زچہ کی طبیعت کیوں خراب ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

لیجیے جناب زچگی ہو چکی اور زچہ وبچہ خیریت سے گھر پہنچ چکے۔ اب ماحول کچھ یوں ہے کہ شادیانے بج رہے ہیں، مٹھائیاں بٹ رہی ہیں، دوست احباب سے مبارکبادیاں وصول کی جا رہی ہیں اور ننھیال ددھیال میں نام رکھنے کی رسہ کشی جاری ہے۔

ابا حضور کے مقام پہ فائز ہونے والے صاحب خواہ مخواہ مونچھوں پہ تاؤ دیتے چلے جا رہے ہیں لیکن کیا کسی نے زچہ کی خبر لینے کی کوشش کی جو سر لپیٹے اٹواٹی کھٹواٹی لیے پڑی ہے۔ آنسو ہیں کہ بے وجہ بہے چلے جا رہے ہیں، بھوک پیاس اڑ چکی ہے، کسی سے بات کرنے کی چاہ نہیں، بچے کی پرواہ نہیں!

“انہیں آخر ہوا کیا ہے؟ یہ منہ بسورے کیوں پڑی ہیں؟ اے لو، ہم نے بھی بچے پیدا کیے تھے، ایسا مزاج تو نہیں تھا۔ ساس اماں کچھ ہی روز میں اٹھا کے چولہا چوکی پھر سے سونپ دیتی تھیں”

یہ وہ فقرے ہیں جو زچہ کے آس پاس زیرلب بڑبڑاتے ہوئے منہ سے نکالنا کسی بھی فرد کو مشکل نہیں لگتا۔ لیکن یہ کوئی بھی سوچنے کی زحمت نہیں کرتا کہ زچہ کسی انہونی کا شکار بھی ہو سکتی ہے۔

ہماری بڑی صاحبزادی دنیا میں تشریف لائیں تو ہمارا یہ عالم تھا کہ ہم نے بڑی بے رخی سے بچی کو گود میں لینے سے انکار اور انتہائی چڑچڑے پن کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہہ دیا کہ کوئی ہم سے بات کرنے کی زحمت نہ کرے۔ ہمیں نہ بھوک ہے نہ پیاس، نہ ہی بچی دیکھنے کی تمنا، سو ہمیں منہ سر لپیٹ کے سونے دیا جائے جب تک ہمارا جی چاہے۔

اگلے دو تین دن سوتے اور آنسو بہاتے گزری جس پہ ہماری اماں کی تشویش آسمان کو چھونے لگی کہ ہم جو صنفی امتیاز کے خلاف مقدمہ بچپن سے دائر کیے بیٹھے تھے، کیا اس کی بنیادیں اس قدر کمزور تھیں کہ اپنے آنگن میں ننھی پری کو دیکھ کے اس میں دراڑ پڑ گئی؟

خیر کچھ ہی دنوں میں لوٹ پوٹ کے خود ہی اٹھ بیٹھے اور اپنے محاذ پہ پھر سے ڈٹ گئے۔ گھر والوں کی بھی جان میں جان آئی اور جان گئے کہ کچھ ناسازئ طبع کا مسئلہ تھا اور بات وہ نہیں!

ہم نے زچگی کی پیچیدگیوں پہ بات شروع کی تھی تو ضروری سمجھا کہ زچگی کے اس اہم مسئلے پہ بھی بات کی جائے۔

حمل کے دوران عورت کا جسم بہت سی تبدیلیوں سے گزرتا ہے۔ عورت کا جسم ایک اور گوشت پوست کے بنے جسم کی تعمیر کرتے ہوئے شکست و ریخت کا شکار ہوتا ہے۔ ہارمونز کا طوفان ٹھاٹھیں مار رہا ہوتا ہے۔ پھر زچگی کا پل صراط سا مرحلہ، جہاں عورت بے انتہا جسمانی تکلیف کو سہتے ہوئے موت کی دبے پاؤں چاپ بھی محسوس کرتی ہے۔ جب یہ طوفان تھمتا ہے تو اعصاب میں ہونے والی ٹوٹ پھوٹ کوسنبھلنے کے لئے کچھ وقت درکار ہوتا ہے۔

زچگی کے بعد زچہ پہ تین طرح کی کیفیات طاری ہو سکتی ہیں۔

میٹرنٹی بلیوز یا بے وجہ اداسی:

گری گری طبعیت، نم آنکھیں، بڑھی ہوئی حساسیت، تھکاوٹ، چڑچڑاپن، بے وجہ گریہ، بھوک میں کمی، لاتعلقی۔

اس میں زچہ کو شوہر اور عزیز واقارب کی طرف سے جذباتی سہارے کی شدید ضرورت ہوتی ہے۔ اگر طعن و تشنیع یا طنز کا نشانہ بنا کے زچہ کا ذہنی دباؤ مزید نہ بڑھایا جائے تو کچھ ہی دن میں جسم و دماغ اپنی اصلی حالت میں لوٹ آتا ہے۔

پوسٹ پارٹم ڈپریشن:

اعداد وشمار کے مطابق ہر دس میں سے ایک عورت اس ڈپریشن کا شکار بنتی ہے۔ اگر میٹرنٹی بلیوز یا اداسی ایک ہفتے تک بہتر نہ ہو اور مندرجہ ذیل دس علامات نظر آنے لگیں تو سمجھ لیجیے کہ ڈاکٹر کی مدد کی ضرورت آن پہنچی،

1- منفی خیالات؛

ناامیدی، دکھ اور تکلیف کا احساس، بے چینی، زندگی کا خالی پن اور بے مقصدیت۔

2- بڑھا ہوا اضطراب اور بے چینی؛

چھوٹی چھوٹی باتوں پہ انتہا درجے کی فکرمندی اور انتشار، جو زچگی سے قبل طبعیت کا حصہ نہ ہو۔

3-بچے سے لاتعلقی؛

ممتا کے جذبات کی بجائے ناگواری اور چڑچڑا پن، بچے کی دیکھ بھال سے انکار۔

4- اپنی ذات پہ شرمندگی اور ناامیدی؛

اپنے آپ کو ماں بننے کے قابل نہ سمجھنا اور بچے پہ پیار نہ امڈنا۔

5- تھکاوٹ اور بےزاری؛

نئے مہمان کی آمد سے لطف اندوز نہ ہو سکنا اور اداسی کا شکار ہونا۔

6- گھبراہٹ کے دورے؛

دل کی دھڑکن تیز ہونا، پسینہ چھوٹنا، بے ہوشی کی سی کیفیت ہونا۔

7-بھوک میں کمی یا بیشی؛

بے چینی، دباؤ اور ماحول میں بے توجہی، بھوک یا بہت کم یا بہت زیادہ ہونا۔

8- جنسی تعلقات میں کمی؛

بے خوابی، بے چینی، تھکاوٹ اور بڑھی ہوئی مایوسی اور پژمردہ مزاج

9-گریہ زاری؛

آنسو بہنا اور بنا کسی سبب کے بہتے ہی چلے جانا، دنیا اندھیر نظر آنا۔

10- بھلکڑ پن اور ارتکاز میں کمی;

 بچے کی نگہداشت میں کوتاہی، ماحول سے لا تعلقی اور اپنے آپ میں گم رہنا۔

اگر کچھ دنوں میں مندرجہ بالا علامات بہتر نہ ہوں اور اس کے ساتھ مندرجہ ذیل علامات ظاہر ہونے لگیں، تو سمجھ لیجیے کہ یہ ایک خطرناک کیفیت کا آغاز ہے اور زچہ کو فوراً ایمرجینسی میں ہسپتال پہنچانے کی ضرورت ہے۔

پوسٹ پارٹم سائیکوسس؛

مختلف آوازیں سننے کی شکایت کرنا، ہیولے نظر آنا، عجیب وغریب خیالات آنا، تشدد پہ اتر آنا، زور زور سے بولنا اور بلاوجہ چیخ وپکار، سب کے سامنے لباس اتار دینا اور کسی بھی جگہ حوائج ضروری سے فارغ ہونا، خودکشی کا ارادہ کرنا یا بچے کو قتل کرنے کے منصوبے بنانا۔

صاحبان دانش! سوچیے، عورت کے لئے ان طبی مشکلات سے نبٹنا ہی کیا کم ہے کہ ساتھ میں معاشرتی، ازدواجی اور خاندانی مسائل و توقعات کا بار بھی اس پہ لاد دیا جاتا ہے۔

اپنے ساتھی کی ہر کیفیت و تکلیف کو سمجھیے اور نہ صرف اس کی مدد کے لئے اپنا ہاتھ بڑھائیے بلکہ اس کے دکھ اور اضطراب کو ہلکا کرنے کے لئے اپنا کندھا بھی پیش کیجیے۔ یہی ایک بہترین ہم سفر بننے کا راز ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply