ناروے میں شادی، طلاق، اسقاط حمل اور شہری آزادیاں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جمہوری ملکوں میں قوانین عوام کی ضرورت اور سہولت کو مد نظر رکھ کر بنائے جاتے ہیں۔ ناروے میں بھی بالکل ایسا ہی نظام ہے۔ قانون بنانے کا اختیار پارلیمنٹ کو ہے۔ بلز (مسودہ قانون) یا تجاویز لائی جاتی ہیں، ممبران ان پر بحث کرتے ہیں۔ بل کی حمایت اور مخالفت میں تکرار ہوتی ہے اور پھر اکثریت رائے سے قانون بن جاتا ہے۔ ان میں ضرورت کے تحت اتفاق رائے سے تبدیلی بھی لائی جا سکتی ہے۔ عوام اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھاتے ہیں اور ان کے منتخب نمائندے پارلیمنٹ میں ان کی بات کرتے ہیں۔ یہ جمہوریت ہے۔ عورتوں کو اپنی آواز حکام بالا تک پہنچانے کے لیے ذرا کچھ زیادہ ہی جدوجہد کرنی پڑی ہے۔ مردوں کے جم غفیر میں کبھی تو عورت سکھائی ہی نہیں دیتی۔ ان کی بات کم ہی سنی جاتی۔ اور پھر بات بھی دیر سے ہی سمجھ آتی ہے۔ عورت کو بار بار کہنا پڑتا ہے مجھے دیکھو، مجھے سنو، مجھے سمجھو۔ کچھ سماجی مسائل پر ناروے کی پارلیمنٹ لمبی بحثیں چلیں قانون بنے پھر ان میں تبدیلی لائی گئی۔ پھر بھی ناکافی اور نا مکمل سمجھے گئے اور پھر اضافی شقیں ڈالی گیں۔

ناروے اپنے قدیم ادوار میں بھی عورت کو شادی میں اس کی مرضی دیتا تھا۔ لڑکے لڑکی کی آپس میں محبت کو برا نہیں مانا جاتا تھا بلکہ شادی سے پہلے دونوں کورٹ شپ بھی کر سکتے تھے۔ شادی پر پہلا باقاعدہ قانون 1918 میں بنا۔ اس میں لڑکی کی شادی کے وقت کم سے کم عمر اٹھارہ سال مقرر ہوئی۔ اس قانون سے پہلے کم سے کم عمر سولہ سال تھی۔ لڑکے کی عمر پہلے بھی بیس سال تھی اس نئے قانون میں بھی یہی رکھی گئی۔

قانون کے مطابق قریبی رشتہ دار سے شادی ممنوع ہے۔ اور ذہنی مریض سے بھی شادی نہیں ہو سکتی ہے۔ شادی کے وقت دونوں فریقوں کو تحریر بیان دینا ہو گا کہ کیا ان کی کوئی اولاد بغیر شادی کے بھی ہے۔ اگر ہے تو بچے کا حق ہے کہ اسے باپ کا نام دیا جائے۔

1991 میں نیا قانون آیا تو اس میں کچھ نئی شقیں رکھی گئیں۔ اب دو فریق اپنی مرضی سے آپس میں شادی کر سکتے ہیں۔ اٹھارہ سال سے کم عمر افراد کو شادی کی اجازت نہیں۔ خاص حالات میں سولہ سے اٹھارہ سال کے درمیان افراد اپنے والدین یا ولی کی وساطت سے شادی کی درخواست دے سکتے ہیں۔ اجازت دینے یا نہ دینے کا فیصلہ عدالت کرے گی۔

Katti Anker Moller ca 1910

بہن بھائی اور قریبی رشتہ داروں سے شادی نہیں ہو سکتی۔ ایک شادی کے ہوتے دوسری نہیں ہو سکتی۔ دوسری شادی کے لیے پہلی کو قانونی طور پر فسخ کرنا ضروری ہے۔ شادی صرف انہی فریقین کے بیچ ہو سکتی ہے جو ناروے میں قانونی رہائش رکھتے ہوں۔

دونوں فریق کو یہ بیان دینا ضروری ہے کہ شادی ان کی اپنی مرضی اور خواہش کے مطابق ہے اور دونوں ایک دوسرے کے حق طلاق کو مانتے اور سمجھتے ہیں۔ پچھلے قانون میں سولہ سے اٹھارہ سال کی عمر کے افراد شادی کی درخواست دے سکتے تھے اس کی اب اجازت نہیں۔ شادی کی عمر اٹھارہ سال مقرر کر دی گئی۔

بیماری شادی میں رکاوٹ کی وجہ نہیں ہو سکتی اگر دوسرے کو لگنے کا خطرہ نہ ہو تو۔ مثال کے طور پر کوئی جنسی بیماری اسے چھپانا جائز نہیں۔ دوسرا فریق یہ جاننے کے باوجود راضی ہے تو قانون اجازت دیتا ہے۔ اس کے خطرات سے آگاہی دینے کے لیے انہیں ڈاکٹر کی رہنمائی بھی مہیا کی جا سکتی ہے۔

پہلی جنوری 2009 کو ناروے کا نیا قانون آیا، جس نے ہم جنس شادی کو قانونی بنا دیا۔ اس کے لیے عرصے سے کوششیں کی جا رہی تھیں۔ دو عورتیں بھی آپس میں سادی کر سکتی ہیں اور دو مرد بھی۔ اس قانون کے تحت ہم جنس جوڑوں کو چرچ میں بھی شادی کی اجازت مل گئی۔

ناروے میں شادی کے ساتھ ساتھ طلاق پر بھی یکے بعد دیگرے قوانین بنے۔ ناروے کے قدیمی ترین معاشرے جسے نورون کہا جاتا ہے طلاق کا حق مرد کے پاس تھا۔ مرد کا جب دل چاہتا وہ بیوی کو نکال باہر کرتا۔ اس کا بس یہ کہنا ہی کافی ہوتا کہ اب یہ شادی ختم ہوئی۔ عورت کے پاس طلاق کا حق نہیں تھا۔ وہ مانگ سکتی تھی۔ لیکن اس کے لیے شرط تھی۔ اسے یہ ثابت کرنا پڑتا تھا کہ شوہر نے اسے تین یا اس سے زیادہ بار بڑی سماجی تقریبات میں دوسرے مہمانوں کے سامنے مارا پیٹا ہے۔ یہ بات ثابت کرنا بھی مشکل تھا اور عورت کے لیے توہین آمیز بھی۔

1918 میں طلاق کا ایک قانون آیا جس میں دونوں فریقوں کو برابر کا حق دیا گیا۔ لیکن یہ قانون عملی طور پر اتنا بہتر ثابت نہیں ہوا۔ اس میں عورت سراسر نقصان میں رہی۔ عورتوں کے پاس نہ ملازمت تھی اور نہ آمدنی۔ وہ اپنے شوہروں کے زیر کفالت تھیں۔ طلاق کی صورت میں انہیں ایک شدید معاشی بحران کا سامنا ہوتا تھا۔ نارویجین عورتیں ایک عرصے سے اس قانون کو اپنے حق میں بہتر بنانے کا مطالبہ کر رہی تھیں۔ اور بالا آخر 1937 میں طلاق کا نیا قانون آیا۔ اس کے تحت دونوں فریقین میں جس کی آمدنی زیادہ ہے اس پر دوسرے فریق کی کفالت کا ذمہ بنتا ہے۔ اور جو فریق زیادہ ضرورتمند ہو اسے مکان رکھنے کی اجازت ہو گی۔ یہ قانون عورتوں کے حق میں ثابت ہوا۔

طلاق کے خواہشمند جوڑے کو کوئی بھی وجہ بتائے بغیر اس کا حق ہے۔ دونوں میں سے ایک فریق اگر طلاق کے حق میں نہ ہو تو ایک سال جدائی تجویز کی جاتی ہے۔ سوچنے کو وقت ملتا ہے۔ پھر بھی اگر صورت حال وہی رہے تو ایک سال اور دیا جاتا ہے لیکن اگر اس مدت کے بعد بھی کوئی تبدیلی نہ بھی ہو تو طلاق ہو جاتی ہے۔ جائیداد اور ملکیت کی تقسیم مفاہمت سے نہ ہو تو عدالت کے ذریعہ کی جاتی ہے۔ طلاق کے قوانین میں تبدیلی لائی جاتی رہتی ہے اور اس عمل کو زیادہ سے زیادہ آسان اور منصفانہ بنانے کی کوشش کی جاتی ہے۔

ناروے میں چالیس فیصد شادیاں طلاق پر ختم ہوتی ہیں۔ عام طور پر سمجھا جاتا ہے کہ طلاق کی وجہ پارٹنر کی بے وفائی یا معاشی مشکلات ہیں۔ لیکن جو بڑی وجہ سامنے آئی ہے وہ یہ ہے کہ دونوں فریق ایک دوسرے میں دلچسپی کھو چکے ہیں۔ جذبات میں گرمی نہیں رہی۔ طلاق پرانے زمانے میں ایک داغ تھا جو صرف عورت پر ہی نظر آتا تھا۔ لیکن اب زمانہ بدل گیا ہے۔ طلاق اب کوئی بری چیز نہیں سمجھی جاتی۔ طلاق کی صورت میں عام طور پر گھر اور بچے ماں کو مل جاتے ہیں۔ لیکن باپ کو بچوں سے ملنے کا حق ہے۔

سن 1687 تک ناروے میں اسقاط حمل قطعی ناقابل قبول تھا۔ جو عورت ایسا کرتی اسے سزائے موت دی جاتی اور اس کا سر گلے سے کاٹ کر ایک ڈنڈے پر رکھ کر سر عام اس کی نمائش کی جاتی تاکہ عبرت ہو۔ مذہبی ارباب اختیار کا ماننا تھا کہ بغیر سر کا مردہ کبھی بھی جنت میں داخل نہیں ہو سکے گا۔ 1800ء میں اس بہیمانہ قانون کو ختم کیا گیا اور اسقاط کی اجازت صرف اس صورت میں دی گئی اگر عورت کی زندگی اور صحت کو خطرہ ہو۔ غیر قانونی ابارشن پر جرم ثابت ہونے پر تین سال کی قید کی سزا رکھی گئی۔

1913 میں اسقاط حمل پر باقاعدہ بحث شروع ہوئی۔ عورتوں کے حقوق کے لیے لڑنے والی ایک عورت کاتی آنکر مولار نے اخبار میں عورت کے اسقاط حمل کے حق کی تائید میں ایک کالم لکھا اور تحریک چلائی۔ 1920 تک اس پر پر زور بحث ہوتی رہی۔ ناروے سویڈن اور ڈنمارک نے مل کر کوششیں شروع کیں کہ قانون میں کوئی ایسی شق نکالی جائے جس کے تحت ابارشن قانونی ہو سکے۔ یہ اس لیے بھی ایک اہم مسئلہ تھا کہ غیر قانونی ابارشن کروانے سے کئی عورتیں ہلاک ہو رہی تھیں۔ ابارشن کرنے والے اناڑی اور اپنے کام سے لا علم بھی تھے۔ کئی عورتیں خود اپنا ابارشن کرنے کی کوشش کرتیں۔ اس کے لیے کڑھائی بنائی کی سلائیاں استعمال کی جاتی تھیں۔

1930 سے یہ بحث بھی کی جاتی رہی کہ کن عورتوں کو بچہ پیدا کرنے کی قطعی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔ ذہنی مریضہ کو، وہ جن کو جسمانی یا دماغی موروثی مرض ہو جو بچے میں بھی منتقل ہو سکتا ہے۔ نشے کی عادی عورتوں کو۔ سیاستدانوں کو یہ خدشہ تھا کہ یہ بچے سماج پر بوجھ ثابت ہوں گے۔

1964 میں ایک بہتر قانون بنا۔ پہلی شقوں کے ساتھ اب یہ بھی شامل کر دی گئی کہ عورت کو اسقاط حمل کا حق دیا جا سکتا ہے اگراس کا حمل کسی ریپ یا انسسٹ کے نتیجے میں ٹھہرا ہو۔ شادی شدہ عورت کو شوہر کی اجازت درکار ہو گی اور ڈاکٹرز فیصلہ کریں گے کہ ابارشن ناگزیر ہے یا نہیں۔

1970 میں لبرل لوگوں نے عورت کو ابارشن کا حق دینے کے حق میں باقاعدہ تحریک شروع کی۔ اور اس کے ساتھ ہی اس کی مخالفت میں بھی مہم چلی اور ایک مہم کے تحت ان لوگوں کے چھ لاکھ دستخط جمع کر لیے گئے جو ابارشن کو غیر قانونی، غیر انسانی اور غیر اخلاقی سمجھتے تھے۔ 1974 میں بل اسمبلی میں پیش ہوا اور ایک ووٹ سے رد ہو گیا۔ لیکن اتنی مخالفتوں اور ان چھ لاکھ دستخطوں کے باوجود 1975 میں ابارشن سے متعلق نیا قانون بن گیا۔ اس میں عورت کو یہ حق دے دیا گیا۔ طبی عملہ جو اپنے عقائد کی بنا پر یہ کام درست نہیں سمجھتے، وہ خود کو الگ کر سکتے ہیں۔

8 مارچ 1978 میں ہزاروں عورتوں اور مردوں نے پورے ملک میں جلوس نکالے۔ پلے کارڈ اٹھائے ہوئے جن پر لکھا تھا اب مزید بنائی کی سلائیاں نہیں۔ بنائی کی سلائیاں غیر قانونی ابارشن کی علامت تھیں۔ لیکن بات اور بحث یہیں ختم نہیں ہوئی۔ اس پر اب بھی سوال اٹھتے ہیں۔ ناروے کی مذہبی سیاسی پارٹی اس کی شدید مخالف ہے۔ انسانی ہمدردی کے تحت بھی لوگ اعتراض کر رہے ہیں۔ ابارشن کو ایک طرح کا قتل مانتے ہیں۔ بڑا اعتراض یہ ہے کہ اگر ماں کی پیٹ میں جڑواں بچے ہیں اور وہ کسی وجہ سے ایک سے زیادہ بچے نہیں پال سکتی تو وہ ایک جنین کو مروا دینے کا حق رکھتی ہے۔ یا اگر ابتدائی چیک اپ میں یہ علم ہو جائے کہ ہونے والا بچہ کسی مرض میں مبتلا ہو سکتا ہے مثلاً ڈان سنڈرم تو ماں حمل گرا دے گی۔ اور پرفیکٹ بچے کے شوق کو ہوا ملے گی۔

ملک کی مذہبی سیاسی پارٹی (کو آر ایف) کو اس قانون کی شق 2 سی پر تحفظات ہیں جس میں کہا گیا ہے کہ اگر حمل کے بارہویں ہفتے میں اگر کسی ٹیسٹ کے ذریعے یہ بات سامنے آ جائے کہ ہونے والے بچے میں کسی موذی مرض کے واضح آثار ہیں اور وہ بیماری میں مبتلا ہو سکتا ہے۔ پارٹی کا کہنا ہے یہ شق انسانی حقوق کے خلاف ہے۔ جہاں ہم خود یہ فیصلہ کر رہے ہیں کہ کس انسان کو زندہ رہنے کا حق ہے اور کس کو نہیں۔ بیماری کی وجہ سے انسان کی عظمت کم کرنا انسانوں سے امتیازی سلوک کرنے کے مترادف ہے۔

خدشات تھے کہ ابارشن کو قانونی تحفظ ملنے کے بعد یہ ایک عام ٹرینڈ بن جائے گا لیکن ایسا نہیں ہوا۔ پچھلے برسوں میں ابارشن کی تعداد میں تاریخی کمی آئی ہے۔ لیکن چالیس سال سے جو بحث چلتی آ رہی ہے وہ اب بھی جاری ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •