برائیڈل شاور اور پیریڈز پارٹی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ایک عورت کی زندگی میں اس کو جب بہت زیادہ تحائف دیے جاتے ہیں تو وہ اس کی شادی کا دن ہوتا ہے جس میں اس کو ہر وہ چیز دی جاتی ہے جس کو سنبھالنے میں اس کی ساری زندگی گزر جاتی ہے اس کے بوجھ اور احسان کے نیچے وہ دبی رہتی ہے۔ اتنا بوجھ کہ اس کی سانس نہ نکل پائے اس کو اڑنے کی خواہش ہی نہ ہو۔ اگر کسی عورت کے پر نکلنے لگے تو ایک عدد ایسا انسان بھی اس کو بن مانگے تحفے میں دیا جاتا ہے جو اڑنے کی خواہش پر اس کے پر بھی کاٹتا ہے اور ہر لمحہ مجازی خدا ہونے کا کریڈٹ بھی خوب لیتا ہے۔ ان تحائف میں جہیز وہ عذاب عظیم ہے جو اس بے گناہ عورت پر نہایت خوبصورت طریقے سے نازل کر دیا جاتا ہے جس کو اس نے ساری عمر بھگتنا ہے۔ اور یہ خبیث جہیز ایسا عذاب ہے جو عورت پر نازل ہو تو مصیبت نہ ہو تو بھی وبال جان ہے۔

اب اس عذاب کے نازل کر دیے جانے کا طریقہ کار اور کردار تھوڑے وسیع کر دیے گئے ہیں بدل دیے گئے ہیں۔ اب اس کی شروعات لڑکی کی سہیلیوں، اس کی کزنوں اور خاندان کی چلبلی سی خواتین نے لے لی ہے اور اس تقریب کا نام برائیڈل شاور رکھا گیا ہے، بظاہر تو وہ ایک خوشی منا رہی ہوتی ہیں جو کہ مرد بھی شادی سے پہلے اپنے دوستوں کے ساتھ بیچلر پارٹی کرتا ہے مگر اس میں کہیں بھی یہ طے نہیں پایا جاتا کہ اس کے بعد وہ پارٹی نہیں کرے گا۔

لیکن یہ جو برائیڈل شاور ہے نا یہ بہت زیادہ نقصان دہ ہے کیونکہ اس کے مطلب پاکستان میں جو ہے وہ یہ ہے کہ لڑکی کی سہیلیاں اس کی شادی سے پہلے اس کے ساتھ وہ وقت گزارنا چاہتی ہیں جو وہ شادی کے بعد نہیں گزار سکے گی اور پھر اگر میرے جیسی سہیلی ہو تو اس کو شادی کا کارڈ دے کر لوگ یہی دعا کریں گے کہ کہیں وہ بد زبان شادی پر آہی نہ جائے، کیونکہ میری بہت سی باتوں کا جواب دلہن کے پاس خود بھی نہیں ہوتا میں جواب چاہتی بھی نہیں ہوں اور میں یہ بھی نہیں چاہتی کہ میری باتوں سے دلہن اتنے فضول دن پر اپنا چاند سا چہرہ اداس کر لے جو کہ بعد میں ہمیشہ سے اداس رہنے والا ہے۔ اس لیے میں شادیوں پر جانا بھی پسند نہیں کرتی ہوں۔

ہمارے گھٹن زدہ معاشرے میں آج کل برائیڈل شاور کا رجحان لڑکیوں میں اتنی خوبصورتی کے ساتھ جذب کر دیا گیا ہے کہ ان کو پتہ ہی نہیں کہ وہ برائیڈل شاور کے نام پر اپنی آزادی کے ختم ہونے پر جشن منا رہی ہوتی ہیں۔ برائیڈل شاور کا مطلب شادی سے پہلے دلہن کی ساری سہیلیاں اس کے لیے تحائف لاتی ہیں اور اس کے غیر شادی شدہ والے اسٹیٹس کے ساتھ خوب مستی ہلا گلا کرتے ہوئے باقاعدہ کیک کاٹتی ہیں۔ کیونکہ اس سب کا موقع لڑکی اور اس کی سہیلیوں کو شادی کے دن اور شادی کے بعد نہیں ملے گا۔

یہ ”جو نہیں ملے گا“ والی سوچ ہے نا بنیادی طور پر اسی کا نام شادی ہے۔ دلہن اپنی سہیلیوں کے ساتھ برائیڈل شاور کے دن تصاویر بنواتی ہے ڈانس کرتی ہے یہاں تک کہ سلیو لیس ( بغیر آستینوں ) والی لمبی سنڈریلا جیسی فراک بھی پہنتی ہے۔ برائیڈل شاور کا یہ بنیادی اصول ہے کہ اس تقریب میں دلہن جو ہوگی وہ نازک پریوں کے جیسی فراک پہنے گی کیونکہ اس سب کے بعد تو اس کو شادی شدہ دکھنے کے لیے بہت بھاری جوڑے پہننا ہوں گے اسے فلاں مشہور خاندان کے نامی و گرامی بیٹے کی بیوی دکھنا ہوتا ہے۔

اگر وہ فلاں برینڈ کی بجائے کسی عام قدیمی بازار سے خریدا ہوا جوڑا پہن لے گی جس میں وہ خود کو آرام دہ محسوس کرتی ہے تو بہت بڑا عذاب آ جائے گا اور ویسے بھی یہ ساری کام چوری اور آرام پرستی اس نے برائیڈل شاور میں کرلی ہوتی ہے تو لہذا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ وہ شادی کے بعد کوئی ایسا جوڑا پہن لے جس میں وہ خود کو پر سکون سمجھتی ہو۔ وہ صرف وہی پہنے گی جس میں وہ کسی کی بارعب بہو، بیوی لگے۔ برائیڈل شاور کو بہت فخر اور خوشی سے منایا جاتا ہے کیونکہ اس کے بعد لڑکی کو اس انسان کے ساتھ ساری زندگی گزارنے کو دے دیا جائے گا جس کے وہ صرف نام اور زیادہ سے زیادہ کام سے واقف ہوگی۔

انتہائی عجیب بات ہے کہ ایک لڑکی جو والدین کے گھر میں کپڑے بدلنے کے لیے دروازے کو کنڈی لگاتی ہے کھڑکیاں بند کرتی ہے اس کے پردے گراتی ہے جب تک اس کو یہ یقین نہ ہو کہ اب کہیں سے ہوا بھی نہیں آئے گی تب تک وہ کپڑے نہیں بدلتی، اور اس لڑکی کو ایسا انسان دے دیا جاتا سہاگ رات میں جس کو وہ جانتی تک نہیں ہوتی پسند ہونا نہ ہونا تو بعد کی بات ہے۔ ایسے انسان کے ساتھ زندگی گزارنا تو دور دس منٹ کمرے میں نہیں بیٹھا جا سکتا جس کے آپ صرف نام سے واقف ہوں۔

مگر ہمارے ہاں ایسے انسان کے ساتھ ساری زندگی گزارنے سے پہلے ہلکا سا جو جشن منایا جاسکتا ہے وہ برائیڈل شاور ہے۔ بہت فخر سے یہ اعلان ہوتا ہے کہ یہ تقریب اس لیے ہے کہ اس کے بعد میری سہیلی، بہن یا بیٹی اپنی پوری زندگی اس انسان کی ذہنی و جسمانی غلام بن جائے گی جس کے وہ صرف نام سے واقف ہے۔ بہت فخر سے یہ بتایا جاتا ہے کہ ہماری بیٹی تو اس سے ”بات“ تک نہیں کرتی دونوں نے ایک دوسرے کو بس تصویر میں دیکھا ہے لیکن ہم نے اپنی بیٹی کی رضامندی سے اس کی شادی طے کی ہے۔

پہلی بات تو یہ ہے آپ کوئی نہیں ہوتے اپنے بچوں کی شادی کے فیصلے کرنے والے، شادی ایک بہت پرسنل معاملہ ہے اس کا فیصلہ وہی انسان کرے گا جس نے شادی کرنی ہے۔ اس نے شادی کس سے کرنی ہے؟ کب کرنی ہے؟ کرنی ہے یا نہیں کرنی ہے؟

دوسری بات یہ کیسی شادی ہے جس کے ہونے بعد لڑکی کو وہ آزادی نہیں ملے گی جو اس کو غیر شادی شدہ کے اسٹیٹس کے ساتھ ملی ہوئی تھی؟ جس میں لڑکی اپنی سہیلیوں کے ساتھ اسی جوش، بے فکری اور خوشی سے نہیں ملے گی جیسے وہ غیر شادی ہونے کے اسٹیٹس میں مل سکتی ہے؟ ایسے کون سے تحائف ہوتے ہیں جو لڑکی اگر برائیڈل شاور میں دوستوں سے لے کر کھول لے گی تو اس کو سسرال میں ان تحائف کو کھولنے پر جو شرمندگی یا بے شرمی کا سامنا کرنا پڑے گا وہ شادی سے پہلے ہی ہو جائے تو بہتر ہے؟

ایسا کون سا تحفہ ہے جو سہیلیاں اگر شادی کے بعد دے دیں گی تو دلہن اور اس کی سہیلیوں کے کردار پر شک نہیں کیا جائے گا؟ ایسا کون سا لباس ہے جو لڑکی شادی کے بعد پہن لے گی تو شوہر کی عزت نامدار میں فرق آئے گا؟ اور ایسی کون سی تفریح ہے جو دلہن اگر شادی کے بعد اپنی سہیلیوں کے ساتھ کرنے نکل جائے گی تو یہ معاشرہ کسی شک میں پڑ سکتا ہے؟ لہذا برائیڈل شاور اسی دقیانوسی روایات کو اپ ڈیٹ کرنے کا نیا طریقہ ہے۔ جس میں امیر طبقے سے لے کر مڈل کلاس کا طبقہ اچھی طرح گھس چکا ہے اور پدرشاہی کی جڑیں اور بھی مضبوط ہو رہی ہیں۔ جس کا نقصان ان دونوں طبقوں کی عورتوں کو ہو رہا ہے مردوں کو بھی ہو رہا ہے۔ مگر جب عورتیں جو اس سے زیادہ نقصان اٹھا رہی ہیں ان کو اس بات کا اندازہ نہیں ہے تو مردوں کو کیا ہوگا جو سارا دن گھر سے باہر عورت کے لیے ”کمائی“ کر رہا ہوتا ہے۔

اس قدر فضول تقریب کی بجائے اگر ہم اپنی بیٹی، بہن یا پھر سہیلی کو پہلی ماہواری آنے پر پیریڈز پارٹی رکھیں گے تو ان کو کتنی طاقت ملے گی۔ اگر میری بہن یا بیٹی ہوتی تو میں ضرور پیریڈز پارٹی پلان کرتی جس میں اس کی دوستوں کو مدعو کیا جاتا۔ سب سے پہلے میں اس کو کہتی کہ میں اگر تمہیں زندگی میں کچھ دینا چاہوں تو وہ صلاحیت دوں گی جس سے تم خود کو اپنے لیے بہت خاص سمجھو تمہیں وہ طاقت دوں جس سے تم میری آنکھوں سے یہ دیکھ سکو کہ میری آنکھوں میں تمہارے لیے تمہارے جسم پر صرف تمہاری ہی مرضی ہونا کتنا ضروری ہے۔

پھر اس کو ماہواری کے سائیکل کے بارے میں تمام معلومات دینے کا ایک سیشن رکھا جاتا۔ اس کو میں بتاتی کہ یہ تمہارا جسم ہے اس پر تمہارا مکمل حق ہے کسی کو بھی اس کے بارے میں یہ کہنے کا حق نہیں ہے کہ تم ان دنوں میں اچھل کود نہیں کر سکتی، تم ان دنوں میں نہا نہیں سکتی، تم ان دنوں ناپاک ہو، لیکن پھر بھی اگر سحری کے وقت کوئی جگائے تو منافقت کا منہ رکھ لینا اپنی حسین خوابوں سے بھری نیند خراب کر کے جھوٹی سحری کھا لینا۔

میں اس کو بتاؤں گی کہ یہ تمہارا جسم ہے اس پر تمہیں ہر وقت فخر ہونا چاہیے اس کو چھپاؤ گی تو دنیا نوچ لے گی جیسے تمہاری ماں کو یا بڑی بہن کے جسم کو نوچا گیا تھا کیونکہ اس ظالم سماج نے مجھے بھی یہ سکھایا تھا کہ میرا جسم ان کے لیے ایک جنسی کھلونا ہے میرا جسم اتنا گندا ہے اتنا غلیظ ہے اتنا نازک ہے کہ اگر یہ دس گز کپڑے میں لپٹا نہ ہوگا تو اس سماج کے مردوں کی شہوانیت ان کے قد سے اوپر ہو جائے گی اور پھر مجبوراً ان کو میرا ریپ کرنا ہوگا۔

اور اگر تم دس گز کپڑے میں لپٹی ہوگی تب تو تمہارا ریپ سو فیصد یقینی ہے کبھی شوہر سے ہوگا تو کبھی کسی موٹروے پر، کسی گیسٹ ہاؤس میں تمہاری تصاویر کو ایڈٹ کر کے بلایا جائے گا بلیک میل کیا جائے گا، تم گڑگڑاؤ گی، اس دس گز کپڑے کی لاج سلامت رہے تم سامنے والے کا منہ پیسوں سے بھی بند کرو گی اور ہو سکتا ہے وہ بندوق دکھا کر تمہارا ریپ بھی کردے۔ اس لیے تمہیں سب سے پہلے جس پر فخر ہونا چاہیے وہ تمہارا جسم اور ماہواری ہے۔

ماہواری کے ساتھ تمہارے اندر اتنا حوصلہ ہونا کہ تم کسی سے کم نہیں، تم ناپاک نہیں، تم کمزور نہیں ہوتو اس دنیا میں کوئی ایسا انسان نہیں ہوگا جو تمہیں آزاد اڑنے، خوش رہنے اور اپنی مرضی کے خواب پورے کرنے سے روک سکتا ہوگا۔ میری بہن یا میری بیٹی کو اس کی پہلی ماہواری پر ”جنسی تولیدی صحت کے اصولوں“ کو جاننا اتنا ہی ضروری ہوگا جتنا ضروری پہلا سینیٹری پیڈ ہوتا ہے۔ تا کہ کوئی بھی اس کے جسم کو اس کی مرضی کے بغیر اگر چھوئے گا تو وہ اس چھونے سے نفرت کرے، چھونے والے سے نفرت کرے گی نا کہ اپنے جسم سے نفرت کرتے ہوئے اپنی ذات کی خوشیوں کو بھول جائے۔

اگر مجھے دس سال کیا ساری زندگی بھی اس بات کو سمجھانے میں لگ جائیں کہ ماہواری کا یہ خون شرمناک نہیں ہے بلکہ کسی ایسے انسان کو اپنے جسم اور زندگی کے ساتھ کھیلنے دینا جس کو آپ جانتے نہیں جس کو آپ پسند نہیں کرتے زیادہ شرمناک ہے۔

آئیں مل کر اپنے جسم پر فخر کریں اور اپنی بیٹیوں، بہنوں کو ان کے جسم پر فخر کرنے دیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

2 thoughts on “برائیڈل شاور اور پیریڈز پارٹی

Leave a Reply