جنرل باجوہ کا ’برنچ‘ اور مریم نواز کی ویڈیو کال!

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

چند روز قبل سوشل میڈیا پر ایک میسج زیرگردش تھا کہ جس کے مطابق گزشتہ اتوار اسلام آباد کلب کے لان میں جب ’الیٹ‘ ممبران دھوپ سینکتے اپنی فیملیز کے ہمراہ ’برنچ‘ میں مگن تھے تو کسی ایک اہم شخصیت کی متوقع آمد کے پیش نظر کلب سٹاف یکایک متحرک ہو گیا اور دیکھتے ہی دیکھتے لان میں کچھ افراد کے لئے سکیورٹی سکرینوں کے اندر خصوصی نشت بچھانے کا اہتمام شروع ہو گیا۔ بارہ بجے کے لگ بھگ چیف آف آرمی سٹاف اپنی فیملی کے ہمراہ آئے تو انہیں خصوصی پروٹوکول کے ساتھ سیکیورٹی سکرینوں کے پیچھے ان کے لئے مخصوص میز پر لے جایا گیا۔

کلب میں پہلے سے موجود خواتین و حضرات کوئی عام لوگ نہیں تھے کہ جو وطن عزیز میں مروج طبقاتی تقسیم سے بے خبر ہوں۔ اپنی اپنی جگہ کسی نا کسی حیثیت میں سب چھوٹے بڑے خدا تھے۔ ان میں سے اکثر عام زندگی میں ایسے ہی ہٹو بچو والے پروٹوکول کے عادی تھے۔ چنانچہ سخت سکیورٹی کے حصار میں چیف آف آرمی سٹاف کی آمد پر کیا گیا اہتمام ان سب حاضرین کی توقع کے عین مطابق تھا۔ تاہم انگریزی محاورے کے مطابق بھنویں اس وقت اٹھیں جب جنرل باجوہ نے کلب کے عملے کو سکیورٹی سکرینیں ہٹانے کو کہا اور ’عوام‘ میں ’گھل مل‘ کر بالکل انہی کی طرح کھانے پینے لگے۔ کھانے کی میز پر سے خود کھانا لیا۔ قطار کے اندر کھڑے ہو کر آملیٹ بنوانے کا تذکرہ تو لوگ آج بھی کرتے ہیں۔

یقین مانیے، جنرل باجوہ کی اسلام آباد کلب کے اندر ’عوام‘ میں گھل مل جانے والی خبر کو میں کچھ اہمیت نہ دیتا، اگر خبر صرف سوشل میڈیا تک محدود رہتی۔ وہ تو یوں ہوا کہ اگلے ہی روزیہی خبر من وعن انہی الفاظ اور جملوں کی اسی ترتیب کے ساتھ پاکستان کے بڑے میڈیا ہاؤس کے اردو اور انگریزی اخبارات میں چھپ گئی۔ خبر دینے والے صحافی کو بلا وجہ طرح طرح کے نام دیے جاتے رہے ہیں حالانکہ وطن عزیز میں اب غیر جانبدار ہونے کو کوئی خاص اعزاز کی بات نہیں سمجھا جاتا۔

کاروبار زندگی کے دیگر شعبوں کی طرح، نشر واشاعت کے میدان میں بھی لگ بھگ سبھی دانشور، تجزیہ کار اور جید صحافی، کسی نا کسی سیاسی خاندان یا ادارے سے قربت کی بنا پر پہچانے جاتے ہیں۔ الیکٹرانک میڈیا کے انقلاب نے ’سینئر تجزیہ کاروں‘ کی ایسی کھیپ پیدا کی ہے کہ جو رات کو ٹاک شو کرتے ہیں، علی الصبح ان کا اخبار میں کالم چھپتا ہے، جبکہ سر شام وہ کسی سیاسی جلسے میں خطاب کے ذریعے لانگ مارچ والوں کا لہو گرما رہے ہوتے ہیں۔

سوشل میڈیا رپورٹ کے مطابق جنرل باجوہ اگرچہ کلب میں موجود مہمانوں میں گھل مل گئے تھے تاہم ہمارے زبیر صاحب کہ جنہوں نے چند ماہ قبل باجوہ صاحب سے عشروں پر محیط خاندانی تعلقات کی بنا پر اوپر تلے دو طویل خفیہ ملاقاتیں کی تھیں، انہیں یا ان کی فیملی کواس بار چیف آف آرمی سٹاف کے نزدیک نہیں آنے دیا گیا۔ چونکہ سوشل میڈیا پر چلنے والی خبر کے اس پہلو سے زبیر صاحب کی بلا جواز تضحیک اور شریف خاندان کے مزاحمتی بیانیے کو زک پہنچنے کا اندیشہ پیدا ہو رہا تھا، چنانچہ غالب امکان یہی ہے کہ باریک بین صحافی نے اخبار میں چھپنے والی اپنی رپورٹ کے ذریعے اس باب میں ابہام پیدا کرتے ہوئے اپنی پیشہ وارانہ ذمہ داری ہی نبھائی ہے۔

تاہم خبر کے رد عمل میں جہاں کئی حلقوں نے مذکورہ صحافی پر جنرل باجوہ کے ’امیج بلڈنگ‘ کی کوشش کا الزام عائد کرتے ہوئے سوال کیا ہے کہ کیا انہوں نے گرگٹ کی طرح رنگ بدل لیا ہے، تو وہیں دور کی کوڑی لانے والے پلٹ کر یہ دشنام طرازی بھی کر رہے ہیں کہ اخبار میں خبر چھاپ کر مریم نواز کے ترجمان سے متعلق سبکی کا منفی تاثر زائل کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

سوشل میڈیا پر اہم شخصیات سے متعلق ایسے پیغامات ان کے کارندے اکثر پھیلاتے ہیں۔ مین سٹریم میڈیا میں بھی ایسی ’خبروں‘ کو خاطر خواہ جگہ ملتی ہے کہ عوام شوق کے ساتھ ایسے واقعات کے بارے میں سنتے اور پڑھتے ہیں۔ چنانچہ حال ہی میں جب مریم نواز اسلام آباد کی کسی شاپنگ مال میں رک کراپنی نواسی کے لئے کھلونا لیتے ہوئے ویڈیو کال پر اس سے پوچھ رہی تھیں کہ ’یو وانٹ بس (bus) ؟‘ تو میں اور آپ گھروں میں بیٹھے ہوئے نہایت اشتیاق سے انہیں اپنی چھ آٹھ سالہ نواسی سے کمال مہارت کے ساتھ انگریزی میں ’بات چیت‘ کرتے ہوئے دیکھ رہے تھے۔

پاکستانی پنجاب میں بسنے والی ’پنجابی‘ عصر حاضر میں دنیا کی شاید وہ واحد بد نصیب قوم ہے کہ جس کی مادری زبان محض اس وجہ سے معدوم ہو رہی ہے کہ قوم خود اپنی ماں بولی کو حقارت کی نظرسے دیکھتی ہے۔ ایک کے بعد ایک پاکستانی نسل نے اردو بولنے کو تعلیم یافتہ ہونے کی نشانی اور بالائی طبقے سے اپنا تعلق جوڑنے کی خواہش میں پنجابی زبان کو ’پینڈؤوں‘، اور شہروں میں نچلے طبقے سے وابستہ افراد کی زبان بنا دیا ہے۔ مڈل اور لوئر مڈل کلاس گھرانوں کے افراد گھر سے باہر جو بھی زبان بولیں، گھر وں کے اندر اردو بولتے ہیں۔ ’کہنا‘ ماننے کو ’کینا‘ کہتے، ’باہر‘ کو ’بیر‘ اور ’اور‘ کو ’ہور‘ کہتے لیکن بولتے اردو ہی ہیں!

حالیہ برسوں میں یہی مڈل کلاس یا لوئر مڈل کلاس طبقہ کہ جسے ماؤ نے ان بندروں (اگرچہ ape کو verbکے طور استعمال کیا گیا ہے، تاہم اس سے مراد یہاں بندر ہی پڑھا اور سمجھا جائے) سے تشبیہ دی تھی جو خود سے بالاتر طبقے کی نقل کرتا اور کم تروں کو حقارت سے دیکھتا ہے، اب اکثر گھروں میں اردو کی جگہ بچوں کے ساتھ انگریزی بولنے کی مضحکہ خیز کوشش کرتے ہوئے نظر آتا ہے۔ امریکہ میں مقیم ایک ڈھلتی عمر کی خاتون پاکستان آئیں تو ہم نے پوچھا کہ ان کے پوتے پوتیاں اردو میں بات چیت تو کر لیتے ہوں گے؟

کمال فخر سے بولیں، ’سمجھ تو لیتے ہیں، مگر بولتے بے نظیر اور بلاول کی طرح ہیں‘۔ پنجابی سے اردو اور اب اردو سے بے ربط (staccato) انگریزی کی جانب سفر میں سب سے زیادہ تکلیف دہ صورت حال ہماری اسی عمر کے خواتین و حضرات کو درپیش ہے۔ خود میں نے کئی بار ایسی ہی مشکل صورت کا سامنا کیا ہے۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ کچھ عزیزوں کے ہاں کہ جو ہمارے سامنے چھوٹے چھوٹے پوتے پوتیوں یا نواسے، نواسیوں سے انگریزی میں پوچھتے ہیں، ’یو وانٹ دس؟‘ ، یا پھر ’کم ہیئر‘ وغیرہ وغیرہ تو ہم بھی ان معصوموں کو پیار سے پچکارنے کے لئے دل ہی دل میں انگریزی جملے سوچتے رہتے ہیں۔ اسی اثنا میں مگر بات آگے نکل جاتی ہے۔ مجھ جیسے نا جانے کتنے بڑے بزرگ اپنے پوتے پوتیوں اور نواسے نواسیوں کے ساتھ توتلی گفتگو سے محروم رہ جائیں گے۔

مذکورہ ویڈیو کلپ میں دیکھا جا سکتا ہے کہ کھلونا ہاتھ میں پکڑے مریم نواز تو اپنی نواسی سے بڑی آسانی سے انگریزی میں پوچھ رہی ہیں کہ ’یو وانٹ دس؟‘ ، مگر یہ ہر نانی یا دادی کے بس کی بات نہیں ہے۔ بدگمان تو کہیں گے کہ مذکورہ ویڈیو کال لازما مریم صاحبہ کے کہنے پر ہی ریکارڈ کی گئی ہوگی اوریہ الزام دھرے جانے کا بھی غالب امکان ہے کہ مریم کی رضا مندی سے ہی اسے سوشل میڈیا پر بھی پھیلایا گیا ہوگا۔ تاہم حقیقت جو بھی ہو یہ ویڈیو پاکستان کے ان بے شمار مڈل اور لوئر مڈل کلاس گھرانوں کے لئے گھروں میں انگریزی بولنے کی تحریک کا سبب بنے گی، بندروں کی طرح جو طاقتوروں کی نقل کرنے کو ہر دم تیار رہتے ہیں۔ کوئی اور تو نہیں، ایسے گھرانوں کے بڑے بزرگ ہی مصیبت میں آئیں گے۔ معصوم پوتے پوتیوں اور نواسے نواسیوں کو جو خاموشی سے دیکھتے رہیں گے۔ بہت ہوا تو پوچھ لیں گے، ’یو وانٹ دس؟‘

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •