فیملی پلاننگ، اسلام اور ناخواندہ غریب مسلمان


رضا و رغبت کے ساتھ مسلم سماج کا ہر خاندان بلکہ ہر فرد بشر خواہ مرد ہو یا عورت فیملی پلاننگ کے اصول پر حسب سہولت جزوی عمل کرتا ہے، اس کے باوجود فکر و عمل کے دوہرے پن کا حال یہ ہے کہ عمومی طور پر اسے حرام بھی کہتا ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ مسلمانوں نے فیملی پلاننگ کو درست طریقے سے سمجھنے کی کبھی سنجیدہ کوشش ہی نہیں کی۔ اسے سماجی، معاشی، تعلیمی و تربیتی نقطۂ نظر سے دیکھنے کی بجائے صرف مذہبی عینک سے دیکھا گیا، اور عینک میں بھی دور بینی و خورد بینی کے لیے مطلوب نمبر کی جگہ غلط نمبر کا شیشہ لگا دیا گیا۔

فیملی پلاننگ کے مفہوم کو نہایت محدود کر دیا گیا۔ وہ اس طرح کہ بچوں کی معین تعداد کے بعد ولادت کے عمل کو روک دیے جانے کو ہی فیملی پلاننگ کہا جاتا ہے۔ جبکہ حقیقت حال بڑی حد تک بہت مختلف ہے۔ اس کی اور بھی کئی صورتیں ہیں۔

لڑکیوں کے ساتھ ایسا نہیں ہے لیکن لڑکوں کی شادی کے معاملے میں والدین عام طور تعلیم اور روزگار کو عذر بنا کر تاخیر کرتے ہیں۔ بیشتر لڑکے خود بھی اپنے آپ کو معاشی طور پر مستحکم کرنے کے بہانے شادی کو برسوں مؤخر کرتے چلے جاتے ہیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ لڑکوں کی شادیاں اوسطاً اٹھائیس سے تیس سال کے درمیان ہوتی ہیں۔ یہ بھی فیملی پلاننگ کا حصہ ہی ہے۔

شادی کے بعد ”تھوڑے سمجھ دار“ میاں بیوی پہلے، دوسرے، تیسرے سے لے کر نویں یا دسویں بچوں کے درمیان دو اڑھائی سال کے جو زمانی فاصلے رکھتے ہیں ، وہ بھی فیملی پلاننگ ہی کی ایک شکل ہے۔

بچے دو ہوں یا دس، بہر دو صورت ولادت کا عمل روکنے سے ہی رکتا ہے۔ کوئی منصوبہ بند طریقے سے دو پر بس کر دیتا ہے اور کوئی بلا منصوبہ دس پر پہنچ کر بس کرتا ہے۔ اسے بھی فیملی پلاننگ ہی کہا جائے گا۔

قابل غور بات یہ ہے کہ اگر لڑکے ہندوستانی قانونی عمر کو پہنچتے ہی بائیس سال کی عمر میں شادی کر لیتے تو اٹھائیس یا تیس سال کی عمر تک پہنچتے پہنچتے کم وبیش تین یا چار بچوں کے باپ بن چکے ہوتے، اسی طرح شادی شدہ جوڑے اگر بچوں کی پیدائش میں دانستہ زمانی فاصلے کا خیال نہیں رکھتے اور فطری عمل کو بے مہار چھوڑ دیتے تو صورت حال یہ ہوتی کہ ہر نیا سال انہیں نو مولود کا تحفہ پیش کرتا اور آٹھ یا دس کی مدت میں سولہ یا بیس بچے بچیوں کا قافلہ تیار ہو جاتا۔ جبکہ تیسری صورت میں جسے رکنا ہی نہیں تھا، معاملہ قابو سے باہر ہو جاتا۔

شادی میں تاخیر کر کے بچوں کی پیدائش کو مؤخر کرنے یا متعدد بچوں کے درمیان دانستہ زمانی فاصلے بنائے رکھنے میں اور چند بچوں کی پیدائش کے بعد تولیدی عمل کو موقوف کر دینے میں حقیقت کے اعتبار سے کوئی فرق نہیں ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ ایک شروع میں، دوسرا درمیان میں اور تیسرا آخری میں ولادت کے عمل کو روک دیتا ہے۔ پہلے کے سامنے صرف معاش کا معاملہ ہوتا ہے جبکہ دوسرے اور تیسرے کو زچہ وبچہ کی صحت کا مسئلہ بھی درپیش ہوتا ہے۔

سچائی یہ ہے کہ جو لوگ تولیدی عمل کو روکنا حرام سمجھتے ہیں اور کثرت اولاد کو خیر محض و کار ثواب سمجھتے ہیں ان کے سامنے بھی ایک مرحلہ ایسا آ ہی جاتا ہے جہاں پہنچ کر وہ ”بس“ کر دیتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اگر دو کے بعد معاشی، سماجی، تعلیمی اور تربیتی نقطۂ نگاہ سے ”بس“ کرنا باعث عذاب ہے تو دس کے بعد انہی اسباب کی بنیاد پر ”بس“ کرنا کار گناہ کیوں نہیں ہے؟

خاندانی منصوبہ بندی / فیملی پلاننگ کے حرام ہونے کی دلیل کے طور پر قرآن مجید کی دو آیتیں پیش کی جاتی ہیں۔ سورۃ الاسراء کی آیت نمبر 31 :

ترجمہ: اور تم اپنی اولاد کو مفلسی کے خوف سے قتل مت کرو، ہم ہی انہیں (بھی) روزی دیتے ہیں اور تمہیں بھی، بیشک ان کو قتل کرنا بہت بڑا گناہ ہے۔

سورۃ الانعام آیت نمبر 151 کا ایک حصہ:
ترجمہ:اور مفلسی کے باعث اپنی اولاد کو قتل مت کرو۔ ہم ہی تمہیں رزق دیتے ہیں اور انہیں بھی۔

رسول مقبول ﷺ کی دو احادیث اس نظریہ کو قوت بہم پہنچانے کے لیے پیش کی جاتی ہیں، جو حسب ذیل ہیں :

ترجمہ: عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا؛ اللہ کے رسول! سب سے بڑا گناہ کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: کسی کو اللہ کا شریک ٹھہراؤ، جبکہ اسی نے تمہیں پیدا کیا ہے۔ پھر پوچھا اس کے بعد ؟ رسول اللہ نے فرمایا: تم اپنے بچے کو اس ڈر سے قتل کرو کہ وہ تمہارے ساتھ کھائے گا۔ پھر پوچھا، اس کے بعد ؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ: تم اپنے پڑوسی کی اہلیہ کے ساتھ زنا کرو۔

دوسری حدیث:

معقل بن یسار بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور بولا، یا رسول اللہ! اچھے خاندان کی ایک خوبصورت عورت میری نظر میں ہے لیکن وہ بانجھ ہے، کیا میں اس سے شادی کر لوں؟ رسول اللہ نے منع فرمایا، وہ شخص دوسری اور تیسری بار وہی سوال لے کر آیا تو آپ نے فرمایا: محبت کرنے والی کثرت اولاد کی صلاحیت کی حامل عورت سے شادی کرو، کیوں کہ میں تمہاری کثرت پر دیگر امتوں کے سامنے فخر کروں گا۔

قرآن شریف کی مذکورہ بالا دو آیتوں اور ایک حدیث کے مطابق رزق میں تنگی کے اندیشے کے تحت اولاد کے قتل سے منع کیا گیا ہے۔

غور کرنے کا پہلو یہ ہے کہ اولاد کسے کہا جائے؟ کیا مرد کی پشت میں موجود نطفہ جو عورت کے رحم میں داخل بھی نہ ہوا ہو اسے اولاد کہا جا سکتا ہے؟ حمل قرار پانے سے بھی پہلے کیا وہ اپنے متوقع باپ کے رزق (کھانے) میں حصہ دار ہو سکتا ہے؟ ظاہر ہے کہ جواب نفی میں ہو گا۔ اولاد کو اولاد تب ہی کہا جا سکتا ہے جب وہ ولادت کے مرحلہ سے گزر کر دنیا میں آنکھیں کھول دے۔ جب نطفہ کو اولاد کہا ہی نہیں جا سکتا تو ایسی صورت میں معاشی، سماجی، تعلیمی و تربیتی نقطۂ نظر سے مانع حمل طریقے اختیار کرنے والوں کو قتل اولاد جیسے سنگین جرم کا مرتکب کیسے قرار دیا جا سکتا ہے؟

رسول اللہ ﷺ نے شادی بیاہ کے معاملہ میں معاشیات کا بہت زیادہ خیال رکھا ہے۔ آپ نے فرمایا:

ترجمہ: ”اے نوجوانو! تم میں سے جس کے پاس ازدواجی اخراجات برداشت کرنے کی صلاحیت ہے اسے شادی کرنی چاہیے، کیوں کہ اس سے نگاہ اور شرم گاہ محفوظ ہو جاتیں ہیں، اور جس کے پاس (نان ونفقہ کی) صلاحیت نہیں ہے اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ روزے رکھے، کیوں کہ روزے (گناہوں کی خواہش سے) اسے بچائیں گے“ ۔

ہمارے علماء اور مفتیان کرام بھی یہی فرماتے ہیں اور فتویٰ دیتے ہیں کہ بعض حالات میں شادی ناجائز و حرام بھی ہے ان میں نامردی اور افلاس سر فہرست ہیں۔ مفلسی کی وجہ سے اگر شادی ناجائز ہو سکتی ہے تو معاشی تنگ دستی کے سبب کثرت اولاد سے بچنے کے لیے مانع حمل طریقے اختیار کرنا جائز کیوں نہیں ہو سکتا ہے؟

ٹکنالوجی کی ترقی کے ساتھ مانع حمل طریقے بھلے ہی ترقی کر کے نئی شکل اختیار کر چکے ہیں لیکن یہ کوئی ایسا نیا عمل بھی نہیں ہے جو رسول اللہ ﷺ کے دور میں نہ رہا ہو۔ یہ ایک فطری عمل ہے، ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا۔ اسے خواہ مخواہ آج کے دور میں غیر فطری اور حرام سمجھا جاتا ہے۔ اس سلسلہ میں دو احادیث ہماری رہنمائی کے لیے کافی ہیں۔

ترجمہ: حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : قرآن کے زمانۂ نزول میں ہم ”عزل“ کیا کرتے تھے، اور رسول اللہ ﷺ نے ہمیں ایسا کرنے سے منع نہیں فرمایا۔

حضرت جابر رضی اللہ عنہ کے کہنے کا مقصد یہ ہے کہ اگر عزل ناجائز ہوتا تو رسول منع فرماتے یا ممانعت کے لیے قرآن کی آیت نازل ہوتی، لیکن ایسا کچھ نہیں ہوا۔

ترجمہ: ابو داؤد کی روایت ہے کہ ایک شخص نے کہا یا رسول اللہ! میرے پاس ایک لونڈی (باندی) ہے، میں نہیں چاہتا کہ وہ حاملہ ہو اس لیے میں ”عزل“ کرتا ہوں، اور وہی (غالباً جنسی تسکین) چاہتا ہوں جو دیگر مرد چاہتے ہیں، اور یہود کہتے ہیں کہ ”عزل“ کرنا گویا بچوں کو زندہ دفن کرنا ہے۔ (اس شخص کے جواب میں ) آپ ﷺ نے فرمایا: یہود جھوٹ بولتے ہیں، اگر اللہ کسی کو پیدا کرنا چاہے تو وہ (یہود) اسے روک نہیں سکتے ”۔

رسول اللہ ﷺ کی زبان مبارک سے اس قدر صراحت اور وضاحت کے ساتھ عزل کو درست ٹھہرائے جانے اور عمل ولادت کو مطلق ارادۂ الہی کے تابع قرار دینے کے بعد خاندانی منصوبہ بندی کے جواز میں شک کی گنجائش باقی نہیں رہ جاتی ہے۔

البتہ اس بات کا لحاظ رکھا جانا چاہیے کہ بچوں کی تعداد کی قلت اور کثرت ایسا معاملہ نہیں ہے جسے کسی قانون کے دائرے میں لایا جانا چاہیے۔ یہ ایک انسانی سماجی مسئلہ ہے، شادی شدہ جوڑے کو مرد کی مالی حالت اور عورت کی جسمانی صحت و رغبت کے مطابق کثرت یا قلت اولاد کا فیصلہ خود لینا چاہیے۔ حکومت اور ہر ذمہ دار شہری کو چاہیے کہ خاندانی منصوبہ بندی کے لیے قانون بنانے کی بجائے لوگوں میں واقفیت اور بیداری کو عام کرے۔

رہی وہ حدیث جس میں رسول اللہ ﷺ نے ”زیادہ محبت کرنے والی اور کثرت اولاد کی صلاحیت رکھنے والی خاتون“ سے شادی کی ترغیب دی ہے اور امت کی کثرت تعداد پر فخر کی بات کہی ہے تو اس کا پس منظر اسی حدیث میں مذکور ہے کہ پوچھنے والے صحابی بانجھ عورت سے شادی کرنے کی بابت سوال کر رہے تھے لہٰذا آپ نے انہیں ایسا جواب دیا، وہ بھی تین بار سوال کرنے کے بعد ۔

معاشی حالات و مشکلات تو اہم ہیں ہی لیکن اس سے بھی اہم تعلیم و تربیت کا معاملہ ہے۔ اس سلسلے میں علامہ یوسف القرضاوی کی ایک بات دل کو بھا گئی۔ فرماتے ہیں کہ: ”بھیک منگوں، حرام خوروں، شرابیوں، زانیوں اور بے ایمانوں پر اللہ کے رسول ﷺ فخر نہیں کریں گے“ ۔ سولہ آنے درست بات ہے، رزق جیسے تیسے مل بھی جائے تو تعلیم و تربیت جیسے تیسے نہیں مل سکتی۔ اس کے لیے خدا نہیں آئے گا اور نہ رسول کی بعثت ہو گی، ماں باپ کو ہی یہ ذمہ داری نبھانی ہے۔

میں نے کہیں پڑھا تھا کہ اندرا گاندھی نے جس زمانے میں جبری نس بندی کا غیر عادلانہ و مجرمانہ قانون متعارف کروایا تھا، اس زمانے میں دارالعلوم دیوبند کے مہتمم قاری طیب صاحب نے علماء سے فیملی پلاننگ پر مثبت غور و فکر کی درخواست کی تھی۔ اس سے قطع نظر کہ اس بات کے لیے وہ وقت مناسب نہیں تھا لیکن بحیثیت مجموعی ان کی درخواست صد فیصد درست تھی، جو بصد افسوس صدا بہ صحرا ثابت ہوئی، علماء کا بڑا طبقہ ان کا مخالف ہو گیا۔

تعلیم یافتہ اور نسبتاً خوشحال طبقہ فیملی پلاننگ کے سلسلے میں احساس جرم کے ساتھ ہی سہی، کسی حد تک بیدار ہوتا ہوا نظر آ رہا ہے۔ اصل مسئلہ ناخواندہ غریبوں کا ہے۔ انہیں سمجھائے جانے کی ضرورت ہے کہ جسے وہ حرام سمجھ رہے ہیں، حرام نہیں ہے۔

Facebook Comments HS