بوڑھے والدین اور سمندر پار بسنے والی اولاد

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

دوسرے شہروں کا تو نہیں کہہ سکتی لیکن کراچی میں آپ کو بہت سے ایسے گھر ملتے ہیں جن میں صرف بوڑھے والدین رہتے ہیں اور ان کے اعلیٰ تعلیم یافتہ بچے مغربی ممالک میں رہتے ہیں۔ کسی نے صحیح کہا ہے کہ دولت سے سب کچھ نہیں خریدا جا سکتا، مغربی ممالک میں مقیم اولاد والدین کو پیسے تو بھیج سکتی ہے لیکن ان کے آخری ایام میں انہیں پیار، محبت اور حوصلہ دینے کے لئے ان کے پاس موجود نہیں ہوتی۔

وہ والدین جو اپنی جوانی کی ساری امنگیں، خواہشیں اپنی اولاد کی خاطر قربان کر دیتے ہیں، بڑھاپے میں تنہا رہ جاتے ہیں۔ ان بوڑھے والدین کے بارے میں تو ہم سوچتے ہیں لیکن ہمیں کبھی یہ خیال نہیں آتا کہ ان کے بچے کس اذیت کا شکار رہتے ہیں، اکثر مغربی ممالک میں ایسے قوانین بنا دیے گئے ہیں کہ وہ لاکھ چاہنے کے باوجود اپنے والدین کو اپنے پاس نہیں بلا سکتے اور ہمہ وقت پریشانی اور احساس جرم کا شکار رہتے ہیں۔

برطانیہ کے امیگریشن ایکٹ کا DEPENDENCY RULE وہاں مقیم ہمارے جیسے ممالک سے جانے والے نوجوانوں کو اپنے والدین کو بلانے کی اجازت نہیں دیتا۔ کچھ روز قبل ایشیائی ڈاکٹروں کی تنظیم نے برطانیہ کی ہوم سیکریٹری کو اس حوالے سے ایک خط لکھا ہے کہ اس پابندی کی بدولت برطانیہ میں کام کرنے والے ڈاکٹرز اور دوسرے پیشوں سے وابستہ لوگ جن کے والدین دوسرے ممالک میں مقیم ہیں، پر منفی اثرات پڑ رہے ہیں اور وہ ذہنی اذیت میں مبتلا ہیں۔ اس ضابطے نے برطانیہ جا کر مقیم ہونے والے نوجوانوں کو اپنے بوڑھے والدین سے ہمیشہ کے لیے جدا کر دیا ہے۔ ایک ہندوستانی ڈاکٹر کے بقول اس پابندی کی وجہ سے نوجوانوں کی ذہنی صحت متاثر ہو رہی ہے۔

ہر سال ہزاروں پاکستانی اور ہندوستانی نوجوان اعلیٰ تعلیم یا اچھی ملازمت کی خاطر مغربی ممالک کا رخ کرتے ہیں۔ والدین بھی بظاہر انہیں ہنسی خوشی رخصت کرتے ہیں لیکن اندر ایک خوف ڈیرہ ڈال لیتا ہے، تنہائی کا خوف۔

تنہائی اور جدائی کے احساس کے ساتھ ساتھ بوڑھے والدین کو بہت سے عملی مسائل کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔ بیماری اور ہنگامی صورتحال کے علاوہ بعض اوقات چھوٹے چھوٹے کام بھی ان کے لئے بڑا مسئلہ بن جاتے ہیں جیسے بنک جانا، بل ادا کرنے کے لئے لائن میں لگنا، ڈاکٹر یا ڈینٹسٹ کے پاس جانا۔ ہندوستان میں تو ایسے والدین نے ایک دوسرے کی مدد کے لئے ایک تنظیم بھی بنا لی ہے اور یوں وہ باقاعدگی سے ایک دوسرے سے رابطہ رکھتے ہیں۔

تنظیم کی حد تک تو بات صحیح ہے لیکن پاکستان اور ہندوستان میں مغرب کے روایتی اولڈ ہومز کو شجر ممنوعہ سمجھا جاتا ہے۔ برطانیہ سے نکلنے والے جریدے کے جنوری کے شمارے میں اس مسئلے کے بارے میں ایک تحقیقی مضمون شائع ہوا ہے جس میں ایک ہندوستانی ڈاکٹر کمل سدھو بتاتے ہیں کہ انہوں نے 2003 میں انگلینڈ جانے کا فیصلہ کیا تھا، اس وقت تک قوانین اور ضابطے لچک دار تھے۔ اگر آپ اسپانسر کر سکتے تھے تو والدین کو بلوانا اتنا مشکل نہیں تھا لیکن 2012 سے قوانین میں اتنی سختی کر دی گئی ہے کہ اب اپنے رشتے داروں کو بلوانا تقریباً نا ممکن ہو گیا ہے۔

ڈاکٹر سدھو ہندوستانی نژاد ڈاکٹروں کی ایسوسی ایشن BAPIO کے رکن ہیں۔ پاکستانی ڈاکٹروں کی ایسوسی ایشن کا نام APPNE ہے۔ ان تنظیموں نے ان سخت قوانین اور ضابطوں کو چیلنج کرنے کے لئے ایک ٹاسک فورس بنائی ہے۔ جو حکام کو متنبہ کر رہی ہے کہ اس طرح کے قوانین بچوں اور ان کے بوڑھے رشتہ داروں کے درمیان مستقل جدائی کا سبب بن رہے ہیں اور ان کے اراکین کی ذہنی صحت متاثر ہو رہی ہے۔ انہیں ہر وقت اپنے بوڑھے والدین کی فکر ستاتی رہتی ہے۔ برطانیہ میں مقیم اکثر ڈاکٹرز امریکہ یا آسٹریلیا منتقل ہونے کا پروگرام بنا رہے ہیں کیونکہ وہاں کے امیگریشن قوانین اتنے سخت نہیں ہیں۔

انگلینڈ میں مقیم ایک پاکستانی سرجن عرفان اختر کو بھی ایسی ہی صورت حال کا سامنا کرنا پڑا۔ ان کی والدہ بچوں کی ڈاکٹر تھیں اور ریٹائرمنٹ کے بعد آرام سے پاکستان میں زندگی گزار رہی تھیں مگر عمر میں اضافے کے ساتھ کمزوری میں اضافہ ہوتا چلا گیا۔ پاکستان میں انگلینڈ کی طرح کمیونٹی بیسڈ سوشل کیئر سروسز تو موجود نہیں۔ ڈاکٹر عرفان کو احساس تھا کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ماں کا علیحدہ رہنا مشکل ہوتا جائے گا اور ماں کی یادداشت بھی جواب دیتی جا رہی تھی۔

انہوں نے حکومت سے درخواست کی کہ وہ اپنی ماں کی دیکھ بھال کا خرچہ ذاتی طور پر اٹھائیں گے۔ اس لئے انہیں اپنی ماں کو برطانیہ لانے کی اجازت دی جائے مگر ان کی درخواست مسترد کر دی گئی۔ انہوں نے اس فیصلے کے خلاف عدالت میں اپیل دائر کر دی۔ دو سال تک مقدمہ چلنے کے بعد فیصلہ ان کے حق میں ہوا اور انہیں اپنی ماں کو برطانیہ لانے کی اجازت مل گئی۔ لیکن ہر کوئی ان کی طرح خوش قسمت نہیں ہوتا۔

اب یہ ثابت کرنا کہ کسی بوڑھے رشتہ دار کو برطانیہ لانے سے ٹیکس دہندگان پر کوئی بوجھ نہیں پڑے گا، دن بدن مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ اگر آپ کہتے ہیں کہ آپ کے پاس اتنا پیسا ہے کہ آپ اپنے والدین کی دیکھ بھال کے سارے اخراجات اپنی جیب سے ادا کر سکتے ہیں تو یہ بات بھی آپ کے خلاف جاتی ہے اور آپ کو جواب ملتا ہے کہ اگر آپ کے پاس اتنا پیسا ہے تو آپ اپنی والدہ یا والد کو پاکستان میں مکان کیوں نہیں خرید کر دے دیتے۔

برطانیہ یورپی یونین سے علیحدہ ہو چکا ہے، اس لئے جو مسائل پہلے پاکستانی اور ہندوستانی ڈاکٹرز کو پیش آرہے تھے، وہ اب یورپی ڈاکٹروں کو بھی پیش آئیں گے اور وہ بھی اپنی فیملیز کو نہیں لا سکیں گے۔ اس کا نتیجہ یہی نکلے گا کہ دوسرے ملکوں سے ڈاکٹرز برطانیہ نہیں آئیں گے اور جو آ چکے ہیں وہ نکلنے کی کوشش کریں گے۔

برطانوی حکومت کو اس مسئلے کا انسانی بنیادوں پر جائزہ لینا چاہیے۔ ہمارے پڑھے لکھے نوجوان ان کے ملک میں جو خدمات انجام دے رہے ہیں، وہ پاکستانی اور ہندوستانی والدین کی برسوں کی ریاضت کا نتیجہ ہے۔ آپ اپنے ان شہریوں کو ان کے والدین سے جدا رکھیں گے تو وہ ذہنی دباؤ اور پریشانی کا شکار رہیں گے اور ان کی کارکردگی متاثر ہو گی۔ اس صورت میں یا تو وہ اپنے آبائی وطن لوٹ جائیں گے یا کسی دوسرے ملک منتقل ہو جائیں گے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •