چین: اویغور افراد کو اکثریتی ثقافت میں ڈھالنے کے لیے دیگر صوبوں میں جبری منتقلی

جان سڈورتھ - بی بی سی نیوز، بیجنگ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بوزینب

BBC
بوزینب کو سنہ 2017 میں ایک خبر کے دوران دکھایا گیا تھا

چین سے متعلق ایک اعلیٰ سطحی تحقیق میں کہا گیا ہے کہ چین کے صوبے سنکیانگ سے لاکھوں اویغور افراد اور دیگر نسلی اقلیتوں کو گھر سے دور نئی ملازمتوں میں منتقل کرنے کی پالیسی کی وجہ سے صوبے میں ان کی آبادی کم ہوتی جا رہی ہے۔

بی بی سی نے اس اعلیٰ سطحی چینی رپورٹ کا جائزہ لیا ہے لیکن حکومت نے اس بات کی تردید کی ہے کہ وہ اپنے دور افتادہ مغربی خطے کی آبادی کے تناسب کو تبدیل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

حکومت کا کہنا ہے کہ ملازمت کی منتقلی کی پالیسی اس علاقے کے لوگوں کی آمدنی بڑھانے اور دیہی علاقوں میں بیروزگاری اور غربت کو دور کرنے کے لیے تیار کی گئی ہے۔

لیکن اس تحقیق کے شواہد سے پتہ چلتا ہے کہ حالیہ برسوں میں پورے سنکیانگ میں تعمیر کیے جانے والے ’ری ایجوکیشن‘ کیمپوں کے ساتھ ساتھ اس پالیسی کے تحت بھی شہریوں کے ساتھ زبردستی کا امکان ہے، اور اسے بھی اسی طرح تیار کیا گیا ہے کہ اقلیتی برادری کو دوسروں کے ساتھ ضم کیا جائے تاکہ ان کی سوچ اور ان کا طرز زندگی بدل جائے۔

یہ تحقیق سینیئر عہدیداروں کے لیے تیار کی گئی تھی لیکن غلطی سے آن لائن اپ لوڈ ہو گئی اور یہ بی بی سی کی اس تحقیقات کا ایک حصہ ہے جو پروپیگینڈا رپورٹس، انٹرویوز اور چین بھر میں فیکٹریوں کے دوروں پر مبنی ہے۔

اور ہم نے اپنے اس مضمون کے لیے منتقل ہونے والے اویغور مزدوروں اور دو بڑے مغربی برانڈز کے مابین ممکنہ رابطوں کے بارے میں سوالات پوچھے ہیں کیونکہ اس کے متعلق بین الاقوامی سطح پر تشویش بڑھتی جا رہی ہے کہ یہ سلسلہ بہت حد تک عالمی سپلائی چین میں داخل ہو چکا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

’میں اس گانے کا کیا کروں؟ کوئی مشورہ دے سکتا ہے؟‘

’چینی حکومت اویغور خواتین کی نس بندی اور نسل کشی جیسے جرائم میں ملوث ہے‘

چین سنکیانگ سے متعلق خبروں کو کیسے کنٹرول کر رہا ہے؟

اویغور کیمپوں میں منظم انداز میں مبینہ ریپ کا انکشاف: ’پتا نہیں وہ انسان تھے یا جانور‘

جنوبی سنکیانگ کے ایک گاؤں میں کھیتوں سے گھاس جمع کی جارہی ہے اور ایک خاندان کے افراد اپنے دسترخوان پر پھل اور روٹی رکھ رہے ہیں۔ ان کا یہ دسترخوان ایک کم اونچائی کی میز ہے جس کے ارد گرد اویغور خاندان اپنی روایتی زندگی بسر کرتے ہیں۔

لیکن صحرائے تکلامکان سے چلنے والی گرم ہوا اپنے ساتھ پریشانی اور تبدیلی لا رہی ہے۔

چین کی کمیونسٹ پارٹی کے ماتحت نیوز چینل پر نشر کی جانے والی ایک ویڈیو رپورٹ میں گاؤں کے وسط میں حکام کے ایک گروپ کو ایک سرخ بینر کے ساتھ بیٹھے دکھایا گیا ہے جس پر 4000 کلومیٹر دور انہوئی صوبے میں نوکریوں کی پیش کش درج ہے۔

رپورٹر نے بتایا کہ پورے دو دنوں تک حکام وہاں رہے لیکن گاؤں کا ایک بھی فرد نوکری کے لیے ان کے پاس نہیں پہنچا، تو پھر انھوں نے گھر گھر جانا شروع کر دیا۔

اس کے بعد سنکیانگ سے اویغور، قازقوں اور دیگر اقلیتوں کی ایک فوٹیج سامنے آئی جس میں انھیں چین کی ایک بڑی مہم کے تحت اکثر دور دراز کے علاقوں کی فیکٹریوں میں کام اور دیگر مزدوری کے لیے زبردستی بھیجے جاتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔

اگرچہ اسے سنہ 2017 میں اس وقت نشر کیا گیا تھا جب اس پالیسی پر عمل در آمد میں شدت آنے لگی تھی لیکن بین الاقوامی خبروں میں تاحال اسے نہیں دکھایا گیا ہے۔

حکام اس میں ایک ایسے باپ سے بات کرتے ہیں جو اپنی بیٹی بوزینب کو اتنی دور بھیجنے میں واضح طور پر ہچکچاہٹ کا شکار تھا۔

باپ اپنی بیٹی کو بچانے کے لیے یہ دلیل دیتا ہے کہ ’کوئی اور ضرور ہوگا جو جانا چاہے گا۔ ہم یہیں اپنا گزر بسر کر لیں گے، ہمیں ہمارے حال میں رہنے دیں۔‘

پھر حکام براہ راست 19 سالہ بوزینب سے بات کرتے ہیں اور انھیں یہ کہتے ہیں کہ اگر وہ نہیں جاتی ہیں تو جلد ہی ان کی شادی کر دی جائے گی اور پھر وہ کبھی بھی یہاں سے نہیں نکل سکیں گی۔

وہ اس سے پوچھتے ہیں: ’سوچ کر بتاؤ، کیا تم جاؤ گی؟‘

سرکاری عہدیداروں اور سرکاری ٹی وی صحافیوں کے شدید دباؤ کے باوجود وہ اپنا سر ہلا کر جواب دیتی ہیں: ’میں نہیں جاؤں گی۔‘

اس کے باوجود ان پر دباؤ ڈالا جاتا ہے اور پھر آخر وہ روتے ہوئے حامی بھر لیتی ہیں۔

وہ کہتی ہیں: ’اگر دوسرے بھی جائیں گے تو میں جاؤں گی۔‘

اس رپورٹ کا اختتام ماؤں اور بیٹیوں کے درمیان آنسوؤں کے ساتھ الوداع پر ہوتا ہے کیونکہ بوزینب اور اسی طرح سے ’جمع‘ کیے جانے والے دوسرے لوگ اپنے اہل خانہ اور اپنی ثقافت کو پیچھے چھوڑ کر رخصت ہو رہے ہوتے ہیں۔

بوزینب

BBC
اس ویڈیو کو ابھی تک عالمی سطح پر نشر نہیں کیا گیا ہے

پروفیسر لورا مرفی برطانیہ کی شیفیلڈ ہیلم یونیورسٹی میں انسانی حقوق اور کونٹیمپوریری سلیوری (دورِ حاضر میں غلامی) کی ماہر ہیں۔ وہ سنکیانگ میں سنہ 2004 اور 2005 کے درمیان رہائش پذیر تھیں۔

انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ‘یہ ویڈیو بہت ہی قابل ذکر ہے۔

’چینی حکومت مستقل طور پر یہ کہتی ہے کہ لوگ ان پروگراموں میں شامل ہونے کے لیے رضاکارانہ طور پر آ رہے ہیں، لیکن اس سے یہ صاف طور پر پتہ چلتا ہے کہ یہ زبردستی پر مبنی نظام ہے جس میں لوگوں کو مزاحمت کی بھی اجازت نہیں ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’اس میں دوسری چیز یعنی ان کا پوشیدہ مقصد ظاہر ہوتا ہے۔ اگرچہ ان کا بیانیہ یہ ہے کہ وہ اس کے ذریعے لوگوں کی غربت کو دور کر رہے ہیں، لیکن اس میں لوگوں کی زندگی کو مکمل طور پر تبدیل کرنے، خاندانوں کو الگ کرنے، آبادی کو منتشر کرنے، ان کی زبان، ثقافت اور خاندانی ڈھانچے کو ختم کرنے کی پس پردہ کوشش نظر آتی ہے جس سے غربت میں کمی کے بجائے اضافے کا زیادہ امکان ہے۔‘

سنکیانگ میں چین کی حکمرانی کے طریقے میں ایک واضح تبدیلی کا پتہ سنہ 2013 میں بیجنگ میں اور سنہ 2014 میں کنمنگ شہر پر راہ گیروں پر ہونے والے دو وحشیانہ حملوں سے لگایا جاسکتا ہے۔ ان حملوں کا الزام اویغور نسل کے اسلام پسندوں اور علیحدگی پسندوں پر عائد کیا گیا تھا۔

اس کے رد عمل میں ری ایجوکیشن کیمپوں اور ورک ٹرانسفر سکیموں میں ’قدیم‘ اویغوروں کی ثقافت اور اسلامی عقیدے کے ساتھ ان کی وفاداری کو ’جدید‘ مادہ پرست شناخت اور کمیونسٹ پارٹی کے ساتھ وفاداری سے بدلنے کی مہم چلائی گئی۔

اویغوروں کو چین کی اکثریتی ہان ثقافت میں ملانے کے اس بڑے مقصد کو سنکیانگ میں ملازمت کی منتقلی کی سکیم کے مطالعے میں تفصیل کے ساتھ واضح کیا گیا ہے جسے سینیئر چینی حکام کے درمیان تقسیم کیا گیا تھا اور بی بی سی نے اسے دیکھا ہے۔

مئی سنہ 2018 میں سنکیانگ کے ہوٹن پریفیکچر میں کیے گئے فیلڈ ورک پر مبنی اس رپورٹ کو نادانستہ طور پر دسمبر سنہ 2019 میں عام لوگوں کے لیے آن لائن دستیاب کر دیا گیا تھا لیکن پھر اس کے چند ماہ بعد اسے وہاں سے ہٹا دیا گیا۔

چین کے تیانجن شہر میں نانکائی یونیورسٹی کے ماہرین تعلیم کے ایک گروپ نے اسے تیار کیا تھا۔ اس میں وہ اس نتیجے پر پہنچے تھے کہ اجتماعی طور پر مزدوروں کی منتقلی ’اویغور اقلیتوں کو متاثر کرنے، انھیں ساتھ ملانے اور ضم کرنے کا ایک اہم طریقہ‘ ہے جس سے ’ان کے سوچنے کے انداز میں تبدیلی‘ لائی جا سکتی ہے۔

اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ انھیں ان کی جڑوں سے دور کرنا اور انھیں خطے میں دوسری جگہ یا پھر دوسرے چینی صوبوں میں منتقل کرنے سے ’اویغوروں کی آبادی کی کثافت کم ہوگی۔‘

اس رپورٹ کو بیرون ملک مقیم اویغور نسل سے تعلق رکھنے والے ایک محقق نے انٹرنیٹ پر دریافت کیا تھا اور اس سے قبل یونیورسٹی کو اپنی غلطی کا احساس ہو انھوں نے اس کی (چینی زبان میں) محفوظ شدہ دستاویز کو محفوظ کر لیا تھا۔

واشنگٹن میں وکٹمز آف کمیونزم میموریل فاؤنڈیشن کے سینیئر فیلو ڈاکٹر ایڈرین زینز نے اس رپورٹ کے متعلق اپنا تجزیہ تحریر کیا ہے جس میں اس رپورٹ کا انگریزی ترجمہ بھی شامل ہے۔

ڈاکٹر زینز نے بی بی سی کے ساتھ ہونے والے اپنے انٹرویو میں کہا: ’یہ معروف ماہرین تعلیم اور سابق سرکاری عہدیداروں کی تحریر کردہ ایک بے مثال اور مستند رپورٹ ہے جنھیں سنکیانگ میں اعلی سطح تک رسائی حاصل تھی۔

’میرے خیال میں اضافی زائد آبادی جس سے کسی نہ کسی صورت نمٹنا ہی تھا، اور وہاں کے مزدوروں کو کسی دوسری جگہ صرف اس لیے منتقل کرنا تاکہ ان کی اپنے ہی علاقے میں تعداد کم رہے، اس رپورٹ کا سب سے حیرت انگیز اعتراف ہے۔’

ہوافو

BBC
ہوافو کا ایک ہاسٹل

ان کے تجزیے میں امریکہ میں ہولوکاسٹ میموریل میوزیم کے سابق سینیئر مشیر ایرن فریل روزن برگ کی قانونی رائے بھی شامل ہے جس میں بتایا گیا کہ نانکائی رپورٹ جبری منتقلی اور ظلم و ستم کے لحاظ سے انسانیت کے خلاف جرائم کی ’معتبر بنیاد‘ مہیا کرتی ہے۔

چینی وزارت خارجہ نے ایک تحریری بیان میں کہا ہے کہ ‘یہ رپورٹ صرف مصنف کے ذاتی خیال کی عکاسی کرتی ہے اور اس کے بیشتر مشمولات حقائق کے مطابق نہیں ہیں۔

’ہمیں امید ہے کہ صحافی سنکیانگ کے بارے میں رپورٹنگ کرنے کے لیے چینی حکومت کی طرف سے جاری کردہ مستند معلومات کو استعمال کریں گے۔‘

نانکائی کی رپورٹ کے مصنفین نے غربت کے خاتمے کی کوششوں کی تعریف کرتے ہوئے لکھا ہے کہ اس کے تحت ملازمت کے لیے ’رضاکارانہ ضمانت‘ دی جاتی ہے اور فیکٹریاں ملازمین کو ’آزادی کے ساتھ کام چھوڑنے اور واپس جانے‘ کی اجازت دیتی ہیں۔

لیکن جب وہ یہ تفصیل بتاتے ہیں کہ یہ پالیسی کیسے کام کرتی ہے تو ان کے دعوے کسی حد تک اس سے متصادم نظر آتے ہیں۔

لیکن ان کا ’ایک ہدف‘ ہوتا ہے جس کو پورا کرنا ہوتا ہے۔ جب یہ مطالعہ کیا جا رہا تھا اس وقت صرف ہوٹن پریفیکچر سے ڈھائی لاکھ ملازمین باہر بھیجے جا چکے تھے جو کہ وہاں کام کرنے والوں کی آبادی کا پانچواں حصہ، یعنی 20 فیصد تھا۔

اہداف کو پورا کرنے کے لیے دباؤ ہوتا ہے۔ اور اس کے لیے ’ہر گاؤں میں‘ بھرتی سٹیشن قائم کیے گئے ہیں اور عہدیداروں کو ’اجتماعی طور پر لوگوں کو لانے‘ کا کام سونپا جاتا ہے اور وہ پھر اس کے لیے گھر گھر گھومتے ہیں۔ جیسا کہ 19 سالہ بوزینب کے معاملے میں نظر آتا ہے۔

اور ہر مرحلے پر کنٹرول کے آثار نظر آتے ہیں، جس میں ’سیاسی فکر کی تعلیم‘ کے ذریعے تمام بھرتیاں کی جاتی ہیں اور پھر ان کو گروپس میں فیکٹریوں میں منتقل کیا جاتا ہے۔ بعض اوقات ایک ہی وقت میں سینکڑوں افراد کو سیاسی کارکنوں کی سرپرستی میں روانہ کیا جاتا ہے تاکہ نظم و ضبط اور سکیورٹی قائم رہے۔‘

کسان اپنی زمینیں یا مویشی پیچھے چھوڑنے کے لیے تیار نہیں ہیں، لیکن انھیں یہ کہا جاتا ہے کہ وہ انھیں مرکزی حکومتی سکیم میں منتقل کر دیں جو ان کی عدم موجودگی میں ان کی نگرانی کرے گی۔

اور ایک بار جب وہ لوگ اپنی نئی ملازمت پر فیکٹریوں میں پہنچ جاتے ہیں تو بھی انھیں ’مرکزی انتظام‘ کے تحت ان حکام کے ماتحت رکھا جاتا ہے جو ان کے ساتھ ہی ’رہتے ہیں اور کھاتے پیتے ہیں۔‘

لیکن اس رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس نظام میں پوشیدہ گہرے امتیازی سلوک اس کے مؤثر عمل درآمد کے راستے میں رکاوٹ ہیں اور مشرقی چین میں مقامی پولیس میں اویغوروں کی آمد پر اتنی گھبراہٹ ہے کہ وہ کبھی کبھی انھیں واپس بھیج دیتے ہیں۔

بعض جگہوں پر یہ بھی انتباہ پایا جاتا ہے کہ سنکیانگ میں چین کی پالیسیاں بہت حد تک سخت ہیں، مثال کے طور پر اس میں کہا گیا ہے کہ ری ایجوکیشن کیمپوں میں لوگوں کی تعداد ان سے کہیں زیادہ ہے جنھیں انتہا پسندی کے شبہے میں رکھا گیا ہے۔

اس میں کہا گیا ہے کہ ’پوری اویغور آبادی کو فسادی نہیں سمجھا جانا چاہیے۔‘

ہوافو ٹیکسٹائل کمپنی چین کے مشرقی صوبہ انہوئی کے ہویبی شہر کے ایک نیم صنعتی علاقے میں واقع ہے۔

سرکاری ٹی وی کی رپورٹ میں شامل بوزینب کو اسی فیکٹری میں بھیجا گیا تھا۔

جب بی بی سی نے اس فیکٹری کا دورہ کا تو علیحدہ پانچ منزلہ اویغور ہاسٹل میں کسی کے رہنے کے آثار نظر نہیں آئے البتہ ایک کھلی کھڑکی پر ایک جوتوں کا جوڑا ضرور نظر آیا۔

گیٹ پر موجود سکیورٹی گارڈ نے کہا کہ اویغور کارکن ’گھر واپس چلے گئے‘ ہیں اور انھوں نے مزید کہا کہ اس کی وجہ ملک کا کووڈ کنٹرول ہے جبکہ ہوافو نے ایک بیان میں ہمیں بتایا کہ ‘کمپنی فی الحال سنکیانگ کے لوگوں کو ملازمت نہیں دے رہی۔‘

بی بی سی برطانیہ میں ایمازون کی ویب سائٹ پر ہوافو کے سوت سے تیار کردہ تکیوں کے غلاف کی فروخت کو تلاش کرنے میں کامیاب رہا۔ البتہ اس بات کی تصدیق ممکن نہیں ہے کہ آیا ان غلافوں کو اسی فیکٹری میں تیار کیا گيا ہے جہاں ہم گئے تھے یا پھر انھیں کمپنی کی کسی دوسری فیکٹری میں تیار کیا گیا تھا۔

ایمازون نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ جبری مشقت کو برداشت نہیں کرتا اور جہاں اسے ایسی مصنوعات ملتی ہیں جو ان کے سپلائی چین کے معیار پر پورا نہیں اترتیں تو وہ انھیں فروخت کرنے کی فہرست سے ہٹا دیتا ہے۔

بی بی سی نے چین میں مقیم بین الاقوامی صحافیوں کے ایک گروپ کے ساتھ کام کیا اور ہم نے مل کر کل چھ فیکٹریوں کا دورہ کیا۔

صوبہ گوانگزو میں ڈونگ گوانلوشو جوتوں کی فیکٹری میں ایک کارکن نے بتایا کہ اویغور ملازمین الگ ہاسٹل میں رہتے ہیں اور ان کی کینٹین علیحدہ ہے جبکہ ایک دوسرے مقامی شخص نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ کمپنی سکیچرز کے لیے جوتے تیار کرتی ہے۔

یہ فیکٹری اس سے قبل بھی امریکی کمپنی سکیچرز سے منسلک رہی ہے، اور غیر مصدقہ سوشل میڈیا ویڈیوز میں اویغور مزدوروں کو سکیچرز کی مصنوعات بناتے ہوئے دکھایا گیا ہے، اور آن لائن چینی کاروباری ڈائریکٹریوں میں اس کے تعلقات کا حوالہ ہے۔

ایک بیان میں سکیچرز نے کہا کہ ان کے ہاں ’جبری مشقت کو بالکل برداشت نہیں کیا جاتا‘، لیکن اس نے اس بات کا جواب نہیں دیا کہ آیا اس کا ڈونگ گوانلوشو سے کوئی رابطہ ہے۔

ڈونگ گوانلوشو نے اس کے متعلق ہمارے سوال کا جواب نہیں دیا۔

اس فیکٹری میں کیے جانے والے انٹرویو سے پتہ چلتا ہے کہ اویغور ملازمین فرصت کے وقت فیکٹری چھوڑنے کے لیے آزاد تھے لیکن دیگر فیکٹریوں میں اس کے متعلق جو شواہد ملے وہ ملے جلے تھے۔

کم از کم دو کیسز میں نامہ نگاروں کو کچھ پابندیوں کے بارے میں بتایا گیا اور ووہان شہر میں ایک فیکٹری میں ایک ہان چینی ملازم نے بی بی سی کو بتایا کہ یہاں 200 یا اس سے زیادہ اویغور کام کرتے ہیں لیکن ان کو باہر جانے کی بالکل بھی اجازت نہیں ہے۔

بوزینب کے اپنی سیاسی تعلیم و تربیت کے لیے گاؤں چھوڑنے کے تین ماہ بعد چینی سرکاری ٹی وی عملے نے انھیں دوبارہ انہوئی میں ہوافو ٹیکسٹائل کمپنی میں کام کرتے ہوئے دکھایا۔

بوزینب

BBC
بوزینب سے سوال کرتا صحافی

انضمام کا مرکزی خیال ایک بار پھر سے اس خبر کا مرکزی تھیم تھا۔

ایک منظر میں، بوزینب تقریباً رو پڑتی ہیں جب انھیں ان کی غلطیوں پر ڈانٹ ڈپٹ کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ لیکن کہا جاتا ہے کہ ان میں آخر کار تبدیلی ہو رہی ہے۔

ہمیں بتایا جاتا ہے کہ وہ ’شرمیلی لڑکی جو کچھ بول بھی نہیں سکتی تھی اور اپنا سر نیچے رکھتی تھی، اب اپنے کام پر بااختیار ہو رہی ہے۔‘

’طرز زندگی بدل رہے ہیں اور خیالات بدل رہے ہیں۔‘

پروڈیوسر: کیتھی لونگ

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 18440 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp