ہم نوائی کے بغیر ہم سفری

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


پچھلے ہفتے مجھے موقع ملا کہ میں ڈاکٹر خالد سہیل، زہرہ نقوی، ثمر اشتیاق اور ہادیہ یوسف کے گرین زون سیمینار کے ایک session کو سنوں۔ یہ سیمینار انسانی تعلقات کے بارے میں تھا۔ اس میں ایک اہم نقطہ اٹھایا گیا جو کہ ان مشکل افراد کے بارے میں تھا جو ہم سے نہایت قریب ہوتے ہیں۔ جیسا کہ ہمارے ماں باپ، بہن بھائی، ہمارے بچے یا ہمارے شریک حیات وغیرہ۔ کچھ لوگوں کا شہر اتنا بڑا ہے یا وہ اپنے رشتہ داروں سے دور شہروں میں رہتے ہیں کہ ضروری نہیں کہ ایسے لوگوں سے سامنا ہو جن کو وہ نہیں دیکھنا چاہتے ہیں لیکن بہت سارے افراد جو چھوٹے علاقوں میں ہوں یا کسی برادری کا حصہ ہوں تو ان کا مشکل افراد سے مکمل قطع تعلق کافی مشکل ہوتا ہے۔

ان افراد سے شادی غمی میں ٹکراؤ ممکن ہے۔ حاضرین میں سے کئی نے یہ سوال پوچھا کہ ان مشکل افراد سے کس طرح گرین زون تعلقات رکھے جائیں؟ ایک نے یہ بھی کہا کہ ہم ان افراد سے محبت کرتے ہیں اور ہم ان کے بغیر نہیں رہ سکتے۔ ایک نے یہ بھی کہا کہ ہم ان کا بھلا چاہتے ہیں۔ سامعین میں سے ایک نے یہ مشورہ دیا کہ ہم ان افراد کو ایک خط لکھیں جس میں وہ تمام باتیں لکھیں جن سے ہمیں تکلیف پہنچی ہو۔ جو افراد گرین زون فلسفے میں دلچسپی رکھتے ہوں، وہ ان کے فیس بک پیج میں شمولیت حاصل کر سکتے ہیں۔

انسان ایک دوسرے کے لیے بہت اہم ہیں۔ ہر انسان دنیا میں محبت اور قبولیت ڈھونڈ رہا ہے۔ جب یہ بنیادی انسانی ضرورت پوری نہ ہو سکے تو لوگ منفی یا مختصر راستوں سے وہ توجہ حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں جس کی ان کو ضرورت ہے۔ آج کا مضمون اس بارے میں ہے کہ ان افراد کے ساتھ کس طرح کے تعلقات رکھے یا ختم کیے جائیں جنہوں نے ہمارے اعتماد کو ٹھیس پہنچائی ہو، ہمیں نقصان پہنچایا ہو یا تکلیف دی ہو؟ کچھ بنیادی اخلاقیات ہیں جو بچپن سے ہمارے دماغوں میں بٹھائی گئی ہیں۔

جیسا کہ ماں باپ کا تقدس اور احترام، ایجزم ( Ageism) یعنی کہ عمر میں ہم سے بڑے افراد کا احترام اور عزت۔ غلطیوں کو معاف کر کے اپنوں کو پھر سے گلے لگا لینے کی روایت، جنموں کا ساتھ اور وفا داری وغیرہ۔ زندگی میں رشتے دو طرح کے ہیں۔ ایک وہ جو ہم بناتے ہیں اور ایک وہ جو خون کے ہوں۔ کیا یہ بات درست ہے کہ خون کے رشتے توڑے نہیں جا سکتے؟ رشتہ یقیناً توڑا نہیں جا سکتا ہو گا لیکن تعلق توڑا جاسکتا ہے اور کئی صورت حال ایسی ہیں جن میں ایسا نہ کرنا ایک غلطی بلکہ جرم ہو گا۔

گناہ دو طر ح کے ہیں۔ ایک کو سن آف کمیشن (Sin of commission) کہتے ہیں اور دوسرے کو سن آف اومیشن (Sin of omission) ۔ سن آف کمیشن کسی کا خون کرنا، کسی کی چوری کرنا، کسی کے گھر ڈاکا ڈالنا یا کسی طرح کچھ ایسا کرنا جس سے کسی انسان کو تکلیف پہنچے شامل ہیں۔ سن آف اومیشن وہ ہیں جن میں ہم اپنی کم ہمتی کی وجہ سے وہ قدم نہ اٹھا پائیں جو ہمیں اٹھانا چاہیے تھا جس کی وجہ سے آگے چل کر مزید بڑے مسائل کھڑے ہوں یا ان لوگوں کا تحفظ مجروح ہو جن کے لیے ہم ذمہ دار ہیں۔

ہر نسل کے سامنے مشکل کام کھڑے ہوتے ہیں۔ جو نسلیں اپنے حصے کا کام نہیں کرتیں، ان کے کاموں کا بوجھ آنے والی نسلوں کے کاندھوں پر منتقل ہوجاتا ہے۔ نہ صرف وہ منتقل ہوتا ہے بلکہ وقت کے ساتھ بڑا بھی ہوتا چلا جاتا ہے۔ اگر غور سے دیکھیں تو دنیا میں بہت سارے ایسے الٹے سیدھے، غلط بنیادوں پر کھڑے ہوئے نظام چل رہے ہیں جن کو سینکڑوں برس پہلے ختم ہوجانا چاہیے تھا۔ اس سے پہلے ایک مضمون میں میں نے ایک سرجن کی مثال پیش کی تھی جو نشہ کر کے لوگوں پر سرجری کرتے تھے۔ کیا ان کے ساتھ کام کرنے والے عملے یا دیگر ڈاکٹروں کو لحاظ میں اس بات کو خفیہ رکھنا چاہیے؟ اگر وہ اس بات کو خفیہ رکھیں گے تو اس کے کیا نقصانات ہوں گے؟

نقصان نہ صرف ان مریضوں کا ہو گا جن کی صحت اور زندگی اس سرجن کی غلطی سے خطرے میں پڑ سکتی ہے بلکہ یہ بات اس سرجن کے لیے بھی ٹھیک نہیں کیونکہ اس کو بھی وہ مدد نہیں مل سکے گی جس کی اس کو ضرورت ہے۔ جو افراد طاقت ور پوزیشن میں ہوتے ہیں ان کے لیے یہ بات قبول کرنا کہ ان کے ساتھ کوئی مسئلہ ہے جس کو ٹھیک کرنے کی ضرورت ہے کوئی آسان کام نہیں ہوتا۔ خاص طور پر ڈاکٹروں کے لیے یہ بات قبول کرنا نہایت مشکل کام ہوتا ہے کیونکہ وہ سارا دن دوسرے انسانوں کی تشخیص کرتے ہیں اور ان کو مشورے دیتے ہیں کہ کس طرح وہ خود کو بہتر بنائیں۔ وہ یہ بات سننا پسند نہیں کرتے کہ ان کو خود پر کیا کام کرنے کی ضرورت ہے۔

جب کسی نے ہمیں تکلیف پہنچائی ہو اور نقصان دیا ہو تو سب سے اہم کام ان کو معاف کر دینا ہوتا ہے۔ معاف کردینے کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ ہم ان سے بدلہ لینے کی کوشش نہ کریں۔ جو انسان بھی دن رات یہی سوچتا رہتا ہو کہ کسی سے کس طرح انتقام لے وہ کبھی اپنی زندگی میں خوش نہیں رہ سکتا۔ یہ دوسرے انسانوں کی غلطیوں کی سزا خود کو دینے کے مترادف ہے۔ اسی لیے اپنی بھلائی اسی میں ہوتی ہے کہ ہم معاف کردیں۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم بھول جائیں کہ یہ افراد ہمارے ساتھ کیا کرچکے ہیں یا یہ کیا کر سکتے ہیں؟

اگر معاف کردینے کا فیصلہ کر لیا ہو تو پھر اس کے بعد کیا کرنا ہے؟ کیا معاف کرنے کے بعد پھر سے پہلے کی طرح تعلقات رکھنے ہیں یا تعلقات ختم کرنے ہیں؟ اس سوال پر غور کرنا نہایت اہم ہے۔ اس سوال کے جواب کا انحصار اس بات پر ہے کہ جرم یا غلطی کیا ہے؟ اور کتنی بار کی گئی ہے؟ اگر مسئلہ ایسا ہو جو حل نہ کیا جائے تو بار بار معاف کر کے رشتہ دوبارہ جوڑنا ایک دائرے کا سفر ہوگا۔ رشتہ منقطع کرنے کے بعد معاف کر دینے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ہم دوستی یا تعلقات پہلے کی طرح جاری رکھیں۔

سعید اور فائزہ کی کہانی
سعید: فلاں آنٹی ہمارے گھر کیوں آئی تھیں؟
فائزہ: وہ پڑوسن ہیں اور ہمارے گھر فون کرنے آئی تھیں۔ ان کا فون ٹھیک سے کام نہیں کررہا۔
سعید: آئندہ ان کو اپنے گھر میں داخل مت ہونے دینا۔

فائزہ: یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں؟ میں ایک عمر رسیدہ خاتون سے ایسی بداخلاقی سے کیسے پیش آ سکتی ہوں؟ وہ آپ کی ماں کی عمر کی ہیں۔

اس دن ان کے درمیان بہت جھگڑا ہوا۔ سعید کے لیے چلا چلا کر یہ بتانا آسان تھا کہ یہ اس کا مکان ہے۔ وہ نوکری کرتا ہے جس سے فائزہ گھر میں رہ کر ان کے دو بیٹے پال سکتی ہے۔ لیکن اس کے اندر اپنی بیوی کو یہ بتانے کی ہمت نہیں تھی کہ بچپن میں ان آنٹی نے اس کا جنسی استحصال کیا اور وہ خوفزدہ ہے کہ اس کے معصوم بچوں کے ساتھ وہ ایسا نہ کر لیں۔ اور ایسا ہی ہوتا ہے۔ لوگ آسانی سے نہیں بدلتے ہیں۔ اگر ہم ان کو اپنی زندگی سے نہ نکالیں تو وہ نہ صرف ہمیں بلکہ ہماری اولاد کو نقصان پہنچاتے رہتے ہیں۔

جب ایک بچہ اس دنیا میں آتا ہے تو اس کی ابتدائی زندگی میں ہونے والے واقعات کا اس کی زندگی پر اہم اثر ہوتا ہے۔ مشرقی تہذیب میں عمر رسیدہ افراد کے احترام پر کافی زور ہے۔ کیا یہ سارے عمر رسیدہ افراد نارمل ہیں؟ نہیں! ان میں سے کئی افراد کو شدید نفسیاتی مسائل کا سامنا ہے۔ کیا بی جمالو کا کردار صرف خواتین ہیں؟ نہیں! وہ ایسا کوئی بھی ہو سکتا ہے جس کے پاس سارا دن کچھ بھی ضروری کام کرنے کے لیے نہ ہو۔ ایک گھر کی چغلی دوسرے گھر میں لگانا، جھوٹی باتیں بنانا، لوگوں کو آپس میں لڑوانا ان کے روزمرہ کے معمولات میں شامل ہے۔

کچھ زبانی بدکلامی جاری رکھنے کو اور بچوں پر جسمانی اور جذباتی تشدد کو درست اور اپنا بزرگانہ حق سمجھتے ہیں۔ جب آپ ان افراد سے قطع تعلق کریں اور بقایا تمام سماج میں بھی یہ بات ہر کسی کو معلوم ہو کہ آپ کے آپس میں تعلقات نہیں ہیں تو کوئی بھی آ کر نہیں کہہ سکتا کہ ہم نے فلاں صاحب سے سنا ہے کہ آپ نے ہمارے لیے کیا کہا۔ آپ آسانی سے کہہ سکیں گی کہ ہماری پچھلے پانچ یا دس سال سے کوئی بات چیت نہیں ہے۔ جب آپ کو معلوم ہے کہ آپ بی جمالو سے بات کر رہی ہیں تو آپ کو یہ بھی معلوم ہونا چاہیے کہ وہ آپ کے منہ سے نکلی ہر بات آگے جاکر بتائیں گی۔

اس تعلق میں رہنے کا فیصلہ کر کے آپ نے ایک اور فیصلہ کیا ہے جو کہ زندگی میں ڈرامہ جاری رکھنے کا ہے۔ اس سے آپ کی توانائی غلط راستے میں ضائع ہوتی رہے گی۔ اگر دو چار افراد بی جمالو سے قطع تعلق کریں گے اور ان کو صاف الفاظ میں بتا بھی دیں گے کہ ایسا کیوں کیا گیا تو ان کو اپنے رویے کو بدلنے کا موقع بھی ملے گا۔

ضروری نہیں ہے کہ اگر ہمارے خاندان میں، پڑوس میں یا دوستوں میں کوئی ہم سے عمر میں بڑے ہیں تو وہ جو چاہے بدتمیزی ہمارے ساتھ کر سکتے ہیں۔ جب ہم بڑے ہو جاتے ہیں اور ہماری اپنی اولاد ہوتی ہے تو پھر سب بڑے برابر ہوتے ہیں۔ ہمارے گرد دائرے کی اہمیت ہے۔ ہمارے بچوں سے کچھ ٹوٹ جائے، یا ان کے خراب نمبر آئیں یا ان کی کسی سے لڑائی ہو تو اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ خاندان یا دوست احباب کے دائرے میں سے کوئی بھی ان کو لیکچر دینے کا یا مار پیٹ کرنے کا اختیار رکھتا ہے۔

کافی افراد یہ جانتے ہوئے بھی ایسے افراد کو اپنی زندگی سے نہیں نکال سکتے کہ وہ ان کے لیے اور ان کے بچوں کے لیے نقصان دہ ہیں۔ حالانکہ کسی بھی انسان کی سب سے بڑی ذمہ داری اپنے بچوں کا تحفظ ہے۔ ایک خاتون کے لیے اس کے بچوں کی اہمیت اس کے شوہر سے بڑھ کر ہے اور اسی طرح ایک شوہر کے لیے بھی اس کے بچوں کا تحفظ ازدواجی زندگی کو قائم رکھنے سے بڑھ کر ہے۔ اس سے میں سمجھتی ہوں کہ خواتین اور مردوں میں عزت نفس اور آزاد اور خود مختار ہونا نہایت اہم ہے تاکہ وہ اپنے لیے اور اپنے بچوں کے لیے کھڑے ہو سکیں۔ ان کو اپنے بچوں کو ان کے ماں یا باپ سے بچانے کی ضرورت بھی پیش آ سکتی ہے۔ صحت مند رشتے بنانا نہایت اہم ہے۔ یہ بھی سیکھنا لازمی ہے کہ ایک بیمار رشتے کا علاج کر کے اس کو بہتر کیسے بنایا جائے اور کون سے رشتوں کو سرجری کی ضرورت ہے؟

جیسا کہ مضمون کے شروع میں ایک صاحب نے کہا کہ ان افراد کو خط لکھا جائے۔ خط ضرور لکھیے۔ اس سے اپنے خیالات اور حالات کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔ اور اس سے ہمیں یہ بھی معلوم ہوجاتا ہے کہ ہم ایک دائرے میں گھوم رہے ہیں کیونکہ آج سے دو مہینے پہلے، سال پہلے، پانچ سال پہلے بھی ہمارے سامنے یہی مسائل کھڑے تھے اور ان کو کھڑے کرنے والے بھی یہی افراد تھے۔ اس کے بعد آپ کو صاف الفاظ کے ساتھ اپنا موقف پیش کرنا ہوگا کہ اب تعلقات پہلے کی طرح نہیں ہوسکتے۔

یقیناً یہ سننا آپ کے عزیز کے لیے شدید صدمے کا باعث ہوگا۔ لوگ اپنی غلطیوں اور اطوار کے بارے میں اکثر اندھیرے میں ہوتے ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ وہ چیخ پکار کریں یا رو دھو کر معافی تلافی کی کوشش کریں۔ اس لمحے میں آپ کی تحریر یہ مقصد بھی پورا کرے گی کہ آج یہ سنجیدہ گفتگو کیوں کی جا رہی ہے۔ اس کمزور لمحے میں اس بیمار رشتے میں آپ کی واپسی ممکن ہے۔ اسی لیے یاد رہے کہ جتنا بھی مزید گفتگو جاری رکھنا چاہیں، ان مشکل افراد سے فاصلہ بنانا لازمی ہے۔

وقت گزرنے کے ساتھ ذہن میں سے یہ گفتگو دھندلی ہوتی جائے گی اور یہ دائرے کا سفر ختم ہو جائے گا۔ کیا آپ کو مستقبل میں اس فیصلے پر پچھتاوا ہوگا؟ نہیں! اس درست فیصلے کے پھل آپ، آپ کے بچے اور معاشرے کے دیگر افراد اپنی بقایا زندگی کھاتے رہیں گے۔ یہ ان مشکل افراد کے لیے بھی خود کو بہتر بنانے کے لیے ایک مفید موقع ہے جس کی ان افراد کو اور دنیا کو شدید ضرورت ہے۔ یہاں پر ہمیں خود سے بھی ایک اہم سوال کرنے کی ضرورت ہے۔ کیا ہم اپنے حصے کے ضروری کام کی بڑی ذمہ داری اٹھانے کے بجائے خود کو ایک اچھا اور بہتر انسان ثابت کرنے کا دھوکا دینے میں مصروف ہیں؟

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •