کنواری – کرشن چندر کا افسانہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اپنا ہنسی مذاق مس ایلئیٹ سے تو چلتا ہی تھا مگر اس کی کیفیت ایک معصوم چہل سے زیادہ نہ تھی، البتہ ماسٹر متین احمد کے سلسلے میں مس ایلئیٹ زیادہ سنجیدہ نظر آتی تھیں، اور دن بہ دن زیادہ گہری دلچسپی کا ثبوت دے رہی تھیں۔ ماسٹر متین احمد یہاں مسوری آ کر تین ماہ کے لئے ملازم رکھے گئے تھے، بچوں کو پڑھانے کے لئے اور ان کی دیکھ بھال کرنے کے لئے۔ اسٹیٹ منیجر فاضل بھائی نے بہت سوچ سمجھ کے متین احمد صاحب کو ماسٹر مقرر کیا تھا کیونکہ ماسٹر متین احمد خاصے بوڑھے تھے، ستر برس کے قریب عمر ہوگی دو بیویاں یکے بعد دیگرے وفات پا چکی تھیں۔ پوتوں، نواسوں والے تھے چھڑی لے کر، سر جھکا کر اپنی گری ہوئی مونچھوں کو اور گرا کر چلتے تھے۔ سرخ و صبیح رنگت میں بڑھاپے کا پکا پن اور بڑھاپے کی جھریاں آ گئی تھیں مگر اس عمر میں بھی حوصلہ جوان رکھتے تھے اور دلگیر تخلص کرتے تھے۔ اپنا کلام جو آج تک کہیں نہ چھپا تھا، مس ایلئیٹ کو ہر روز سناتے تھے۔

مس ایلئیٹ ہر چند کہ اردو شاعری میں مطلق کوئی استعداد نہ رکھتی تھیں، اب مصرع پر مصرع اٹھاتی تھیں اور اس کوشش میں رہتی تھیں کہ کسی طرح گرہ بھی لگ جائے حالانکہ اس نیک دل خاتون کی شاعرانہ صلاحیتوں کی معراج ’ٹوئنکل ٹوئنکل لٹل اسٹار‘ سے آگے نہ بڑھی تھی مگر اب وہ دونوں ماسٹر متین احمد اور مس میگی ایلئیٹ کبھی کبھی برآمدے کے کسی کونے میں بیٹھے ہوئے، کبھی کسی لان پر ٹہلتے ہوئے، کبھی ڈفل ڈوک کے دیوداروں میں گھومتے ہوئے شاعری پر بحث کرتے رہتے تھے اور بحث کے دوران میں میگی ماسٹر صاحب کا مفلر ٹھیک کرتی جاتی تھیں، ورنہ سردی لگ جانے کا اندیشہ ہے اور سردی میں شعر ٹھٹھر جاتے ہیں۔

کبھی ان کے سر کی ٹوپی کا زاویہ بدل دیتی تھیں ”یوں زیادہ اچھا لگتا ہے۔“ کبھی ان کا ہاتھ پکڑ کر ڈفل ڈوک کے نالے کے پتھروں پر قدم جما کر چلتی ہوئی نالہ پار کر جاتیں۔ ورنہ شام کو نالہ پار کرنا ضروری تھا۔ مرد کے بازو کا سہارا کتنا اچھا لگتا ہے مرد کی مضبوط انگلیوں کا لمس جیسے کسی کمزور بیل کو پیڑ مل جائے۔ صحت میں آج بھی میگی ماسٹر جی سے بہتر نظر آتی تھیں مگر نالہ دیکھتے ہی چھ سال کی بچی کی طرح ڈرنے اور کانپنے لگتیں اور اپنے سارے جسم کا بوجھ غریب ماسٹر جی پر ڈال دیتی تھیں۔ ماسٹر جی بھی ہانپتے کانپتے، ہونٹ چباتے، دمہ کے مریض کی طرح سانس لیتے ہر روز بڑی بہادری سے مس میگی ایلئیٹ کون الہ پار کرا دیتے تھے۔ پھر دم اس قدر پھول جاتا تھا کہ نالے کے پتھر پر دیر تک بیٹھ کر منہ سے کچھ نہ بول سکتے۔ وادی کا منظر دیکھتے رہتے، اپنے سانس کی دھونکنی ٹھیک کرنے میں انہیں کئی منٹ لگ جاتے مگر وہ خاموشی کے اس لمبے وقفے کو کسی طرح اپنی جسمانی کمزوری پر محمول کرنے کے لئے تیار نہ تھے بلکہ جب دم میں دم آتا تو کہتے، ”میگی یہاں سے وادی کا منظر اس قدر خوب صورت دکھائی دیتا ہے کہ یہاں آتے ہی دم بخود ہو جاتا ہوں۔ منہ سے کچھ بول نہیں سکتا۔“

” یہی حالت میری بھی ہوتی ہے۔“ میگی بھی اپنی پھولی ہوئی سانس کو قابو میں کرتے ہوئے کہتیں۔ ”یہ وادی بالکل تمہاری شاعری کی طرح خوب صورت ہے۔“

بہت دیر تک وہ دونوں چپ رہتے، کیونکہ واپسی میں نالے کو پھر پار کرنا ہوگا۔ ماسٹر متین احمد بڑی نا امیدی سے نالے کو دیکھتے اور ان کی ہمت ڈوب ڈوب جاتی اور وہ دل ہی دل میں سوچتے، ”کل سے میں میگی کو ادھر سیر کرنے کے لئے نہیں لاؤں گا۔“

مگر میگی کی یہی تو ایک کمزوری تھی۔ نالے کے اس چند گز کے پاٹ میں وہ سب کچھ پا لیتی تھیں، وہ سب کچھ اسے اس زندگی میں کبھی نہیں ملا۔ اس مختصر سے فاصلے میں وہ کسی کی بیوی ہو جاتیں، کسی کا سہارا لے لیتیں، کسی کے کندھے سے سر لگا دیتیں، کسی کی گہری قربت کا احساس کر لیتیں، بالکل اس الہڑ کنواری کی طرح ہو جاتیں جو کسی خطرے کے سمے اپنے آپ کو بچانے کے لئے کسی مرد سے لپٹ جاتی ہے۔ نالے کے پار جا کر وہ پھر ایک انگریز عورت ہو جاتی تھیں۔ اپنے آپ میں مکمل مضبوط اور خودمختار۔ مگر نالہ پار کرتے ہوئے کمزوری کے یہ چند لمحے بڑے قیمتی ہوتے تھے اور وہ ہر روز بڑی بے صبری سے ان چند لمحوں کا انتظار کرتی تھیں۔

پھر ایک دن ان کی زندگی میں پام آ گئی۔ پامیلا تھوراٹ۔ ان کی بمبئی کی سہیلی تھی۔ پامیلا نے بمبئی کے ایک تاجر سے شادی کی تھی۔ چند سال بمبئی میں رہ کر مسٹر تھوراٹ اور ان کی بیوی بنگلور چلے گئے تھے چند سال خط و کتابت ہوتی رہی۔ پھر خط و کتابت بند ہو گئی۔ اب بیس بائیس برس کے طویل وقفے کے بعد جب پامیلا تھوراٹ اچانک اسے مسوری میں نظر آ گئی تو دونوں سہیلیوں کی خوشی دیکھنے کے لائق تھی۔ نہ صرف یہ کہ دونوں نے کئی منٹ تک مصافحہ کیا بلکہ آواز میں لرزش بھی تھی اور آنکھ میں آنسوؤں کا شبہ تک پیدا ہو گیا تھا۔

پام اس عرصہ میں دو شوہر بھگت چکی تھی۔ وہ بے چارے دونوں مر چکے تھے۔ مگر ساٹھ برس کی ہو کر بھی پام اپنی شوخی اور طراری کو ہاتھ سے نہ جانے دینا چاہتی تھی۔ اپنی فطرت میں پام میگی سے بالکل الگ تھی۔ میگی دبلی تھی تو پام موٹی۔ میگی سنجیدہ تھی تو پام بات بے بات پر قہقہہ لگانے والی۔ میگی ہلکا سا میک اپ کرتی تھی تو پام بالکل گہرا۔ بالکل جوان عورتوں کا سا میک اپ کرتی تھی۔ اس کی آواز بھی ابھی تک بہت اچھی تھی اور اسے بہت سے فحش لطیفے یاد تھے۔ نہیں۔ نہیں۔ اس کی کوئی اولاد نہ تھی۔ پہلے شوہر سے ایک لڑکی تھی۔ دو سال کی عمر میں چل بسی۔ دوسرا شوہر ایک اینگلو انڈین تھا۔ وہ ہر وقت شراب میں دھت رہتا تھا اور کبھی کبھی اسے پیٹتا بھی تھا۔ کبھی کبھی مرد پیٹے تو بڑا مزا آتا ہے۔ پام نے میگی کو سرگوشی میں بتایا کیونکہ اس کے بعد مرد پر پچھتاوے کا ایک شدید دورہ پڑتا ہے اس میں وہ عورت سے بڑی احمقانہ باتیں کرتا ہے، روتا ہے۔ ہاتھ جوڑتا ہے، پاؤں پڑتا ہے۔ کبھی کبھی جذبات سے مغلوب ہو کر نیا فراک تک سلوا دیتا ہے۔ پام کو جب بھی کسی نئی فراک کی ضرورت ہوتی تھی وہ اپنے شوہر کو کسی نہ کسی طرح اسے پیٹنے پر مجبور کر دیتی تھی۔ شوہر رکھنا عمدہ چیز ہے۔ مگر آہ۔ اب تو بڑھاپا آ گیا۔

پام ایک سرد آہ بھر کر خاموش ہو گئی۔

”تم تو بالکل بچہ ہو بالکل بچہ۔“ میگی نے بڑی عمر کی بہن کا رشتہ کیا اور پام کی الجھی ہوئی لٹ ٹھیک کرنے لگی۔ ”یہ بال کیسے بنا رکھے ہیں۔“

میگی کے لہجے میں ممتا کی سرزنش سی آ گئی جسے سن کر پام کچھ اور پھیل گئی۔ اٹھلا کر بولی، ”اب ہم سے نہیں ہوتا میگی۔“

”تم کہاں ٹھہری ہو؟“ میگی نے پام سے پوچھا۔

”پہلے تو کلارئس میں ٹھہری تھی۔ ایک گجراتی فیملی کے ہمراہ احمد آباد سے آئی تھی۔ ان لوگوں کو جلدی واپس جانا پڑ گیا۔“ خاندان میں کوئی موت ہو گئی تھی۔ وہ لوگ سب چلے گئے۔ مگر میں ایسی شدید گرمی میں واپس احمد آباد نہیں جا سکتی۔ اس لئے میں ان کی ملازمت سے الگ ہو گئی ہوں اور اب مسز ٹریورز کے چھوٹے بورڈنگ ہاؤس میں پڑی ہوں۔ بڑی کمینی عورت ہے۔ ابھی تک دو روز کی پرانی ابلی ہوئی پتیوں کی چائے دیتی ہے۔ جیسے یہ مسوری نہ ہو، انگلینڈ ہو اور جنگ ابھی تک جاری ہو۔

میگی پامیلا کو مسز ریورز کے بورڈنگ ہاؤس سے کریم کاٹج میں اٹھا لائی اور اس سے ایسی محبت اور شفقت سے پیش آنے لگی جیسے پام اس کی ساٹھ برس کی سہیلی نہ ہو، کوئی چھوٹی سی بچی ہو۔ میگی پام کے بال بناتی، پام کے کپڑے نکالتی، اس کے کپڑوں پر استری کرتی، اس کو مشورہ دیتی وہ کون سی چیز کھائے کون سی چیز نہ کھائے۔ کبھی کبھی اسے ایک سخت گیر ماں کی طرح ڈانٹ ڈپٹ بھی دیتی اور پام میگی کی محبت پا کر بے طرح اٹھلانے لگی تھی اور ساٹھ برس کی ہو کر تیس برس کی خاتون کی سی ادائیں دکھانے لگی اور جب میگی کی محبت بہت زور مارتی تو وہ تقریباً تتلانے لگتی۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Pages: 1 2 3