کافکا برلب ساحل

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

’‘ کافکا برلب ساحل ”معروف جاپانی مصنف ہاروکی موراکامی ؔکے ناول ’‘ کافکا اون دی شور“ کا اردو ترجمہ ہے اور اسے ترجمے کے قالب میں ڈھالا ہے نجم الدین احمد نے اور بہت خوب صورتی اور عمدگی سے ڈھالا ہے۔

ناول کے پہلے صفحے پہ درج ہے ’‘ بجھارتیں ڈالتا، مابعد الطبیعاتی گتھیاں کھولتا، طلسماتی حقیقت نگاری کا مرقع، شاہکار جاپانی ناول ”اور ناول کی طلسماتی فضا اور اس کے پراسرار کردار واقعی ایسے ہیں کہ وہ آپ کو بجھارتوں میں ڈالتے ہیں۔

ناول کا آغاز ایک پندرہ سالہ نو عمر لڑکے کافکا تامورا ؔکے گھر سے فرار کے پروگرام سے ہوتا ہے اس نے خود سے گفتگو کرنے کے لیے ایک فرضی شخصیت جو دراصل اس کی اپنی شخصیت کا ہی ایک رخ ہے، اختراع کررکھی ہے جسے وہ کوا ؔنامی لڑکا کہتا ہے۔ وہ گھر اپنے باپ کی ایک بددعا سے بچنے کے لیے چھوڑتا ہے جس میں کہا گیا کہ وہ ایک دن اپنی ماں اور بہن کے ساتھ سوئے گا جبکہ کافکا تامورا کو اس کی ماں اس وقت چھوڑ کر چلی گئی تھی جب وہ محض چار برس کا تھا اور اپنے ساتھ اس کی بہن کو بھی لے گئی تھی۔

وہ اپنی ماں کے چہرے سے ناآشنا ہے کیونکہ اس کے باپ نے تمام تصاویر ضائع کردی ہیں۔ صرف ایک تصویر ہے اس کی بہن کے ساتھ جس میں ا س کا چہرہ واضح نہیں ہے۔ گھر چھوڑنے کی دوسری وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ وہ ایک لمبے عرصے سے گم اپنی والدہ اور بہن کو ڈھونڈ سکے۔ گھر چھوڑتے وقت کافکا اپنے ساتھ ایک چاقو، کچھ نقدی اور بڑی بہن کی تصویر اپنے ساتھ لے لیتا ہے۔

ناول کا عنوان ناول ہی کے بہت اہم کردار آنسہ سائیکیؔ جو شواہد کے مطابق شاید کافکا تامورا کی ماں ہے کے نوجوانی میں گائے ایک گیت ’‘ کافکا اون دا شور ”کے البم پہ رکھا گیا ہے جو اس نے اپنے بوائے فرینڈکے لئے گایا تھا۔ ناول نگار چونکہ خود ایک موسیقی گھر چلاتے رہے ہیں اس لیے ناول نگار نے اپنے میوزک کے علم کو بہت خوبی کے ساتھ ناول میں استعمال کیا ہے جو اسے مزید ذو معنویت اور بلاغت عطا کرتا ہے۔

ناول کا دوسرا اہم کردار ناکاۃ ؔہے جو بچپن میں کسی ناقابل بیان حادثے میں اپنے سکول کے مطالعاتی دورے میں بے ہوش ہو گیا بلکہ اس دورے کے دوران سولہ کے سولہ بچے سوائے ان کی استاد کے بے ہوش ہو گئے۔ یہاں ناول میں امریکہ میں ریسرچ ہوئی خفیہ رپورٹس کا ذکر ہے جو اس حادثے پہ تحقیق کے لئے مختلف انٹرویوز پر مبنی ہے جس میں اس حادثے کی بابت جاننے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ اس روز کیا ہوا تھا۔ بی 29 امریکی جہازوں کا ذکر کر کے مصنف بڑی مہارت سے اسے تاریخ کے ساتھ جوڑ دیتا ہے۔

اس حادثے میں شامل تمام بچے کچھ عرصہ بعد نارمل ہو گئے مگر ناکاۃ دوبارہ نارمل زندگی کی جانب نہیں لوٹ سکا۔ وہ اپنی ذہانت اور یادداشت کھو بیٹھا۔ وہ نہ مزید لکھ پڑھ سکا اور نہ نارمل زندگی کی طرف لوٹ سکا۔ ہاں اس حادثے کے بعد اس میں ایک خاص صلاحیت بیدار ہو گئی وہ تھی بلیوں سے گفتگو کی، جی ہاں ناکاۃکے پاس بلیوں سے گفتگو کی خاص صلاحیت اس حادثے کے بعد بیدار ہوجاتی ہے۔ ناکاۃکی حالت کو ناول کے الفاظ ہی میں سمجھنے کی کوشش کیجیے :

”میں خوفزدہ ہوں۔ میں نے تمہیں بتایا ہے نا کہ میں مکمل طور پہ خالی ہوں کیا تمھیں پتہ ہے کہ مکمل طور پہ خالی ہونے سے کیا مراد ہے؟ ہوشینو ؔنے نفی میں سر ہلایا مجھے کوئی اندازہ نہیں ہے۔ خالی ہونا یوں ہے جیسے ایک اجاڑ مکان، بغیر قفل کے اجاڑ مکان جو چاہے جب چاہے اندر چلا جائے اسی چیز نے مجھے بہت زیادہ خوفزدہ کر رکھا ہے میں آسمان سے چیزیں برسا سکتا ہوں لیکن اکثر مجھے پتا بھی نہیں ہوتا کہ میں اگلی بار کس چیز کی بارش کروں گا“ ۔

یہاں خالی پن کی یہ کیفیت آپ کو اس سوال کی طرف سوچنے پہ مجبور کرتی ہے کہ یہ خالی پن ہی ہے جو قدرت پیدا کرتی ہے اور اس کو بھرنے کے لیے آپ میں پراسرار صلاحیت و قوت بھر دیتی ہے۔ ناکاۃ جو ایک درویش صفت شخص ہے ناکاۃجسے اس حادثے کے بعد کبھی جنس نے نہیں ستایا اور اس نے ایک صاف ستھری بے ضرر معصوم زندگی گزاری ہے۔ امریکہ میں ہونے والی ریسرچ اور انٹرویوز اس حادثے سے متعلق آپ کو ان جنگی جرائم کی طرف سوچنے پہ مجبور کرتے ہیں کہ شاید یہ کوئی مخصوص تجربہ تھا جس میں بچے بے ہوش ہو گئے ے تھے مگر اس حادثے کے بعد مافوق الفطرت واقعات کا ایک سلسلہ چل نکلتا ہے۔

بلیوں سے تعلق اور ان کی زبان سمجھنے کی اہلیت ناکاۃ کے لیے ایک حادثے کا انتظام ہو جیسے۔ وہ اسے ایک ایسے شخص سے ٹکرا دیتی ہے جو بلیوں کو قتل کر کے ان کا دل کھا جاتا ہے اور ان کی روحوں سے ایک خاص قسم کی بانسری تشکیل دینا چاہتا ہے اور اس کی خواہش ہے کہ ناکاۃ اسے قتل کردے ورنہ وہ یونہی بلیوں کو قتل کرتا رہے گا اور ناکاۃ اس شخص جانی واکرؔ کو قتل کردیتا ہے یہ دراصل مشہور مجسمہ ساز اور کافکا تامورا کا باپ ہے۔

ناکاۃ اس حادثے کے بعد پولیس میں جاتا ہے مگر پولیس اسے ایک مخبوط الحواس بوڑھا سمجھ کر چھوڑ دیتی ہے۔ ناکاۃ کے معاملات جیسے فطرت کے اپنے ہاتھ میں ہیں۔ قدرت جگہ جگہ اس کی مدد گار ہے۔ کہیں اس کی گواہی بن کر آسمان سے مچھلیوں اور جونکوں کی بارش برسنے لگتی ہے اور کہیں اسے ہوشینو ؔجیسا کردار ٹکرا جاتا ہے جو پھر آخری سانس تک اس کے ساتھ رہتا ہے اور وہی اس کے لیے داخلے کا پتھر لے کر آتا ہے۔

جی ہاں داخلے کا پتھر، یہ داخلے کا پتھر کیا ہے؟ شاید دو دنیاؤں کے درمیان داخلہ، وقت کی دو مختلف سمتوں کے درمیان داخلہ، بظاہر عام سادکھنے والا ایک معبد کا پتھر مگر داخلے کے وقت بہت بھاری ہوجانے والا اور ایساپراسرار پتھر جس سے ناکاۃ کی طویل گفتگو رہی۔ جس کے اسرار سے ناول کے دو کردار آگاہ ہیں ؛ آنسہ سائیکی اور ناکاۃ۔ ناکاۃ جو طویل سفر طے کر کے اخر کومورا ؔلائبریری جا پہنچتا ہے۔ یہ کتب خانہ گویا ایک مرکز ہے، ناول کے تینوں اہم کردار یہاں پہنچ جاتے ہیں۔

kafka

سب سے پہلے کافکا تامورا گھر سے فرار ہو کر یہاں پہنچتا ہے اور آنسہ سائیکی سے مل کر اس کے عشق میں گرفتار ہوجاتا ہے۔ آنسہ سائیکی بھی اس میں اپنے نوجوانی میں مرجانے والے محبوب کی شباہت دیکھ کر ایک زندہ بھوت کی شکل میں اس سے پندرہ برس کی عمر کی لڑکی کی صورت ملتی ہے اور آنسہ سائیکی اور کافکا تامورا میں جنسی تعلقات قائم ہو جاتے ہیں۔ وہی کافکا تامورا جس کے پاس ایک نظریہ ایک خیال ہے کہ شاید وہ اس کی ماں ہے اس صورتحال پہ کوئی تبصرہ کیے بغیر مصنف بڑی مہارت سے جیو پیراڈیکل رشتوں پہ ایک سوال کھڑا کردیتا ہے۔

آنسہ سائیکی کیونکہ نوجوانی میں داخلے کا پتھر کھول چکی ہے شاید اسی لیے وقت کی مختلف سمت میں چلنے کی صلاحیت حاصل کر چکی ہے۔ اسی لائبریری کا ایک بہت خوبصورت کردار اوشی ما ؔہے جس کے پاس کافکا تامورا پہنچتا ہے اور وہ اسے پہلے کچھ دن اپنی پہاڑی کٹیا میں رکھتا ہے اوشی ما جو ایک خواجہ سرا ہے ناول کا ایک بہت مضبوط کردار ہے۔ یہ پہاڑی کٹیا بھی ایک خوبصورت مقام ہے۔ اور ان کے جنسی تعلقات کے بعد اوشی ما اسے ایک بار پھر اسی کٹیا میں پہنچا دیتا ہے اور وہ وہاں سے جنگل عبور کرتے ہوئے داخلے کا پتھر جسے ناکاۃ کھول چکا تھا وقت کی اس سمت کے پار ایک ایسے مقام پہ پہنچ جاتا ہے جو مقام برزخ ہے۔

اسی دوران آنسہ سائیکی ناکاۃ سے ملنے کے بعد بہت پرسکون انداز میں مرجاتی ہے اور اس کے بعد ناکاۃ بھی مرجاتا ہے۔ داخلے کا پتھر بند کرنے کی ذمہ داری اب ہوشینو کے کندھوں پہ آپڑی ہے۔ داخلہ چونکہ کھلا ہے اور اس برزخ میں پہلے پندرہ سالہ آنسہ سائیکی کافکا کو ملتی ہے اور پھر پچاس سالہ آنسہ سائیکی اسے آ کر ملتی ہے اور اپنا خون دینے کے بعد اسے واپس دنیا میں لوٹ جانے پہ مجبور کرتی ہے۔

ناول کے اختتام میں کافکا جو دنیا میں واپس آ چکا ہے ٹوکیو اپنے گھر جانے کا فیصلہ کر لیتا ہے۔ ناول کے تمام کردار ایک گہری اسرار کی دھند میں لپٹے ہوئے ہیں اور مافوق الفطرت واقعات اسے ایک دلکش طلسماتی آہنگ عطا کرتے ہیں۔ وہ ہو شینو کو ملنے والا کرنل سینڈرس ہو جو کہتا ہے ’‘ چونکہ میں اوتار ہوں نہ بدھا پس مجھے یہ فیصلہ کرنے کی بھی ضرورت نہیں ہے کہ آیا لوگ نیک ہیں یا بد۔ اسی طرح مجھے نیکی اور بدی کے معیارات کے مطابق عمل بھی نہیں کرنا پڑتا ”۔

ناکاۃ کو ملنے والا سادہ، عام جھگڑا لو سا کردار ہوشینو جو اس کے جانے کے بعد بلیوں کی زبان کسی خود کار عمل کے تحت جاننے لگتا ہے۔ یہ سب غیر معمولی کردار اور غیر معمولی واقعات سے اٹا ناول ہے جو ذہن پہ گہرا اثر چھوڑتا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •