ڈنک ٹی وی سیریز کا تنازع

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ڈنک ٹی وی سیریز کے تنازع پہ سوشل میڈیا پر پاکستانی دو دھڑوں میں بٹے ہوئے ہیں :پہلا مخالف گروہ جنہیں یقین ہے کہ اس سے خواتین کے حقوق کو مزید نقصان پہنچتا ہے اور صنفی تشدد کے معاملات بڑھتے ہیں اور دوسرا حامی گروہ جو یقین رکھتا ہے کہ ڈنک مردوں کو تحریک حقوق نسواں سے درپیش حقیقی مسائل/ خطرات کی نمائندگی کرتا ہے۔ دوسرا گروہ اپنے نظریاتی موقف کے ساتھ، آبادیاتی لحاظ سے بھی دلچسپ ہے۔ اس میں ماہر حقوق نسواں، (نیم) ترقی پسند، (نیم) روشن خیال، قدامت پسند، تعلیم یافتہ، ان پڑھ، شہری اور دیہاتی مرد و خواتین شامل ہیں۔

حامی گروہ اکثر علی ظفر اور وہ پروفیسر جنہوں نے مبینہ جھوٹے الزام کے بعد خودکشی کی، کے معاملات کا حوالہ دیتا ہے۔ اگرچہ ہم ابھی میشا شفیع اور علی ظفر کے معاملے کی حقیقت نہیں جانتے ہیں، عوام (اور ایف آئی اے ) کا فیصلہ، متوقع طور پر، بظاہر ثبوت فراہم کرنے میں ”ناکامی“ کی وجہ سے میشا کے خلاف ہے۔ لیکن جب ثبوت کی بات آتی ہے تو ملک میں عصمت دری کے قوانین سے ہم جنسی ہراسانی کو ثابت کرنے کی مشکلات کا اندازہ کر سکتے ہیں۔

جب قانونی عدالت میں نجی جگہ یا گھر پر ہونے والے جسمانی و جنسی تشدد کو ثابت کرنا تقریباً ناممکن ہے، تو زبانی ہراسانی یا صنفی زیادتی کے دیگر مروجہ طریقوں کو ثابت کرنے کی تو بات ہی چھوڑ دیں۔ کون یہ ثابت کر سکتا ہے کہ کسی نے انہیں کسی نے ایک اجتماع میں چھوا، یا یہ کہ کسی نے ان پہ جنسی نوعیت کا تبصرہ کیا، یا کسی نے ان کی طرف ایسے گھورا جس سے انہوں نی غیر محفوظ اور غیر آرام دہ محسوس کیا، یا یہ کہ کوئی شخص جنسی نوعیت سے بھرپور تبصرہ یا کمنٹ دیتا ہے، جس کی کیٴ طرح سے تشریح کی جا سکتی ہے۔ حالانکہ متاثرہ اور ہراساں کرنے والے اشخاص دونوں ہی جانتے ہیں کہ اس مخصوص وقت، جگہ اور سیاق و سباق میں اس بیان کا کیا مطلب تھا، لیکن متاثرہ خاتون ٹھوس ثبوت کے ساتھ یہ کبھی بھی ثابت نہیں کر سکتیں۔

حامی گروہ کا اکثر یہ بھی کہنا ہے کہ اک باہمی رضامندی کے رشتے کے بعد اپنا دل بھرنے پہ خواتین مرد پر جھوٹے الزام لگا دیتی ہیں۔ حالانکہ عورت پہ جھوٹے الزام بھی عموماً مرد کا وتیرہ رہا ہے۔ لیکن ہم ان معاملات میں طاقت کے عدم توازن کو نظرانداز نہیں کر سکتے۔ فرض کریں کہ ایک باس کا کسی ملازم کے ساتھ رضامندانہ رومانوی رشتہ ہے (زیادہ تر قانون اس کی اجازت نہیں دیتا، لیکن فی الحال چھوڑیئے ) ۔ اس کے بعد باس اس ملازم کو ترقی یا دیگر مراعات دیتا ہے، حالانکہ ملازم اس کے لئے اہل نہیں ہے۔

ہمارے لوگ زیادہ تر ملازم کا مذاق اڑا کہ اپنی بھڑاس نکالتے ہیں اور اس صورتحال میں اصل مجرم کو نظرانداز کر دیتے ہیں۔ یہاں ملازم کا مضحکہ اڑانا ایک غیر نتیجہ خیز عمل ہے۔ باس (جو کہ تقریباً ہمیشہ مرد ہوتا ہے ) نے اخلاقی اور پیشہ ورانہ بدعنوانی کا ارتکاب کیا اور اسے فروغ بھی دیا۔ ہمیں باس کو ذمہ دار اور قصوروار ٹھہرانا چاہیے جس نے نہ صرف ایک نا اہل شخص کو مراعات دیں بلکہ باقی اہل ملازمین کی حق تلفی بھی کی۔

”مرد پہ جھوٹے الزامات“ کے بیانیے والے لوگوں کی ایک دلیل یہ ہے کہ جنسی ہراسانی کے الزامات سے مردوں کی خاندانی زندگی متاثر ہوتی ہے، ساکھ پہ حرف آتا ہے، یا ان کی آمدنی یا پیشہ ورانہ زندگی کو نقصان پہنچتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ ہم نے آج تک اور ابھی تک عوامی سطح پہ یہ گفتگو کیوں نہیں کی کہ جنسی تشدد کے تجربات پاکستانی عورت کی ذاتی، خاندانی، اور پیشہ ورانہ زندگی کو کیسے متاثر کرتے ہیں؟ اگر یہ بات ہو بھی تو صرف ان خاتون سے منسلک مردوں کی یا ان کے خاندان کی ہتک تک رہتی ہے۔

جھوٹے الزام سے مرد کی زندگی تباہ ہونے کا مفروضہ اس بنیاد پہ بھی ہے پاکستانی خاندان کی معاشرتی، نفسیاتی اور مالی تندرستی میں مردوں کا کردار زیادہ اہم ہے۔ اگرچہ اگر شواہد کو دیکھا جائے تو اب زیادہ تر ملازمت پیشہ خواتین، جب مرد پیسے کماتے بھی ہوں، اپنے کنبوں کے لئے مالی اعانت خود فراہم کرتی ہیں۔ سوداسلف، لباس، بچوں کے اخراجات، ارادتاً یا غیر ارادتاً، عورت کی مالی ذمہ داری بن جاتے ہیں۔ جہاں تک معاشرتی وقار اور ساکھ کی بات ہے تو پاکستان جیسے غیرت کی بنیاد والے معاشرے میں ایک کنبے کی عزت اور وقار کا تحفظ ہمیشہ ایک عورت کی ذمہ داری رہا ہے۔

پہلی بیوی سے بلا اجازت مزید شادیاں کرنا، شادی کے باہر تعلقات رکھنا، بیٹے کی چاہ میں دوسری شادی کرنا جیسی باتیں مردوں کے لیے معمول رہی ہیں۔ جب کہ معاشرتی اصولوں سے انحراف کی صورت میں خواتین کو ہمیشہ مردوں سی کہیں زیادہ پر تشدد نتائج کی دھمکیاں اور، نتائج بھی، ملتے ہیں۔ اگر وہ جنسی اور صنفی تشدد کے کسی بھی واقعے کی اطلاع دینے کی جرات کرتی بھی ہیں تو انہیں واضح یا لطیف طریقوں میں سزا ملتی ہے۔

یہ بھی نظرانداز کیا جاتا ہے کہ جو خواتین ان تجربات سے گزرتی ہیں انھیں عام طور پر انصاف کی امید بھی نہیں ہوتی۔ حتی کہ اگر خاتون کا خاندان بھی ان کا ساتھ دے، ہمارا معاشرہ بہت جلد ان خاندانوں کو تھکا دیتا ہے۔ اگر ان کی بیٹیاں ہراسانی کا سامنا کریں تو زیادہ تر خاندان آسان راستہ اختیار کرتے ہوئے اپنی بیٹیوں کی شادی کرتے ہیں یا ان کی ملازمت یا تعلیم چھڑوا دیتے ہیں۔ ہمارے غیرت مند معاشرے میں مرد پر جھوٹے الزامات سے صنفی تشدد کی نزاکت اور پیچیدگی پہ بحث کا آغاز ہوا، لیکن عورت پہ الزام اور حتی کہ خودکشی نتیجے میں ہمارا معاشرہ زیادہ تر عورت اور اس کے خاندان کی مزید تذلیل کرتا ہے۔

بحیثیت قوم ہم پاکستانی صرف اپنی فرمانبردار بیٹیوں، یا نیک، سلجھی ہوئی اور ”شریف“ عورتوں کی عزت کرتے ہیں۔ خواتین کے مسائل والے ڈراموں میں بھی تعلیم یافتہ اور پراعتماد خواتین کو انتہائی چالاک، ہوشیار اور بری انسان کے طور پہ پیش کیا جا رہا ہے۔ چونکہ اب ہماری بیشتر نوجوان خواتین پراعتماد اور تعلیم یافتہ ہیں، ایسا لگتا ہے کہ یہ پروگرام ان عورتوں کے بارے میں، جو بہتر سلوک کا مطالبہ کرتی ہیں، رائے عامہ خراب کر رہے ہیں۔

یا ان ڈراموں میں خواتین کسی زیادتی کے بعد روتی ہیں، خدا سے شکوہ کرتی ہیں، برداشت کرتی ہیں یا پھر معجزانہ، مافوق الفطرت طریقوں سے صبر کا صلہ پاتی ہیں۔ لیکن اگر برے انسانی اعمال خدا کا حکم نہیں ہیں تو ہمیں عورت اور اس کی جسمانی، نفسیاتی، جذباتی اور مالی تندرستی اور ساکھ کو پہنچنے والے تمام نقصانات کو اگر درست نہیں تو کم از کم تسلیم کرنے کے لئے خدا کی مداخلت کی ضرورت نہیں ہونی چاہیے۔ جنسی اور صنفی بنیاد پر ہونے والی یہ بداخلاقیاں اور جرائم نہ صرف ایک عورت اور نتیجتاً اس کے کنبے کو نفسیاتی اور معاشرتی طور پہ پریشان کرتے ہیں، بلکہ اب جب خواتین بہتر برتاوٴ مانگیں گی اور مرد اپنا رویہ نہیں بدلیں گے تو یہ بد اخلاقی اور جرائم پورے معاشرے کے تانے بانے کو بھی تباہ کریں گے۔ نام نہاد معاشرے کو بچانے کی ذمہ داری صرف عورت کی نہیں، مرد کی بھی ہے۔ اب یہ پاکستانی مردوں پر منحصر ہے کہ وہ حقوق نسواں کی حامی خواتین کو مورد الزام ٹھہرانے کی بجائے بہتر صنفی تعلقات کے بارے میں جانیں اور خود کو بہتر بنانے کی کوشش کریں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
اقرا شگفتہ چیمہ کی دیگر تحریریں