طارق فارانی: بانسری آپ کے ہجر میں روئے گی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کیا کبھی آپ نے کسی ایسے شخص کو دیکھا ہے کہ جس کو دیکھ کر یہ احساس ہو کہ زندگی اپنے تمام تر پس منظر کے ساتھ قدم اٹھا رہی ہے، روایت کی طاقت اس کے قدموں کی نرم خوئی میں رواں ہے، فن کے اعلیٰ مدارج کو چھو لینے کے بعد از خود پیدا ہونے والی بے نیازی اس کی نگاہ ناز میں بے پروا انداز میں خرام کر رہی ہے، بھولی بسری باتیں اس کو دیکھ کر یاد آتی ہوں کہ ہاں یہ خوبصورتی بھی ہماری زندگی تھی کہ جسے ہم بھلا بیٹھے اور اس شخص کے ساتھ ابھی تک ہم آغوش ہے، جس کے نین میں دوری کا بھید پوشیدہ ہو، جو دور ہو کر بھی رگ جاں ہو اور قریب ہو کر بھی نا آشنا۔

جو زندگی بسر کرنے کے اصولوں کو خود سے وضع کرنے والا نہ ہو، وقت نے چھان پھٹک کر جو سلیقے، معیارات اور طریقے ساحل حیات پر لا رکھے ہوں، وہ ان موتیوں کو چننے والا ہو، اپنے گلے کا ہار بنانے والا ہو اور قریب رہنے والوں کے لیے واعظ نہ ہو۔ جو زندہ ہو تو احترام آمیز محبت حاصل کرنے والا ہو اور اگر مر جائے تو عشق کا درد پیچھے چھوڑ جائے۔ شیو کمار بٹالوی کے الفاظ میں کہ اسے روئیں بھی تو ہونٹ دانتوں تلے سختی سے بھینچ کر کہ کہیں یہ رونا جھوٹا جگ سن نہ لے اور گیتوں کو بھی برا بھلا کہے۔ ایسا شخص جس کے پہناوے میں، چال میں، لہجے میں، دیکھنے کے انداز میں، اٹھنے بیٹھنے میں، ملنے ملانے میں صدیوں کی بازگشت موجود ہو۔ مجید امجد نے اپنی نظم ”ہری بھری فصلو“ میں لکھا:

قرنوں کے بجھتے انگار، اک موج ہوا کا دم

صدیوں کے ماتھے کا پسینہ، پتیوں پر شبنم

دور زماں کے لاکھوں کے موڑ، اک شاخ حسیں کا خم

زندگیوں کے تپتے جزیروں پر رکھ رکھ کے قدم

ہم تک پہنچی عظمت فطرت، طنطنہ ء آدم

ہمارے اطراف میں جو ہوا کا جھونکا ابھی گزرا ہے اس کی لہر کے پیچھے صدیاں ہیں، حسین شاخ کے خم میں دور زمان کے لاکھوں موڑ ہیں۔ کیا آپ نے کسی ایسے شخص کو دیکھا ہے کہ جو اس نظم میں ہوا کی مانند ہو کہ جس کے پیچھے قرن کھڑے ہیں، جو اس نظم میں پتیوں پر شبنم جیسا ہو کہ جس کی چمک میں صدیاں ہوں، جو اس نظم میں حسین بھید بھری شاخ جیسا ہو۔ کیا کبھی آپ نے کسی ایسے شخص کو دیکھا؟

گورنمنٹ کالج، لاہور (اب یونیورسٹی) نے ایسے کتنے ہی لوگ پیدا کیے کہ جن کو دیکھنے والے ایک سرد آہ بھر کر کہہ سکتے ہیں کہ ہاں میں نے ایسے شخص کو دیکھا ہے۔ ایسے شخص کو دیکھنا ہی زندگی کے بڑے جمالیاتی تجربات میں سے ایک ہے۔ گورنمنٹ کالج کی کنکنی کوکھ سے ایسے کتنے ہی لوگ پیدا ہوئے کہ جو محض ایک فرد نہیں تھے۔ زیادہ نہیں گزشتہ دس برسوں میں لاہور پر ایک نظر دوڑا لیں، ایسے کتنے ہی لوگ رخصت ہوئے۔ لوگ بھی ایسے کہ جو اس شہر کے دروازے تھے۔

آپ اس دروازے سے گزریں تو اندرون ایک آباد شہر اپنی تمام تر رعنائیوں اور حیرتوں کے ساتھ آپ کا استقبال کرتا تھا۔ ہر شہر میں، کسی نہ کسی گلی کوچے میں کوئی نہ کوئی ایک ایسا با برکت شخص ضرور موجود ہوتا ہے۔ ہم خوش بخت ہیں کہ ہم انھیں دیکھتے ہیں، ان سے ملتے ہیں اور ان سے مل کر انھیں دیکھ کر صدیوں سے، قرنوں سے ملاقات ہوجاتی ہے۔ گورنمنٹ کالج، لاہور بھی ایک ایسا حیرت کدہ ہے کہ جہاں صدیاں اور قرن کسی نہ کسی جیتے جاگتے شخص میں اس طور محسوس ہوتے ہیں کہ جیسے آمد بہار سے قبل شاخ کے اندر پڑا ہوا کوئی پھول۔

میں نے طارق فارانی صاحب کو ایسے میں چلتے رہنے میں دیکھا ہے۔ ان کے ساتھ روایت کی طاقت کو مجسم دیکھا ہے۔ طارق فارانی صاحب گورنمنٹ کالج میں نذیر احمد میوزک سوسائٹی کے انچارج تھے۔ ان کے لیے لفظ انچارج، نگران، مہتم بہت چھوٹے پڑ جاتے ہیں۔ ہاں اگر، گرو کا لفظ برتا جائے تو شاید زیادہ مناسب ہو۔ گورنمنٹ کالج میں نذیر احمد میو زک سوسائٹی کم و بیش گزشتہ ساٹھ برس سے ہر سال نئے آنے والے طلبہ و طالبات میں موسیقی کا ذوق پیدا کرنے اور موسیقی کی عملی تربیت دینے کا کام غیر معمولی انداز میں کر رہی ہے۔ ساز بجانے سے لے کر گائیکی تک ہر مرحلے میں تربیت کا یہ اہم مرکز رہا ہے۔ ہر سال طلبہ و طالبات کی ایک بڑی تعداد نذیر احمد میوزک سوسائٹی سے تربیت لے کر فارغ التحصیل ہوتی ہے۔

ہماری معاشرتی زندگی میں موسیقی کے بارے میں سماجی قبولیت ہچکچاہٹ کا شکار رہی ہے۔ تعلیمی اداروں میں یہ معاملہ اور بھی نازک ہے۔ اس نازک تر صورت حال میں بھی نذیر احمد میوزک سوسائٹی نے اپنا کام جاری رکھا اور ہر جمعرات کے دن طلبہ و طالبات اکٹھے ہو کر سوسائٹی کے ہال نما دفتر میں مل بیٹھتے۔ حاضرین کی ایک بڑی تعداد موجود رہتی۔ غزل، گیت، کافی، ماہیے پیش کیے جاتے۔ طبلہ، ہارمونیم، ستار، بانسری کا ساتھ رہتا۔ جمعرات کے دن اس محفل کے لیے پورا ہفتہ ریاض جاری رکھا جاتا۔

اسی دفتر میں فارانی صاحب کا گوشہ مقرر تھا۔ آپ شام تک وہاں موجود رہتے۔ طلبہ و طالبات کے ریاض کی نگرانی کرتے لیکن اپنی کرسی سے نہ اٹھتے اور نہ ہی زیادہ روک ٹوک کرتے۔ اگر کوئی غلط سر لگاتا تو ان کی آواز گونجتی۔ ”اے کیہ کر رے او“ (یہ کیا کر رہے ہو) ان کا اتنا کہنا ہی کافی ہوتا۔ بار بار اصلاح کرواتے۔ بار بار ریاض کرواتے۔ اس وقت تک آگے نہ بڑھنے دیتے جب تک طالب علم درست لے نہ پکڑ لے۔ اگر کوئی طالب علم نہ کر پاتا تو کسی سنیئر سے کہتے اسے گا کر بتاؤ۔

ایک ہی مصرع بار بار گایا جاتا۔ حتی کہ نو آموز اس میں قدرے سنبھل جاتا۔ ہفتہ وار تقریب تو معمول کی بات ہے۔ گورنمنٹ کالج میں آئے دن قومی و بین الاقوامی تقریبات ہوتی ہی رہتی ہیں۔ کوئی بھی تقریب نذیر احمد میوزک سوسائٹی کے بغیر ادھوری سمجھی جاتی ہے۔ بین الاقوامی کانفرنسز، سیمنارز، قومی دن اور نہ جانے کیا کیا ان تمام تر موقعوں پر نذیر احمد میوزک سوسائٹی کے طلبہ غزل، کافی، گیت اور ملی نغموں سے تقریب کو چار چاند لگا دیتے۔ ان تقریبات کے لیے ریاض کا سلسلہ جاری رہتا۔ فارانی صاحب ہیں کہ اپنی خاص نشست پر براجمان ہیں اور سامنے ریاض کیا جا رہا ہے۔ سارا سارا دن ریاض جاری رہتا۔ بخاری ہال کے سامنے سے گزرنے والے طبلہ کی آواز سے لطف اندوز ہو کر گزرتے، سرگم، پلٹوں، راگ اور راگنیوں کی آوازیں آتی رہتیں۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
خالد سنجرانی کی دیگر تحریریں

Pages: 1 2 3 4 5