کنواری – کرشن چندر کا افسانہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

میگی ایلئیٹ 80 برس کی پروقار خاتون ہیں، بڑے قاعدے اور قرینے سے سجتی ہیں۔ یعنی اپنی عمر، اپنا رتبہ، اپنا ماحول دیکھ کر سجتی ہیں۔ لبوں پر ہلکی سی لپ اسٹک، بالوں میں دھیمی سی خوشبو، رخساروں پر روژ کا شائبہ سا، اتنا ہلکا کہ گالوں پر رنگ معلوم نہ ہو، کسی اندرونی جذبے کی چمک معلوم ہو۔ ہر شام ان کی لاغر کلائی کا کنگن بدل جاتا ہے۔ میگی ایلئیٹ کے پاس چاندی کے چھ سات کنگن ہیں، جنہیں وہ بدل بدل کے پہنتی ہیں۔ کسی بھی مرد کو اپنے قریب دیکھ کر میگی ایلئیٹ آج بھی اچانک گھبرا جاتی ہیں، پھر رک کر کچھ عجیب طرح سے شرما کر مسکراتی ہیں جیسے یہ مسکراہٹ دیکھنے والے سے اپنا بدن چرا رہی ہے، اس مسکراہٹ کو دیکھ کر یقین ہو جاتا ہے کہ مس میگی ایلئیٹ اپنی طویل عمر کے باوجود ابھی تک کنواری ہیں۔ ان کے تبسم میں اک عجیب ان چھوئی سی کیفیت ہے۔

میگی ایلئیٹ بیرونٹ کریم بھائی کے خاندان میں ستائیس برس کی عمر سے آ گئی تھیں۔ وہ کارنوال کی رہنے والی تھیں۔ بیرونٹ کریم بھائی انہیں لندن سے اپنا سکریٹری بنا کے لائے تھے اور میگی ایلئیٹ نے بھی بمبئی میں جانا اس لیے پسند کر لیا کہ وہ انگلینڈ میں اپنی محبت کی بازی ہار چکی تھیں۔ وہ اس تکلیف دہ ماحول سے دور بھاگ جانا چاہتی تھیں جہاں انہیں اپنی محرومی کا احساس کسی پالتو کتے کی طرح ہر دم اپنے پیچھے پیچھے تعاقب کرتا ہوا نظر آتا تھا۔ وہ لندن چھوڑ کر بمبئی آ گئیں مگر سکریٹری کی حیثیت سے زیادہ دیر تک نہ چل سکیں۔ کیونکہ ابھی محبت کا احساس نیا نیا تھا اس لیے وہ بیرونٹ کریم بھائی سے ملاقات کرنے کے لیے آنے والے مردوں سے بلا ضرورت تلخی کا سلوک کر بیٹھی تھیں۔ بیرونٹ کریم بھائی نے انہیں سکریٹری کے عہدے سے الگ کر دیا مگر نرم دل کے آدمی تھے اس لیے انہوں نے میگی ایلئیٹ کو مسز کریم بھائی کی سکریٹری بنا دیا۔

کئی برس میگی ایلئیٹ مسز کریم بھائی کی سکریٹری رہیں جب مسز کریم بھائی کی وفات ہو گئی تو انہیں مسز کریم بھائی کے بچوں کی گورنیس بنا دیا گیا، بیرونٹ کریم بھائی مر گئے۔ بچے جوان ہو گئے، لڑکیوں کی شادی ہو چکی، وہ خاندان سے باہر چلی گئیں مگر میگی ایلئیٹ خاندان کے اندر ہی رہیں۔ اب وہ بیرونٹ کریم بھائی کے سب سے بڑے لڑکے ارشاد بھائی کی بیوی سکینہ کو انگریزی پڑھانے اور مغربی آداب سکھانے پر مامور تھیں اور ان دنوں بیرونٹ کریم بھائی کے خاندان کے ساتھ بمبئی سے مسوری آئی ہوئی تھیں کیونکہ گرمیوں میں بیرونٹ مرحوم کا سارا خاندان مسوری آتا تھا۔

ڈفل ڈوک کے مشہور دیوداروں والی گھاٹی پر دو منزلہ کریم کاٹج انگریزی گھاس والے لان اور انگریزی پھولوں والے قطعوں اور سلیٹی بجری والی روشوں اور سکینہ کریم بھائی کی اونچی سوسائٹی والی پارٹیوں کی وجہ سے بے حد مشہور تھا۔ مسوری کلب کی ممبری آسان تھی مگر سکینہ کریم بھائی کی دعوتوں میں بلایا جانا بہت مشکل تھا، اس کے لیے بڑی تگڑم کرنا پڑتی تھی میں چونکہ تاش کا عمدہ کھلاڑی ہوں اور سکینہ کو برج سے عشق ہے اس لیے میں اپنی دو ہزار روپیہ ماہوار کی قلیل آمدنی کے باوجود کریم کاٹج کی دعوتوں میں بلایا جانے لگا۔ پھر اسی تاش کے چسکے کے طفیل سکینہ مجھے سہ پہر کی چائے پر بھی بلانے لگی۔ ہوتے ہوتے میرے دن کا بیشتر حصہ کریم کاٹج میں گزرنے لگا اور سکینہ کی لڑکی عائشہ مجھے میٹھی نگاہوں سے دیکھنے لگی۔ دیکھتی رہے۔ کیا حرج ہے؟ اول تو سکینہ خود اس قدر سمجھ دار ہے کہ اپنی سب سے بڑی لڑکی کو کبھی اپنی آنکھ سے اوجھل نہیں ہونے دیتی، پھر مس ایلئیٹ اس قدر محتاط رہتی ہیں۔ پھر میں خود اس قدر ڈرپوک ہوں کہ کبھی کسی لڑکی کو لے کر بھاگ نہیں سکتا اس لیے میٹھی میٹھی نگاہوں سے دیکھنا، انگلیوں کو چھو لینا، عائشہ کے ہاتھ سے چائے کا پیالہ لے لینا، اس کی بڑھائی ہوئی پلیٹ سے مورین کریم کھا لینا اور کبھی کبھی تاش کے دوران میں ذرا مخصوص لہجے میں اسے ”پارٹنر“ کہہ دینا ہی میرے لیے کافی ہے۔

چلیے زندگی میں پارٹنر نہ بنے، تاش کے کھیل میں بن گئے اور یوں غور سے دیکھا جائے تو زندگی کی بازی بھی ایک طرح سے تاش کا کھیل ہے۔ اس میں کبھی ہار ہے کبھی جیت ہے کبھی پتے اچھے آتے ہیں، کبھی برے آتے ہیں، کبھی پارٹنر سے جھگڑا ہوتا ہے، صلح و صفائی بھی ہوتی ہے، حساب کتاب بھی ہوتا ہے، اسی طرح اپنے پتے کھیلتے کھیلتے ہم بھول جاتے ہیں کہ ان پتوں سے باہر بھی کوئی دنیا ہے جہاں گلاب کھلتے ہیں، مالی کی بیوی بیمار ہے، ایک لکڑہارا لکڑیاں لے کر بیچنے کے لیے بازار جا رہا ہے، ڈونڈی والوں کے کپڑے پھٹے ہیں، آسمان پر سپید بادل گھوم رہے ہیں، دیودار کی شاخ میں بلبل نے گھونسلہ بنایا ہے، مالی کے بیٹے نے گوپھیا سنبھالا ہے، یکایک ہوا کا ایک جھونکا آتا ہے۔ چنبیلی کے پھولوں کی خوشبو فضا میں تیرنے لگتی ہے، عائشہ تنک کر کہتی ہے، ”کیا سوچ رہے ہو؟ اپنا پتہ جلدی سے چلو۔“

میں گھبرا کر اپنے پتے دیکھنے لگتا ہوں، کیوں کہ تاش کا کھیل کسی کے لئے زیادہ دیر تک نہیں رک سکتا جب زندگی کی ساری تاش سمیٹ کر الگ رکھ دی جائے گی تمہاری قسمت کا بادشاہ اور یکہ، بیگم اور غلام سب دھرے رہ جائیں گے۔ اور تم اس تاش میں سے ایک پتہ نکال نہ سکو گے، کسی کو پارٹنر نہ کہہ سکو گے تمہاری بازی تھی۔ اس لئے اپنا پتہ جلدی سے چلو۔

اصل میں جو میں اس طرح سے سوچتا ہوں تو اس کی وجہ یہ ہے کہ میں ایک دفعہ محبت کی بازی ہار چکا ہوں دوبارہ زندگی کو داؤ پر لگانے کی ہمت نہیں ہوتی۔ میری طرح سنا ہے مس ایلئیٹ بھی اس میدان میں ہار چکی ہیں مگر پھر بھی داؤ لگانے سے باز نہیں آتیں۔ یہ بھی ان کی زندگی سے گہری محبت کا ثبوت ہے۔ ہمیشہ مجھ سے چہل کرتی رہتی ہیں حالانکہ جانتی ہیں کہ کچھ نہیں ہو سکتا بھلا تیس برس کا مرد اور اسی برس کی عورت میں کیا ہو سکتا ہے مگر چہل کرنے سے باز نہیں آتیں۔

”پاشا۔ اپنے ماتھے کی لٹ سنبھالو ورنہ میرا دھیان اپنے پتوں میں نہیں رہ سکتا۔ ’پاشا‘ کہاں دیکھ رہے ہو کیا دیوار سے اس پیڑ سے تاش کے پتے لٹکے ہیں۔“

”اب کے میں ضرور جیتوں گی۔ کیونکہ میرے پتوں میں ایک ’پاشا‘ بھی ہے۔“

وہ میرے نام کی خاطر بادشاہ کو ’پاشا‘ کہنے لگی ہیں۔ مس ایلئیٹ کے معصوم مذاق سے سبھی محظوظ ہوتے ہیں۔

عائشہ بھی ہنس دیتی ہے پھر میری طرف دزدیدہ نگاہوں سے دیکھ کر آنکھیں جھکا لیتی ہے۔ وہ جھکی جھکی آنکھیں مجھے اپنے پاس بلاتی ہیں۔ فاصلہ بھی زیادہ نہیں ہے، میں دونوں ہاتھ بڑھا کر عائشہ کو اپنے بازوؤں میں لے سکتا ہو مگر نہیں لے سکتا۔ کیونکہ تاش کھیلنے والے دوسرے بھی تو ہوتے ہیں ایک طرف عائشہ کی ماں سکینہ بیٹھی ہے دوسری طرف کریم بھائی اسٹیٹ کے مینیجر عاقل فاضل بھائی بیٹھے ہیں جنہوں نے عائشہ کے لیے نیروبی کے ایک کروڑ پتی بوہرہ تاجر کا بیٹا ڈھونڈ رکھا ہے۔ زندگی کی تاش کس قدر آسان ہوتی اگر دوسرے کھیلنے والے نہ ہوتے۔ اب تم ان سہمی سہمی نگاہوں کے چھوٹے چھوٹے پتے میری طرف کیوں پھینکتی ہو عائشہ! ان دگی تگیوں سے کیا ہو گا جبکہ یکہ اور بادشاہ، بیگم اور غلام اور نہلے پر دہلا دوسروں کے ہاتھ میں ہیں؟ نو بڈ پارٹنر۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Pages: 1 2 3