لاہوتی میلہ: جنگل میں مور ناچا سب نے دیکھا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کراچی سے تقریباً 140 کلومیٹر کے فاصلے پر جامشورو، سندھ میں واقع لاہوتی آشرم قدیم اور جدید سندھ کے ساز، رقص، راگ اور فنون لطیفہ کی دیگر شکلوں کا ایک پرکشش نمونہ ہے۔ آج کے سندھ میں اگر کوئی لاہوتی سے نا آشنا ہے تو گویا اس نے سندھ دیکھا ہی نہیں۔

جنگل میں ناچتا مور سب کو دکھانا لاہوتی کے خالق سیف سمیجو اور ان کی ٹیم کا جنون ہے۔ اکیسویں صدی کے ماڈرن لاہوتی ناچتا مور دکھانے کے لیے لوگوں کی آسانی سے جنگل تک رسائی ممکن بناتے ہیں ، یہ جنگل اور صحرا کو نچانے کا ہنر بھی خوب جانتے ہیں۔ لاہوتی باہر کی دنیا کو اپنے اندر کی دنیا سے ملانے کے لیے جنگل میں ساز و آواز کا مور نچاتے رہتے ہیں۔

حال ہی میں لاہوتیوں نے Winter Lore ’s کے نام سے اپنے آشرم پر ایک میلہ لگایا۔ میلے کے منتظمین نے دن کی شروعات جامشورو کے آسمان تلے یوگا ماہر محلا سرکی کے یوگا سے کی۔ محلا نے پہاڑوں کے سناٹے میں تبتی کٹوروں کی آوازوں سے یوگا میں حصہ لینے والوں کی اپنے اندر سے گفتگو کا سحر انگیز ماحول جوڑا۔ اس مراقبے کے ذریعے شرکت کرنے والوں نے اپنے اندر کے یار کو منانے کی ایک یوگائی کوشش کی۔

ایک طرف دوپہر کے وقت سورج کی تازہ اور توانا کرنیں جسم گرم کر رہی تھیں تو دوسری طرف دانش، صحافت، سیاست، شاعری، رقص، راگ، ساز اور دیگر فنون پر گفتگو ذہنوں کو توانائی اور تازگی بخش رہی تھی۔ لاہوتی آشرم سے سندھ کا صوفیانہ رنگ رات گئے تک بکھرتا رہا۔ یوگا سے روح کی ریاضت کی، ساز و آواز سے توانائی جمع کی اور باتوں سے جامشورو کے پہاڑوں سے نا انصافی کی ہر صورت کے خلاف مزاحمت کی پکار اٹھتی رہی۔

لاہوتیوں کے ساتھ گزارے ایک دن کی کچھ جھلکیاں

میں تو ناچوں گی

کیف غزنوی نے بتایا: نیشنل کالج آف آرٹس لاہور میں پڑھانا، شعبے کی قیادت کرنا، فل برائٹ اسکالرشپ پر امریکہ جانا اور اپنے ماسٹرز کا تحقیقی مقالہ لکھتے لکھتے اس سوال میں پھنس جانا کے یار کیف! یہ کیا کر رہی ہو؟ سوال کے اس موڑ سے اپنے نئے کرئیر کا آغاز کیا اور وہ تھا اداکاری اور رقص کرنا۔ کیف نے اپنی کہانی کا سویٹر اتنا خوبصورت بنا کہ سننے والے اس میں مکمل طور پر کھو گئے۔ انہوں نے کہا میں نے امریکہ میں فیصلہ کر لیا کہ میں تو ناچوں گی۔ 32 سال کی عمر میں انہوں نے اپنا نیا کرئیر شروع کیا اور ایسا کیا کہ جس کے لیے کہا جا سکتا ہے کے وہ آئی اور چھا گئی۔

تیرے میرے یارانے

دو سہیلیاں، دو دوست، دو سرگرم خواتین امر سندھو اور عرفانہ ملاح ”تیرے میرے یارانے“ کے عنوان سے اپنے تقریباً 30 سال پرانے تعلق کی یادوں کی بارات میلے میں لے کر آئیں۔ عرفانہ کی گفتگو سے حاضرین اور سامعین نے خوب مزا لیا۔ انہوں نے کہا مرد حضرات ایک دوسرے کے جگری یار ہوتے ہیں، دل کے دوست ہوتے ہیں ، جو قریبی دوست خواتین کی دوستی ہوتی ہے اس کو ہم کیا نام دیں؟ جگر اور دل پر تو مرد حضرات نے قبضہ کیا ہوا ہے، ہم عورتیں اپنی دوستی کو کیا پھیپھڑوں کی یاری کا نام دیں یا کچھ اور؟ انہوں نے امر سندھو کو اپنے موقف میں انتہاپسند ہونے کا لقب دے ڈالا اور کہا جیسے ہم اکثر ایک ساتھ رہتی ہیں بالکل اس سے زیادہ ہم آپس میں موقف میں الگ ہیں اور ہمارے اختلاف بھی ہوتے رہتے ہیں۔ اختلاف بھی ایسے کہ امر سندھو دوران سفر چلتی گاڑی سے اتر جانے یا اتار دینے کی حد تک پہنچ جاتی ہیں۔

باتیں شاہزیب جیلانی کی

اپنے دادا اور خیرپور میرس کی مشہور شخصیت ڈاڈا سائیں کی فلم سازی اور سنیما بنانے والی کہانی سے اپنی کہانی جوڑ کر شاہزیب جیلانی بتانے لگے کہ سفر اور سیاحت ان کا محبوب مشغلہ رہا ہے ، اس لیے انہوں نے صحافت کرنے کا فیصلہ کیا۔ صحافت میں وہ حادثاتی نہیں مگر اپنی دل سے آئے ہیں۔ وہ ملکی میڈیائی اداروں سے لے کر برطانیہ اور جرمنی کے میڈیائی اداروں کے ساتھ کام کے اپنے تجربات بتا رہے تھے۔ اس گفتگو میں یروشلم میں انگوروں سے شراب کیسے بنتی ہے ، سے لے کر عزیز ہم وطنو کہہ کر اپنا ہی ملک فتح کرنے والوں کے مشاہدات شاہزیب نے بتائے۔ عزیز ہم وطنو سے ہونے والی اپنی اس محبت کا تذکرہ اب شاہزیب کچھ کم ہی کرتے ہیں۔ وہ آج کل جرمنی کے ایک ابلاغی ادارے کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔

کوئٹہ کے رافع محمود کہتے ہیں

کوئٹہ بلوچستان کے یہ نوجوان مختلف انگریزی اخبارات میں ثقافت اور فن پر لکھتے رہے ہیں۔ آج کل وہ وی لاگر اور فری لانس کلچرل رائٹر ہیں۔ کوئٹہ سے کراچی میں آ کر بسنے والی اپنی کہانی وہ شاعری میں بتانا پسند کرتے ہیں۔ ان کی آتش ابھی جوان ہے ، بات بات پر ان کو شاعری یاد آ جاتی ہے۔رافع محمود جاڑے کے دنوں ہونے والی عاشقی کا مارا لگتا ہے۔

چاند تارا آرکسٹرا کی کہانی

بابر شیخ، رضوان اللہ خان اور شہریار ہم سب کے لیے چاند تارا آرکسٹرا بینڈ بنانے کی کہانی بن کر آئے، ان کا کہنا ہے وہ سوچ اور کسی منصوبہ بندی کے ساتھ کام نہیں کرتے ، انہوں نے بتایا ہم نے اپنے کام کا مقصد کمرشل نہیں رکھا۔ جو بھی کام کیا ہے وہ کچھ نیا اور اثر کرنے والا کیا ہے۔ جو دل کو لبھاتا ہے ، وہ کرتے ہیں، وہ گاتے اور بجاتے ہیں۔

میلے میں خولہ جمیل نے اپنے فوٹوگرافی کے تجربات بتائے تو استاد ذوالفقار نے نایاب بوڑینڈو ساز بجایا۔ اسحاق سمیجو نے سندھ کے نامور راگی صادق فقیر کے فن اور شخصیت کے متعلق بات کی تو دانشور جامی چانڈیو نے فن کو مزاحمت اور تبدیلی کے لیے کیسے استعمال کیا جاتا ہے، فن کا مزاحمت اور انقلاب میں کردار کیا رہا ہے یا کیا کردار ہو سکتا ہے ، اس موضوع پر بات کی۔

لاہوتی آشرم پر سورج ڈھلتے ہی بھگتی راگ کے انداز میں گانے والے بھگت بھورو لعل نے شاہ لطیف اور کبیر کو گایا۔ الھڈنو جونیجو نے محفل کو اپنے الاپوں سے گرمایا اور رات گئے سیف سمیجو نے شیخ ایاز کی وائی ”ٹڑی پوندا ٹارئیں جڈھن گاڑھا گل تڈھن ملنداسین“ گا کر محفل برخاست کی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اشفاق لغاری

لکھاری، میڈیا سائنسز کا طالب علم ہے۔ پڑھنا، لکھنا، گھومنا اور سیاحت کرنا اس کے محبوب کاموں میں شامل ہیں۔

ashfaq-laghari has 17 posts and counting.See all posts by ashfaq-laghari