منور فاروقی: ایسے لطیفوں کی وجہ سے جیل میں قید جو کامیڈین نے سنائے ہی نہیں

سوتک بسواس - بی بی سی نامہ نگار، انڈیا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Munawar Faruqui

اپنے ایک شو میں سٹینڈ اپ کامیڈین منور فاروقی نے اپنی آبائی ریاست گجرات اور وہاں 2002 میں ہونے والے مذہبی فسادات سے متعلق طنز و مزاح کا سہارا لیا۔

اپنے آبائی شہر جوناگڑھ (جو کہ ریاست گجرات میں ہی ہے) کے بارے میں وہ کہتے ہیں کہ ’جوناگڑھ ایک انتہائی سست شہر ہے۔ لوگ دوپہر کو سونے چلے جاتے ہیں، دکانیں بند ہو جاتی ہیں، کچھ بھی نہیں ہوتا۔‘

منور فاروقی کہتے ہیں کہ جب وہ ایک بچے تھے تو گجرات میں رہتے ہوئے انھیں بارہ دن تک کرفیو میں رہنا پڑا کیونکہ وہ ایک ایسے علاقے میں رہتے تھے جہاں ہندو اور مسلمان دونوں ہی آباد تھے۔ بس کسی کسی وقت ان کی والدہ کی ایک ہندو دوست ملنے آتی تھیں۔

’اس گھر میں ہم آٹھ بچے تھے۔ میں خوش تھا کیونکہ مجھے سکول نہیں جانا پڑ رہا تھا۔ بجلی چلی جاتی تھی۔ فون بند ہوگئے تھے۔ گھر کے بڑے تحفظ کے بارے میں پریشان تھے۔ مگر پھر فسادات ختم ہوگئے۔ ہمیں پتا چلا کہ جوناگڑھ میں کوئی ہلاک نہیں ہوا۔

‘آپ جانتے ہیں کیوں؟ لوگ اتنے سست تھے کہ وہ فسادات بھی حصہ نہ لے سکے۔‘

ریاست کے باقی شہروں کے بارے میں ایسا نہیں کہا جا سکتا۔ تقریباً ایک ہزار سے زیادہ لوگ مارے گئے تھے جن میں سے اکثریت مسلمانوں کی تھی۔ فسادات کی وجہ ہندو یاتریوں کی ایک ٹرین میں لگنے والی آگ کے بعد 60 ہندوؤں کی ہلاکت تھی۔

منور فاروقی کی عمر اب 30 سال ہے اور انڈیا کے نوجوان اور ابھرتے ہوئے کامیڈی سین کا حصہ ہیں۔ انڈیا میں سٹینڈ اپ کامیڈی سین ابھی اتنا پرانا نہیں ہے مگر اس میں توانائی اور عزائم نظر آتے ہیں۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ اب ایک ایسا طبقہ سامنے آرہا ہے جو کہ منور جیسے ایک قدرے نئے فنکار کے مزاح بھری شام کے لیے پیسے دینے کو تیار ہے۔ مگر مسئلہ یہ ہے کہ انڈیا میں ہر کوئی مزاح کو سراہتا نہیں ہے۔

یہی وجہ ہے کہ منور فاروقی گذشتہ 26 دن سے ان لطیفوں کی وجہ سے جیل میں بیٹھے ہیں جو انھوں نے سنائے ہی نہیں۔

یکم جنوری کو انھوں نے 14 شہروں کا دورہ شروع کرنا تھا اور شمالی انڈیا کے شہر اِندور سے وہ اپنے دورے کا آغاز کر رہے تھے۔ وہاں پر ایک مقامی ہندو تنظیم کا لیڈر آ گیا اور اس نے کہا کہ ان کی باتیں ہندؤوں کے جذبات کو ’ٹھیس‘ پہنچا رہی ہیں۔ اندور ریاست مدھیا پردیش کا دارالحکومت ہے جہاں ہندو قدامت پسند جماعت بی جے پی کی حکومت ہے۔

Munawar Faruqui/Twitter
Munawar Faruqui/Twitter

وہاں موجود ایک تماشائی کی بنائی ہوئی ویڈیو میں منور فاروقی کو برسراقتدار بی جے پی کے ایک سیاستدان کے بیٹے اکلویا گاڈ سے بات کرتے دیکھا جا سکتا ہے جہاں وہ کہہ رہے ہیں کہ وہ مسلمانوں کا بھی مذاق اڑاتے ہیں اور انھیں کام کرنے دیا جائے۔ ’میں بس لوگوں کو ہنسانا چاہتا ہوں۔ اگر کسی کو برا لگ رہا ہے تو میں ایسا نہیں کروں گا۔‘

ادھر تماشائیوں میں سے ایک کی آواز آتی ہے، ’ارے شو شروع ہونے دو!‘

ایک خاتون تماشائی اکلویا گاڈ کو کہتی ہیں ’ہندو مسلم بھائی بھائی!‘

اطلاعات کے مطابق اکلویا گاڈ وہاں سے چلے گئے اور پولیس کو کال کر دی۔ اس رات منور فاروقی اور دیگر چار کامیڈینز کو گرفتار کر لیا گیا اور ان پر مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے اور ایسا غیر ذمہ دارانہ کام کرنے کے جو کہ وبا کے پھیلاؤ کا سبب بن سکتا ہے، الزامات لگائے گئے۔

اکلویا گاڈ نے بعد میں صحافیوں کو بتایا کہ ’وہ ایسا بار بار کرتے ہیں۔ وہ ماضی میں ہندو دیوتاؤں اور دیویوں کے بارے میں بھی نازیبہ بیانات دیتے رہے ہیں۔‘

گذشتہ جولائی میں اتر پردیش میں ایک وکیل نے منور فاروقی کے خلاف کیس کیا تھا کہ انھوں نے مختلف ویڈیوز میں وزیرِ داخلہ امت شاہ کے خلاف توہین آمیز بیانات دیے ہیں اور ہندو جذبات کو ٹھیس پہنچائی ہے۔

حالیہ واقعے سے متعلق عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ جس وقت منور فاروقی کو گرفتار کیا گیا اس وقت تک انھوں نے مذہب سے متعلق کوئی لطیفہ نہیں سنایا تھا بلکہ جب اکلویا گاڈ کی وجہ سے شو رکا تو ابھی انھوں نے اپنی پرفارمنس شروع بھی نہیں کی تھی۔ بعد میں پولیس نے اس بات کا اعتراف کیا کہ ان کے پاس ایسا کوئی ثبوت نہیں ہے اور شکایت کنندہ نے ’بس کچھ ایسے لطیفے کسی سے سن لیے تھے جن کی وہ تیاری کر رہے تھے‘۔

ان کے وکیل انوشام شریواستو کا کہنا ہے کہ ’انھیں ان لطیفوں کے لیے گرفتار کیا گیا جو ابھی انھوں نے سنائے ہی نہیں تھے۔ منور نے ابھی اپنا شو شروع بھی نہیں کیا تھا۔ کسی جرم کے بارے میں آپ کا یہ خیال اور مفروضہ کہ یہ ہونے والا ہے جرم نہیں ہو سکتا۔ پولیس نے انھیں بغیر حقائق جانچے گرفتار کیا۔‘

Stand-up comedy performance at Irish house during Kala Ghoda Art Festival 2018, on February 7, 2018 in Mumbai, India. T
Getty Images

جنوری کے مہینے میں دو عدالتوں نے منور فاروقی کو ضمانت دینے سے انکار کیا ہے اور مدہیا پردیش میں اب ہائی کورٹ ان کی نئی درخواست سن رہی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ انھیں رہا کرنے سے نقصِ امن کا خطرہ ہے تاہم ابھی یہ واضح نہیں کہ یہ خطرہ کیوں ہے۔

ایک مصنف اور پوڈ کاسٹر امت ورما کہتے ہیں ’اس سے کامیڈینز پر خوف طاری ہو جائے گا۔ انھیں سارا وقت خود کی نگرانی کرنی پڑے گی۔ سٹینڈ اپ کامیڈین اب شاید سیاست سے دور ہی رہیں۔‘

سٹیج پر دیکھیں تو منور فاروقی ایک خوش مزاج مسکراتے شخص معلوم ہوتے ہیں اور ابھی ان کی اپنی شخصیت میں بھی مزید نکھار آ رہا ہے۔ وہ جدید انڈیا کی حقیقتوں میں اپنے لطیفے ڈھونڈتے ہیں اور اکثر تلخ زبان استعمال کرتے ہیں۔ وہ تمام مذاہب کا مذاق اڑاتے ہیں۔ وہ ریپ گانے بھی گاتے ہیں اور ایک ویڈیو میں انھیں ممبئی کے ایک مسلمان علاقے میں رہنے کے تجربے کے بارے میں گاتے سنا جا سکتا ہے۔ یوٹیوب پر ان کے پانچ لاکھ فالور ہیں اور انسٹاگرام پر وہ تیزی سے مقبول ہو رہے ہیں۔

اپنے شوز میں منور فاروقی کافی مختلف قسم کے لطیفے سناتے ہیں اور ان میں کچھ تو نامکمل معلوم ہوتے ہیں۔ مگر ان میں خود اعتمادی کی کمی نظر نہیں آتی۔ وہ اس پنجابی موسیقی کا مذاق اڑاتے ہیں جس میں خواتین کو لالچی پیش کیا جاتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ انڈیا میں ہر سماجی روابط کی ویب سائٹ ایک ڈیٹنگ پلیٹ فارم بن جاتا ہے۔ ایک شو میں ان کا کہنا تھا کہ ’اگر آپ کی گرل فرینڈ کو آپ سے کچھ چاہیے تو بس اسے وہ دے دیں، اس کے بارے میں گانے مت گائیں۔‘ وہ حکومت کا بھی مذاق اڑاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ حکومت کسانوں کے احتجاج میں پانی کی توپوں کا استعمال کر کے پانی ضائع کر رہی ہے۔

منور فاروقی کے لطیفے انتہائی ڈارک ہوتے ہیں۔ ایک شو میں انھوں نے ایک ایسا لطیفہ سنایا جس میں ان کے والد نے ان کی ایک نوٹ بک پکڑی جس میں انھوں نے بم بنانے کا طریقہ لکھ رکھا تھا۔

’انھوں نے نوٹ بک میرے منہ پر ماری اور پوچھا کہ مجھے کون یہ سیکھا رہا ہے۔ یہاں اہم بات کا تو ذکر ہی نہیں۔ اور وہ ہے سیاسی سپورٹ (بم بنانے کے لیے)‘۔ تماشائی اس پر تالیاں بجاتے ہیں۔

امت ورما کا کہنا ہے کہ ’مجھے منور فاروقی بہت پسند ہیں۔ اتنے کم عمر ہونے کے باوجود ان کی حسِ مزاح کافی اچھی اور ڈارک ہے اور انھیں پتا ہے کہ تماشائیوں کے ساتھ جذباتی سطح پر کیسے تعلق بنانا ہے۔ وہ ہر کسی کا مذاق اڑاتے ہیں، وہ ایماندار ہیں اور ایک تازگی کا احساس دلاتے ہیں۔‘

ساتھی کامیڈین فاروقی کی حمایت میں سامنے آئے ہیں۔ ایک کامیڈین نے اپنے یوٹیوب چینل پر اس بارے میں کہا کہ ’اگر آپ کو نہیں پسند تو آپ مت دیکھیں‘۔

فاروقی کی گرفتاری کو انڈیا میں آزادیِ اظہارِ رائے پر ایک قدغن کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جسے مشتعل ہندو گروہوں اور سوشل میڈیا پر ٹرولنگ کرنے والوں کی بھی حمایت حاصل ہے۔ گذشتہ سال کم از کم 6 کامیڈینز نے مذہبی جذبات مجروح کرنے پر معافی مانگی تھی۔

انڈیا میں سٹینڈ اپ کامیڈی پر ’آئی ایم اوفینڈڈ‘ نامی دستاویزی فلم بنانے والے فلم ساز جے دیپ ورما کا کہنا ہے کہ لوگوں کو چھیڑنا سٹینڈ اپ کامیڈی کا اہم عنصر ہے اور فاروقی کے کام میں بھی یہ پایا جاتا ہے۔ ’مگر ان سے بہترین کام کی توقع تبھی کی جا سکتی ہے جب انھیں خاموش نہیں کروایا جائے گا۔ اس وقت عملی طور پر جن موضوعات سے لوگ ناراض ہوتے ہیں ان کی تعداد قدرے کم ہے۔ آپ ان سے دور رہ کر مزاح کے لیے دوسری جگہیں بنا سکتے ہیں۔‘

ادھر کامیڈین سنجے روجورا کا کہنا ہے کہ منور فاروقی کی گرفتاری تمام انڈین شہریوں کے لیے پریشان کن ہونی چاہیے۔ ’ایک مہذب معاشرے میں اس طرح کے اقدامات کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے۔ اگر آپ کو نہیں پسند تو نہ دیکھیں۔ مگر اس وقت انڈیا میں لطیفوں کو قید کر دیا گیا ہے۔‘

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 17888 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp