کنول پھول اور تتلیوں کے پنکھ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

یہ چند ہفتے پہلے کی بات ہے۔ کراچی آرٹس کونسل کی تیرہویں عالمی اردوکانفرنس ہو رہی تھی جب مہ ناز رحمان کا میرے پاس فون آیا۔ انھوں نے اس ادبی محفل میں شرکت کے لیے آنے والی ڈاکٹر طاہرہ کاظمی کو اپنے گھر مدعوکیا تھا۔ اس دعوت میں شہرکی نام دار اور عورتوں کے حقوق کے لیے سرگرم خواتین مدعو تھیں۔ اپنی طبیعت کی ناسازی کے سبب میں نے معذرت کر لی اور افسوس رہا کہ ڈاکٹر طاہرہ سے ملاقات نہ ہوسکی۔

اور اب لاہورکے اشاعتی ادارے ’’ سانجھ ‘‘سے ان کی کتاب ’’ کنول پھول اور تتلیوں کے پنکھ‘‘ مجھ سے ملنے چلی آئی۔ وجاہت مسعود کی ہمت کہ وہ انھیں لوگوں تک پہنچاتے رہے۔ یہ ان کی پر تاثیر تحریریں ہیں جو ’’ہم سب ‘‘ میں شایع ہوتی رہیں۔ طاہرہ نے عورتوں اور لڑکیوں پرگزرنے والے ہر ستم کی روداد لکھی ہے اور لکھتی ہی چلی گئی ہیں۔ ہرعورت ان سے اپنا تعارف کروانا چاہتی ہے۔

یہ عورتیں نہیں زندہ لاشیں ہیں یا شاید مردہ کہانیاں!

آوازیں ہی آوازیں!

میں قبر میں مردہ بے جان حالت میں ریپ ہونے والی عورت ہوں!

میں ننھی بچی زینب اور فرشتہ کے روپ میں کوڑے کے ڈھیر پر ملنے والی عورت ہوں!

میں جسمانی مارپیٹ سے مضروب عورت ہوں!

میں چولہے میں جلائی جانے والی عورت ہوں!

میں تیزاب سے منہ بگاڑ دی جانے والی عورت ہوں!

میں ذہنی اذیتوں سے پاگل ہوجانے والی عورت ہوں!

میں جنسی اعضا کو بجلی کی راڈ سے داغی جانے والی عورت ہوں!

میں گالیاں سن سن کر زندگی بتانے والی عورت ہوں!

میں طلاق کے بعد بچے چھین کرگھر سے نکالی جانے والی وہ عورت ہوں جو ساری عمر بچوں کی دید کو ترستے گزار دیتی ہے۔

میں وڈیرے کے حکم پہ گینگ ریپ ہونے والی عورت ہوں!

میں گلیوں میں مختاراں مائی کی شکل میں ننگی گھمائی جانے والی عورت ہوں!

میں کاری کے الزام پہ گل سما کے روپ میں سنگسار ہونے والی عورت ہوں!

میں مرد کی بدکاریوں کے بدلہ ونی کی صورت میں قربان ہونے والی عورت ہوں!

میں کما کے لانے کی صورت میں اپنی کمائی پہ بے اختیار عورت ہوں!

میں باپ اور بھائیوں کے ہاتھوں ریپ ہوتی ہوئی عورت ہوں!

میں مذہب کے نام پر جنسی اعضا کے ختنے ہوتی ہوئی عورت ہوں!

میں اپنے جسم کو اگر چادر سے نہ چھپائوں تو چھونے اور ٹٹولنے دو کا حکم سننے والی عورت ہوں!

میں نکاح نامے میں طلاق کا حق نہ پانے والی عورت ہوں!

میں حق مہر کے نام پرکچھ ٹکے پانے والی عورت ہوں!

میں سسرال میں خادمہ سمجھی جانے والی عورت ہوں!

میں شوہر کے حکم  پر سگے بہن بھائیوں سے قطع تعلق کرنے والی عورت ہوں!

میں قرآن سے شادی کروائی جانے والی عورت ہوں!

میں اغوا کے بعد ریپ ہوکر ماری جانے والی عورت ہوں!

میں کھیتوں میں پڑی لاش ہوں!

میں شک کی بنیاد پر زندہ جلائی جانے والی عورت ہوں!

میں اپنی مرضی کے خلاف ہر برس بچہ پیدا کرنے پر مجبور عورت ہوں!

میں مرضی کی شادی کی اجازت نہ ملنے پر ساری عمرگھر بٹھائی جانے والی عورت ہوں!

ڈاکٹر طاہرہ نے صرف ہمیں آج کی دنیا میں زندہ رہنے کی تہمت اٹھاتی ہوئی عورت کا قصۂ درد نہیں سنایا، وہ سیکڑوں برس پہلے کے چین کی عورت کے بارے میں بتاتی ہیں جس کی نزاکت کا پیمانہ بادشاہ اور امرا طے کرتے تھے۔ ہمارے یہاں پیتل کی کٹوری پہنا کر دولہ شاہ کے چوہے پیدا کیے جاتے ہیں۔ منتوں اور مرادوں کی تکمیل کے لیے  جب کہ چینی بادشاہ لڑکیوں کے پیروں کی ہڈیاں توڑکر انھیں بچپن سے ہی اس قابل نہ چھوڑتے تھے کہ وہ زندگی سے تنگ آجائیں تو اپنے پیروں سے چل کر راہ فرار اختیار کرسکیں۔

انھوں نے امریکا کی حبشی النسل عظیم شاعرہ مایا اینجلوکے بارے میں بھی ایک اعلیٰ تحریر لکھی ہے۔ یہ وہی مایا ہے جسے 1993 میں امریکا کے منتخب صدر بل کلنٹن اور ان کی شریک حیات نے بلایا تھا کہ وہ اپنی نظم پڑھیں اور ان کے اشعار سے نئے منتخب ہونے والے صدرکی تقریب حلف برداری کا آغاز ہو۔ یہ ایک اشارہ تھا کہ امریکا گوروں،کالوں، ہسپانیہ کے لوگوں اور دنیا بھر سے آنے والے تارکین وطن کی جائے پناہ ہے۔

اس روز سیاہ فام مایا نے امریکیوں اور دنیاکو منتخب کرتے ہوئے کہا تھا:

تم میرا نام تاریخ میں لکھ سکتے ہو … تلخ جھوٹ کے ساتھ … تم مجھے خاک میں ملا سکتے ہوں…لیکن میں پھر اٹھوں گی…کیا تم مجھے بکھرا ہوا دیکھنا چاہتے ہو … جھکا ہوا سر اور نیچی نظر…آ نسوئوں کی طرح گرتے ہوئے کندھے…روح سے اٹھتی سسکیاں…تم مجھے اپنے الفاظ سے قتل کرسکتے ہو…تم مجھے اپنی نگاہوں سے کاٹ سکتے ہو… تم مجھے اپنی نفرت سے مار سکتے ہو… لیکن پھر بھی، ہوا کی طرح، میں پھر اٹھوں گی…دہشت بھری راتوں کو بھولتے ہوئے… میں اٹھتی ہوں … ایک روپہلی امید بھری صبح میں… میں اٹھتی ہوں… اپنے آبائو اجداد کا اثاثہ لیے… میں غلامی کا ترک کیا ہوا خواب اور نئی امید ہوں… میں اٹھتی ہوں… میں اٹھتی ہوں… میں اٹھتی ہوں۔

ڈاکٹر طاہرہ کاظمی نے اپنی تحریروں میں ایشیا، افریقا، امریکا کی عورتوں کے دکھ، سکھ جرات رندانہ سے لکھے۔ انھیں بہت مبارک ہو اور سب سے بڑی بات یہ کہ ہماری اس باہمت لکھاری کی انگلی پکڑ کر بلندیوں تک پہنچنا ایک مرد نے سکھایا۔ یہ مرد ان کے والد مرحوم شوکت علی کاظمی مرحوم تھے۔ ان کے لیے طاہرہ نے یہ بابل نہیں گایا کہ میرے بابا کی اونچی حویلی۔ وہ اس بات پر نازکرتی ہیں جو یہ کہتے تھے کہ لڑکیوں کو علم کے زیور سے آراستہ کرو، اعلیٰ تعلیم دلوائو، زندگی میں سر اٹھا کے چلنے کے قابل بنائو۔

ہم سب مرحوم شوکت علی کاظمی کے ممنون احسان ہیں، جنھوں نے ہمارے سماج کو طاہرہ جیسی سرشور بیٹی کا تحفہ دیا۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).