غیرت آباد کا موضع عزت پورہ
ڈیرے سے گاؤں جانے والے کچے راستے پر گاڑی فراٹے بھرتی ہوئی نکل گئی۔ حویلی سے کافی فاصلے پر مسجد کے پاس ہی گاڑی چلتے چلتے اچانک رک گئی۔ گاڑی سے اتر کر ساجی نے گاڑی کا بونٹ اٹھا کر جائزہ لیا۔ تھوڑی ہی دیر بعد کچھ سوچتے ہوئے بونٹ نیچے کیا، ڈیش بورڈ سے پستول نکال کر شلوار کے ناف کی جانب اٹکایا اور گاڑی کو لاک کر کے پیدل ہی حویلی کی جانب بڑھ گیا۔ حویلی کے صدر دروازے پہنچ کر دروازہ کھٹکھٹانے کی بجائے ہولے سے چوکیدار کو آواز دی۔
’بشیر اوئے۔ دروازہ کھول۔‘
دروازے کے اندر سے آہٹ سی محسوس ہوئی لیکن کچھ لمحے مزید دروازہ نہ کھلا تو قدرے غصے سے دوبارہ آواز دی۔
’اوئے بشیرے! سو گیا ہے، مر گیا ہے یا بہرہ ہو گیا ہے جو تجھے میری آواز نہیں سنائی دے رہی۔ دروازہ کھول جلدی۔‘
اس بار غصیلا لہجہ کام دکھا گیا اور فوراً ہی دروازہ کھول دیا گیا۔ دروازہ کھولتے ہی ساجی اسے مزید جھڑکنا چاہتا تھا لیکن اس کے چہرے پر اڑتی ہوائیاں دیکھ کر ٹھٹک گیا۔
’اوہ خیر اے سب؟ تیرا رات کے اس پہر کیوں رنگ فق ہو گیا ہے؟‘
’اوہ جی۔ ایسی کوئی بات نہیں۔ وہ۔ وہ۔ کیا ہے نا کہ۔ آپ نے تو آج ڈیرے پہ ہی نہیں رہنا تھا اور اور۔ وہ گڈی (گاڑی) کدھر ہے آپ کی؟‘ ہکلائے ہوئے سے انداز میں سوال آیا تو ساجی نے قدرے جھنجھلا کر جواب دیا۔
’گڈی تو مسجد کے پاس ذرا خراب ہو گئی ہے۔ سویرے ٹھیک کرا لوں گا۔ نا تو بتا۔ تجھے میرے آنے پہ کیوں سانپ سونگھ گیا ہے؟ میری حویلی ہے، میں جب مرضی آؤں، جب مرضی جاؤں۔ اپنے کام سے کام رکھا کر۔ دروازہ بند کر اور پہرے داری کر جو تیرا کام ہے۔‘
بشیرے چوکیدار نے سرعت سے ’جی ملک صاحب‘ کہتے ہوئے دروازہ بند کیا اور دروازے کے پاس کرسی پر بیٹھ گیا۔ البتہ بیٹھنے کے باوجود اس کے ہاتھوں اور ٹانگوں میں واضح کپکپاہٹ دیکھی جا سکتی تھی۔ ساجی راہداری اور صحن عبور کر کے حویلی کے مرکزی ہال پہنچا تو اپنے کمرے میں روشنی دیکھ کر اسے قدرے تعجب ہوا۔ لیکن جونہی کمرے کے دروازے کے پاس پہنچا تو اندر سے آنے والی آوازوں نے اس کے قدم وہیں منجمد کر دیے۔
’روبی تم ہمیشہ سے ہی اتنی حسین ہو یا آج میرا حسن نظر بہتر کام کر رہا ہے؟‘ مانوس سی مردانہ آواز آئی لیکن آواز سے پہچان ممکن نہیں ہو پا رہی تھی۔ دوسری حیرانی یہ تھی کہ اس کی اہلیہ روبینہ کو روبی کہنے کا حق تو صرف اس کے پاس تھا۔ یہ دوسرا کون ہے؟ مزید کوئی سوچ ذہن کے پردے پر ابھرتی، روبینہ کی آواز آئی۔
’ارے جان روبی! میں تو یونیورسٹی دور والی ہی روبی ہوں۔ البتہ تمہارے بارے میں لگتا ہے کہ میری جدائی کا صدمہ کچھ زیادہ ہی دل پہ لے گئے ہو؟ بالکل مجنوں لگ رہے ہو۔‘
’واللہ محترمہ۔ آپ کے عشق میں ہم مکمل مجنوں بننے کو بھی تیار ہیں۔ آخر یہ ظالم سماج آپ کے ملک ساجی کے روپ میں کب تک ہمارے درمیان حائل رہے گا؟‘ روبینہ کا کوئی پرانا شناسا معلوم ہو رہا تھا۔
’کیا ہوا اگر اس ظالم سماج نے ہمیں ایک نہ ہونے دیا۔ تقدیر میں ہمارا ایک ہونا لکھا ہے تبھی تو قسمت نے ہمیں یونیورسٹی کی دہلیز پر ملایا، ہمارے دلوں میں پیار کی اس کونپل کو کھلنے دیا۔ اور پھر دیکھ لو بچھڑنے کے باوجود آج ملنے کا ذریعہ بن ہی نہیں گیا۔‘ روبینہ کی آواز سنائی دی۔
’لیکن اگر تمہارے اس منحوس ساجی کو معلوم ہو گیا تو قیامت کھڑی ہو جائے گی۔ اور یہ آج ساجی کی چھٹی کیسے کروائی تم نے؟‘
معلوم نہیں ساجی کیسے ضبط کیے کھڑا تھا؟
’مجھے کچھ کرنے کی ضرورت ہی نہیں پڑی۔ وہ خود ہی آج ڈیرے پہ کسی کام کے لیے رک گیا ہے۔ اور پریشان نہ ہو میں نے فون کر کہ پتا کر لیا ہے۔ وہ فجر سے پہلے نہیں آنے والا۔ ہاں لیکن تم یہ بتاؤ کہ تم سکیورٹی گارڈ کے ہوتے ہوئے اندر کیسے آ گئے؟‘
روبینہ کے اس سوال کے متوقع جواب کو مزید غور سے سننے کے لیے ساجی ہولے سے دروازے کے قدرے نزدیک ہوا۔
’تم نے جیسے ہی فون پر خبر دی کہ ساجی صبح تک گھر نہیں آنے والا، میں نے فوراً دوڑ لگائی اور ادھر آ پہنچا۔ باقی تمہارا جو گارڈ بشیر ہے، یہ میرے بچپن کا یار ہے۔ لہٰذا اس کی فکر نہ کرو۔ اگر اسے کوئی بھی خطرہ محسوس ہوا وہ مجھے فوری بتا دے گا۔‘
’اچھا تو یہ وجہ ہے بشیرے کے گھبرانے کی۔ لیکن بشیرے کا یار، روبی، یونیورسٹی، پنڈ کا ہی بندہ۔ کوئی ربط بن نہیں پا رہا؟‘ ساجی نے جھنجھلا کر سوچا۔ اتنے میں روبینہ کی آواز آئی۔
’لیکن آخر کب تک ہم یوں موقع ڈھونڈنے اور تمہارے اس دوست بشیر کے سہارے خفیہ ملاقاتوں کا سلسلہ جاری رکھیں گے۔ کوئی مستقل حل تو تمہیں ڈھونڈنا ہو گا۔‘
اب ساجی کے غصے کا پارہ واقعی چڑھ رہا تھا لیکن شاید وہ ساری حقیقت حال کا ادراک کر کہ ہی کوئی قدم اٹھانا چاہتا تھا۔
’اس مسئلے کا حل بھی میں نے سوچ لیا ہے۔ تم اپنا زیور اور قیمتی سامان نظروں کے آس پاس ہی کہیں رکھو اور جتنا ہو سکے کیش اپنے اکاؤنٹ میں ٹرانسفر کر دو تاکہ وقت آنے پر کام آ سکے۔ باقی اسکالر شپ مل جانے کے باوجود ایم فل کی فیس کے نام پر بھائی نذیرے سے اچھی خاصی رقم ہتھیا لی ہے، جس سے جلد کرائے پر ایک اپارٹمنٹ بک کروا کہ تمہیں بلوا لوں گا۔ پھر یہ تو حتمی ہے کہ تمہارے اس قدم اٹھانے کے بعد ہمارے باہمی تعلق کی کسی کو کانوں کان خبر نہیں ہو گی۔‘
اندر کمرے سے ایک ہلکا سا قہقہہ گونجا جبکہ ساجی پزل گیم کے تقریباً سارے ہی حصے جوڑنے میں کامیاب ہو چکا تھا۔
’ویسے ماننا پڑے گا مظہر۔ تم محبت کے معاملے میں بھی اتنے ہی ذہین ہو جتنے تعلیم کے میدان میں۔‘ روبینہ کی پیار بھری آواز سنائی دی۔
’ذہانت تو چلو ایک خداداد صلاحیت ہے۔ لیکن محبت کا شجر تو تمہارے ان گلابی رسیلے ہونٹوں سے ہی آبیار ہو رہا ہے۔ تمہیں یوں بانہوں کے حصار میں لے کر وہ نشہ آور سرور مل رہا ہے کہ دنیا کی کسی اور شے میں یہ لذت نہیں۔‘
نذیرے ماچھی کے بھائی مظہر کا تعارف اور پھر یوں اس کا روبی کے لیے اظہار محبت ساجی کے صبر کا پیمانہ لبریز کرنے کو کافی تھا۔ مزید کچھ سوچنے سمجھنے کی زحمت سے بچتے ہوئے ساجی نے شلوار کے درمیان ناف کی طرف رکھی ہوئی پستول پر اپنی گرفت مضبوط کی اور جھٹ سے دروازہ کھول دیا۔ غصے بھری نگاہ سامنے بستر پر پڑی تو ہاتھ کے پنچھیوں کو فیصلہ کرنے کے لیے آزاد چھوڑ دیا۔
ایک روز چھوڑ کر اگلے دن ایک مقامی اخبار میں کچھ یوں خبر شائع ہوئی۔
’غیرت آباد کے موضع عزت پورہ میں گزشتہ شب ڈکیتی کے دوران مزاحمت پر ڈاکوؤں کے ہاتھوں مالکن اور چوکیدار کا قتل‘
اس خبر سے ایک روز بعد ایک اور خبر اسی اخبار کی کچھ یوں زینت بنی۔
’غیرت آباد کے موضع عزت پورہ کی نہر سے ایک نوجوان کی تشدد زدہ بوری بند لاش برآمد۔ تاحال شناخت ممکن نہیں ہو سکی۔‘

