سپریم کورٹ سے رہنما اقدامات کی امید

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

قیام پاکستان کے چند مہینوں بعد ہی بحیثیت قوم ہمیں اصل فکر یہ لاحق ہوگئی کہ فقط سیاسی جدوجہد کی بدولت قائم ہوئے ملک کو ’’بدعنوان‘‘ سیاست دانوں سے کیسے بچانا ہے۔لطیفہ یہ بھی ہوا کہ مسلمانوں کے لئے جداگانہ وطن کا مطالبہ لاہور کے مینارِ پاکستان تلے ’’قرارداد پاکستان‘‘ کی منظوری کے بعد سندھ کی منتخب اسمبلی نے باقاعدہ انداز میں پیش کیا تھا۔14اگست 1947کے روز ایوب کھوڑو مذکورہ اسمبلی کے قائد ایوان تھے۔بحیثیت وزیر اعلیٰ انہیں ’’مرد آہن‘‘ بھی کہا جاتا تھا۔

کراچی پر کنٹرول کے سوال پر لیکن وہ مرکزی حکومت کے خلاف ’’صوبائی حقوق‘‘ کے لئے ڈٹ گئے۔ان سے نجات پانے کے لئے ’’پروڈا‘‘ کے عنوان سے پہلا ’’اینٹی کرپشن‘‘ قانون بذریعہ آرڈیننس جاری ہوا۔ایوب کھوڑو اس کے استعمال سے فارغ کردئیے گئے۔سیاست دان مگر ’’سدھرنے‘‘ کو تیار نہیں ہوئے۔ ’’سازشیں‘‘ شروع کردیں کہ برطانوی ملکہ کی توثیق سے تعینات ہوئے گورنر جنرل کے اختیارات میں کمی لائی جائے۔

اس عہدے پر لیاقت علی خان کے قتل کے بعد سامراج کی متعارف کردہ سول سروس کے نمائندے ملک غلام محمد براجمان تھے۔انہوں نے طیش میں آکر دستور ساز اسمبلی ہی کو معطل کرنے کا نوٹی فکیشن جاری کردیا۔معطل شدہ اسمبلی کے سپیکر مولوی تمیز الدین برقعہ پہن کر اس فیصلے کے خلاف عدالت سے ’’ریلیف‘‘ حاصل کرنے چلے گئے۔

طویل عدالتی عمل کے بعد تاہم جسٹس منیر نے ’’نظریہ ضرورت‘‘ کے تحت گورنر جنرل کے فیصلے کو جائز قرار دیا۔ان کے لکھے فیصلے نے یہ بھی طے کردیا کہ پاکستا ن کے سیاستدان اپنے تئیں ’’گڈگورننس‘‘ فراہم کرنے کے قابل نہیں۔ انہیں ’’رہ نمائی‘‘ درکار ہے اور ظاہر ہے یہ ’’رہ نمائی‘‘ ریاست کے دائمی ادارے ہی مہیا کرسکتے ہیں۔

جسٹس منیر نے ’’نظریہ ضرورت‘‘ دریافت نہ کیا ہوتا تو اس ملک کو کرپشن سے پاک کرنے کے لئے جنرل ایوب،یحییٰ، ضیاء الحق اور پرویز مشرف کو مارشل لاء لگانے کی سہولت میسر نہ ہوتی۔مطالعۂ پاکستان کی کتابوں میں ہمیں بتایا جاتا ہے کہ ’’نظریہ پاکستان‘‘ دستور ساز اسمبلی میں پاس ہوئی ’’قرار داد مقاصد‘‘ میں طے کردیا گیا تھا۔یہ مگر پڑھایا نہیں گیا کہ ’’اسلامی جمہوریہ‘‘کا سیاسی بندوبست بھی ’’نظریہ ضرورت‘‘ کے ذریعے طے کردیا گیا ہے۔

’’عوامی جدوجہد‘‘ کی بدولت 2009میں چیف جسٹس کے منصب پر لوٹے افتخار چودھری صاحب نے ازخود نوٹسوں کی بھرمار سے اس نظریہ کی افادیت کو بھرپور انداز میں اُجاگر کیا۔ان کی متعارف کردہ روایت کو ثاقب نثار اور آصف سعید کھوسہ صاحب نے مزید توانائی فراہم کی۔یوسف رضا گیلانی ’’چٹھی‘‘ نہ لکھنے کی وجہ سے وزارتِ عظمیٰ سے فارغ ہوگئے۔انہیں گھر بھیجتے ہوئے ’’حیف ہے اس قوم پر…‘‘ کی دہائی بھی مچائی گئی۔گیلانی صاحب کے بعد ’’قیمے والے نان‘‘ کے عوض اپنا ووٹ ڈالنے والی قوم نے نواز شریف کو تیسری بار اس ملک کا وزیر اعظم منتخب کروادیا۔

بقول حبیب جالب ’’جہل کا نچوڑ‘‘ ہم 22کروڑ افراد لاہور کے ایک صنعت کار گھرانے سے اُبھرے اس سیاستدان کی حمایت میں ووٹ ڈالتے ہوئے بھول گئے کہ موصوف کو اکتوبر1999میں کرپشن کے سنگین الزامات لگاتے ہوئے جنرل مشرف نے برطرف کیا تھا۔ اپنے کردہ یا نا کردہ گناہوں کی پاداش میں شاید وہ ان دنوں بھی جیل میں بیٹھے چکی پیس رہے ہوتے۔سعودی بادشاہ نے مگر انہیں بچالیا۔قید سے رہائی دلواکر اپنے ہاں لے گئے۔

کمزور یادداشت کی حامل اور ’’قیمے والے نان‘‘ کے عوض ووٹ بیچنے والی قوم کو خوابِ غفلت سے جگانے کے لئے اپریل 2016میں پانامہ پیپرز منظر عام پر آگئے۔کرپشن کے خلاف 1996سے جدوجہد کرتے ہوئے عمران خان صاحب فریاد کرتے رہے کہ پانامہ پیپرز نے نواز شریف کی بدعنوانی بھی بے نقاب کردی ہے۔وہ اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں۔ہماری ’’بے حس‘‘ قوم مگر ٹس سے مس نہ ہوئی۔بالآخر سپریم کورٹ ہی کو متحرک ہونا پڑا۔اس کے حکم سے ریاستی اداروں کے نمائندوں پر مشتمل ایک JITبنی۔نواز شریف اس کی جانب سے ہوئی تحقیقات کی بدولت سسیلین مافیا کا ’’سرغنہ‘‘قرار پائے۔ آئین میں ’’صادق اور امین‘‘ کے لئے طے ہوئے معیار پر پورے اُترتے بھی نظر نہیں آئے۔اسی باعث کسی بھی عوامی عہدے کے لئے تاحیات نااہل قرار پائے گئے۔

عمران خان صاحب کو ان کے برعکس ثاقب نثار صاحب نے ’’صادق اور امین‘‘ ٹھہرایا۔یہ سعادت ہمارے کسی اور سیاست دان کو ابھی تک نصیب نہیں ہوئی۔نصابی اعتبار سے سوچیں تو ذوالفقار علی بھٹو جیسا قدآور سیاستدان بھی سپریم کورٹ کی نظر میں ’’قاتل‘‘ قرار پایا تھا۔اسی باعث تارا مسیح کے ہاتھوں 4 اپریل 1979کو پھانسی چڑھایا گیا تھا۔

نواز شریف تاہم اس تناظر میں خوش نصیب ثابت ہوئے۔ احتساب عدالت کی جانب سے سنائی سزا جیل میں بھگت رہے تھے تو اچانک ان کی جان کو شدید خطرہ لاحق ہوگیا۔علاج کے لئے برطانیہ بھیجنے کی ضرورت محسوس ہوئی۔آج بھی لندن میں مقیم ہیں۔جب بھی طیش میں آتے ہیں تو سوشل میڈیا کے ذریعے اپنے دل کی بھڑاس نکال لیتے ہیں۔ان کی عدم موجودگی کے باوجود کوئی پسند کرے یا نہیں کم از کم پنجاب میں نواز شریف کا ووٹ بینک اپنی جگہ قائم ودائم ہے۔

ڈھائی سال گزرجانے کے باوجود جنوبی پنجاب سے نمودار ہوئے عثمان بزدار ابھی تک اس میں نقب لگانے میں کامیاب نہیں ہوئے۔ ’’ووٹ بینک‘‘ کو اب ’’عوامی تحریک‘‘ بنانے کی کوشش ہورہی ہے۔ہمارے حکمرانوں کو مگر یقین ہے کہ ’’قیمے والے نان‘‘ کھاکر ووٹ ڈالنے والے عوامی تحریک چلانے کے قابل نہیں۔

حکمرانوں کے دفاع کو یقینی بنانے کے لئے ’’قلعہ اسلام آباد‘‘ کی حفاظت اب راولپنڈی کی لال حویلی سے اُٹھے بقراطِ عصر کے سپرد کردی گئی ہے۔اپنا عہدہ سنبھالنے کے بعد انہوں نے ریاستی گودام کا جائزہ لیتے ہوئے دریافت کیا کہ وہاں موجود آنسو گیس استعمال نہ ہونے کے سبب زائد المعیاد ہوچکی ہے۔قومی وسائل کے ایسے ’’زیاں‘‘ پر وہ جھلاگئے۔سرکاری ملازمین اپنی تنخواہ میں اضافے کا مطالبہ کرتے ہوئے اسلام آباد کی ’’ریڈ زون‘‘ میں آئے تو ریاستی گودام میں ضائع ہوتی آنسو گیس کے استعمال سے انہیں سبق سکھایاگیا۔’’تجربہ‘‘ ہوچکا ہے۔PDMکو اب اسلام آباد ’’فتح‘‘ کرنے کے لئے لانگ مارچ کے استعمال کی بابت سوبار سوچنا ہوگا۔

اصل موضوع کی طرف لوٹتے ہیں۔میرااصرار ہے کہ ’’نظریہ ضرورت‘‘ ہمارے سیاسی بندوبست کا کلیدی رہ نما یا Guide ہے۔’’قیمے والے نان‘‘ کے عوض ملے ووٹوں سے منتخب ہوئی پارلیمان میں ’’چوروں اور لٹیروں‘‘ کا ہجوم بیٹھا نظر آتا ہے۔اس کی اجتماعی فراست پر بھروسہ نہیں کیا جاسکتا۔ہمارے ذہن ساز اینکر خواتین وحضرات نے کئی برسوں کی سینہ کوبی کے ذریعے ہمیں یہ بھی سمجھادیا ہے کہ سینٹ کی خالی ہوئی نشستوں پر انتخاب ہوتا ہے تو اپنے آئندہ انتخاب کا ’’خرچہ‘‘ پورا کرنے کے لئے قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں بیٹھے اراکین اپنا ووٹ بیچنے کو بے قرار ہوجاتے ہیں۔

اب تو اس تاثرکے اثبات میں ایک ویڈیو بھی منظر عام پر آچکی ہے۔اس کے ہوتے ہوئے کیوں اعتبار کریں کہ مارچ 2021 میں سینٹ کی جو نشستیں خالی ہوں گی انہیں ’’صاف شفاف‘‘ انتخاب کے ذریعے پُر کیا جائے گا۔ عمران حکومت یہ سوال لے کر سپریم کورٹ کے روبرو پیش ہورہی ہے۔

آئین کا آرٹیکل 226 اگرچہ ’’خفیہ‘‘ انتخاب کا تقاضہ کرتا ہے۔’’صاف ستھری‘‘ سیاست کو یقینی بنانے کے لئے تاہم غیر معمولی اقدامات لینا ہوتے ہیں۔سپریم کورٹ سے ایسے ہی رہ نما اقدامات کی اُمید باندھی جارہی ہے۔ ’’قیمے والے نان‘‘ کے عوض ’’جہل کا نچوڑ‘‘عوام اپنے تئیں ’’گڈگورننس‘‘ فراہم نہیں کرسکتے تو ’’مائی باپ‘‘ تصور ہوتی ریاست کے دیگر ادارے ہی بالآخر ہماری ’’رہ نمائی‘‘ فرمانے کو مجبور ہوجاتے ہیں۔

بشکریہ روزنامہ نوائے وقت

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply