور ظریف کے گیٹ اپ میں اس بستی کے لوگوں کے سامنے آ کر اسی کے کچھ مشہور آئٹم پیش کر دے۔

ہمارے پاس ساؤنڈ سسٹم تو کسی حد تک موجود ہی تھا۔ طارق کے پاس بھی مال مصالحے کی کوئی کمی نہیں تھی۔ لیں جناب! اس نے سب سے پہلے کاسہ ( بھیک کا پیالہ ) لئے منور ظریف پر فلمایا ہو ا فلم ’‘ شریف بدمعاش“ ( 1975 ) کا مشہور گیت پیش کیا: ”جوگی آیا دوارے تیرے کن وچ پا کے مندراں“ ۔ لوگ مبہوت ہو کر دیکھنے لگے۔ مجھے ایک خیال آیا اور جیب سے 100 روپے کا نوٹ نکال کر اس کے کاسہ میں ڈال دیا۔ بس پھر کیا تھا۔ اس کے پیالے میں تو جیسے نوٹوں کی برسات ہو گئی۔ اس نے کئی ایک گانوں پر منور ظریف والی اداکاری کی۔ گھنٹے بھر بعد جب یہ شو ختم ہوا تو اس کے پاس اٹھارہ بیس ہزار کی رقم جمع ہو چکی تھی۔ اس نے مذاقاً کہا کہ مہربان صاحب! ! آپ کیا فلم بنانے کے چکر میں پڑ گئے؟ اب ہم ’یہ ہی کام‘ کرتے ہیں ”۔

شاہد مہربان پر امید ہیں کہ ان کی فلم کے جلد ڈیجیٹل سنیما پرنٹ بنیں اور وہ پورے ملک کے جدید سنیما گھروں میں بھی پیش ہو سکے گی۔ اس سلسلے میں انہوں نے ایک اہم بات پر زور دیا: ”کسی بھی فلم کی نمائش سے پہلے خاطر خواہ پبلسٹی ہونا بے حد ضروری ہے“ ۔ یہ بات انہوں نے سولہ آنے درست کہی۔ ورنہ ’جنگل میں مور ناچا، کس نے دیکھا؟‘ ہر زمانے میں اس وقت کے میسر ذرائع سے فلم کی تشہیر میں ایک معقول پیسہ، وقت اور توانائی خرچ کر کے ہی مطلوبہ نتائج حاصل ہوتے تھے۔ اگر میسر ذرائع سے مذکورہ فلم اور ایسی تمام اچھے موضوع پر بننے والی فلموں کی تشہیر کی جائے تو خاکسار بھی کہتا ہے کہ یہ فلمیں اچھا بزنس کریں گی۔ ہم شاہد مہربان کی فلم ”سچی مچی“ کی کامیابی اور پاکستانی فلمی صنعت کی نشاۃ ثانیہ کے لئے دعا گو ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •