ظلم کی شکار خواجہ سرا کمیونٹی اور معاشرتی بے حسی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کوئی ہے جو ان کے مسائل کی جانب توجہ کر سکے؟ کیا کوئی ان کو انسان سمجھ کر قابل احترام شہری کا رتبہ دے سکتا ہے؟ کیا حکومت، خاندان، سماجی تنظیمیں اور معاشرہ ان کے حقوق کا تحفظ کر کے انہیں قابل احترام اور کارآمد شہری بنا سکتے ہیں؟

کچھ ہی سال پہلے انہیں سپریم کورٹ کے حکم پر شناختی کارڈ بنانے کا حق ملا۔ غربت، صنفی تعصب، ریپ کلچر اور بنیادی حقوق سے محرومی نے ان کی حیثیت ادنیٰ درجے کے انسان کی کر دی ہے۔ بیروزگاری، ذہنی تناؤ، ناانصافی، تشدد، معاشرتی بے حسی، حقارت اور لوگوں کے معاندانہ رویوں نے ان کی زندگی کو مزید ابتر بنا دیا ہے۔

حالیہ تحقیق کے مطابق اس وقت 74 فیصد آبادی مختلف ذہنی مسائل کا شکار ہے۔ تشدد کی شکار اس کمیونٹی پر صرف خیبر پختون خوا میں 2018 میں 479 حملے ہوئے۔ جبکہ 2015 میں صرف خیبر پختون خوا میں 69 خواجہ سراؤں کو قتل کیا گیا۔ اس کے علاوہ 500 ریپ کیسز اسی صوبے میں درج ہوئے۔

2017 کی مردم شماری کے مطابق خواجہ سراؤں کی ملک میں کل تعداد 10418 ہے۔ ان میں پنجاب میں 6208، سندھ میں 2527، خیبر پختونخوا میں 903، بلوچستان میں 109، فاٹا میں 27، اور اسلام آباد میں ان کی تعداد 133 ہے۔ کیا وفاق اور صوبے اپنے وسائل سے اتنی معمولی تعداد والی کمیونٹی کو نوکری فراہم کر کے، انہیں بھکاری اور دوسرے ناموزوں کاموں اور پیشوں سے بچا کر ذمہ دار شہری بنانے میں کردار ادا نہیں کر سکتے؟ کیا سینکڑوں کی تعداد میں موجود این جی اوز ان کے پیٹ کا روگ ختم نہیں کر سکتیں؟

اسلام اور آئین پاکستان دونوں صنفی تعصب اور تفریق کے خلاف ہے۔ دونوں میں انسانی اور بشری حقوق کی حفاظت کی گارنٹی دی گی ہے۔ کیا بحیثیت مسلمان ہم نے اس مظلوم اور محروم طبقے کے انسانی اور بشری حقوق کو احترام کی نگاہ سے دیکھا ہے؟ کیا اس پسے ہوئے طبقے کے لئے زمانے کی دھتکار کبھی ختم ہو سکے گی؟

دیر آید درست آید۔ شکریہ سپریم کورٹ کا جس نے 71 سال بعد ان کو شناخت دی۔ ان کو ووٹ کاسٹ کرنے کا حق دیا۔ انہیں جائیداد اور وراثت میں شریک بنایا اور حکومت کو حکم دیا کہ اس طبقے کو پاکستان بیت المال اور بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے توسط سے معاوضے دینے کے ساتھ ساتھ ان کو مفت صحت کی سہولیات اور تعلیم دے۔

اگرچہ 2017 میں حکومت وقت نے ٹرانس جنڈر پرسنز بل پاس کیا ہے۔ جس میں اب خواجہ سراؤں کو ڈرائیونگ لائسنس بنانے، بنک اکاؤنٹ کھولنے، بنکوں سے قرضوں کی فراہمی کی سہولت دینے، ان کے لیے محفوظ گھروں کی تعمیر، پبلک مقامات، اسپتالوں، اور تعلیمی اداروں میں ان کو ہراساں کرنے کی ممانعت جیسے قابل تعریف اقدامات شامل ہیں۔ لیکن یہ صرف تازہ ہوا کا جھونکا ہے۔ اب بھی منزل بہت دور ہے۔ بالادست طبقے کو اگر فرصت ملے تو ان مظلوموں کے قانونی اور بشری حقوق کی حفاظت کے لئے اپنا تھوڑا سا قیمتی وقت وقف کریں۔

خواجہ سراؤں کی زندگی میں بہتری لانا ایک چیلنج کے ساتھ ساتھ ایک قومی، مذہبی اور انسانی فریضہ ہے۔ حکومت، این جی اوز اور معاشرہ، سب کو اس کمیونٹی کی فلاح و بہبود کے لئے اجتماعی طور پر اپنا حصہ ڈالنا ہو گا۔ میڈیا کا اس کارخیر میں صف اول کا سفیر بننا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ بحیثیت قوم ہمیں ان کو اپنانا ہو گا۔

سب سے زیادہ ذمہ داری والدین اور خاندان کی ہے۔ کیونکہ ان کو خواجہ سرا کا لقب سب سے پہلے گھر ہی سے ملتا ہے۔ گھر ہی سے ٹھوکریں کھانے کا آغاز ہوتا ہے اور سب سے پہلے گھر ہی میں انہیں جھٹلایا جاتا ہے۔ دوسری طرف گھر ہی ان کو بہترین زندگی فراہم کرنے کا ذریعہ ہوتا ہے۔ لہٰذا لازمی امر ہے کہ خاندان میں ان کی عزت نفس کے لئے مثبت اقدامات اٹھائے جائیں جو ان کو معاشرے کا مفید شہری بنا سکیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply