کیا تعفن زدہ ماحول میں لڑکیاں تعلیم حاصل کر پائیں گی؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ایک افریقی کہاوت ہے: ”لڑکے کی تعلیم محض ایک فرد کی تعلیم ہے، جبکہ لڑکی کو تعلیم دلانا گویا پوری قوم کو تعلیم دلانے کے مترادف ہے۔“ یہ بات طے ہے کہ معاشرتی ترقی کے لئے لڑکیوں کی تعلیم و تربیت کا اہتمام لڑکوں سے بھی زیادہ ضروری ہے۔ کیونکہ ایک پڑھی لکھی اور باشعور ماں اچھی قوم کی ضمانت ہوتی ہے۔ اسلام میں بھی کسی صنفی امتیاز کے بغیر تعلیم کی اہمیت پر زور دیا گیا ہے۔ گزشتہ کچھ دہائیوں میں ہمارے معاشرے نے بھی خواتین میں تعلیم کی اہمیت کو تسلیم کر لیا ہے اور اب بھاری تعداد میں خواتین نہ صرف اعلیٰ تعلیم حاصل کر رہی ہیں بلکہ بہت سے قومی اور نجی اداروں میں احسن طریقے سے اپنی خدمات بھی انجام دے رہی ہیں گو ان میں سے بیشتر خواتین کا تعلق خوشحال گھرانوں سے ہوتا ہے۔

لیکن اس کے ساتھ ساتھ تعلیمی اداروں میں خواتین کی ہراسانی کے بڑھتے ہوئے واقعات اور کالج اور یونیورسٹیوں میں تعلیم حاصل کرنے والی طالبات کے بارے میں عمومی طور پر پائے جانے والے منفی معاشرتی رویے بہت سے والدین اور طالبات کو بد ظن کر رہے ہیں۔ حالیہ دنوں میں ایسے افسوسناک واقعات میں بہت اضافہ ہو رہا ہے جو بیٹیوں کی تعلیم کے حوالے سے والدین کو مضطرب کرنے کے لئے کافی ہیں۔ یہ ایک خطرناک رجحان ہے جس کا بروقت تدارک کرنا ہو گا وگرنہ ہمارا معاشرہ مزید پیچھے چلا جائے گا۔

کسی بھی سطح کی قانون سازی سے زیادہ معاشرے میں خواتین کی تعلیم و تربیت کی اہمیت کو اجاگر کرنا زیادہ اہمیت کا حامل ہوگا، جس میں ہمارا میڈیا اور ذی شعور افراد اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ ہمیں بلا تفریق گھر سے باہر کام پر جانے والی یا تعلیم حاصل کرنے والی تمام خواتین کو عزت دینا ہو گی اور انھیں حقیقی معنوں میں اپنی ماؤں، بہنوں اور بیٹیوں کا درجہ دینا ہو گا تاکہ انھیں اور ان کے والدین کو تحفظ کا احساس ہو سکے۔

خواتین کا استحصال کرنا اور ان کی کسی مجبوری کا فائدہ اٹھانا ایک انتہائی گھٹیا طرز عمل ہے۔ ہمارے ہاں کا چلن کچھ ایسا ہے کہ کام پر جانے والی یا تعلیم حاصل کرنے والی خواتین کو ”مال غنیمت“ سمجھا جاتا ہے۔ خواتین کل آبادی کا نصف ہیں اور انھیں عضو معطل بنا کر آج کوئی بھی معاشرہ ترقی کی منازل طے نہیں کر سکتا۔ ہماری خواتین ایک تعفن زدہ معاشرے میں رہ رہی ہیں جہاں ابھی بھی ان کے تعلیم حاصل کرنے، کاروبار کرنے یا ملازمت کرنے کے بنیادی حق کو جزوی طور پر تسلیم کیا جاتا ہے جبکہ بسا اوقات قدغنیں لگائی جاتی ہیں۔

ذرا سوچئے وہ خواتین کیسی نسل کو جنم دیں گی جن کے ارمانوں کا جگہ جگہ گلا گھونٹا جا رہا ہو؟ اولاد کی تربیت میں خواتین کا کلیدی کردار ہے اور یہ کردار تبھی بخوبی ادا کیا جاسکتا ہے جب ہم اپنی بہن اور بیٹیوں کو اعتماد، خودداری اور تعلیم و تربیت کی دولت سے مالا مال کریں گے اور وراثت میں ان کا حق تسلیم کرتے ہوئے انھیں فیصلہ سازی میں شریک کریں گے۔ آج کل جس طرح آئے روز تعلیم یا ملازمت کرنے والی خواتین کے بارے میں منفی خبریں آ رہی ہیں اس سے ہمارے معاشرے پر تباہ کن اثرات مرتب ہوں گے۔

تسلسل سے ہونے والے ان واقعات کے سبب والدین بہت ڈرے ہوئے ہیں۔ بہت سی خواتین اپنے کنبوں کی کفالت یا معاونت کر رہی ہیں اور وہ بہت عزت کی حق دار ہیں، انھیں احساس دیجئے کہ وہ محفوظ ہیں اور کوئی انھیں ٹیڑھی نظر سے نہیں دیکھے گا۔ بگڑتی ہوئی صورتحال کا اندازہ صرف اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ صرف ضلع لاہور میں ڈیڑھ لاکھ بچیاں سکولوں سے باہر ہیں جبکہ پورے ملک میں لگ بھگ ڈیڑھ کروڑ بچیاں تعلیم کے بنیادی حق سے محروم ہیں جو ایک بہت بڑا المیہ ہے کیونکہ بہت سے ممالک کی کل آبادی بھی اتنی نہیں ہے۔

اس کی وجہ ہرگز یہ نہیں کہ سکولوں کی تعداد کم ہے بلکہ ہمارے جنوبی ایشیا کا فرسودہ کلچر اور خواتین کے لئے عمومی رکاوٹیں، صنفی عدم توازن، غربت، ٹرانسپورٹ کے مسائل، عدم تحفظ کا احساس، خواتین کے لئے مخصوص اعلیٰ تعلیمی اداروں کا دور ہونا، غیر معیاری نظام تعلیم اور غیر صحتمندانہ تعلیمی ماحول جیسے مسائل شامل ہیں جن پر خاطر خواہ توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ ان سب مسائل سے بھی بڑھ کر پڑھی لکھی خواتین کے عملی زندگی میں کردار کی حوصلہ شکنی کا رجحان ہے جو انھیں آگے بڑھنے اور معاشرے میں تعمیری کردار ادا کرنے سے روکتا ہے۔

ہمارے معاشرے میں مردوں کی نسبت خواتین کو بیرونی ماحول سے زیادہ آشنائی نہیں ہوتی چنانچہ بد فطرت لوگ موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ان کا استحصال کرتے ہیں۔ سمارٹ فون اور انٹرنیٹ کی بدولت کمیونیکیشن میں انقلاب آ چکا ہے اور جہاں اس کے بہت سے فوائد ہیں وہاں اس کے نقصانات بھی سامنے آ رہے ہیں اور رہی سہی کسر فلموں، ڈراموں اور میڈیا پر نشر ہونے والے دیگر غیر اخلاقی پروگراموں نے نکال دی ہے۔ تعلیمی اداروں کی حد درجہ کمرشلائزیشن اور معیار تعلیم خاص طور پر تعلیمی اداروں میں تربیت سازی کا فقدان بھی حصول علم کے عمل میں خواتین کی حوصلہ شکنی کرنے کا باعث بنتا ہے۔

اس پہ مستزاد یہ کہ بہت سی لڑکیوں کو نہ صرف باہر بلکہ گھر میں بھی تعفن اور گھٹن زدہ ماحول کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ دیہی پس منظر رکھنے والی لڑکیوں کو تعلیم، خاص طور پر اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لئے گونا گوں دشواریوں کا سامنا ہے۔ اسی طرح خواتین کے لئے فنی یا ووکیشنل ٹریننگ دینے والے اداروں کی بھی بہت کمی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ایک کثیر جہتی پالیسی کے تحت خواتین کو تعلیمی اداروں سمیت ہر جگہ تحفظ کی ضمانت دی جائے اور لوگوں میں شعور بیدار کرنے کی مہم چلائی جائے کہ وہ خواتین کی کردار کشی، ان کے استحصال اور تعلیمی میدان میں ان کے لئے رکاوٹیں پیدا کرنے سے باز رہیں۔ پاکستان میں پہلے ہی بہت کم تعداد میں لڑکیاں اعلیٰ تعلیم حاصل کر رہی ہیں۔ ہراسانی، استحصال اور غیر یقینی کیفیت کا ماحول نہ صرف خود لڑکیوں بلکہ ان کے والدین کو بھی انھیں تعلیم دلانے سے بد ظن کر رہا ہے جو ایک خطرناک شگون ہے جس کا بروقت تدارک لازمی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •