1950ء کی دہائی: گورنمنٹ کالج لائل پور میں میرے اساتذہ کرام

اعلی ادیب و شاعر تھے۔ اسی زمانے میں کسی ادبی رسالہ میں ان کا قطعہ پڑھا تھا جو آج تک دل میں کھبا ہوا ہے
ہستی رہی مجبور و پریشان ہماری
عاقل سے گریزاں رہے دیوانوں سے گزرے
سہمے ہوئے یوں گھومتے ہیں بازار جہاں میں
جیسے کوئی معصوم کہ ویرانوں سے گزرے
بعد میں اقبالیات میں بہت نام کمایا اور ملک گیر شہرت پائی۔ اقبال اکیڈیمی کی سربراہی رہی اور شاید اکادمی ادبیات سے بھی منسلک رہے۔
مکرم و محترم ظہیرالدین قریشی صاحب انگریزی کے استاد کی حیثیت سے ایک مشفق ہستی تھے۔ اپنے مضمون میں ڈوب کے موضوع کے مطابق اس طریق سے کہ ذہن میں اترتا چلا جاتا۔ اگر ڈرامہ یا افسانہ پڑھا رہے ہیں تو اس انداز میں جیسے وہ خود کردار ہوں نظم میں خود شاعر لگتے۔ ہماری مٹی کے تیل ڈیزل لبریکینٹس وغیرہ کی چھوٹی سی دکان سلیم بلڈنگ سمندری روڈ پر تھی اور اسی بلڈنگ کے ایک مکان میں ان کی رہائش تھی کبھی کبھار بھائی کے پاس آ بیٹھتے۔ بعد میں اپنا مکان پیپلز کالونی میں بنا لیا تو وہاں منتقل ہو گئے۔
مٹی کے تیل کے چولہوں کا زمانہ تھا اور یہ ہر گھر کی ضرورت تھی۔ کالج سے واپسی پر بھائی کو بتا جاتے اور میں مٹی کے تیل کا کنستر گھر پہنچا آتا۔ ہمیشہ حوصلہ بڑھاتے۔ تیس بتیس سال بیت گئے کہ ایک روز بیٹے نے ٹیوشن کے لئے پروفیسر یعسوب صاحب کے ہاں چھوڑنے کا کہا۔ جب اس نے کار روکی، تو میرے منہ سے نکلا میں تو اس گھر میں اکثر آیا کرتا تھا۔ یعسوب الحسن قریشی قریشی صاحب کے صاحبزادے اور اسی گورنمنٹ کالج میں پڑھاتے تھے۔ باہر تشریف لائے تو بتایا کہ یہ بھی کیا خوب نکلا کہ ہم باپ بیٹا آپ باپ بیٹے کے شاگرد نکلے۔
محترم پروفیسر منظور حسین شور (علیگ) فارسی کے استاد نیز فارسی اور اردو کے قادر الکلام شاعر تھے۔ شاید ایک ہی پیریڈ ان سے پڑھا ہو گا۔ پورے کالج کے اساتذہ اور طلبا ان کے احترام میں ایک دوجے سے آگے تھے۔ ان کا ایک بیٹا شاید رضی نام تھا ہمارا کلاس فیلو بھی تھا۔ کم گو اور بکھرا بکھرا سا۔ کالج کے بالکل سامنے ہی رہائش تھی۔ پندرہ روزہ ”استقلال“ میں شائع شدہ ان کی غزل کا ایک شعر آج تک ”حسن کے شعلے“ کے موضوع پر ہمارے ذہن کے ذخیرہ میں محفوظ ہے
وہ نقاب اٹھ بھی جاتا تو نظر کہاں سے لاتے
ترے روبرو بھی تیرا۔ وہی انتظار ہوتا
اس لڑی میں پروئے دوسرے شاعروں کے ہمارے یاد کے خزانہ میں چنگاری لگاتے یہ بھی ہیں۔ کہ حالات کی تلخی کم کرنے خواب آن موجود ہوتے ہیں۔
وہ آئے بزم میں اتنا تو ہم نے دیکھا میر
پھر اس کے بعد چراغوں میں روشنی نہ رہی
( بعض جگہ پہلے مصرعہ میں آخری ”میر نے دیکھا“ بھی نظر پڑا۔)
رات محفل میں ترے حسن کے شعلے کے حضور
شمع کے منہ پہ جو دیکھا تو کہیں نور نہ تھا
اور نظر بہکی حجاب اٹھا ہوئی اک روشنی پیدا
پھر اس کے بعد بچنا کیا سنبھلنا سخت مشکل تھا
پروفیسر ایم آر آصف صاحب انگریزی کے مؤقر و محترم استاد تھے۔ خلاصے اور نوٹس وغیرہ کی مقبول عام تشریحی کتب بھی تصنیف فرمائیں۔ ان سے بھی شرف تلمذ حاصل کرنے سے محروم رہے۔ انیس سو چھیاسٹھ سڑسٹھ میں ایک روز اپنی آٹو پارٹس کی دکان پر بیٹھا تھا کہ آتے نظر آئے۔ سلام کرتے ساتھ لے آیا۔ وہ اپنی کار کے لئے کوئی پرزہ تلاش کر رہے تھے۔ فون پر مختلف دکانوں پر پتہ کرا کے ملازم کے ذریعہ پرزہ منگوایا اتنی دیر چائے اور گپ شپ چلتی رہی۔ یوں ہی پوچھ بیٹھا۔ سر آج کل پڑھائی کیسی چل رہی ہے۔
ان کا چہرہ دکھ بھرا اور آنکھیں نم ہو گئیں۔ فرمایا۔ ”اب ہم نے کیا پڑھانا ہے۔ اور ہم سے کس نے پڑھنا ہے۔ ہر سیاسی پارٹی کا سٹوڈنٹ ونگ بن چکا۔ اور ہر ایک سٹوڈنٹ لیڈر کو ہماری تنخواہ سے کئی گنا طلبا کو انتشار اور گروہ بندی میں مصروف رکھنے کا ملتا ہے۔ ہم سے کسی نے خاک پڑھنا ہے“
میانہ قد اور دھیمے میٹھے لہجے والے ایف اے میں اکنامکس کے مشفق استاد محبی و محترم پروفیسر محمد منیر صاحب کو میں اپنا مربی بھی سمجھتا ہوں۔ کوئی بات سمجھ نہ آتی تو جہاں مرضی روک کے پو چھ لو۔ میری آئندہ کامیابیوں میں ان سے اور محترم شمس التوحید صاحب سے سیکھے اکنامکس کے گر بہت کام آئے۔ اکنامکس کے گروپ کے ساتھ ان کی سربراہی میں لاہور گئے تو افراط زر سمجھانے ایک مثال آج بھی یاد آتی ہے۔ خصوصاً پاکستان کی پچھلی دو تین دہائیوں کے حالات دیکھیں تو۔
بتایا۔ اٹلی میں جنگ سے پہلے ایک امیر تاجر کا ترکہ برابر تقسیم ہوا۔ بڑے بھائی نے بنک میں معقول شرح منافع پر رکھ دیا (سیونگ سرٹیفیکیٹ سمجھ لیں) اور چھوٹے بھائی نے عیاشی اور شراب شروع کردی، شراب پیتا اور خالی بوتلیں ایک سٹور میں پھینکتا گیا۔ چند سال بعد جب کنگلا ہو گیا تو خالی بوتلیں نکال بیچیں۔ ان خالی بوتلوں کی قیمت اور بڑے بھائی کی اتنے سال کی کمائی برابر نکلی۔ آج وطن عزیز کا حال اس سے بھی بہت نیچے جا چکا۔ جو موٹر آئل (لبریکنٹس) ہم پچھتر پیسے لٹر بیچا کرتے آج شاید تین سو روپے فی لیٹر ہے۔
کالج کے بعد ایک مرتبہ دکان کے سامنے گزرے۔ درخواست پر رونق بخشی اور بعد میں بھی ملاقات رہی۔ بعد میں عرصۂ دراز سمن آباد کالج میں ایک نیک نام پرنسپل رہے۔ جب ہم پیپلز کالونی کے اے بلاک میں رہائش لے گئے تو اکثر صبح کی سیر میں ملاقات اور چند منٹ گپ شپ رہتی۔ جب میرے بچے کالج میں پہنچے تو ان سے ان کے مستقبل کے متعلق مشورہ لینے گھر پر حاضری دی۔ اسی شفقت اور محبت اور اپنائیت سے اپنی مخلصانہ رہبری سے نوازا۔
کالج کے ابتدائی دنوں میں شام کو پی ٹی کی کلاس ہوتی تھی۔ واپس آتے ہوئے شاید پہلے روز ہی سلیم اختر سے ہمراہی میں مکرم محمد اشرف حسن صاحب سے دوستی ہو گئی۔ ہمارے گھر سے کچھ آگے 492۔بی پیپلز کالونی میں رہائش پذیر تھے۔ بڑے بھائی اشرف حسن باٹنی اور ساتھ رہنے والے انور چوہدری بھی اسی کالج میں کیمسٹری پڑھاتے۔ ملاقات بڑھتے دونوں گھروں کی ایک ہی گھر جیسی اپنائیت ہو گئی کہ جیسے یہ چھ بھائی بھی میرے بھائیوں جیسے ہو گئے۔ اشرف بعد میں پی ایچ ڈی کرنے کے بعد قائد اعظم یونیورسٹی اسلام آباد میں متعین ہوئے اور وہیں سے ریٹائر ہوئے۔
سارے بھائی جب بھی گاؤں کا چکر لگاتے تو میرا گھر یا دکان ان کے رستے کا پڑاؤ ہوتے۔ خصوصاً جب کار میں کوئی مسئلہ ہوتا تو جہانگیر کی ورکشاپ ہی ترجیح ہوتی اور ڈیوٹی میری لگتی۔ 1991 جنوری میں میری بیٹی کے داخلہ لسٹ میں نام آ جانے کی ٹیلیگرام قائد اعظم یونیورسٹی سے شام چھ بجے ملی اور اگلی صبح آخری تاریخ تھی۔ انہیں فون کیا تو سیدھا ان کے گھر پہنچنے کا حکم ملا۔ سفر میں پیش آئی زندگی کی شدید ترین بارشوں میں سے ایک میں رات سفر کرتے جہلم پہنچتے بس ہو چکی تھی۔ چند گھنٹہ سفر کے بعد ان کے ہاں ناشتہ کیا اور جو کام اتنی تھکاوٹ کے بعد ناممکن نظر آتا تھا ہوسٹل داخلہ سمیت۔ ان کے دفتر بیٹھے ان کے شاگردوں نے کروا دیا۔
ریٹائر منٹ بعد بیٹے کے پاس شکاگو آ گئے۔ کبھی کبھار گپ ہو جاتی۔ چھ کے چھ بھائی خدا کے حضور حاضر ہو چکے۔ مگر اکثر بچوں سے رابطہ قائم ہے۔
عربی کے استاد محترم ایم ڈی چوہدری صاحب عزم و ہمت کی مثال تھے۔ ڈاک خانہ میں کلرکی کرتے ایم اے عربی پاس کیا اور لیکچرر شپ کرتے مقابلے کا امتحان پاس کیا اور اس مضمون میں عموماً ننانوے فیصد نمبر لینے کی وجہ سے اور کچھ انہیں ہمارے پڑھائی کے ساتھ معاشی جدوجہد کا علم ہوتے ہم ان کی شفقت کے مورد تھے۔ 541۔بی پیپلز کالونی کے زیر تعمیر ہوتے ہوئے اس میں منتقل ہو گئے۔ اور قسطوں میں دو تین سال میں مکمل کرایا۔ یونیورسٹی سے مولوی فاضل کے امتحان میں ملتان سے آنے والے ایک نابینا طالبعلم کے لئے عربی میں اچھی استعداد والے لکھنے والے کی فرمائش آئی تو مجھے بھجوایا۔
اب یہ حسن اتفاق کہ پرچہ شروع ہونے چند منٹ پہلے کمرۂ امتحان میں دیکھا تو امیدوار میرے والد کے بچپن کے دوست ملتان کے آئل ملز مالک کے نابینا صاحبزادے حافظ عبدالمالک تھے۔ وہ پرچہ کے جواب لکھواتے کئی مرتبہ موضوع سے ہٹ جاتے محسوس ہوتے تو انہیں عرض کرتا کہ میں سوال دوبارہ دہراتا ہوں اور آپ کا لکھوایا جواب دہرا دیتا ہوں تا سوال آپ کے ذہن میں رہے۔ نگران کی موجودگی میں الحمدللٰہ اس طریق اختیار کرنے سے بعد میں ان کے پاس ہونے کی اطلاع ملتے ہی خوشی بھی ہوئی اور ساتھ شدت سے اس قسم کے معذور انسان کو پیش آمدہ مشکلات کا احساس ہوا۔
مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں
