دیدہ ور کی تلاش اور بے رحم احتساب

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

شام کے پانچ ہزار برس سے دائم آباد شہر دمشق کے ایک قدیمی محلے سے گزشتہ صدی کے آغاز میں ایک شاعر ابھرا تھا۔ نزارقبانی اس کا نام تھا۔ لبنان اور شام کے قہوے خانوں میں مختلف میزوں پر موجود نوجوانوں اور بزرگوں کی گفتگو میں اس کے کسی نہ کسی شعر کا دنیا کے ہر موضوع پر ہوئی بحث کے دوران حوالہ ضروردیا جاتا ہے۔ عربی زبان وادب سے قطعاً نآشنائی کے باوجود اس کی مقبولیت نے ہمیشہ بہت حیران کیا۔ کسی زبان میں ہوئی شاعری کو اردو یا انگریزی میں ہوئے ترجمے کی بدولت اگرچہ سراہنے کے قابل نہیں ہوں۔

2007 میں لبنان پراسرائیل کی مسلط کردہ جنگ کے دوران چھ ہفتے قیام کے دنوں میں فضائی بمباری سے تباہ ہوئے شہروں اور قصبات کی جانب کرائے پر لی گاڑی میں سفر کرنا ہوتا تھا۔ ان گاڑیوں کے اکثر ڈرائیور قبانی کا کلام سن رہے ہوتے۔ میں دلچسپی کا اظہار کرتا تو ٹیپ بند کر کے اس کے شعر بلند آواز میں پڑھنا شروع ہو جاتے۔ صوتی اعتبار سے عربی مسحور کن زبان ہے۔ کلام پاک کی برکت سے اکثر عربی الفاظ وتراکیب ہم پاکستانیوں کی اکثریت سمجھ لیتی ہے۔ ڈرائیور ایک ایک لفظ کا انگریزی متبادل ڈھونڈتے ہوئے قبانی کے شعروں کو مزید با اثر بنادیتے۔

نزار قبانی کے سحر سے مغلوب ہو کر میں نے پاکستان لوٹ کر اس کے بارے میں گوگل کے ذریعے مزید معلومات حاصل کرنے کی کوشش کی۔ دریافت یہ ہوا کہ وہ جب پندرہ برس کا تھا تو اس کی بہن نے خودکشی کرلی تھی۔ وہ یہ انتہائی قدم اس لئے اٹھانے کو مجبور ہوئی کیونکہ خاندان کے بزرگ ایک ایسے شخص سے اس کی شادی کرنا چاہ رہے تھے جو اسے پسند نہیں تھا۔ تعلق قبانی کا ایک ادبی خاندان سے تھا۔ اس کا دادا شام میں جدید تھیٹر کے بانیوں میں شمار ہوتا تھا۔ گھر کے ادبی ماحول کے باعث قبانی کا مزاج بھی شاعرانہ ہو گیا۔ بہن کی خودکشی نے اس کی حساس طبیعت کو مہمیزلگائی۔ وہ ”محبت کے گیت“ لکھنا شروع ہو گیا۔ اس کا اصرار رہا کہ عرب معاشرہ اس وقت تک ”انسانی“ کہلایا ہی نہیں جاسکتا جب تک وہاں محبت ”آزاد“ نہیں ہوجاتی۔

قدامت پسند معاشرے میں اس کی سوچ ”باغیانہ“ ’قرار پائی۔ وہ مگر حیران کن استقامت سے اپنی سوچ پر ڈٹا رہا۔ قبانی کی ضد نے اس کی تخلیقی صلاحیتوں کو بھی جلابخشی۔ مختصر نظموں میں وہ سادہ الفاظ کو چونکا دینے والے خیالات رقم کرنے میں مصروف رہا۔ ”محبت کے نغمے“ لکھتے قبانی کے لئے حافظ اسد کے شام میں زندگی گزارنا ممکن ہی نہیں تھا۔ بیروت، پیرس اور لندن میں جلاوطنی کے عذاب میں مبتلا ہوتے ہوئے بھی دمشق کی گلیوں کو ان کی مخصوص خوشبو سمیت دنیا کے سامنے بیان کرتا رہا۔ میں اکثر فارغ اوقات میں یوٹیوب پر اس کی نظموں سے انگریزی تراجم کی بدولت لطف اندوز کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔

ہفتے کی شام سونے سے قبل نجانے اس کی کیوں یاد آ گئی۔ یوٹیوب کھولی تو اتفاقا ایک نظم سننے کو ملی جس نے مجھے پریشان کر دیا۔ جو نظم میں نے سنی ایک سادہ اور روزمرہ کہانی بیان کرتی ہے۔ قبانی کا کم سن بیٹا جو حال ہی میں سکول داخل ہوا ہے ”ہوم ورک“ کے طور پر ڈرائنگ بک پر بچوں کے زیر استعمال برش اور رنگوں کے ذریعے کسی پرندے کی تصویر بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔ اس ضمن میں ناکامی سے زچ ہو کر وہ اپنے والد سے مدد مانگتا ہے۔ قبانی برش اٹھاکر خالی صفحے پر سرمئی رنگ سے تین لکیریں کھیچ دیتا ہے۔ شاعر کا بیٹا پکاراٹھتا ہے کہ ”بابا آپ پرندہ نہیں کوئی جیل دکھارہے ہیں“ ۔ قبانی بہت عجز سے اعتراف کرتا ہے کہ اس کی نسل کے عربیوں نے پرندے نہیں بلکہ جیلیں ہی دیکھی ہیں۔ وہ پرندوں اور ان کی پرواز سے آشنا ہی نہیں۔

قبانی کی مذکورہ نظم یقیناً شاعری کے لئے مختص مبالغے سے بھرپور تھی۔ اس نے مگر مجھ جیسے پاکستانیوں کے ذہنوں پر مسلط کئی خیالات یاد دلادئے۔ مثال کے طور پر یہ تصور کہ ہمارا ہر سیاست دان ”چور اور لٹیرا“ ہے۔ اقتدار مل جائے تو خلق خدا کی خدمت کے بجائے اپنے اختیار کو ”حرام کی کمائی“ جمع کرنے پر مرکوز کردیتا ہے۔ مختلف ذرائع سے اس کمائی کو غیر ملک بھجوادیتا ہے۔ وہاں قیمتی جائیدادیں خرید کر شاہی انداز میں رہنا شروع کردیتا ہے۔ اسی باعث 1950 سے ہم مستقل کسی ایسے ”دیدہ ور“ کی تلاش میں رہے جو ان ”چوروں اور لٹیروں“ کا ”بے رحم احتساب“ کرے۔ قوم کی لوٹی ہوئی دولت واپس لائے۔

اسی ”فریضے“ کو نبھانے کے لئے اکتوبر 1999 میں جنرل مشرف نے اقتدار پر قبضے کے بعد ”قومی احتساب بیورو“ بنایا۔ ”چوروں اور لٹیروں“ کی ایک فہرست مرتب کی۔ ان میں سے چند لوگوں کو گرفتار کر کے جنگی قیدیوں کی مانند اٹک قلعے کے تہہ خانوں میں پھینک دیا۔ فقط ایک برس گزرنے کے بعد مگر نواز شریف کو سعودی عرب سے آئے ایک طیارے میں بٹھاکر پورے خاندان سمیت ”سرورپیلس“ بھیج دیا گیا۔ دیگر افراد کی اکثریت کے ساتھ بھی بعد ازاں ”مک مکا“ ہو گیا۔ ان میں سے چند جنرل مشرف کی سرپرستی میں 2002 سے 2008 تک چلائی وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے طاقت ور وزیر بھی رہے۔

جنرل مشرف ”کڑے احتساب“ میں ناکام ہو گئے تو کرکٹ کے حوالے سے مشہور ہوئے عمران خان صاحب ایک نئے ”مسیحا“ کے طور پر نمودار ہو گئے۔ ہمارے میڈیا اور متوسط طبقے کی بے پناہ اکثریت نے ان پر اندھا اعتماد کیا۔ بالآخر اگست 2018 میں وہ وزیر اعظم کے منصب پر فائز ہوئے۔ ”چوروں اور لٹیروں“ کو کسی صورت این آر او نہ دینے کی بڑھک لگاتے رہتے ہیں۔ ان کے ڈھائی سالہ دور اقتدار ہی میں تاہم نواز شریف کو ”سزا یافتہ مجرم“ ہونے کے باوجود وفاقی کابینہ کی منظوری سے ”علاج کروانے“ قطر سے آئے ایک جہاز کے ذریعے لندن بھجوادیا گیا۔ ”بھگوڑا“ اب وطن لوٹنے کو تیار نہیں ہے۔ ”بے رحم احتساب“ کی گردان مگر اب بھی جاری ہے۔

ہمارے دلوں میں کئی نسلوں اور دہائیوں سے موجود ”چوروں اور لٹیروں“ کے ”بے رحم احتساب“ کی خواہش کو بھڑکانے کے لئے چند روز قبل لندن ہی میں مقیم ایک ایرانی نژاد نمودار ہو گیا۔ لندن میں مقیم ایک پاکستانی صحافی کو جو بہت ”سینئر“ ہوجانے کے بعد اب اپنا یوٹیوب چینل چلارہا ہے اس نے ایک طویل انٹرویو دیا۔ نواز شریف اور آصف زرداری کی مبینہ کرپشن کے بارے میں اس نے تھرتھلی مچاتی کہانیاں سنائیں۔ اس کی بتائی داستان کا وزیر اعظم صاحب نے ٹویٹس لکھ کر خیر مقدم کیا۔ کرپشن کے خلاف ان کی 22 برسوں تک پھیلی جدوجہد کو گویا اس داستان کے ذریعے اثبات فراہم ہو گیا۔ عوام میں بے پناہ مقبول اور ان کا ”ذہن بناتے“ ہمارے کئی مشہور اینکر ایرانی نژاد ”جیمز بانڈ“ کے One۔ on۔ One انٹرویو کو مجبور ہو گئے۔ ٹی وی سکرینوں پررونق لگ گئی۔

رونق کے اس موسم میں مجھ جیسے گوشہ نشین صحافی نے اس کالم کے ذریعے فقط اتنا یاد دلانے کی کوشش کی کہ حکومت پاکستان سے 28 ملین ڈالر کی خطیر رقم بطور ”تاوان“ وصول کرلینے کے بعد مذکورہ ”جیمز بانڈ“ ہمارے دلوں میں موجود ”بے رحم احتساب“ کی خواہش کو بخوبی جانتے ہوئے اپنی کمپنی کے لئے اب ایک اور Assignment حاصل کرنے کے چکر میں ہے۔ وہ دعویٰ کر رہا ہے کہ اگست 2018 میں اقتدار سنبھالنے کے بعد عمران حکومت کے نمائندوں نے ”قوم کی لوٹی ہوئی دولت“ کا سراغ لگانے کے لئے اس سے رابطے استوار کیے ۔ بات مگر بنی نہیں کیونکہ چند ”پیغامبروں“ نے اپنے ”کمیشن“ کے حصول کے لئے مبینہ طور پر مذاکرات شروع کردیے۔ جن ”پیغامبروں“ کی اس نے نشان دہی کی ان کا ذکر کرنے کی مجھ پیدائشی بزدل میں ہمت موجود نہیں۔ ہماری ”ذہن سازی“ پر مامور ”حق گو“ بھی تاہم ایرانی نژاد ”جیمز بانڈ“ کو اب نظر انداز کرنا شروع ہو گئے ہیں۔ دریں اثناء پیٹرول کی فی لیٹر میں تین روپے 20 پیسے کا اضافہ ہو گیا اور بجلی کا فی یونٹ بھی مزید مہنگا ہو گیا ہے۔ ایرانی نژاد ”جیمز بانڈ“ کی چسکہ بھری کہانیاں سنتے ہوئے ہم مہنگائی کی نئی لہر کو یقینی بناتے ان فیصلوں پر توجہ ہی نہ دیے پائے۔

بشکریہ نوائے وقت۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •