کہانی چند سو لفظوں کی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بچپن کے ٹراماز بہت خطرناک حد تک پہنچ سکتے ہیں اور اگر بچپن کے ٹراماز کا مستند طور پر بر وقت سدباب نہ کیا جائے تو ان کا اظہار اور بھی خطرناک اور گھناؤنے طریقے سے ہو سکتا ہے۔

اس کے گھر محلے کے ایک داڑھی والے بظاہر شریف، ہر وقت تسبیح کرنے والے ایک فرد کی اکثر آمد ہوتی ہے۔ اکثر وہ دین کی باتیں کرتے نظر آتے ہیں۔ لیکن اچانک جب وہ سوتے سے جاگتا ہے تو انہی انکل کو وہ گھر سے باہر جاتے دیکھتا ہے۔ لیکن بات دیکھی ان دیکھی کر دیتا ہے کیوں کہ وہ بہت اچھے انکل ہیں۔

اب وہ اٹھارہ برس کا ہو چکا ہے، اسے یہ سمجھ بھی آ چکی ہے کہ وہ داڑھی والے انکل اس کے گھر سے اس رات دیر سے کیوں گئے تھے۔ غصے اور نفرت کی آگ میں جھلس رہا ہے اور اس کی کوشش ہے کہ ہر داڑھی والے کو بچے باز ثابت کیا جائے۔ پھر انہی انکل کی بیٹی سامعہ کو اپنی محبوبہ بنانے کی کوشش بھی کرتا ہے تاکہ اپنا بدلہ لے سکے۔ ایسے کیسز جب بھی آتے ہیں، ان واقعات کو خوب اچھالتا ہے۔ کوشش کرتا ہے کہ مذہبی گھرانوں سے تعلق رکھنے والی لڑکیوں سے تعلقات قائم کیے جائیں اور جب کامیاب ہو جائے تو اپنے دوستوں کو بڑے فخر سے قصے سناتا ہے۔

تقریباً زندگی گزر چکی ہے۔ ایک بیٹی کو امریکہ کی یونیورسٹی میں ایک ترک لڑکے سے محبت ہو گئی ہے جو پہلے ہی ترک ڈراموں پر فدا ہوئے جاتی تھی، آخر پیارے بہت ہیں۔ ترکی جا کر پتہ چلتا ہے کہ لڑکے کی ماں وہی لڑکی ہے جس کے بل کھاتے جسم پر وہ آنکھیں بیک وقت ٹھنڈی اور گرم کیا کرتا تھا یعنی کہ وہی انکل جو رات کو آیا کرتے تھے، ان کی بیٹی۔ پھر وہ مزید اضطراب کا شکار جاتا ہے کہ ایک گھناؤنا شخص جس کے کرتوت کسی کائناتی بلیک ہول سے بھی کالے تھے، اس کی ہی بیٹھی اتنی اچھی زندگی کیسے گزار رہی ہے، اس کو کوئی ہوس کا مارا بھیڑیا کیوں نہیں نوچ رہا۔

ہوٹل واپس آتا ہے، ہوٹل کی کھڑکی جو کہ نیلی مسجد کی طرف کھلتی ہے، اسی میں بیٹھ کر ”منگے خدا“ کی طرف نگاہ اٹھا کر دیکھتا ہے، ہنس کر کہتا ہے، ”آج دیکھ میں تیرے ان ملاوں کی مٹی کیسے پلید کرتا ہوں۔“

پھر ایک کہانی لکھ ڈالتا ہے جس میں سامعہ کو ایک ترک لڑکی کا روپ دیتا ہے۔ اس میں ترک لڑکی مذہب کی بڑی پابند ہے کہ غیر مذہب سے شادی نہیں کرتی، لیکن بغیر شادی کے اسی غیر مذہب کو دو بچے جن دیے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •